Monday, January 26, 2015

پاکستان میں آخری شام


آخری قسط


جانے سے ایک دن پہلے پیاری کشور کا فون آیا کہ آپی 
آپ رات میرے گھر ڈینر کیجئے گا میں کیسے ہاں کرتی جب کے ایک دن پہلے بہن کےسب بچے بڑی بھانجی کے پاس جہاں میں ٹہری ہوئی تھی جمع ہونے کا پروگرام بنایا ہواتھا ۔ میں کشور کی والدہ محترمہ سے فون پر بات کرکے انہیں اپنی مصروفیت کے بارے میں بتایا کتنا وقت کم ہے اور بہت کام باقی ہیں وہ بہت ہی مخلص لگی بڑی متانت سے بات کی جب میں نےان سے کہا کہ اگر کشور ہی میرے پاس آجائے تو میرا بہت وقت بچ سکتا ہے وہ بڑی اچھی بی بی ہیں میری بات کو سمجھکر مغرب تک بھیجنے کا اردہ ظاہر کیا تو میں پھر ایک بار شش و پنچ میں آگئی پھر میں نے بلا وقفہ کہ انہیں بتایاکہ مجھے مغرب پر کہیں اور جانا ہے ۔وہ مغرب سے پہلے کشور کے ملاقات کا وقت طے ہوا اور ہم رجسٹریشن آفس سے نکل کرہم دونوں الگ رہ اختیار کی میں دونوں بھانجیوں کے ساتھ شاپنگ کو چلے گئی اور میاں اپنے آفس کے ساتھیوں سے ملاقاتوں کے لئے بڑی بھانجی اورانکےمیاں کے ساتھ چلے گئے ۔



جلدی جلدی سارے بچوں کے لئے کچھ نہ کچھ خریداری کی ابھی خرید ہی رہے تھے کہ صاحب کا فون آیا کہ تمہاری دوست گھر سے نکل چکی ہے جلدی سے تم بھی آجاؤں پھر ہمیں جانا بھی ہے ۔ ہم نے شاپنگ کو دی اینڈ کہا مگر اچانک ہماری فیملی کے نئے ممبر جو پانچ ماہ پہلے شامل ہوئےداماد کے لئے کچھ بھی تحفہ نہیں لینے کے خیال کے ساتھ ہی ہم نے فوراً فیصلہ کیا کہ گھر پر جانا ضروری ہے میری ایک بھانجی جوداماد کا کرتا خرید کر اپنی گاڑی میں واپس چلے جائے گی پھر رات میں آکر ملے گی اور چھوٹی بھانجی کے ساتھ میں نے پاکستان کے پندرہ دنوں میں پہلی بار آٹو میں بیٹھکر گھر کی رہ لی راستہ میں فون آیا کہ کشور آچکی ہیں ہم ویسے ہی اندر سے بے چین تھےپہلی بار کسی نیٹ کی سہیلی سے مل رہے تھے اس فون نے ہمارے سارے بند توڑ دیے اور میں بار بار ابھی کتنی دیر ہے پوچھ پوچھ کربھانجی کو بہت تنگ کیا ۔
 
بڑی دعاؤں ارمانوں اور تمناوں کے بعد کشور سے ملنے کی خواہش پوری ہونے والی تھی۔ پتہ نہیں ایک عجیب سی بے چینی تھی ناجانے کیسا لگے گا ملکر۔ صبح آٹھ بجے کے گھر سے نکلے تھکے ہوئے برقع نے اور ادھ مرا کردیا تھا۔ شوپنگ کا ٹنشن کمر توڑ گیا تھا، وقت کی کمی کا احساس کھایا جارہا تھا، پیکنگ کی فکرالگ تھی، لمبے سفر کی ذہنی تیاری اوربہن کی جدائی کا غم ،گھر اور بچوں سے ملنے کی مسرت کئی ملے جلے احساسات
میں، میں گھری ہوئے تھی ۔


اللہ اللہ کرکے گھر آگیا
برقع اتارکر ایک طرف رکھا شاپنگ بیگس دوسری طرف رکھے ابھی منہ پر تھوڑا پانی مارکر تازہ دم ہوجاؤں سوچا ہی تھا کہ میاں اور بہن نے کشور سے جاکر جلد ملو بے چاری تمہارا انتظار کررہی ہے کہا تو ویسے ہی میں نے ہینڈ بیگ ایک طرف ہٹا کررکھا اور کشور سے ملنے ڈرئنگ روم میں چلی آئی جہاں وہ اپنے بھائی کے ساتھ جلوہ آفروز تھی مجھے دیکھتے ہی کشور بہت پیار سے ملنے آگے بڑھے اور میں خود کو روک نہیں پائی انکو گلے سے لگا لیا ۔ان کے بھائی نے بھی بڑے ہی اخلاق کامظاہرہ کیا وہ سارا وقت کبھی مجھے دیکھتے تو کبھی کشور کو جب بھی میں نے بھائی کی طرف دیکھا وہ زیر لب مسکراتے نطر آئے ۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ماشاءاللہ سے حافظ قرآن ہیں تعلیم میں وقت دینے سے قرآن کو دہرانے اور حفظ برقرار رہنے دعا کرنے بھی کہا اللہ انہیں اپنے مقصد میں کامیابی دے ۔

میری اور کشور کی خوشی مشترکہ تھی ہم دونوں اتنے خوش تھے کہ ہمیں بات کرنے الفاظ نہیں مل رہے تھے بس زیادہ تر ایک دوسرے کو دیکھے جارہے تھے ہنسے جارہے تھے خود کو یقین دیلانے بات کرنے کی کوشش کررہے تھے میں نے بعد میں سوچا تو سمجھ آیا کہ لوگ سچ ہی کہتے ہیں محبت کی کوئی زبان نہیں ہوتی


اس مختصر ملاقات میں میں کشور کو دیکھتی اور محظوظ ہوتی رہی کبھی ان کی ریشمی آواز میں گم ہوتی تو کبھی ذہین آنکھوں میں جھکتی اور کبھی موہنی صورت کو تکتی اور کبھی لباس کی پاکیزگی اور ڈوپٹہ کے بندھنے کے انداز سے متاثر ہوتی۔میں نے ایک بار انکے پڑھے لکھے قابل ہونے کی تعریف کرنے پر اور ایک بار انکی اچھی اچھی تحاریر کی تعریف کی تو وہ بہت عمدگی و انکساری سے ٹال گئی ۔ بہت ملنسار، سادگی پسند،ہنس مکھ نازک سی بہنا ہیں ۔میرے ساتھ ساتھ میاں بھی ان سے ملکر خوش تھے ایک وجہہ ان کی خوشی کی یہ تھی کہ وہ میری ساس کی ہم نامی ہیں دوسری وجہہ کشور کی بات چیت انداز تہذیب سے متاثر ہوئے۔

میں محسوس کررہی تھی کشورکے دل میں ایک ساتھ بہت سارے خیالات اور سوالات چھپے تھے میں نے دل ہی دل میں کہا میں سارے جوابات دہنا چاہتی ہوں میں ہر خیال پر تفصیلی بات کرنا چاہتی ہوں مگر وقت کم ہے ہم یہ سب نیٹ پر بھی شیئر کرسکتے ہیں مگر مل نہیں سکتے اس لئے ہم نے تصویر لے لی کہ یہ یاد زندہ رہے میں نے کشور کے قریب بیٹھ کر انہیں دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کی مجھے لگا یہ میری ننھی منی سی بہنا ہے یہ میری بیٹی ہے جو کچھ دیر میں مجھے سے پھر دنیا کی بھیڑ میں جدا ہوجائیگی میں نے خود سےکہا جتنا ساتھ ہے غنیمت ہےجتنا وقت سمٹ سکتی ہوں سمٹ لوں

بعض بہت اچھی یادیں اور بہت قیمتی لمحے ہوتے ہیں کچھ ہماری زندگی میں جو گزار تو جاتے ہیں مگر وہ امر ہوجاتے ہیں ۔ جس کا جتنا بھی اللہ کا شکر کریں کم ہے اللہ میرے پیاروں پر ہمیشہ کرم فرماتے رہے انہیں ڈھیروں خوشیاں دے۔ ہمارے پاس وقت کم تھا مجھے پھر دوسری جگہ ملاقات کو جانا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں جدا ہونا تھا میں اندر ہی اندر بہت بے چین ہوئی کشور کو جاتا دیکھ کر دل کرتا تھا کہ دروزے سے نکل کر سیڑیوں سے نیچے تک چھوڑ آوں مگر کب تک ساتھ رہ سکتی تھی الگ تو ہونا ہی تھا جب تک نظر آئے دیکھتی رہی اور محسوس کرتی رہی کہ کشور ذہنی طور سےبہت دیر تک میرے ساتھ رہیں ہیں ۔۔۔۔۔

نیٹ کےکراچی میں رہنے والے اور بھی دوستوں سے ملنے کاخیال تھا جو پورا نہ ہوسکا جیسے ون اردو کی مانوگھر سے باہر تھی اسی لئےصرف فون پر بات ہوسکی۔ ون اردو کے امان بھائی ،بلاگروقار اعظم،بلاگرشعیب صفدر بھائی سے ملنے کو من تھا مگر ان سےربطہ قائم کرکے اجازات لینے کاسوچتی رہ گئی موقعہ ہی نہ ملابلاگر اسریٰ غوری کو میسج کیا تھا مگر جواب نہ ملاشاید وہ دیکھی نہیں ایک اور فیس بک کی اچھی سی دوست شاہدہ حق ان سے فون پر بات ہوئی اور ملاقات ہوتے ہوتے رہ گئی۔ جس سےملے اور جس سے نہ مل سکے اللہ ان سب کو شاد و آباد رکھے


مغرب کے وقت پر میرے سسرالی رشتہ دار وقت کی کمی کی وجہہ سے ایک جگہ جمع ہونے والے تھے ۔ تیار ہونے کا صبح ہی سے وقت نہیں مل رہا تھااسی حالت میں فوراً برقع پہن کرمیاں بہن اور انکے داماد کے ساتھ نکل پڑی وہاں بھی صاحب اور میزبانوں نے بچپن کی یادیں بزرگوں کی وفات کے تذکرہ وگزشتہ حالات کی باتیں کرتےرہے اور کئی چیزوں سے ضیافت کے بعد جانے کی اجازات ملی ۔


گھر آتے ہی ہم نے پیکنگ کی اسی دوران ایک کے بعد ایک بہن کے سب بچے آنے لگے سب نے ملکر کھایا پیا اور بہت دیر تک ہنستے بولتے بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ بہت یادگار بیٹھک رہی ہم نے کیمرے میں بھی کچھ باتیں ریکارڈ کرلیں تین بجنے پر سب اپنے اپنے گھر کی رہ لی کہ صبح آٹھ بجے ایر پورٹ بھی توجانا تھا ہم نے اپنی باقی پیکنگ پوری کرلی بستر پر لیٹے تو نیند کوسوں دور تھی کئی باتیں دماغ میں آنکھ مچولی کھیل رہی تھی میں نے سب کو چھٹک کرطبعیت صاف کی اور سو گئی ۔ صبح بہن کی آواز روح میں اترتی محسوس ہوئی وہ مجھے بیدار کررہی تھی۔ ایک لمحہ کو لگا تیس پیتیس سال پیچھے چلی گئی ہوں اور امی مجھے آواز لگا رہی ہیں ۔ جلدی جلدی بڑی بھانجی نے ناشتہ بنایا کھلایا ۔ بھانجے بھی آگئے وہ اوربہن کے بڑے داماداشفاق نے اپنی گاڑی میں ہمیں ایر پورٹ تک لاکرچھوڑا سامان کے ساتھ ہمیں اندر جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔

ہم نے اپنا سامان ڈالا کلیر ہونے کے بعدجانے لگے تو بتایا گیا کہ پلین دو گھنٹہ دیر سے جائے گا ۔ ہم اندر جاکرانتظار کرنے لگے بے کارہی کبھی اس مسافرکو دیکھتی تو کبھی کسی دوسرے کا نظارہ کرتی بیٹھی رہی جب دو گھنٹہ ہونے کو آئے تو صاحب نے جاکر پھر دریافت کیا تو پتہ چلا کہ اور تین گھنٹے دیر سے جانا ہوگا ۔ سعودیہ سے کئی بار پرواز کیا ہے یہ پہلا اتفاق ہے کہ پلین اتنے گهنٹے لیٹ ہے .شاید کچه دیر اس سر زمین پر کهڑا رہنا ہے یہاں کی ہوا کهانی اور پانی پینا ہے سوچکرجانے کے منتظر رہے۔

بھوک اور تھکن محسوس ہونے لگی ایر لائن والوں نے لنچ کا انتظام کیا تھا ہم نے بھی نام لکھوایا اور کھانے کے بعد آگے سفر کے لئےکچھ تقویت پائی ۔اب کرسی پر برجمان اطراف نظریں دوڑتی رہی تو کبھی فون پر نیٹ سے دل بہلاتے رہے کبھی اِدھر اُدھربے مقصد چکر کاٹے تو کبھی آنکھیں بند کرکے کرسی پر آرام کرنےکی کوشش کرتی رہی غصہ بھی آتا کہ جب ہم اپنوں کے ساتھ تھے تووقت َپرلگا کر اُڑرہا تھااور اب وقت جیسے بھاگتے بھاگتے تھم سا گیا تھا۔ ُسستانے رکا ہوا تھا ۔ چاہتے ہوئے ہو یا نہ چاہتے ،وقت کے ساتھ تو چلنا ہی ہوتا ہے۔ بلاخر روانگی کا اعلان ہوا جسے سنتے ہی ہم نے پلین کی رہ لی سیٹ تک پہچتے پہچتے ہمیں خیرمعمولی طور پر دو بار چیک کیا گیا ۔ ہم تو سیٹ تک آنے میں پھرتی دیکھائے مگر دوسرے لوگوں کی چیکینگ ہوتے ہوتے ہمارا دم گھٹتامحسوس ہورہا تھا ۔ پلین پرواز کرنےلگا ۔ کچھ کم پانچ گھنٹہ میں دمام ایر پورٹ پہچ گئے۔

ساڑهے آٹه کے گهر سے نکلے تهکے ماندهے مسافر غروب ہوتے سورج کے ساته دمام ایر پورٹ پہنچ گئے۔ سورج توبہت آگےاپنی منزل کی رہ جاچکا ہم یہاں اپنے سفر کا راستہ تلاش کرتے رہے گئے.بس سمجهیں کہ ہاتھی نکل گیا دم اٹک گئی ۔ منزل کے قریب پہچ کرمسافراتنا تھک جاتا ہے کہ اس کو ہمت سمیٹنے کا اصل یہ ہی وقت ہوتا ہے۔ باہر آئے سامان لیا دوسری لائن میں کھڑے رہے کراچی سے پلین لیٹ ہونے سے پھر میاں نے دمام ٹو جدہ کی سیٹ کےلئےکوشش شروع کردی ایک گھنٹہ کے انتظار کے بعدہم پھر ہوا کے دوش پر سوارتھے۔ گھر بچوں سے ملنے کی خوشی لیے جدہ ایر پورٹ اترے۔

بچوں نے خوب خوب لپٹ کر محبت کا اظہار کیا گاڑی میں سے ہی پاکستان کے رشتہ دار اور وہاں کی ایک ایک چیز کے بارے میں دریافت کرنے لگے ۔ اب بھی کبھی کبھی کوئی بات پوچھ کر مجھے یاد دیلادیتے ہیں ، بہن کا وہ نورانی چہرہ اور پاکستان کی یادیں وہاں کے لوگوں کا پیار آنکھوں میں سما جاتا ہے۔ 

وقت رخصت جو مجھے پیار سے دیکھا تم نے

اس سے بڑھ کر مرا سامانِ سفر کیا ہو گا




۔

8 comments:

noureen tabassum said...

آپ نے بہت اچھا کیا جو زندگی میں ایک بار اپنے پیاروں اپنے چاہنے والوں کی ایک جھلک تو دیکھ لی ۔ ہمیں جدائی کے خیال سے ملنے کی آرزو ترک کبھی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ آخری شام ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گی ۔

Shoiab Safdar said...

آپ کا سفر نامہ پڑھا، ہم سے رابطہ کر لیتی تو آپ کی اور بھائی کی ایک عمدہ دعوت کرتے۔
کراچی کو گھوم کر نہیں دیکھا شاید آپ نے کیونکہ سفر نامہ میں ایسی کسی بات کا ذکر نہیں کیا۔
میں امید کر رہا تھا کہ آپ یہاں کی طرز زندگی کا تنقیدہ جائزہ لے گی اور اس کا تقابلی جائزہ پیش کریں گی۔ مگر ایسا آپ نے نہیں کیا۔

کوثر بیگ said...

آپ نے ٹھیک کہا نورین جی اور ساتھ میں زندگی کی امید کے ساتھ پھر ملنے کی امید بھی رکھنے چاہئےاس امید نے ہمیں وہاں سے یہاں تک آنے دیا ہے سبوں نے ن
پھر آنے کا وعدہ کرکے ہی بھیجنے راضی ہوئے ہیں ۔

ہاں سدا میرے دماغ کے نہاں خانہ میں مقید رہیں گی

کوثر بیگ said...

شعیب صفدر بھائی اس مختصر ویزہ نے تو ہماری بہت ساری دعوتوں پر ڈ اکا ڈالا اور اچھی اچھی ہستیوں سے محروم رکھا ہے ۔ میں نے پہلے حصہ میں سرسری طور سے گھومنے کا ذکر کیا ہے مضمون کی طولت کی وجہ سے اردہ تو کیا ہے کہ وہاں کے حالات اپنے احساسات پر بھی لکھو مگر ڈرتی ہوں کہ بحثیت انڈین کے میری کوئی بات کسی کو بری نہ لگے آپ سے ملنے کا تو یہاں رہنے تک سوچ رکھا تھا مگر وہاں جاکر پہلے سیم ملنے دیر ہوئی پھر سیم ملی تو سوچنے کا بھی وقت نہ ملا ۔آگے پھر کبھی ان شاءاللہ

Alam Islahi said...

تینوں پوسٹ مع تبصرہ جات کے پڑھا ، بہت اچھا لکھا ہے آپ نے ۔

کوثر بیگ said...

ممنون ہوں آپ نے پڑها اور پسند فرمایا. اللہ جزائے خیر دے

کاشف said...

آپ کو صرف ایک شہر کا ویزہ دیا گیا تھا؟

کوثر بیگ said...

جی صرف کراچی ہی کا لیا تها ہم نے کیونکہ سارے رشتہ دار وہی ہوتی ہیں پهر وقت بهی کم ملا تها نا یہاں کم لگا.
بہت شکریہ کمنٹ کے لئے

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔