Saturday, December 08, 2012

حضرت علی کے اقوالِ زریں دوسرا حصہ

 
 

السلام علیکم
 

حصرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے ارشادات ،اقوال ،نصیحت ،وعظ ،عمل کمالات ،علم , معرفت ،ایمان ،تقویٰ ، توکل ، قنا عت ، صبر و شکر ، بندگی ،اطاعت ،سخاوت ،عبادت ،   عجز و انکساری ، حکمت ،دانائی ، ایثار و قربانی ایک عام انسان کی سوچ سے بالا تر ہے  پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے  "میں علم کا شہر ہوں ،اور علی اس کا دروازہ ہے ۔


آج میں نے تصوف میگزین پڑھا تو یہ حضرت علی کے اقوال پڑھے ہیں تو پھر ایک بار  آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے طبعیت آمادہ  و بے چین ہوئی ۔ اس امید کے ساتھ یہ اقوال شیئر کررہی ہوں کہ  شاید ہم  میں سے کوئی ان اقوال کی روشنی سے فیض یاب ہوسکے ، اللہ ہمیں عمل کرنے میں اپنی خاص مدد فرمائے ۔۔۔


 حضرت علی مر تضٰی رضی اللہ عنہ کے اقوال ملاحظہ فرمائے

پریشانی خاموش رہنے سے کم ،صبر کرنے سے ختم اور شکر کرنے سے خوشی میں بدل جاتی ہے۔

 جو تمہیں غم کی شدت میں یاد آئے تو سمجھ لو کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے۔

کبھی کسی کے سامنے صفائی پیش نہ کرو،کیوں کہ جسے تم پر یقین ہے ، اسے ضرورت نہیں اور جسے تم پر یقین نہیں وہ مانے گا نہیں۔

ہمیشہ سچ بولو کہ تمہیں قسم کھانے کی ضرورت نہ پڑے ۔

انسانوں کے دل وحشی ہیں جو انہیں موہ لے ، اسی پر جھک جاتے ہیں۔

جب عقل پختہ ہوجاتی ہے ،باتیں کم ہوجاتی ہیں۔

جو بات کوئی کہے تو اس کے لئے ُبرا خیال اس وقت تک نہ کرو، جب تک اس کا کوئی اچھا مطلب نکل سکے۔

دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے کہ چھونے میں نرم اور پیٹ میں خطرناک زہر۔۔

کسی کے خلوص اور پیار کو اس کی بے وقوفی مت سمجھو ، ورنہ کسی دن تم خلوص اور پیار تلاش کروگےاور لوگ تمہیں بے وقوف سمجھیں گے ۔

جو بھی برسر اقتدار آتا ہے ، وہ اپنے آپ کو دوسروں پر ترجیح دیتا ہے۔

بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے سے بچو ۔


لوگوں کو دعا کے لئے کہنے سے زیادہ بہتر ہے ایسا عمل کرو کہ لوگوں کے دل سے آپ کے لئے دعا نکلے۔

مومن کا سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ وہ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کردے ۔

سب سے بڑاعیب یہ ہے کہ وہ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کردے ۔

سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ تم کسی پر وہ عیب لگا ؤ جو تم میں خود ہے۔

جو ذرا سی بات  پر دوست نہ رہے ، وہ دوست تھا ہی نہیں ۔

جس کو ایسے دوست کی تلاش ہو ، جس میں کوئی خامی نہ ہو ، اسے کبھی بھی دوست نہیں ملتا ۔

انصاف یہ نہیں کہ بد گمانی پر فیصلہ کردیا جائے ۔

حکمت مومن کی کھوئی ہوئی چیز ہے ، حکمت خواہ منافق سے ملے لے لو ۔

کسی کی مدد کرتے وقت اس کے چہرے کی جانب مت دیکھو ، ہوسکتا ہے اس کی شرمندہ آنکھیں تمہارے دل میں غرور کا بیج بودیں ۔

صبر کی توفیق مصیبت کے برابر ملتی ہے ،اور جس نے اپنی مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارا ، اس کا کیادھرا اکارت گیا ۔

موت کو ہمیشہ یاد رکھو ، مگر موت کی آرزو کبھی نہ کرو ۔

قناعت وہ دولت ہے جو ختم نہیں ہوسکتی  ۔



۔



6 comments:

افتخار اجمل بھوپال said...

اول یہ کہ میں نے جو چند اقوال چھپا کے رکھے ہیں وہ ابھی بھی بچ گئے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب تک بچے رہتے ہیں
دوم یہ کہ میرا اتنا زیادہ بیوقوف ہوں کہ اب جب کسی کے میرے خلوص یا پیار کو بیوقوفی سمجھنے کا خدشہ ہوتا ہے تو میں خود بول اُٹھتا ہوں ”میں بیوقوف ہوں ۔ یہی کہنا ہے نا آپ کو ؟“۔

کوثر بیگ said...

نہیں بالکل بھی نہیں حضرت علی رضی اللہ کے اقوال ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو ہر ایک کی بلاگ کی زینت ۔ بنا چاھیے میری یہ ادنی سی خواہش ہے اور میں جب بھی کسی کے بلاگ پر جاؤ وہ پڑھتی جاو ،نہ صرف میں بالکہ ہر کوئی بار بار پڑھے اور ان سب کو اپنا ذہین نشین کرلے ۔اگر چیکہ وہ چھپے ہوئے اقوال ہو ں بھی تو میں آپ سے رکویسٹ کرتی کہ وہ آپ پھر ایک بار اپنے بلاگ پر لگائے خیر الحمدللہ نہیں ہیں تو پلیز بھائی اب اس کو ظاہر کردے کسے بھی ہو یا نہیں مجھے تو بہت خوشی ہوگی۔۔۔

ہاں بھائی مجھے آپ سے کہنا ہے مگر یہ نہیں آج میں نے بلال بھائی کے بلاگ اور پھر وہاں سے ہوتے ہوئے تصویر تک پہچی اور وہاں آپ کو دیکھا تو دل یوں ہی آپ سے بات کرنے کو من کیا تو آپ کے بلاگ تک ہو آئی ایسا لگا جیسے کوئی بہن اپنے بھائی کے گھر ہو آئی ہو۔۔آپ نے میرے بارے میں ایسی رائے قائم کرلی آپ نے؟۔

افتخار اجمل بھوپال said...

مجھے لگتا ہے کہ آپ نے میرے دوسرے فقرے کو اپنی طرف سمجھ لیا ہے ۔ یہ میں نے اپنے ماضی کی طرف اشارہ کیا تھا ۔ اب تو کئی سال ہو گئے ملنا جُلنا صرف عزیز و اقارب سے ہے ۔ جس دور میں میں عام محفلوں میں جایا کرتا تھا انسانی قدروں کو نہ پہچانتے والوں سے ایسا کہا کرتا تھا
ویسے میں خوش ہوں کہ آپ نے فوری طور پر دل میں آئے خیال کا اظہار کر دیا اور بات صاف ہو گئی ۔ لکھا پڑھنے اور آمنے سامنے بات کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے

کوثر بیگ said...

جی یہ بات تو بالکل ٹھیک ہے کہ انسان سے آمنے سامنے بات ہوتی ہے تو چہرے کے اتر چڑاؤ بولنے کا انداز بھی بات سمجھنے میں بہت مدگار ہوتے ہیں ۔۔۔۔میری طبعیت کچھ ایسی ہے کہ اگر کسی کی دل میں قدر ہو تو نہ ان کے لئے دل میں کوئی بات چھپا کر رکھتی ہوں اور نہ دوسروں کے دل میں غلط فہمی کا شبہ بھی نہ ہونے دو اور چھٹ سے پوچھ لیتی ہوں میری اپنی زندگی میں بھی کچھ ایسی ہی ہے آپ کی بہن ۔۔۔ہاہاہاہا

Muhammad Sohail said...

ماشاءاللہ اللہ آپ کو اجر دے

Muhammad Sohail said...

P

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔