Saturday, December 15, 2012

عورت کی خاص ملکيت

 
 
السلام علیکم
 
 
میری پیاری بہنوں اور عزیز بھائیوں :۔ آج میں آپ سب سے ایک سوال کرنا چاہتی ہوں اور چاھتی ہوں کہ مجھے آپ ضرور بہ ضرور جواب دیجئے گا چاھے وہ میرے مخالف ہی کیوں نہ رہے مجھے آپ کی رائے پا کر بہت خوشی ہوگی پیشگی شکریہ ۔۔۔۔
 
 
ویسے تو رونا کئی وجہ سے آتا ہے  کہتے ہیں جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ شیطان کے چھونے  سے رونے لگتا ہےتو کوئی دنیا میں آنے سے روتا ہے کہتے ہیں اور ڈاکٹرز کچھ اور رونے کی وجہہ بتاتے ہیں ۔ بچے بھوک ہو یا درد ہر صورت میں  رو کر ماں کو مدد کے لئے بلالیتے ہیں ۔کچھ بڑے ہوتے ہیں تو اپنی من مرضی کے کھانے کھلونے وغیرہ رو کر حاصل کرلیتے ہیں ۔ دیکھا جائے تو حضرتِ انسان پیدائش سے مرنے تک کئی کئی بار کئی کئی  وجہہ سے روتے رہتا ہے  رونا بھی کئی قسم کا ہوتا ہے اور کئی  وجہوں سے آتا ہے جیسے غریب و مجبور اور بے بس کا رونا واجبی ہوتا ہے  بہتوں پر یہ بے اثر ہوتا ہے مگر ابھی کچھ اللہ کے بندوں ہیں جن کے دل ابھی بھی ان سے پگھلتے ہیں ۔ رونا کسی نعمت کے ملنے کے بعد کھونے پر بھی آتا ہے اور کسی کے جدا ہونے پر بھی رونا بے اختیار آجاتاہے اور کبھی عزت ناموز پر انگلی اٹھانے ، مالی نقصان اور کسی چیز کی محرومی پر بھی رونا آنے لگتا ہے۔اپنے اور اپنے پیاروں کی دکھ بیماری  دیکھی نہیں جاتی  اور پھر رونے  لگ جاتے ہیں ۔ کبھی دھوکا کھا کر انسان روتا ہے توکبھی کسی کی دل آزاری رولادیتی ہے اور کبھی دل کا لگانا رونے کی وجہ بنتا ہے تو کبھی کسی کا دل لگتا ہوا دیکھنا  رونے کا باعث ہوتا ہے ۔اب میں کتنے رونوں کا رونا رو سکتی ہوں حسرت ، خود غرضی ، بے حسی ، حرص و ہوس  ، دنگا و فساد اور تباہی و بربادی ، مالک و قومیت ، نسب ورنگ ،  مذہیب ،خاندان کی لڑئیاں  اور بھی کئی باتیں ہیں جو ہمیں  کسی نہ کسی بات پر آزرُدہ خاطر اور رونے مجبور کرتے ہیں میں آج اس رونے کی بات نہیں  کرنا چاھتی کیونکہ  ہمارے بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ کوبھول کر ہنسنا بھی جُرم ہے اور ان کو بھول کر رونا بھی جرم ہے مجھےحضرت عثمان رضی اللہ   کا قول بھی یاد آرہا ہے ۔ جنت کےاندرروناعجیب ہےاوردنیاکےاندرہنسناعجیب ترہے۔اور ۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبرمیں کوئی مصیبت نہیں اوررونےمیں کچھ فائدہ نہیں۔اس لئے بزرگ اللہ کے خوف سے روتے ہیں  ۔ تلاوتِ قران کبھی رونے کی وجہہ ہوتی ہے تو کبھی حضور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت اس کا سبب ہوتی ہے۔ خیر میں اپنی بات کی طرف آتی ہوں
 
 
 تو عزیزوں میرا  ان سب طرح کے  رونے  بیان کرنے کا کوئی اردہ  نہیں تھا بس بات سے بات دماغ میں آتی گئی اور میں ایویں لکھتے گئی آج  میری تحریر کا ایک ہی  مقصد تھا کہ میں اس رونے کا ذکر کروں جس  سے شاید آپ سب ہی کبھی نہ کبھی  اس رونے کا سامنا کر ہی چکے ہوگے اس رونے کو عورت کی خاص ملکيت  بھی کہا جاتا ۔   جس کے آگے تیس مارخاں ،راجہ پرجا سب ہی بنا تھکے کے ہار جاتے ہیں اور اس رونے نے تو ہمیشہ سب کو ہارا دیا  ہمیشہ  فتح کا چھنڈا لہرلیا  کبھی اس کا وار خالی نہیں جاتا ۔شکاری خود شکار ہوجاتا ہے اس کے آگے ہتیار والے بھی کند ہوجاتے ہیں۔ جی جی آپ ٹھیک سمجھے میں عورت کے ان قیمتی آنسو کی بات کررہی ہوں۔جو بہت انمول ہوتے ہیں      
 
 
سچ ہی تو کہتے ہیں رونا عورت کا ہتیار ہوتا ہے اور یہ طاقت بھی اور کمزوری بھی سمجھا جاتا ہے ۔ میں نے خود دیکھا ہے اسے ایسے ایسے مشکل وقت میں استمعال کرکے بڑے بڑے مسائل اپنے حق میں کروالئے گئے ہیں۔
 
 
  میں بھی ایک عورت ہی ہوں مگر افسوس مجھے رونا نہیں آتا جس کی وجہہ سے میں ایک نارمل عورت نہیں کہلائی جاسکتی  ۔ میرے بچے اپنی بیوی میں اس بات کو نہ پا کر مجھے ایک محبت کرنے والی ماں کے ساتھ دنیا کی سب سے الگ ماں سمجھتے ہیں اور اپنی بیوی سے اس بات کی امید کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ بھی ایسی کیوں نہیں ہے ۔ میاں کو ہمیشہ اس بات کا احساس رہا، جب بھی زیادتی ہوگی یہ کچھ نہ کہےگی یہ ضبط کرلے گی ۔ اپنے ، پرائیوں کی زیادتی پر چپ رہنے پر کڑھتے ہیں پوچھتے ہیں تم کیوں لوگوں سے ڈرتی ہو کیا تم دوسروں کا کھاتی ہو جو ان کی بات پر یوں خاموش ہو جاتی ہو تمہیں بیوقوف بناتے ہیں ۔ حق بات کہنے کی ہمت کرو وغیرہ وغیرہ۔ اور کبھی تو مجھے سخت دلی تو کبھی بزدل کے طعنہ بھی ملتے ہیں ۔ ایسا نہیں کہ مجھے  رونا نہیں آتا ،آتا ہے مگر اکیلے میں کسی کی موجودگی میں ایک آنسو بھی نکلنا محال ہے میرے لئے میں اس محروم  پر کبھی خود حیران ہو جاتی ہوں ۔ میں ایک ایسی عورت ہوں جس کا اپنا  قیمتی ہتیاراس کے پاس نہیں۔ میں خود کو کمزور عورت سمجھتی ہوں مگر میرے پاس کمزوی کی سب سے خاص نشانی نہیں ۔ میرے پاس عورت کی وہ مخصوص  ملکیت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے شاید دوسرے سب مجھے سچ میں یوقوف سمجھتے ہیں ۔ مجھ سے بڑی آواز نکال کر خوش ہو جاتے ہیں رو دھو کر الٹے سیدھے شکایتں لگا کر سوچ لیتے ہیں کہ اس میں ہمت نہیں مقابلہ کی یہ تو نمبر ون دبکو ہے یہ کیا کرلے گی تھوڑا کہہ کر چپ ہو جایئگی۔۔مگر سچ بولوں تو مجھے یہ سب سہتے وقت بہت برداشت کرنا پڑتا ہے بہت صبر اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے آنسو پینا آسان بات نہیں ۔ اس کے لئے خون کے آنسو دل کو بہانا پڑتا ہے ۔ اپنے لئے تو کوئی بھی لڑتا ہے یہاں تک کہ ایک جانور بھی ۔ مگر ایثار کا جذنہ بہت کم میں ہوتا ہے یہ سامنے والے کے دل پر خاموش وار کرتا ہے ۔ بے حس سے بے حس کوبادیر ہی سہی اپنے کئے کا احساس دیلاتا ہے ۔ دشمن کو بھی دوست بناتا ہے ۔۔آپ کو سب سے ممتاز بناتا ہے  ۔کیا یہ سب میری خام خیالی ہے کیا حقیقت میں میری خوش فہمی ہے۔ کیا سچ میں مجھے بیوقوف سمجھا جاتا ہے ؟ میرا آج  آپ سے یہ ہی سوال ہے امید کے مرحمت فرمائنگے۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 

13 comments:

محمد ریاض شاہد said...

رونا تو لڑکوں کو بھی آتا ہے لیکن وہ اوائل عمری سے ہی سیکھ جاتے ہیں کہ رونا مسائل کا حل نہیں ہے ۔ تھوڑا سا ڈھیٹ بننا پڑتا ہے جینے کے لیئے :)

کوثر بیگ said...

خوش آمدید ، خوش آمدید اور بہہہہت بہت شکریہ

آپ میرے سیدھے سے بھائی ہیں جو اس بات کو مانتے ہیں ۔ دوسرے کوئی اور بھائی اس بات کا ہرگز اقرار نہیں کرینگے حالانکہ روناوالے کو نرم مزاج اور رحیم طبعت بھی سمجھا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی اسے بزدل ہی سوچ لیتے ہیں

کاشف said...

طاقتور کا رونا اور کمزور کا نہ رونا، دونوں بزدلی اور بیوقوفی کی نشانی ھیں۔

میرے خیال میں جس قسم کے رونے کی آپ بات کر رھی ھیں ، اس کی کلاسز عبداللہ پیر کے دربار پر منگھو پیر کے مگر مچھ دیتے ھیں۔

کوثر بیگ said...

سب سے پہلے آپ میرے بلاگ پر پہلی بار آئے ہیں تو بہہت بہت خوش آمدید کہتی ہوں آپ کو

ہاہاہا ،نہیں جناب نہیں آپ کو ایک مزہ کی بات بتاؤں اس کے لئے کوئی کلاس کی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔آپ نے یہ طاقتور اور کمزور کے رونے کی بات جو کی ہے نابڑی ہی قیمتی اور سو فیصدی سچی کہی ہے ۔بہت شکریہ بھائی

Urdu Kidz Cartoon said...

السلام علیکم۔ آپ نے رائیٹ کلک کو غیر فعال کر رکھا ہے۔ حالانکہ اردو کے ذاتی بلاگز پر یہ چیز غیر ادبی محسوس ہوتی ہے۔ بہرحال آپ کے اپنے کچھ تحفظات ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اردو زبان و ادب کو پھیلانے اور آگے بڑھانے کے لیے ایسی روک ٹوک مناسب نہیں۔ ویسے بھی تکنالوجی کا ماہر رائیٹ کلک کی غیرفعالیت کو فعال کرنا بھی بآسانی جانتا ہے۔ :)
آپ سے اور آپ کے اس بلاگ سے تو پرانی واقفیت ہے۔ آپ کو ایک ایمیل کرنا ہے۔ برائے مہربانی اپنے ایمیل پتے سے نوازیں ۔۔ شکریہ۔
urdukidzcartoon [@] gmail.com

کوثر بیگ said...

میرے بلاگ پر پہلی بار آئے ہیں آپ خوش آمدید اور اس کمنٹ کا بھی شکریہ۔ آپ نے اپنا نام ہی نہیں لکھاجس کی وجہہ سےتجسس بڑھ رہا ہے کیونکہ آپ نے مجھے اور میرے بلاگ کو پہچانے کی بات بھی کی ہے بہت دماغ پر زور دیا مگر آپ کو پہچان نہ سکی۔۔بے شک آپ ٹکنالوجی سے واقیفیت رکھتے ہونگے مگر میں بالکل بھی ناواقف ہوںاس لئے بیٹے کو کہنے پر اس نےیہ بلاگ مجھے تیار کرکے دیا ہے۔اگر کوئی بے ادبی و بد تمیزی میں نے انجانے میں کی ہے تو معافی چاھتی ہوں ویسے آج تک کسی نے نیٹ پر مجھے سے شکایت تو نہیں کی ہے ۔آپ کون ہیں کیا نامہے اور کیسے مجھے پہچانتے ہیں ضرور بتائیے گا۔ میں نے میل آپ کو کردیا ہے جواب کا انتظار رہے گا ۔

آپ کی دعاگو بہن

Kainat Bashir said...

اسلام علیکم،
کیسی ہیں کوثر جی ؟
خوب لکھا آنسو کبھی ہتھیار بن جاتے ہیں تو کبھی کمزوری، میرا خیال ہے اوائل عمر میں آنسو بن بات بھی بہنے لگتے ہیں جسے طبیعت کی حساسیت کہہ دیا جاتا ہے۔لیکن جیسے جیسے انسان میچور ہوتا ہے اور حالات کے بہاؤ میں بہنا سیکھ لیتا ہے تو اپنے پر کافی قابو پا لیتا ہے۔لیکن میرے خیال سے اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ کبھی کبھی بندہ خود ہی رو دھو کر اپنا دل ہلکا کر لیتا ہے۔ اور نئے سرے سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ آپ نے خوب آرٹیکل لکھا، شکریہ

کوثر بیگ said...

وعلیکم السلام
ٹھیک ہوں بس نیٹ پر آوارہ پھرنے لگی ہوں کبھی بلاگز جھاکتی رہتی ہوں تو کبھی فیس بک کی محفلوں میں گھوم آتی ہوں اور آپ سنائیں کیسی ہیں ۔بڑی خوشی ہورہی ہے کہ آپ کی حوصلہ آفزائی میرے ساتھ یہاں بھی ہے ۔اللہ جزائے خیر دے ۔

کائنات بشیر said...

شکریہ،
ون اردو کے بعد تو ہم سب ہی بے لگام ہو گئے ہیں۔ پہلے ٹائم فورا کٹ جاتا تھا۔اب کاٹے نہیں کٹتا۔ قریہ قریہ گھومتے ہیں۔ فیس بک پر یہاں آ جائیے تا کہ میسج باکس میں حال احوال ہو جایا کرے۔
http://www.facebook.com/kainat.bashir1

http://www.facebook.com/pages/%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%B1%D9%86%DA%AF-%D8%A8%D8%AF%D9%84-%DA%AF%D8%A6%DB%92/402376739834954

فضل دین said...

بہت زبردست ڈیفینیشن کی آپ نے رونے کی۔۔۔ ویسے یہ بڑے قیمتی موتی ہوتے ہیں جن کو بچا کے رکھنا چاہیے۔۔۔ ایکسیلنٹ ٹاپک

کوثر بیگ said...

کائنات جی اب ہم کیا بتائیں ایسا لگتا ہے گلشن اجڑ گیا اور اسکےبلبل بے گھر سے ہوگئے ہیں اب اب کوئی ٹھکانے میں سکون ہی نہیں مل رہا ہے اللہ جانے ون اردو کب کھولے روز سائیٹ کھولتی ہوں اور ۔کہتی ہوں خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے۔۔۔

کوثر بیگ said...

فضل دین بھائی خوش آمدید خوش آمدید
آپ کی ذرہ نوازی ہے جو آپ نے پسند فرمایا اللہ آپ کو خوش رکھے ۔ہاہاہاہا آپ نے ٹھیک کہا انھیں بچا کر رکھنا چاہیے شاید اسی لئے اللہ نے ہمیں صبر سے نوازہ ہے مگر آپ نے اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ یہ قیمتی موتی ایسے ایسے کام ایسے ایسے لوگوں سے بہنے پر کروالیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے

Hammad said...

salam. Makhloq ki bajay khaliq kai samnay rona chaheye

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔