Saturday, December 01, 2012

پل دو پل کا ساتھ

 









السلام علیکم


پیاری بہنوں اور محترم بھائیوں:۔ آئیے آج آپ میرے اور میری تخیلات کی دنیا میں پل دو پل ساتھ گزار کر بتلائیں کہ آپ کو میری باتیں کیسی لگی۔۔۔

یہ چند ہی دنوں پہلے کی بات ہے ۔ بدھ کے روز رات بھر بارش ہوتی رہی جمعرات کی صبح بھی بوندا باندی کا سلسلہ قائم تھا ۔ ہمیں دواخانہ منتھلی چیک اَپ کے لئے جانا تھا۔ میں سمجھ رہی تھی کہ اس بارش کی وجہہ سے لوگ کم ہی آئے ہونگے مگر وہاں جانے کے بعد پتہ چلا کہ میں غلط سوچ رہی تھی دواخانے کے قریب ہمیں پارک گنگ نہ مل سکی ۔ وہاں پہلے سے بہت ساری گاڑیاں موجود تھی میرے صاحب نےمجھے دواخانے کے داخلی دروازے پر چھوڑنا چاہا تو میں ساتھ ہی رہنے کہا تووہ بنا اترنے مجبور کئے آگے چلنے لگے کیونکہ عقب کی گاڑی نے سمجھانے کی مہلت ہی نہ دی تھی ۔ موڑ کے آخری سرے پر گاڑی پارک کرکے ہم زمین پر بارش کے پانی کے مد نظر احتیاط سے چلنے لگے ۔ میاں فٹ پاتھ کی طرف جانے لگے تو ان کی تقلید میں میں بھی چلنے لگی ۔ کچھ دور جانے کے بعد دو تین گاڑیاں فٹ پاٹھ پر چڑھا کر پارک کی گئی تھی جس کی وجہہ سے ہمیں سڑک سے ہوکر گزارنا پڑا ۔ سڑک پر پانی تھا اور گاڑیاں قریب سے آہستہ آہستہ گزار رہی تھی پھر ایک تویوٹا گاڑی بڑی تیزی سے گزری جس کو دیکھتے ہی میں فٹ پاتھ کی طرف اچھل کر ایک قدم بڑھا دی اور ساتھ ہی ساتھ اتنی ہی تیزی سے مجھ پر کراہیت اور غصّہ کی کیفیت طاری ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں یہ سمجھتا کیا ہے گاڑی میں بیٹھا ہے تو ،ارے پرسوں ہی میں نے شاید عرب نیوز میں پڑھا تھا کہ ٹویو ٹا کے سب سے اعلٰی عہدے دارسی ای او بھی ایک عام انسان کی طرح سب ورکز کے ساتھ بیٹھکر کھاتے ہیں اور ایک یہ بھی انسان ہےصرف ایک ٹو یو ٹا گاڑی کا مالک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بد تمیز۔ میں دل ہی دل بڑبڑانے لگی ۔


میرا موڈ خراب ہو چکا تھا میں خاموش ہی تھی مگر ذہن بہت کچھ سوچ رہا تھا ۔ہمیشہ کی طرح ہم ڈاکٹر کے پاس گئے اور وہ بھی ہمیشہ کی طرح میرے صاحب سے سلام کے بعد سیاسی باتیں شروع کردیں پھر اس نے کچھ وقت کے بعد ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا کہ میرا وطن بہت نیچے کی طرف جارہا ہے ۔ او کے ، تمہارا کیا حال ہے ۔ اس کے چہرے پر تفکر، افسوس دیکھکر مجھے بہت اچھا لگا ۔ اس لئے نہیں کہ وہ فکر مند ہے بلکہ اس لئے کہ وہ اپنوں اور اپنے وطن کے لئے فکرمند تھے ۔۔ یہ بھی ایک انسان ہے جو اپنے وطن سے اتنی دور رہکر اس کے لئے اتنا سوچتا ہے اللہ اس کی پریشانی دفع کرے ۔

 
کچھ دیر بعد میں ای سی جی روم کے باہر میاں کا انتظار کررہی تھی کہ دیکھا ایک گیارہ سال کا لڑکا نو سال کے لڑکے کے ساتھ آکر نرس کو آواز لگا رہا تھا وہ شاید اس کا چھوٹا بھائی تھا کیونکہ دونوں کے چہرے بہت ملتے جلتے تھے ۔ ان کے ساتھ کوئی بڑے دور دور تک نظر نہیں آرہے تھے ۔ اس لڑکے نے اپنے چھوٹے بھائی کو کرسی کی طرف اشارہ کر کے بیٹھنے کہا اور خود انتظار میں ادھر اُدھر ٹہلنے لگا ۔ نرس کے آنے پر بات کرنے کے بعد بھائی کا سر سہلانے لگا اور دونوں ای سی جی روم میں چلے گئے ۔ میں نےزور سے پلک چھپک کر محسوس کرنا چاہا کہ یہ فلم نہیں حقیقت ہے ۔۔


وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے اپنے قریب بیٹھے لوگوں پر نظر دوڑائی تو میرے بازو دو موٹی موٹی سعودی عورتیں تھی جس کو میں نے بیٹھتے وقت سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب تو نہیں دیا مگر اپنی گفتگو کو منقطع کرکے میری طرف ایک نظر دیکھ کر پھر سے محو گفتگو ہوگئی تھی ۔ میرے سامنے کی سیٹ پر ایک ہندو خاتون اپنی دو لڑکیوں کے ساتھ تھی باتیں کرنے کے انداز سے مدراس کی لگ رہی تھی اسی کے بازو ایک موٹی خاتو ن اور ایک دبلی خاتون تھی جو شاید ماں بیٹی لگ رہی تھی چونکہ تھوڑی دیر پہلے دبلی برقعہ پوش نے دوسری خاتون کے پرس سے فون نکل کر لینے پر اس نے ہاتھ سے واپس لے لیا تھا۔ اب میں سامنے کنڑ پر لگی لائن کا جائزہ لینے لگی اتنے میں کیا دیکھتی ہوں کہ لائن میں کھڑی ایک محترمہ سے ایک دوسری محترمہ نے نہ جانے کہاں سے ایک دم آکر بہت ہی گرم جوشی سے ملنے لگی دیکھنے میں وہ مصری لگ رہی تھی کیوں کہ ان کے چہرے کھلے تھی اوروہ عربی میں باتیں کرہی تھی پہلے تو وہ ایک دوسرے کے گال سے گال ملایا پھر ہاتھ ملائے اورکچھ دیر باتیں کرنے کے بعد ادھرِاُدھر ہوگئی۔ وہ ساری گفتگو کے دوران ایکسا ہاتھ تھامے رہے ان کے چہروں پر خوشی اور اپنائیت کے احساس نے تو دیکھنے والوں کے اندر بھی شادابی بھر دی ت....


اب میرے سامنے والی مدراسی فیملی نے بے چین ہو کر اپنے بازو والی خاتون سےانگریزی میں فون مانگنے لگی تھی ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی میرے بازو بیٹھی خاتون نے اسے اشارے اور زبان سے ایک ساتھ دینے سے منا کردیا ۔ مجھے لگا اب وہ مدراسن یہاں موجود خواتین سے نا امید ہوکر دور کھڑی نرس سے فون کی التجا کے انداز میں سوال کیا مگر ان نرسوں نے بھی اس سے بہانہ بنا دیا ،مجھے یہ اچھا نہیں لگا اور میں نے اسے اپنا فون نکال کر دے دیا ۔ ابھی فون لگا ہی تھا کہ اس کا ہسبنڈ ہنستے سامنے آموجود ہوا اور اس نے بجائے شکریہ کہنے کے یو انڈین سوال کردیا میرے سر کی جنبش کے ساتھ ہی ہاتھ ہلا کر چلی گئی ۔ ابھی وہ گئی ہی تھی کہ اس کے پیچھےا یک سعودی میاں بیوی ہاتھ تھامے چلے آرہے تھے جس کے سامنے ان ہی کا ایک تین چار سال کا لڑکا چھوٹے سے اپنے گلے کے مفلر سے کھیلتے چلتے ہوئے آرہا تھا ۔ اس نے ایسے اندازِ بے نیازی سے مفلر کے ایک سرے کو چھٹکے سے کندھے پر ڈالا اور میرے سامنے سے گزارنے لگا۔ اُسے ایسا کرتے دیکھ کر مجھے لگا جیسے میں نے بھی اُسے دیکھنے سے اپنے سارے غم اور ٖغصہ اور شکوئے شکایات پست پشت ڈالکر اس ننھنے شہزادے کی طرح ہر بات سے بے نیاز ہوگئی ہوں ۔

 
یہ پل دو پل کا تعلق بھی عجب ہے یہ پل دو پل کی ملاقات بھی ہمیں کیسا اچھا اور برا احساس دے جاتے ہیں ہم مختصر سے ساتھ میں بھی دوسروں پر اپنا تاثر چھوڑ جاتے ہیں ۔ سامنے والا ہمارے رہن سہن ، طور طریقہ اور رویہ ہی کی وجہہ سے ہمارے بارے میں رائے قائم کرلیتے ہیں ۔ ہمارا ایک اچھا عمل بھی کبھی ہم کودوسروں کی نظر میں بے نظیر اور نفس بنا دیتا ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ خود میں اچھی باتیں پیدا کرنے کی کوشش کریں اس طرح ہم مثالی بنکر نظر نوازبن جائے تو کیا ہی بات ہے ۔

 
اس لئے بزرگوں کا فرمان ہے کہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ بین الخوف الرجاء یعنی عذاب الٰہی کے خوف سے ہر وقت کانپتا رہتا ہے ۔ کہ زندگی کے کسی بھی لمحے معصیت کا ارتکاب نہ کر بیٹھے جس سے جہنم میں نہ جانا پڑے ۔ باوجود یہ کہ اسے اللہ کے بارے میں حسن ظن ہوتا ہے کہ وہ رحمٰن و رحیم اسے گناہوں سے بچنے کی تو فیق بھی دے گا ۔ اچھے انسان ایسا کوئی کام نہیں کرتے جس کی وجہہ سے خود کو اور دوسروں کو تکلیف اٹھانی پڑے ۔


ہمیں چاہیے کہ جو کچھ کریں اللہ سے ڈرتے ہوئے کریں کیونکہ ہم اپنے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش کئے جائنگے جس نے ذرّہ برابر نیکی یا برائی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا ۔ لوگوں کے اعمال کے مطابق ہی فیصلہ فرمائے گا۔


اللہ پاک ہم کوہمیشہ نیک کاموں کی توفیق عطا کرے۔

....میرے بلاگ پر آنے کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں
 
 
.

8 comments:

ڈاکٹر جواد احمد خان said...

بہت اعلیٰ۔۔۔۔ آپکی تحریر پڑھ کر ایسا لگا کہ یہ تحریر میرے اردگرد کے ماحول کو دیکھ کر لکھی گئی ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کو کسی بھی زاویہ سے دیکھ لیں ، یہ ہر جگہ سے ایک جیسا ہی لگتا ہے۔
کیا خدانخواسطہ آپ دل کی مریضہ ہیں؟

کوثر بیگ said...

بے حد شکریہ بھائی پسندیدگی کے لئے ۔جیتے رہیں
۔
آپ کی اس بات سے میں بھی متفق ہوں۔
جی نہیں الحمدللہ ایسی بات نہیں مجھے او ر میاں کو بی پی ہے تو انشورنس ہونے سے بہانہ بے بہانے اس طرح کی مختلف ٹسٹ ہماری نہیں بلکہ دواخانے کی بھلائی کے لئے کئے جاتے ہیں۔۔ہاہاہاہا

Hyderabadi said...

بہت دلچسپ تجربات۔
کافی باتیں تو آنکھوں دیکھی اس لئے لگتی ہیں کہ کئی مواقع پر خود ہم بھی اپنے بچوں کے ساتھ مختلف سعودی ہسپتالوں کی انتظار گاہ میں انتظار بھگت چکے ہیں۔ ویسے انتظار گاہ میں کافی بچے رہیں تو انتظار اتنا لمبا نہیں لگتا۔

کوثر بیگ said...

سب سے پہلے خوش آمدید حیدرآبادی صاحب آپ نے پہلی بار میرے بلاگ پر تشریف لے آئیے ہیں ، خوش رہیں۔

ہاں بھائی بچے ایسے ہی ہوتے ہیں جن کی موجودگی ہمیں ہر بات سے بے نیاز کردیتی ہے ۔

افتخار اجمل بھوپال said...

بہت خوب ۔ آپ نے چند کردار واضح کر دیئے ہیں ۔ مصری عورتیں صرف معمولی جان پہچان والی بھی ایسا ہی کرتی ہیں

کوثر بیگ said...

جی بھائی ، میں نے دل میں آپ کو یاد ہی کیا تھا کہ آپ کا کمنٹ دیکھا ۔اللہ لمبی عمر کرے آپکی

فضل دین said...

مُجھے لگا تھا کہ پارکنگ کا مسئلہ صرف ہماری ہی میراث ۔ہے۔۔ لیکن خیر ۔ویسے بہت اچھی منظر کشی کی ہے آپ نے

کوثر بیگ said...

خوش آمدید فضل بھائی آپ پہلی بار میرے بلاگ پر کمنٹ کرنے کے لئے ۔۔

ارے یہ مسلہ کہاں نہیں انڈیا کی پارک کنگ پر تو ایک مضمون لکھا جاسکتا ہے ۔اچھی خاصی گورمنٹ کی پار کنگ کی جگہ پر گاڑی کھڑی کی گئیجب واپسی میں نکلنے لگے تو نہ جانے کہاں سے ایک دادا بھائی نمودار ہو کر پیسے مانگنے لگےمیاں نضیحت کےلئے انکار کردیا پھر کیا تھا ایک تماشا بن گیا لوگوں نےدادا بھائی سے بہت ڈرائے فیملی ساتھ ہونا یاد دیلایا اور میاں نے فیملی ہی کے ساتھ کا فائدہ اٹھا کر ان کو ناکام لوٹا دیا۔ کیسے فیملی کے طرف سے بات کرے کیسے فیملی کا نام لیا،کیسے فیملی ساتھ ہے یوں گاڑی کو گھیرے پیسے مانگے وغیرہ وغیرہ افف وہ دن یاد کرتی ہوں تو ہنسی آتی ہے۔لوگوں کی مفت خوری اور نئے نئے طریقہ کمانے کے دیکھکر حیرت ہوتی ہے ۔آپکا بہہت بہت شکریہ بھائی میری یہ بکواس برداشت کرنے کے لئے۔۔

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔