Monday, June 27, 2016

بے لاگ دستِ قدرت میں







میرے بلاگ کی یہ سوویں ( 100) پوسٹ ہے اوراس میں بہت خوشی سے یہ خبر دے رہی ہوں کہ  کئی روز بیتابی سے  انتظار  
کرنےکے بعد رمضان رفیق بھائی کی  کوشش اور مہربانی سے پوسٹ کے ذریعہ بے لاگ میرے ہاتھوں تک پہچ گئی ۔۔۔۔جس خلوص و خیال اور جدو جہد سے رمضان بھائی نے ارسال کی ہے اس کے لئے شکریہ کہنا بہت کم ہوگا اللہ ہی ان کو جزائے خیر دے ۔

بچوں نے فون پر جب مجھے بتایا کہ آپ کا پارسل آیا ہے تو میری بے چینی میں مزید اضافہ ہوگیا پھر جب بے لاگ میرے ہاتھوں میں آئی تو بیٹے نے جلدی سے رمضان بھائی کو میسج دینے کہا مگر میں تواسے ایسا الٹ پلٹ کردیکھ رہی تھی جیسے کسی نے پہلی بار کوئی کتاب دیکھی ہو۔ جب کھول کر مطالعہ کیا تو اپنے سارے بلاگرز بھائیوں بہنوں کے نام ستاروں جیسے جگمگا رہے تھے ایک کے بعد دیگر سب کے تحاریر پڑھتی رہی بہت خوشی کا احساس چھایا رہا جن  کو نیٹ پر پڑھنے  ڈھونڈ کرگھورنا پڑتا تھا انہیں ایک جگہ پاکر اچھا  لگ رہا تھا
ہر ایک کا مضمون بہت خوب ہے کوئی نصیحت کررہے ہیں کوئی اپنے بلاگ کے بارے میں بتارہے ہیں تو کوئی اپنی یادیں اور کوئی تجربہ شیئر کررہے ہیں کوئی اپنا علم بانٹ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ کئی بلاگرز کے یہ تحاریر کا مجمع قابل تعریف ہے جو انہوں نے اپنے دماغ اور قلم کی صلاحیتیں کو روبہ عمل لاکر بلاگ پرصرف کررہے ہیں یہ ایک اچھا قدم ہے اس طرح ہم بلاگرز کے تحاریر محفوظ بھی ہونگے اور ہمارے فکری و فنی نظریہ عام بھی ہوگا ۔اب کی طرح ہمارے بلاگرز کے محدود قارئین نہیں رہنگے اس نا چیز کو بھی بے لاگ میں شامل فرما  یا گیا ہے، ممنون ہوں ۔


ہرچھ ماہ بعد یا ہر سال یہ سلسلہ چلتے رہنا چاہیے بیشک رمضان بھائی ،خاور بھائی ،ساجد بھائی،زاہد بھائی اور دوسرے احباب کو مسائل اور دشواریاں کا سامنا ہوا ہوگا مگر ایک بار اس نیک کام کی باگ ڈور سنبھالی ہے تو اسے آگے بھی ضرور نبھائیں اپنے احباب کے دلوں کو خوشی اور چہرے پر مسکراہٹ دینا کوئی معمولی کام نہیں ۔  اس تعارفی ایڈیشن میں جو بلاگرز غیر حاضر ہیں آگے وہ بھی آپ کے ساتھ ہونگے اور خوب سے خوب تر کی طرف گامزان رہنگے ۔ان 
شاءاللہ

میری طرف سے اشاعت میں مدد کرنے والے اسے سپلائی کرنے والے خریدنے اور پڑھنے والوں کا دلی شکریہ ادا کرتی ہوں اور ڈھیروں دعائیں آپ سب کےلئےمیری جانب سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, January 13, 2016

دوہرے جذبات


السلام علیکم 

کل دواخانہ کے انتظار گاہ کی رکھی کرسی پر بیٹھی وقتاً فوقتاً اپنے فون کو کھولتی دیکھتی پھر بےچینی سے آپریشن تھیٹر سے ہر آنے جانے والے پر چونک کر نظر ڈالتی رہی اپنے آنے والے نومولود پوتے کی آمد کی سرتا پا منتظر تھی کہ سیل فون نے فیملی گروپ پر اطلاع دی کہ میرے ایک بہت ہی عزیز رشتہ دار نے داعی اجل کو لبیک کہا ہے تو میں ایک عجب تجریدی کیفیت میں گرفتار ہوگئی کبھی آنے والے بچے کے لئے پیار اور آمد کی خوشی ہوتی تو کبھی اپنے عزیز کی رحلت کا غم امڈ آتا ان کی یادیں نظر کے سامنے محسوس ہوتی ہمارا ان سے ایک نہیں تین تین رشتے تھے پھر میرے والدین کے اور انکے والدین میں بلا کا میل ملاپ خلوص تھا ہم ان کے گھر پچپن سے جاتے ان کی وہ بچپن کی سمجھداری سے کی گئی شراتیں لطیفہ گوئی مختلف آوازیں نکلنا ہنسنا باتیں کرنا پھر بڑے ہوکر بہت ہی بردبار مہذب بے حد با اخلاق ملنسار اپنے والدین کے نقش قدم پرچلنے والے انسان کی زندگی گزارتے دیکھنا پھر ایک طویل عرصہ موت سے لڑنا اور ایک 
لفظ بھی شکایت نہ کرنا سب کچھ یاد آتے اور دل کو مغموم کرتا رہا ۔۔۔


 مجھے احساس ہوا کہ یہ دنیا ایک راستہ ہے ہر انسان ایک پلیٹ فورم  سے آتا ہے زندگی کا سفرگزار کر دوسرے پلیٹ فورم پر انتطار کے لئے چلے جاتا ہے کوئی اس سفر میں زیادہ عرصہ ساتھ رہتا ہے تو کوئی جلدی چلا جاتا ہے بس ہماری نظر تو اس منزل پر مرکوز ہونی چاہئے جہاں ہمیں مستقل رہنا ہے۔ نومولود کو گود میں لے کر میرے دل سے یہ ہی دعا نکلی کہ اللہ اسے نیک اور صالح بنا دنیا کی سختی اور آزمائیش سے بچائے دونوں جہاں کی کامیابی عطا کر ۔۔۔۔    


یہ تو سنا اور دیکھا تھا کہ انسان دوہرے چہرہ اور رہن سہن رکھتے ہیں مگر اپنے اندر اٹھنے والی خوشی اور غم کے احساس و خیالات کو محسوس کر کے  اپنی خود کی حالت پر حیرت ہوئی کہ اللہ نے انسان کو کیا بنایا ہے وہ ایک وقت میں الگ الگ جذبات خود میں بہت خوبی سے سما سکتا ہے ۔ تمام تر تعریف کے قابل اللہ واحدکی 
ہمیشہ قائم رہنے والی ذات پاک  ہے ۔

۔