Monday, January 20, 2020

ایک نئی صبح


2016/20 جنوری کو لکھی ایک پرانی تحریر

السلام علیکم

کل کسی کام سے صبح تڑکے سے باہر جانا ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف اللہ کا نور پھیلنے لگا ہے ۔ایسے لگاجیسے خواب غفلت میں پڑے لوگوں پر اللہ کا حکم  جاری ہوگیا ۔اس کی نعمت و رزق  اور اہم کاموں کے حصول کےلئےسب مخلوق سر گرمی عمل نظر آنے لگی ۔ سوئے ہوئے آرام و استراحت  کے بعد یہ ہشاش بشاش بندے ایک نئی صبحکی شروعات کرتے سڑک پر رواں دواں ہوگئے۔ ہلکی ہلکی دھوپ عمارتوں پر پھیلنے لگی تھی ۔ سورج مخالف سمت سےچمکتے ہوئے ایک اور نئی صبح کی نوید سنا رہا تھا ۔اپنے اطراف گاڑیوں کی قطار میں موجود  متحرک زندگیوں کو میںدیکھ رہی تھی اور اللہ کی حمد و ثنامیرا دل  خود بخود کرنے لگا تھا ۔ دل ہی دل میں ہم مسلمین  کے اندر کی تاریکیدور ہونے، روشن مستقبل کےلئے ، رزق کی کشادگی اور ایمان کے نور سے سدا منور رہنے کی دعا دل ہی دل میں مانگنےلگی ۔

مجھے احساس ہوا کہ ایک چھوٹا بچا اپنے آفس سے آئے تھکے ہارے والد سے کس تمانیت کی جستجو میں باہر جانےکی ضد کرتا ہے ۔ میں بھی بالکل چھوٹے سے بچے کی طرح ہر جانب نظر  نظر دوڑاتی اور خوش ہوتی رہی ۔ آزاد ہوا کےتازہ چھوکے نے مجھے ایک تنکے جیسا بچپن میں لے اڑا اور یاد دلایا  اس کشادہ صحن کی ، جہاں علی الصباح کینرم گرم دھوپ ، تناور  درختوں کی چھاؤں ، پرندوں کی سریلی آوازیں،  بچوں کے کھیل ، خواتین کا مرچ مسالےکباب پاپڑسوکھنے رکھنا ، گھر بھر کے لوگوں کی گزار گاہ ، کبھی ٹھنڈی تو کبھی گرم ہوا سب ہی کھلے کھلے سے آنگن کی وجہسے ملا کرتی تھی۔ گھر میں خواتین اور بچوں کو کبھی قید و بند کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا ۔تازہ ہوا کی ہر وقتدستیابی اچھی صحت کی صامن ہوتی ۔ بڑے بڑے خاندان ہوتے جو اکثر و پیشتر ایکجا رہتے ۔ ہر گھر کے اندر سےراستہ ہوتے نہ بھی ہوتو بے جھجھک ایک دوسرے کے گھر پڑوسی رشتہ دار  پہلے سےاطلاع دیے بنا چلے آتے  ۔۔۔ جبسے یہ فلیٹ سسٹم رائج  ہوا ہے تب سے زندگی ، گھر اور فیملی سیمٹ سی گئی ہے۔ آپس میں تکلف سا پیدا ہوگیا ہےفاصلہ کی دوری سے خاندانوں میں خلوص اور میل ملاپ میں کمی واقع پزیرہوگئی ہے ایسا مجھے لگتا ہے یا شاید یہمیری خام خیالی ہے ۔ مگر دل ابھی بھی وہ  پرانے وضع کے دالان صحن سے منسلک گھروں کی شدید کمی محسوسکرواتا رہتا ہے۔

Sunday, December 15, 2019

لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو



کل تک میں سوچا کرتی تھی کاش میرا بچپن لڑکپن پھر لوٹ آئے میں معصوم سی بچی بن جاؤں جسے سب پیار کرتے تھے جس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھا جاتا سنا جاتا ۔ رتی بھر بھی بد تمیزی پر اپنےپرائے اصلاح کےلئے سمجھاتے  پرائے بھی کب پرائے ہوتے یہ تو میں آج کے نظریہ کے حساب سے کہہ رہی ہوں  مجھے یاد ہے ایک بار میں بھکارن جو روز ہمارے گھرآیا کرتیں تھی جسے امی کچھ نہ کچھ دےدیتی تھی  وہ بی بی کی آواز لگائی تو میں امی کو اطلاع کردنے کہنے لگی امی بڈھی آئی ہے کیا دینا ہے؟ تو امی نے منہ پر ہاتھ رکھ کر چپ رہنے کے اشارے کے ساتھ کہا تھا ایسا نہیں بولتے بڑی بی آئیں  ہیں کہو بڈھی وڈی نہیں بولنا  ۔ مجھے یاد ہے ہمارے گھر ہندو دھوبن تھی ایک دو بار کپڑے الٹے دیکھ کر مجھے تیز آواز میں اپنے الٹے کپڑے سیدھے کرنے کہا تو میں امی سے شکایت کرنے لگی امی مسکرا کر مجھے سیدھے کرنے اور آگے سے خیال رکھنے کی تاکید کی  ۔ امی کے گھر لکشمی نامی  گولن آتی اسے بچی ہوئی تو اپنی منی سی بچی بھی پلو میں بندھکر جگہ جگہ دودھ ڈالتی میں گھر کی چھوٹی تھی  اس منی سی بچی کو دیکھتی تو اسے گود میں لے لیتی گود سے اتارنا دل ہی نہیں چاہتا گولن کو دودھ ڈالنے دوسری طرف جانے دیر ہونے لگتی امی گولن سے کہتی تم دوسری ساری جگہ دودھ ڈالنے کے بعد آکر لےجاؤ کہاں صبح صبح سردی میں ساتھ لیے پھروگی پھر ہر دن ایسا ہی ہونے لگا  میں بچی کا منہ ہاتھ دھولاتی پاوڈر لگاتی اسے گود میں بیٹھائے رکھتی گولن کی واپسی تک ۔۔۔۔۔ میرے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے بچپن میں بھید بھاؤ  کچھ نہیں تھا بس ایک محبت کی بولی سنی اور کہی جاتی   مسلم اور انڈین ہونے پر ہمیں فخر ہوتا سب عزت کی نگاہ سے دیکھا کرتے  ۔ ہم سب سے بہترین سلوک کرکے دل جیتے اور عزت پاتے ۔آج کی طرح نظر انداز نہیں ہوتے ۔ ٹھکرائے نہیں جاتے ۔ نا گردہ گناہ کی سزا ہونے سے گھبرائے سہمے ہوئے نہ ہوتے ۔

آج کے حالات پڑھکر جانکر  دل الامان الحفیظ کہنے لگتا ہے ۔ اب نہیں ہوتی پھر سے بچپن لوٹ آنے کی خواہش جیسی تیسی بھی ہے باقی عمر ،اللہ ایمان و امن سے گزار دے ۔اپنے آنے والی نسلوں کی فکر پھر بھی دامن گیر رہتی ہے ۔ان آنے والے مزید خیالوں کی یلغار   کو روک کر خود کو تسلی کےلئےکہتی ہوں  ۔ مایوسی کفر ہے ۔ اللہ سے اچھی امید رکھنا چاہئے وہ خالق جو قدرت والا ہے وہ مسلمانوں کو پھر سےعزت ،وقار  اور ان کے حقوق واپس ضرور دلائے گا ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔