Sunday, December 29, 2013

تجدید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک افسانہ


تجدید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک افسانہ
  




, ہیلو، ہیلو

السلام علیکم ۔۔ ۔ ۔کیسی ہو۔ ۔ ۔ ہاں ٹھیک ہوں ۔ ۔ ۔ کیا ،عرفان نے باس سے جھگڑا کرکے نوکری چھوڑ دی? مگر کیوں ?۔ ۔ ۔ چھٹی کےلئے ۔ ۔ ۔ نہیں شاید امی کی طبیعت خراب ہو مجھے پریشان نہ کرنا چاھتے ہوں ۔ ۔ ۔ کیا وطن، نہیں ۔ ۔ ۔۔۔ اچھا اچھا مکرم بھائی مجھے سمجھانے کہہ ہیں ۔ ۔ ۔ چلیے . . . اللہ حافظ* * مکرم بھائی جو عرفان کے ساتھ آفس میں ملازم ہیں انکی بیوی سے بات کرکے وہ بہت دیر تک ریسئیوار ہاتھ میں تھامے سوچتی رہی کہ عرفان کو کیا ہوگیا ہے ہر وقت موڈ خراب رہنے لگا ہے پانچ سال سے زیادہ شادی کو ہوا۔اسنے کیا کچھ نہیں دیا۔ ایک اعلی نو تعمیر رہائشی بستی میں نیا گھرنمونے میں نادر اورسجاوٹ بےمثال،سامان سے لڈا گھر، گاڑی سب ہی  میسر تھا۔ میں جس جیز کو پسند کرتی وہ دوسرے دن گھر میں موجود پاتی کسی دوکان پرا یک سے زیادہ کسی چیز کودیکھتی تووہ خرید لی جاتی میرے ہر آرام کےلئے اپنےآرام کی قربانی دینے میں خوشی محسوس کرتے,ہر جگہ ہر معاملہ میں مجھے ملحوظ خاطر رکھتے ایک دن میں نے کمپیوٹر کوبتاکر کہا تھایہ تو شو پیس ہےانٹر نیٹ  کنکشن کے بغیر ایسا ہے جیسے بغیر روح کے بدن تو پھر دوسرے دن ہی نیٹ آگیا ہم نے دودن تک دوست رشتہ داروں سے فون کر کر کےآی ڈی لیتے ایڈ کرتے رہیےپھر کئی دن مطلوبہ سائیڈوں کو ڈھونڈ ڈھانڈ کردیتے .

 ہم ایک سائیٹ تلاش کررہے تھے کہ چیٹ روم پہچگئے دونوں نے ملکر خوب انجان لوگوں سے باتیں کی ۔ مجھے اتنا بھی  اچھا نہیں لگا جتنا کے انہیں پھر عرفان نے روز کی عادت بنالی میں اکتا کر ساتھ بیھٹنا چھوڑ دیا
افف کچھ دیر میں عرفان آتے ہی ہونگے کچھ چاے کے ساتھ بنالو۔خیالوں کے بھنور سے نکل کر کچن کی طرف کئی کچھ وقت گزرا ہی تھا کہ عرفان کے گاڑی کی آواز آئی پھرعرفان اندر داخل ہوے ۔چاے کا ٹرے بیڈروم میں رکھے ہوئے صوفہ کے سامنے میز پر رکھا ۔عرفان کو آتے ہی بیڈ روم میں چاے پینا  بہت پسند تھامیں پلنگ پر بیٹتے ہوے حال احوال پوچھی تو غور سے دیکھتے ہوے صرف آنکھوں کو چھپک کر جواب دیا پھر کچھ وقفہ سے میں نے آفس پر فون کرنے پر نا اٹھا نے کے بارے میں کہا تو تیوری چڑھا کر بہت ناراض ہوئے کہنے لگے آفس کام کرنے جاتا ہوں ۔ تم سے گھپے مارنے نہیں۔ خبردار جوتم نے آئندہ کبھی فون کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔ جہاں ہو وہی رہو۔


انکے یہ حاکمانے جملہ سنکر میں آمنا صدقنا کو بہتر سمجھکر چپ رہی ۔ جب اقتدار واختیار ملتا ہے تو اعتدال اورتوازن رخصت ہوجاتا ہے ۔ بے قدری ہرایک ہی کو ناگوار گزرتی ہے ۔ ذلت سے دل بجھ جاتا ہے ۔ مجھےعرفان کے رویہ کودیکھکرمسلمان ہونے کے ناتہ مجھے قرن اوٌل کی یاد آگئی سنت کی کسوٹی پر گھستے ہی ساراملمع اتر گیا ۔ کتنا معیاراورمزاج کا فرق ہے زمین آسمان سے بھی زیادہ ،میرا حق کیا ہے احساس دیلاؤں ! نہیں میری حیثیت نقارخانے کے طوطی سے بھی کمتر ہوگی ہے ۔ اب چپ ہی رہنا مناسب ہے ۔


عرفان کے سیل فون نے مجھے اپنے طرف متوجہ کرلیا وہ ریسیپشن کا بہانہ کرکے باہر کی طرف بڑ گئے ۔ میرے اندر شک کے جراثیم پنپنا شروع ہوے میں نے باہر کے دروازے کی آڑ میں باتیں سنے کی کوشش کی تو مجھے لگا کہ زمین گھومنے لگی ہے۔ وہ کہہ رہے تھےمیں تم سے ملنے اب  دو دن ہیں . پھرصرف اور  صرف ہم ہونگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔نوکری تو پھر مل جایگی  ۔ ۔ ۔ ۔کیا نہیں کوئی جایداد نہیں اور نہ بینک میں زیادہ پیسہ ہی ہیں تم ساتھ ہو تو میرے لئے کافی ہے۔ ۔اچھا رات کو نٹ پر بات ہوگی محبت کے اقرار کے بعد عرفان آنے لگے میں اپنے آپ کو بڑی مشکل سے بیڈ روم تک لا سکی سارے کمرہ کو بغور دیکھی تو  سب ہی غم خوار لگے گھڑی کی سسکیاں،گلدستہ میں سجے پھولوں کا ہل ہل کر تسلیاں دینا , مجسم ندامت کمپیوٹرکا بنا کھڑا رہنا, فون کا درد سے چیخنا سب ہی درد کے ساتھی لگے ۔ ۔ ۔


نہیں اب میں  یہاں نہیں رہونگی۔ عرفان کو میں نے بھی تو کتنی عزت محبت دی ہر بار ان کی خدمت کو تیار ،ہمیشہ پسند نا پسند کا خیال رکھا ۔ وہ ناشکر گزار ہیں بد دماغ اور بے حس ہوگئے ہیں ان کومیری ضرورت نہیں تو مجھے بھی انکی ضرورت نہیں میں روتے  جانے کب سو گئی اور عرفان کب تک کمپوٹر سے لگے بیٹھے رہے مجھے خبر ہی نہ ہوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 دوسرے دن عرفان خلافِ توقع  صبح آفس جاچکے تھے ۔
فون کی گھنٹی بچنے لگی اٹھایا تودوسرے طرف مکرم بھائی تھے کہہ رہے تھے بھابی آپ گریٹ ہو ، مہان ہو میرےلاکھ سمجھا پربھی جو نہ ہو سکا وہ آپ نے کردیکھایا۔ میں نے نہ سمجھتے ہوئے پوچھا ,آپ کیا کہہ رہے ہیں تو بولے کہ عرفان نے با س سے معافی مانگ کر نوکری بحال کرلی ہے اور جانے کا ارادہ بھی ملتوی کرلیا ہے ۔ جلدی میں ہوں رات میں فون کرونگا۔ ایک سانس میں سب کہکر فون رک دیا۔میں اس شدنی پر حیران تھی۔ میری جستجو بڑی اور میں کمپیوٹر میں ہسٹری چیک کرنے لگی،آخرمجھے رات والی چیٹنگ مل گئ جس میں حاصل گفتگو یہ تھی کہ عرفان نے پیار محبت کا یقین دلایا تھا اور دوسری طرف سے موٹی رقم کی مہر میں ڈیمئنڈ تھی عرفان نے آخر میں لکھا تھاکہ میں نے اپنی زندگی ،کیریر سب کچھ داو پر لگایا اورتم  خود غرص نکلی جی کرتا ہے تمہارا خون کردوں
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عرفان روزکی طرح آفس سے آکر صوفہ پر بیٹھے چاے پی رہے تھے۔ وہ چاے ختم کرکے پیالی رکھکر پلنگ پر میرے قریب سر جھکا کر بیٹھ گئے ۔ جھکے ہوے سر کو کچھ اور جھکا کر انہوں نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔
بہت کچھ کہنے میرے ہونٹ گھولےہی تھے کہ دل نے زور سے دھڑک کر روک دیا اور ساتھ میں سوال بھی کرڈالا ۔‘‘کیاآندھی طوفان کے بعد بستی نہیں بستی کیا اس کے مکین اسے اُجڑتا چھوڑ جاتے ہیں‘‘ مجھے لگاجیسے کمرہ میں محبت ،اعتماد ،خوشی کی فضاءچھاگئ ہو ۔ کمپیوٹر فخر سے کچھ اور اکھڑ گیا ہو،گلدستہ کے پھول ایک دوسرے سے خوشی میں گلے ملنے لگےہوں ،گھڑی گنگنانے لگی ہو، فون کے قہقہ نے مجھے چھونکا  


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Saturday, November 23, 2013

فریادی اورفریبی

السلام علیکم 
معزز بھائیوں اور پیاری بہنوں :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت پہلے کی بات ہے ون اردو فورم پر معاشرتی برائیوں پر مضامین کا مقابلا ہورہا تھا جس کے لئے میں نے اسی زمانے میں ایک خبراخبار میں پڑھی تھی اور میں نے اسی بات کو لے کر یہ مضمون بھی لکھا تھا جو آج آپ سب سے شیئر کرناچاہتی ہوں کیونکہ آج بھی ہمارے  معاشرے کو اس مسئلہ پر غور کرنے اور دوسروں کوروکنےکی ضرورت موجود ہے۔

فریادی اورفریبی



اس خبر کے پڑھنے کے بعد نہ جانے کتنی باتیں ایک ساتھ گڈمڈ ہونے لگی۔ افف یہ محلہ جس کی کبھی ہر گلی ہر گھر ہر بچہ، بڑا ،ہر عورت، اور مرد سب ہی سے میں واقف تھی کوئی بھی ایسا تو نہ تھےجس کو نہ پہچانتی ہوں ۔ سب ہی ایمان کو جان سے زیادہ عزیز رکھتے اس محلہ کے مسلمان اپنے وعدہ، عقیدہ، اور ایک دوسرےکے لئے جان 
دینے تیار رہتے
میں اس اخبار کی سرخی سے آنکھ چرائے آنکھیں بند کرلیں تو ذہن نے مجھے آج سےقریب قریب تین دہائیوں سے پیچھے کی باتیں یاد دیلانے لگا۔ بابا ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد زیادہ وقت عبادت میں مشغول رہتے فجر اور عصر کے بعد اپنے آپ کو خدمتِ خلق میں مصروف رکھتےلوگوں کو اخلاص سے پڑھی ہوئی دعا سے فائدہ بھی ہوتاجب  بہت لوگ آنے لگےجن میں عورتیں بھی ضرورت مند تھی تو بابا نے اس کارخیر میں امی کو بھی شامل کرلیا۔  کیا قرآنی آیات کس مرض کو کونسی کیسے پڑھی جائے یاد کروائی اور عورتوں کو امی سے رجوع کروادیا۔ اس طرح دونوں ملکر خدمتِ خلق میں لگ گئے .

بڑی سے بڑی شکایت کے دور ہونے پر کوئی میٹھائی لاتے تو کہتے کے اللہ شفاء دیا اس کا شکریہ ادا کرو .ہم کون کچھ کرنے والے، ہم سے زیادہ خوشی تم کو ہوئی اس لئےمیٹھائی تم کو تمہارے گھر والوں کو کھانا چاہیےکہہ کر واپس کردیتے اکثرلوگ پیسوں کی بھی پیش کش کرتے تو کہتے کے یہ لیناہمارا مقصد نہیں ہے ہم اللہ کی خوشی کے لئے اس کے بندوں کی مدد کرتے ہیں ہم تو صرف اس کا اتارا ہوا قرآن پڑھتے ہیں ۔ اس کی برکت سےاللہ مدد کرتا ہے اگر دینا ہے تو دعا دو جو پیسوں سے بھی کئی گنا مہنگی ہوتی ہے۔ 

اللہ جھوٹ نہ بلوائے ایسا کہتے وقت گھر میں صرف دال چاول کےسوا کچھ نہ ہوتا تھا۔ مگر جو عزت، جو محبت، جو اخلاص، اورجو دعا اس خدمت کے عوض ملتی تھی وہ کہی نہیں جاسکتی کوئی قرآن پڑھنے والے ہوتے تو انہیں کو پڑھنے بتاتے اگر وہ آپ ہی پڑھے کہے تو کہتے کے تمہارے پیٹ میں درد ہو تو تم 
اجوائن کھاؤ گے یا میں کھاؤں تو کم ہو گا؟
جس دن سے اپنا فقیرانہ چهٹ گیا

شاہی تو مل گئی دلِ شاہانہ چھٹ گیا
پھر میرے شادی کے بعد بہت سے
 ایسے لوگوں سے ملاقات اور بات چیت ہوتی جو روحانی علاج کی مخالفت کرتے میں حیران ہوتی کہ یہ کیسے غلط ہوسکتا ہے جتنی ممکن ہو بحث بھی کرتی پھر زندگی ایسے ہی رواں رہی۔ کچھ لوگوں نے میرے میاں کی حق گوئی کا بدلہ لینے ایک دن ایسے وقت جب پوری فیملی ملکر سفر پر نکلی تھی تو ایکسیڈنٹ کروا دیا اب اللہ جس کو رکھے اس کو کون چکھے۔ اس مصیبت سے بچ نکلے توجسمانی تکلیف دینے لگے ۔ لو میں کہنا کیا چاھتی تھی اور کن سوچوں میں بہنے لگی اور کہاں سے کہاں پہنچ گئی ۔ پچھلے سال جب میں اپنے وطن گئی توکئی خیر خواہوں نے مجھے ایسے لوگوں کے پاس جانے کا مشورہ دیے جو مجھے اپنے ایمان کے دشمنوں کی طرح لگے ۔ وہ بظاہر مجھے اپنا دوست کہتے تھےاور دھوکہ باز عامل، جادوگروں کے پتہ بھی بتاتے تھے۔ کس کس کو منع کریں آوےکا آوا بگڑا ہوا ہے کچھ لوگ بیوقوف بنا رہے ہیں اور کچھ بن رہے ہیں۔
وہاں مجھے ایک بہت غریب عورت کے بارے میں معلوم ہوا ۔ جس کا حال اسی کے زبانی کچھ ایسا تھا آپ بھی سنیے۔ اس کا بیٹا انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا پچھلے چند دنوں سے اس کی دماغی حالت درست نہیں تھی۔ اس ملازمہ نے اور اس کے میاں نے اپنے دوست کے مشورہ پر ایک جادوگر سے رجوع کیا جو کالا جادو کرنے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ جادوگر نے اس سے بیٹے کی تصویر اور2600روپے طلب کئے اور بیٹے کے بال کے ساتھ آنے کہا۔ جادوگر نے ایک کاغذ پرکچھ تحریر کرکے بال اس کاغذ میں لپیٹ دئیے اور ایک بوتل میں ڈال دیا اور ان سے کہا قبرستان میں دفن کردیں، انہوں نے ایسے ہی کیا۔ اگلے دن پھر جادوگر کے پاس گیا تو اس نے پھولوں کا کملا دیا جس میں ریت، کوئلا وغیرہ جیسے چیزیں دیے اور پانچ دن تک رکھنے کی ہدایت دی۔ مدت ختم ہونے کے بعد جب دوبارہ اس کے پاس پہنچے توجادوگر نے کہا کہ وہ بال کو جلا نہیں پایا لہذا منتر دوبارہ پڑنا پڑےگا۔اس نے دوبارا منتروں کے ساتھ بال کاغذ میں لپیٹ کر قبرسان میں دفن کرنے کی ہدایت دی۔ ۔اس طرح وہ کبھی جانور کی خشک کھال۔ناخن،دال،اگربتی کابنڈل،چاقو،چھری،تیل،لیمو منگواتے رہا۔اپنے چمچہ کے ساتھ ملکر مسلسل دھوکہ دیتے رہاکچھ فائدہ نہ ہونا تھا نا ہوا غریب عورت مقروض ہوگئی۔ پھر سے اس نے پیسے مانگے تو اس نےجانا چھور دیا پہلے کے پیسے ہی وہ صبح سے شام تک کئی گھر کام کرکے چکا رہی تھی نہ جانے اس کی طرح کتنے لوگو شکار ہو نگے  ۔
 دھوکے باز جادوگروں اورڈھونگی باباوں کےبھولے بھالے لوگوں کو دھوکہ دہی کے ذریعہ پھانستے ہیں اور رقم وصول کرتے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں آپ سب سے اپیل ہے کہ مافوق الفطرت کالا جادو اور شیطانی عمل پر یقین نہ کریں۔اگر کوئی شخص کالا جادو کے نام پر ظلم واستحصال کاشکار ہوا ہے تو مددکے لئے پولیس سے رجوع کریں۔وہ غریب عورت مسلم نہیں تھی ۔ لیکن ہم مسلم ہیں ہمارے لئے ایسی خبر بہت افسوس ناک ہوگی ۔ اس طرح کی حرکت کرنے والوں میں حیات سے حیاچلی جاتی ہے اور ایمان بھی۔ یہ مسئلہ نہایت ہی سنگین ہےاخبارات ،ٹیلویژن چینلس کی کوشش سے کچھ نہیں ہوتا ۔ ہمیں اپنوں کو مالی اور ایمانی نقصان سےبچانے خودآگے بڑھے اور انہیں روکےان کے پاس جانے سے ۔ اللہ کا خوف دیلایےغلط ثابت کرنے کی کوشش کریے،دھوکے باز بابا کوپولیس کے حوالے کریے ۔
کتنی افسوس کی بات ہےپہلے بیٹی ساس نند کی شکایت بھی ماں سے کریں تو ماں ڈانٹ کر کہتی تھی کہ اچھی بیٹی سسرال کی باتیں میکہ میں نہیں کرتی اب جینا مرنا سب انہیں کے ساتھ ہے۔اور آج کی ماں عامل کے پاس لےکر جاتی ہے کہ داماد کوہاتھ میں رکھے ساس کچھ نہ کہیں۔  ان کا منہ بندرہیے پہلے کی ماں اچھے اخلاق اور خدمت سے سب کے دل جیتنے کاگر سکھاتی تھی۔ بیمار ہوتو منجانب اللہ سمجھے ڈاکٹر کے پاس جائیے۔ ڈاکٹر کا علم اوردوا میں شفاءبھی اللہ ہی کی دیی ہوئی ہوتی ہے ساتھ دعا کریں وہ ہی چاہے توسب ہوتا ہے۔ اور آج ہم سب کوکیا ہو گیا ہے ہم یہ کیا کررہے ہیں اللہ کو چھوڑکر،اللہ اور ہمارے دشمن سے مدد طلب کررہیے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم کو بدلنا پڑےگا اس سے پہلے کے عذابِ الہی آجائے
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
آج ہر کام کی جلدی ہےیہ راکٹ،کمپیوٹرکا دور ہے۔ سب کوجلد سےجلد چٹکی بجاتےچیزیں چاہیےہوتی ہیں۔ مگر ان کو یہ نہیں معلوم کے صحت،محبت ، عزت، ایمان پیسے خرچنے سے نہیں ملتا،اب انہیں کیسے بتاے کون بتاےیہ اپنےاللہ کی مہربانی اور  اچھےاعمال سے ملتا ہےجیسا کروگے ویسے بھروگے۔
.

Tuesday, October 01, 2013

دعوت

 
 
 
السلام علیکم
 
حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ کا قوال یاد آرہا ہے .اتنا کهاو کہ زندگی کے لوازمات پورے ہوں .اتنا مت کهاو کہ بے صبری و ناشکری اور غفلت پروان جڑهے.
آج کل شادیوں کا موسم چلا ہوا ہے .کل مجهے بهی ولیمہ کی دعوت میں شرکت کا موقعہ ہوا .لوگوں کا میز لگنے سے پہلے کهانے کے کمرے سے قریب جاکر بیٹه جانا اور میز کے تیار ہونے کی بات سنتے ہیں جانے میں سبقت کرنا عجب بے صبری کا اظہار لگا.

اور کهاتے وقت تو ایسا ...
لگتا ہے کہ گویا یہ ان کی زندگی کا آخری کهانا ہو یا پهر زمانے میں اب یہ آخری دستر ہو اس کے بعد رزاق آسمان پرا ٹها لیا جائے گا.نہ سامنے بیٹهے رشتے دار کا خیال نہ دیکهنے والوں کی پرواہ.بس سارا دهیان کهانے میں مصروف ، مصروف بهی ایسے کہ جیسے کسی دشمن پر ٹوٹ پڑے ہو اور پوری توجہ سے جنگ میں مصروف ہو.

میزبان بهی ہما قسم کے کهانے بنا کر ہرس میں مزید اضافہ کردیتے ہیں.پهر دعوت اڑانے کے بعد نام رکهنے کے بارے میں تو پوچهو ہی مت اتنی باتیں بنائی جاتی ہیں ک میں بتاتے جاو تو آپ تهک جائیں گے.

اتنے بڑے میز پر میں نے کسی کو اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں دیکها اور نہ میزبان کا شکر گزار دیکها ..

ایک اور بات کهانا کهاتے وقت میزبان دیکه دیکه کر کهانا نکلے گے .کهانے کی دعوت دو تو سمجه لینا چاہئے کہ کهانے بلایا ہے تو پیٹ بهر کهلائیں اور کهانے آدمی کو بلایا جارہا ہے تواس حساب سے پکوان کیا ہی جاتا ہے .ظاہر ہے کہ ایسا کرنے سے کهانا بچ جائے گا. اگر سمجهدار ہو تو جلدی سےتقسیم کردینگے.اور تمام وہ لوگ ہی جاننے والے ہونگے جو کهاچکے ہیں.کوئی باسی کهانے سے کتراتے ہیں تو کوئی اتنا وصول کرلینگے کہ کها نہ سکے گے.اور اگر میزبان سست یا بخل ہو تو سارے کا سارا ضائع ہو جائے گا. پہلے تو دعوت میں مہمان اتنی دیر سے آتے ہیں پهر کهانا دیر سے کهاتے ہیں اور گهر واپس ہونے تک تو بہت دیر ہوجاتی ہے پیٹ بهرا ہو تو نیند مست آتی ہے دوسرا اتنی دیر تک جاگنا اور بیٹهے بیٹهے تهکن الگ ہوجاتی گهر آکر خواب غفلت میں پڑے سو رہتے ہیں.

ہم یہ بهول جاتے ہیں کہ ہم کو رزق اس لئے دیا گیا ہے کہ ہم کو اللہ کی عبادت میں تقویت ملے .بزرگوں نے مختلف اقسام کے کهانوں سے ہمیں منع فرمایا ہے.اور کهانے کے بعد اللہ کا شکریہ ادا کرنے کہا ہے ...اللہ ہمیں بے صبری ، ناشکری اور غفلت سے بچاتا رکهے .

Sunday, September 01, 2013

تعلیمی نظام

 



السلام علیکم

میری پیاری بہنوں اورعزیز بھائیوں؛

انسان جب سے پیدا ہوا ہے تب سے اس کی فطرت میں اللہ پاک نے سوچ و بچار کی عادت،جستجو اورخواہشات بھردیے ہیں۔ ان ہی تینوں چیزوں نے اس پر علم کے دروازے کھول دیے ۔ وہ حسب ضرورت ہر چیز کی تحقیق کرنے لگا۔ وہ ہر وقت اپنی صلاحیت و قابلیت سے ہمیشہ آگے ہی آگے پڑھتے رہا ۔ حضرتِ انسان نے جدھر بھی نظر ڈالی اس پر غور و غوص سے معلومات کا خزانہ اکٹھا کرتا رہا۔ قسم قسم کے معلومات سے خود کو اشرف المخلوقات ثابت کرتا گیا ۔ دنیا بے انتہا علوم سے بھری پڑی ہے جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں جیسے علمِ تاریخ ، علم ہندسہ ،علم فلکیات ،علمِ جغرافیہ ،علم طب ،علمِ لسانیات ،علمِ معاشیات , علم طبیعییات ، علم حیوانات ، علم باطنی و مذہبی وغیرہ پھرمختلف صنعت و عرفت کے معلومات کا علم ۔
 

علم ہمیں جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔علم وہ دولت ہے جو کوئی لوٹ نہیں سکتااور یہ دینے سے مزید پھیلاتا ہے ۔ علم سے عزت ملتی ہے ۔ علم ہی تہذ یب و اخلاق سیکھاتا ہے ۔امیر غریب کا فرق مٹاتا ہےتعلیم کو ہرملک اور مذہب نے اہمیت دی ہے ۔ تعلیم و تربیت ہی سے انسان خود کی اور دوسروں کی اصلاح کرتا ہے۔مستقبل کیلئے نئی راہیں کھلتی ہیں ۔علم ہی کی وجہہ سے آپ اپنا بہت سا وقت بچالیتے ہیں اور مختصر عرصے میں زیادہ آگے بڑھتے ہیں۔علم حاصل کرنا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے ۔ علم ہتھیار ہے ۔ علم کامیابی کی کنجی ہے ۔ علم زندگی ہے ۔علم روشنی ہے۔۔علم سمندر کی طرح لا محدود ہے۔ جتنا کھوجتے جاؤ اتنا گہرا ہے ۔ پیدائش سے مرنے تک انسان کسی نہ کسی علم و تجربہ کو حاصل کرتا ہی رہتا ہےاور یہ علوم کا سلسلہ نسل انسانی میں منتقل ہوتے رہتا ہے۔اور اس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتے رہتا ہے ۔
 

ایک ایک فرد سے ملکر معاشرہ بنتا ہے اور جس ملک میں جتنے علم کے ماہرین و ہنرمندوں کی تعداد زیادہ ہوگی اتنا ہی ملک ترقی پذیر ہوگا۔ ہمیں اپنے ملک کی ترقی کے لئے پسماندہ طبقہ کو علم و ہنر سے آراستہ کرناہوگا۔ تب ہی سب ملکر ملک اور قوم کی ترقی کا باعث بنے گے ۔

 
والدین کو چاہیے کہ بچوں کو دیکھ بھال کر اچھے اسکول میں داخل کروائیں جہاں با اخلاق ٹیچرس ہوں اور مدرسہ کے قائدہ قانون بہتر ہوں۔ ا ور کوشش کریں کہ بچوں کو ایک ہی اسکول میں پڑھائیں کیونکہ بچوں کے بار بار اسکول کے بدلنے سے بچوں پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں ۔ان کی پڑھائی میں خود بھی دلچسپی ظاہر کریں ۔ انہیں اچھے نمبرات لانے کے لئے تعریف ،دعا کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹےتحفہ دے کرحوصلہ آفزائی کرے دوسرے بچوں سے موازنہ ہرگز نہ کریں اس سے بچے کی دل آزاری ہوگی ۔ کبھی حوصلہ شکنی نہ کریں ہمیشہ آگے بڑھنے کی تحریک دیں۔انہیں ہمیشہ پڑھتے رہنے نہ کہیے کھیل کے لئے بھی مہلت دیں۔ بچوں کوفائدہ مند، صاف سھتری ، تازہ ان کے پسند کی غذا دیا کریں۔ ذہنی وجسمانی نشوونما بھی بچے کے لئے بہت ضروری ہوتی ہے ۔ ۔بچے کی تحمل اور محبت سے بات سنے ۔اپنے بچون کو تحفظ کا احساس دیجئے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ آگے کی طرف گامزان ہوں ۔ آپ اپنے بچے کے ساتھ جیسا رہو گے آگے جاکر بچے کا رویہ بھی ویسے ہی ہوگا ۔ ماں کا گودبچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے آپ بچے سے جن الفاظ اور لہجہ سے بات کرینگے، بچا بھی ویسے ہی سیکھے گا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا خیال رکھنا بھی والدین کا فرض ہے۔
 

مُدّرس ایک عظیم پیشہ ہے کیونکہ یہی افراد نوجوان نسل کو ایک بہتر شہری بنانے کے علاوہ بہتر سماج تعمیر کرسکتے ہیں .یہ ٹیچر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دیتے ہوئے انہیں اعلیٰ مقام تک پہنچائیں اور بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ اخلاقی اقدار ‘ انسانی اقدار کی تعلیم بھی ضرور دیں ۔ ایک مدرس اپنی طریقہ تعلیم کی ایسی راہ متعین کرنے کی کوشش کریں جس سے ایک زندہ اور جاندار قوم کی تخلیق کا باعث بن سکے۔ اپنے فرص کو جانے ۔ کوئی بھی بچہ پیدائشی ذہین نہیں ہوتا ‘ سخت محنت اور جستجوسے ہی وہ آگے بڑھتاہے۔ انٹرنیٹ کے اس دور میں بچے اپنی قابلیت کا بے انتہا جوہر دکھارہے ہیں ان شاءاللہ ٹیچرس کی تربیت میں دلچسپی سے ضرور اچھے نتائج برآمد ہوگے

 
حکومت بھی اگراپنی امداد سے کچھ موقعہ فرہم کرےتو ایک اچھا شہری پا سکتے ہیں جیسے اسکولوں کی تعداد بڑھائی جائےتو کلاس میں زیادہ بچوں کی وجہ سے استاد کے عدم توجہ سے پڑھائی پر اثر نہیں پڑے گا۔اساتذہ کی لا پرواہی پر سختی کریں اور طلبہ کی زیادہ دنوں تک غیر حاضری پر جرمانہ رکھا جائے اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے والے مختلف قسم کے اسکول بھی کھولے جائے۔ مفید نصابِ تعلیم منتخب کریں ۔ مالی طور پرکمزور خاندانوں کے بچوں کی مدد کی جائے ۔اور بڑے کلاسس کے بچوں کو پارٹ ٹائم جاب میں آسانی کے لئے تعاون کرے تو آنے والی نسل کی تعلیم و تربیت میں بہت مثبت اثرات مرتب ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ والدین کے بعد ٹیچرس کا بنانے بگڑنے میں بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے ۔ اس لئے آپ کسی بھی مشہور شخصیت کے بارے میں پڑھے تو ان کے استاد کے بارے میں بھی لکھا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔آج کے دور میں ٹیچرس کو چاہیے کہ موٹی موٹی تنخواہ کے عوض بچوں کو اچھےقابل شہری بنایں۔ تاکہ شاگرد کے ساتھ خود ان کا نام بھی سنہری حروف میں پڑھا جائے ۔ اس طرح والدین ،بچے ہمار ے،اساتذہ اور حکومت کی مدد و تعاون سے صورتحال میں بہت بہترتبدیلی ہو سکتی ہے

ہماری نئی نسل ہمارا سرمایا ہے ۔ان کے دم سے ہماری ترقی ممکن ہے ۔ انکی کی سپورٹ کرنا ہمارا فرص ہے ۔ آج ہم ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرینگے تو کل وہ ہمارے زورِبازو بنے گےاور وہ اپنے ملک ، شہر ،استاد اور والدین کا نام دنیا روشن کر سکے گے۔

 

بے حد نوازش جو آپ نے پڑھنے کے لئے وقت نکا لا۔۔۔۔

Thursday, August 22, 2013

زبانِ مقال

 

 
السلام علیکم
میرے عزیز بھائیوں اور بہنوں
 
آج میں نے جو موضوع منتخب کیا ہے اس کاتعلق بچے ہو کہ عمر رسیدہ، خواتین ہو کہ مرد، چاہے کسی بھی قوم سے تعلق ہو اور کوئی بھی پیشہ اختیار کرتےہواور دنیا کے کسی بھی قطعہ میں رہتے ہوں ہر وقت ہر گھڑی ان کا تعلق اس سے بنے ہی رہتا ہے یہ آپ کی شخصیت کی پہچان کراتی ہے یہ آپ کے باطن کو عیاں کرتی ہے یہ آپ کی تربیت اور ماحول کی عکسی کرتی ہے ۔کہنے کو تو چار حرف سے بنا یہ ایک لفظ" زبان" ہے۔
 
 یہ ہوتی تو چھوٹی سی نرم و نازک، بغیر ہڈی کی دو جبڑوں کے بیچ میں چھپی ہمیں اچھے ذائقہ دینے کے ساتھ ساتھ وہی بڑے بڑے فتنے فساد قتل و لوٹ مار اور محاذ آرائی کی وجہہ بھی بن جاتی ہے ۔اوراچھی بنی تو کبھی خیر خواہی ،ذکر اللہ ، تلاوت کلام ِ پاک صدقہ جاریہ ،بیمار کی عیادت، یتیم پر شفقت،غریب کی کفالت بھی اسی کے طفیل ممکن ہوا کرتی ہے ۔ دیکھا جائے تو یہ اچھی تو جگ اچھا یہ بگھڑے تو دنیا کو دشمن بنا دے ۔ اس کے دم سے دنیا تو دنیا آخرت کی بھلائی برائی بھی منسلک رہتی ہے۔ اس ہی لئے کہتے ہیں زبان شیریں تو ملک گیری ،زبان ٹیڑھی تو ملک بانکا ۔ نرم زبانی سے بہت سے کام نکل جاتے ہیں سخت کلامی سب کو دشمن بنا دیتی ہے ۔درحقیقت ہر ایک پر اسکا تصرف اور قبضہ ہے
 
ہر شخص کی یہ ہی خوہش رہتی ہے کہ لوگ مجھے چاہیں ، مجھ سے بلا غرض ملے میری ہر بات کا جواب دیے مجھے اپنا دوست بنالیں ،مجھے اچھا مانے وغیرہ۔۔تو ہم یہ سب حاصل کیسے کرے اس کے لئے ہم اللہ اور اس کے رسول کے بتائےہوئے احکام میں اس کا حل تلاش کرتے ہیں آقائے کائناتﷺ کی جلوہ گیری کی وجہہ سے ہماری دنیا اور آخرت کی بہتری کا راستہ وضع ہوا ہے ہمیں ا للہ کا پسند یدہ عمل کیا ہے اور اس کے بندوں سے کیسا معاملہ روا رکھنا چاہیے ہم کو آپﷺ نےکیاسیکھایا ہے آئیے ہم قرآن اور آپﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اس کی برائی اور بھلائی کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ باتیں کرنے کی حرص ،فحش کلامی ،جھوٹ ،غیبت،غمازی،چغل خوری،، غصّہ ،حسد، ہجو کرنا،لعنت کرنا ،سخن چینی کرنا،زبان درازی کرنا ، جھگڑے کرنا وغیرہ یہ سب زبان کی برائیاں ہیں اور ان سب سےبچے رہنا بھلائی ہے۔
 
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ۝الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ۝وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ۝
بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے۔جو نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیںاور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں۔سورة المؤمنون ۱ ، ۲، ۳ ۔
  
وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوًّا مُّبِينًا۝
اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔ - سورة الإسراء ۵۳۔
 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ۝
اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ - سورة الحجرات ۱۲۔
 
وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا۝
اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بزرگانہ انداز سے گزرتے ہیں۔سورة الفرقان ۷۲۔
 
 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۝
اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو ۔ سورة التوبة ۱۱۹ ۔
 
إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ ۝ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيد۝
 
جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، لکھ لیتے ہیں ۔ کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔
۱۷ ، ۱۸۔ سورة ق
 
وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
 
اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔ اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو - سورة الأنعام ۶۸۔
  
الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ۝
جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے۔ سورة النجم ۳۲۔
 
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا۝
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا ۔سورة الأحزاب ۵۸۔
 
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ۝
ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے ۔ سورة الهمزة ۱۔
صحیح بخاری میں سہل بن سعد رضی اللہ تعالی سے مروی ہے کی رسول اللہ صلی اللہ تعالی نے فرمایا جو شخص میرے لئے اُس چیز کاضامن ہوجائے جو اُس کے جبڑوں کے درمیان میں ہے یعنی زبان کا اور اُس کا جو اس کے دونوں پاؤں کے درمیان میں ہے یعنی شرمگاہ کا میں اُس کے لئے جنت کا ضامن ہوں یعنی زبان اور شرمگاہ کو ممنوعات سے بچانے پر جنت کا وعدہ ہے۔
 
حضرت ابوہرہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ اللہ تعالٰی کی خوش نودی کی بات بولتا ہے اور اس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا یعنے یہ خیال بھی نہیں کرتا کہ اللہ تعالٰی اتنا خوش ہوگا ۔ اللہ تعالٰی اُس کے درجوں کو بلند کرتا ہے اور بندہ اللہ تعالٰی کی ناخوشی کی بات بولتا ہے اور اُس کی طرف دھیان نہیں دھرتا یعنی اس کے ذہین میں یہ بات نہیں ہوتی کہ اللہ تعالٰی اس سے اتنا ناراض ہوگا اُس کلمہ کی وجہہ سے جہنم میں گرتا ہے اور بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جو مشرق و مغرب کے فاصلہ سے بھی زیادہ ہے ۔
  
امام احمد وترمذی و دارمی و بیہقی نے عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو چپ رہا اُسے نجات ہے ۔
 
اور ایک جگہ امام احمدو ترمذی نے عقبی بن عامر رضی اللہ تعالٰی سے روایت کی ہے کہتے ہیں میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عوض کی نجات کیا ہےارشاد فرمایا اپنی زبان پر قابو رکھو اور تمہارا گھرتمہارے لئے گنجائش رکھے( یعنے بیکار اِدھر اُدھر نہ جاؤ) اور اپنی خطا پہ گریہ کرو۔
 
ترمذی نے ابو سعید خذری رضی اللہ سے روایت کی کہ حضور نے فرمایا ابن آدم جب صبح کرتا ہے تو تمام اعضا زبان کے سامنے عاجزانہ یہ کہتے ہیں کہ خدا سے ڈر کہ ہم سب تیرے ساتھ وابستہ ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم سب ٹیڑھے ہوجائیں گے ۔
 
ترمذی نے سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ سے روایت کی ہے کہتے ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہﷺ سب سے زیادہ کس چیز کا مجھ پر خوف ہے یعنی کس چیز کےضرر کا زیادہ اندہشہ ہے حضور نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا یہ ہے ۔
رسول اللہ ﷺ کی یہ ہے ہدایت
کرو اپنی زبان کی تم حفاظت
 
ترمذی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مومن نہ طعن کرنے والا ہوتا ہے نہ لعنت کرنے والا نہ فحش بکنے والا نہ بیہودہ ہوتا ہے
 
صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی سے روایت ہے کہ ایک شخص نےاپنی سواری کے جانوار پر لعنت کی رسول اللہﷺ نے فرمایا اُس سے اُتر جاؤ ہمارے ساتھ میں ملعون چیز کو لے کر نہ چلو اپنے اوپر اور اپنی اولاد و اموال پر بد دعا نہ کرؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بد دعا اُس ساعت میں ہو جو دعا خدا سے کی جائے قبول ہوتی ہے ۔
 
صحیح بخاری میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کو کافر کہہ کر بلائے یادشمن خدا کہے اور وہ ایسا نہیں ہے تواسی کہنے والے پر لوٹے گا۔
 
صحیح مسلم میں انس رضی اللہ وابوہریرہ رضی اللہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو شخص گالی گلوج کرنے والے انھوں نے جو کچھ کہا سب کا وبال اُس کے ذمہّ ہے جس نے شروع کیا ہے جب تک مظلوم تجاوز نہ کرے یعنی جتنا پہلے نے کہا اُس سے زیادہ نہ کہے ۔
 
درمی نے عمار بن یاسر رضٰ اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا میں دو رخا ہوگا قیامت کے دن آگ کی زبان اُس کےلئے ہوگی ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ اُس کے لئے دو زبانیں آگ کی ہوگی ۔
 
صحیح بخاری و مسلم میں حذیفہ رضی اللہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ کو میں نے کہتے سنا کہ جنت میں چغل خور نہیں جائے گا ۔
 
بیہقی نے شعب الایمان میں عبدالرحمن بن غنم و اسما بنت یزید رضی اللہ عنہماسے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پاک کے نیک بندے وہ ہیں کہ ُان کے دیکھے سےخدا یاد آئے اور اللہ کےبُرےبندے وہ ہیں ُجو چغلی کھاتے ہیں دوستوں میں ُجدائی ڈالتے ہیں اور جو شخص جرم سے بَری ہے اُس کو تکلیف ڈالنا چاہتے ہیں ۔
 
بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی سے روایت کی دو شخصوں نے ظہر یاعصر کی نماز پڑھی اور وہ دونوں روزہ دار تھے جب نماز پڑھ چکے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی نے فرمایا تم دونوں وضو کرو اور نماز کا اعادہ کرو اور روزہ پورا کرو اور دوسرے دن اس روزہ کی قضا کرنا ۔ انھوں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ یہ حکم کس لئے ادچاد فرمایا تم نے فلاں شخص کی غیبت کی ہے ۔
 
ترمذی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقل کروں اگرچہ اتنا اتنا ہو یعنی نقل کرنا دنیا کی کسی چیز کے مقابل میں درست نہیں ہو سکتا۔
 
امام احمد و نسائی و ابن ماجہ و حاکم نے اسامہ بن شریک رضی اللہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ کے بندو اللہ نے حرج اٹھا لیا ہے مگر جو شخص کسی مرد کی بطور ظلم آبروریزی کرے وہ حرج میں ہے اور ہلاک ہوا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
بہت بہت شکریہ بلاگ پر تشریف لانے کے لئے 
 
 

Saturday, August 17, 2013

نوید عید

 
 
نوید عید
 
نسیم زندگی پیغام لائی ،صبح خنداں کا
 
 
ایسا لگتا ہے جیسے یہ کل ہی کی بات ہے جب ہم آمد رمضان کی خوشیاں منارہے تھے ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے ۔استقبالِ رمضان اس کی تیاری اور آمد کی خوشی عبادت و اطاعت کے لئے مستعد ہونے کی کوشش ،بندگان خدا کے ساتھ حسن سلوک پرآمدہ رہنے کاجتن ،پڑوس رشتہ دارں کی دعوتوں کی گہماگہمی ،غریبوں لاچار مجبوروں کی امداد کرنے کی حتی المقدار کوشش اور ساتھ ہی صیام،تراویح،اعتکاف اور قرآن مجید کی تلاوت کاخاص اہتمعام کی لگن ہر دم رہتی اور پھر۔      
 
 
دل و دماغ اور جسم ہر وقت کی مصروفیت میں لگے رہنے کے بعد اچانک ایک دم اس مبارک ماہ کی راونگی کا خیال کتنا تکلیف دہ ہوتا ذرا سوچئے ہم کتنے اداس ہوجاتے مگر اللہ پاک کااحسان ہے کہ اس نے اس مبارک ماہ کے رحمتوں برکتوں کے اختتام کی محرومی کے ملال کرنے کا موقعہ دیے بغیرمغفرت کی رات اور عیدالفطر کےدن کی نوید سناکربچے بڑے مرد و خواتین کوایک نئی خوشی و مسرت سے سرشار کردیا ۔
 
 
افق پر ہلال عید کے ساتھ ہی ماحول میں خوشگوار تبدیلی رونما ہو جاتی ہے صبر کے دنوں کے فوراً بعد شکر کا دن نمودار ہوجاتا ہے ۔ہر ایک کے چہرے پر رونق چھائی رہتی ہے مساجد و قیام گاہ پررنگ و نور کی برسات ہوتی ہے بازار و دوکان سج دھج کر سجائی جاتی ہے ۔ عید کے دن ہر ایک امیر غریب کا دل خوشی و مسرت سے معمور رہتا ہے ۔ میں پردیس میں وطن سے دور رہتی ہوں اپنوں کی یاد و خیال زبان پر دعاوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں نا کچھ کھو کر کچھ پایا جاتا ہے اور اللہ پاک اپنے بندوں کو ہمیشہ اچھا ہی بدلا مرحمت فرماتا ہے ۔ ہر خوشی کے وقت ضرور وطن یاد آتا ہےاور پھر وہاں یہاں کا مقابلہ کرتی اور سوچتی ہوں ۔ حیدرآباد میں عید کے موقعہ پر جب وہاں رہتی تھی تو چار دن پہلے گھر کے کونہ کونہ صاف کرتے در و دیوار کی دھول چھٹکتے اور یہاں حرم جانے کے لئے سفرکرتے راستہ میں مٹی اوڑتے جاتے ۔ وہاں ہوتے تو عید سے دو دن پہلے چار مینار کے اطراف شوپنگ کے لئےنکل پڑتےتھے۔جہاں حد نظر تک ضرورت زندگی کے اشیاء اور تماشے نظر آتےتھے تو یہاں کوسوں چل کر حرم پہچتے ہیں۔ جہاں مدنظر اللہ کا گھرہے اور تمنائے دلی کا نظارہ ہے ۔عید کے دن وہاں میکہ جانے اپنوں کی ملاقات کی آس ہے اور یہاں عید کے دن روضہ رسول ﷺکی زیارت پاس ہے،الحمدللہ۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو تھا میری وطن اور پردیس کی عید کا احوال۔اب آپ سب کو میری جانب سے پیشگی بہہت بہت عید مبارک ہو۔
میں ایک گزارش بھی عرض کرنا چاہتی ہوں
ہم نے اس ماہ میں مشکل سے نفس کو قابومیں کیا ہےہم اپنے عبادتوں کی عادت کوراسخ کرنے کے بعد اس پر سارا سال کار بند رہنگے۔ مساجد کو ایسے ہی آباد رکھے گے ۔ گھر کو تلاوت و سماعت اور نماز سے پرنور بنائے گے ۔ رضائے الہی ہمارے ہر عمل سے پہلے پیش نظر ہوگی ۔ جب ہم اس پرہمشہ عمل پیرا رہے تو سمجھو کہ رمضان کے فیض و برکات ہمیں حاصل ہوگئے۔ ہم کامیاب ہوگئے۔قابل مبارک باد ہوگئے
 
 
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, August 10, 2013

عید بہت بہت مبارک ہو

السلام علیکم
میرے عزیز بھائیوں و پیاری بہنوں
میری طرف سےعید کی پر خلوص مبارک باد پیش ہے ۔
میں خود نہیں جانتی تھی کہ میں اپنی مصروفیت میں سے کسی نہ کسی طرح وقت نکل کر یہاں بلاگ پر آ سکوں گی مگر وہ سچ ہی کہتے ہیں جہاں چاہ ہوتی ہے وہاں رہ ہوتی ہے میں یہ مبارک باد دینے سے پہلے سوچ رہی تھی کہ یہ رشتہ بھی کتنا عجب ہےجو انجانےان دیکھے اور شاید کئی حضرات کے تو نام بھی اصلی نہیں جانتی ہونگی مگر پھر بھی وہ دل سے بہت قریب ہیں جو میری دعاؤں میں شامل ہیں ۔ جنہیں نہ دیکھ کر بھی پہچانتی ہوں نہ جان کر بھی اپنا مانتی ہوں ۔جن کے بغیر عید ،عید نہیں لگتی ۔۔۔ پھر جو اتنا عزیز ہو جس کی اتنی قدر کرتی ہوں تو بنا ان تک مبارک باد پہچائے میں کیسے رہ سکتی ہوں اور خود عید منا سکتی ہوں بھلا
میری اور میری فیملی کی جانب سے آپ سب کو دلی عید مبارک ہو ۔اللہ زندگی کا ہر دن آپ سب کا عید کی طرح خوشگوار بنے رہے۔ سارے عالم کے مسلمانوں کو نیک ہدایت دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کی توفیق دے۔اللہ پاک کےرحم وکرم کی برسات رہے ۔ ہر مصیبت و الم سے بچاکرایمان،عزت،راحت اور شان و شوکت سے رکھے ۔
میرے بلاگ پر آنے کا بے حد شکریہ آپ سب یہ پڑھ لیے بھی تو سمجھوں گی کہ میری مبارک باد پہچ گئی ۔ سوری نام بہ نام مبارک باد نہ دے سکی بس تھوڑی دیر کے لئے آئی تھی اللہ آپ سب کو خوش رکھے۔۔۔۔۔۔

Monday, July 22, 2013

روزہ کے معاشرتی فوائد

 



السلام علیکم



پیارے بہنوں اور بھائیوں : دین اسلام کے ہر حکم میں انسان کے لئےدنیاو آخرت کی سعادت مندی اور کئی فوائد مضمر ہوتے ہیں۔ روزہ میں بھی جہاں اخروی لحاظ سے باعث اجر و ثواب ہے وہیں من جملہ فوائد کے روزہ طبی، معاشرتی و اجتماعی طور سے بھی فائدہ مند ہے جیسےجب معاشرے کے مالدار افراد روزہ رہ کر بھوک پیاس کی سختی کو برداشت کریں گے تو انہیں بھوک وپیاس کی شدت کا احساس ہوگا۔اس طرح وہ محتاج و تنگ د ست افراد کی ضرورت کو سمجھ سکیں گے اور ان کی طرف دستِ تعاون دراز کریں گے۔اس طرح معاشرہ اخوت وبھائی چارگی کا گہوارہ بن جائے گا۔اس لئے رمضان کو صبر اور غم خواری کا مہینہ بھی کہتے ہیں


سحر و افطار میں اوقات کی پابندی پر اگر غور کیا جائے تو احساس ہوگا کہ روزہ نظم وضبط کی تربیت کے لئےبھی ہے ۔ یہاں انسان اپنی مرضی نہیں چلا سکتے سحری کے لئے جو وقت متعین ہے انہیں اسی وقت میں سحری کا اہتمام کرنا ہے اور جو وقت افطار کے لئے خاص ہے اسی وقت روزہ افطار کرنا ہے۔اگر کسی نے جان بوجھ کر ذرا سی بھی تاخیر اور عجلت کا مظاہرہ کیا تو پھر ان کاروزہ رائیگاں ہونے کا خوف ہوگا۔آج کل دیکھا گیا ہے کے شادی بیاہ ہو کہ دعوتیں یا کسی سےملنے کا وعدہ اکثراوقات انتظار کی کوفت اٹھانی پڑتی ہےہمیں وقت کی قدر نہیں رہی ہمیں اوقات کی پابندی کی سخت ضرورت ہےہمیں آج کی خوشیوں کو اگر آنے والے کل کی مسرتوں میں بدلنا ہے تو وقت کو اپنی مٹھی میں قید کرنے کا ہنر سیکھناہی ہوگا کہتے ہیں وقت کبھی نہیں رکتا اور جو لوگ وقت کے قدم سے قدم ملا کر نہیں چلتے وہ زندگی کے راستے میں پیچھے رہ جاتے ہیں وقت ضائع کئے بغیر عمل کے میدان میں سرتا پاجستجو بننا ہوگا تب ہی ہم ایک کامیاب انسان بن سکتے ہیں


سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں


اللہ ہمیں اس رمضان میں دنیاو آخرت کے فوائد کا مستحق فرمائے۔ سب مطالعہ کرنے والوں کی مشکور ہوں

Wednesday, July 10, 2013

روزہ خواہشات نفسانی کو روکنے کا موثر ذریعہ

 
 
السلام علیکم
 
 اسلام کے دیگر بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن روزہ ہے۔
رسول اللہؐ نے روزہ کو ڈھال قرار دیا ہے۔ گویا ایک بندہ مومن روزہ کے ذریعہ خود کو وساوس شیطانی سے محفوظ رکھتا ہے۔ جیسا کہ ایک مجاہد میدان کارزار میں مدمخالف کے حملوں سے ڈھال کے ذریعہ اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح روزہ خواہشات نفسیانی کو توڑنے اور کچلنے کا موثر ذریعہ ہے۔ روزہ جس طرح انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے بعینہ جسمانی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے اور روزہ فاسد مادہ کو ختم کرتا ہے۔
 
رسول اللہؐ نے فرمایا کہ روزہ رکھا کرو‘ تندرست رہو گے۔ دیگر عبادتوں کا ثواب دس سے لے کر 700 گنا تک بڑھ جاتا ہے لیکن روزہ ایسا عمل ہے جس کے متعلق اللہ رب العزت نے فرمایا کہ یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوں۔
 
روزوں کی وجہ سے انسان کے اندر فرشتوں سے مشابہت پیدا ہوتی ہے جس کی بناپر ہر مخلوق کے دل میں روزہ دار کے لئے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مچھلیاں پانی میں‘ چیونٹیاں اپنے بلوں میں‘ روزہ دار کے لئے دعا کرتے ہیں۔ روزہ سے صبر و تحمل کا عظیم درس ملتا ہے۔ خصوصاً داعیان اسلام کے لئے یہ پیغام پنہا ہے کہ دیگر موقعوں پر جہاں اس کے ساتھ نادر سلوک کیا جائے‘ دین کی راہ میں مشقت و آزمائش سے گذرنا پڑے ہم مسلمانوں کو چاہئے کہ  بڑے ہی حوصلہ‘ عزم و استقلال کے ساتھ صبر و استقامت کے دامن کو تھام کر عفو و در گذر اور اخلاق حسنہ کا بھر پور مظاہرہ کرنا چاہئے۔ 
 
 
 
اعتماد اخبار
 
 
 

Monday, July 08, 2013

ماہِ رمضان مبارک

 
 
 
السلام علیکم
میرے معزیز بھائیوں اور پیاری بہنوں


۔آپ سب کو رمضان المبارک بہت بہت مبارک ہو ۔


 
ہم پر بہت ہی بابرکت رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے جس کا ہر مسلمان کو انتظار رہتا ہے ۔جس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں سرکش شیاطین قید ہوتے ہیں رحمت الٰہی کی برسات ہوتی ہے اور مقفرت کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں۔

ہم مسلمانوں کے لئے بڑی خوش بختی کی بات ہے کہ ماہ رمضان پھر ایک بارہمیں میسر آرہا ہےالحمد للہ۔ خوش نصیب ہیں وہ مسلمان جنہیں اللہ نے زندگی دی اور وہ اس ماہ کے فیوض و برکات سے استفادہ حاصل کرنے والے ہیں۔یہ اللہ پاک کا خاص کرم ہم پر ہے کہ جب رمضان المبارک میں کوئی بندہ ایک فرض ادا کرتا ہے تو اللہ تبارک تعالٰی اسے ستر فرض کا ثواب عطا کرتے ہیں اور جب نفل ادا کرتا ہے تو اسے ایک فرض کا ثواب دیا جاتا ہے ۔یہ مہینہ صلہ رحمی کا ہے اس مبارک مہنیہ کا پہلا حصہ رحمت ،دوسرا حصہ مقفرت اور تیسرے حصہ میں دوزخیوں کو نار جہنم سے چھٹکارا نصیب ہوتا ہے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔روزہ کا مقصد اللہ تعالیٰ کا اپنے مومن بندہ کو بھوک و پیاس میں مبتلا کرنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ روزہ کے ذریعہ مومن بندے کتنا قریب آتےہیں ۔

روزہ کے ذریعہ روحانی طاقت عطا ہوتی ہے‘ اور جب روح پاک و صاف ہوتی ہے تو عبادات میں بھی بڑا لطف آتا ہے اور یہی عبادات اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔
ماہ رمضان نیکیوں کو حاصل کرنے کا موسم ہے۔نمازوں کی پابندی کریں‘ نیک اعمال کریں‘ ہر قسم کی برائیوں سے بچیں تو نہ صرف جسمانی صحت بہتر رہتی ہے بلکہ چہرہ بھی نورانی ہوجاتا ہے۔ماہ رمضان میں مومن بندے جب صبر و شکر کے ساتھ کام لیتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے ہر قدم پرثابت قدم رہکر کامیاب و کامران ہوجائینگے۔ ان شاءاللہ

 
ماہ رمضان میں روزہ رہتے ہوئے اپنے رب کا فضل‘ رحمت‘ مغفرت اور دوزخ سے نجات حاصل کرنے کے لئے انتہائی عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ رب العزت سے دعائیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ بڑا رحم و کرم کرنے والامہربان ہے وہ ہماری دعاوں کو ضرور قبول فرمائے کا ۔ اس بہن کو بھی اپنی دعا میں یاد رکھیے گا ۔

 
آخر میں سب مسلمانوں کے لئے بدستِ دعا ہوں کہ اے اللہ ہمارے لئے رمضان کے ماہ کو بابرکت بنا ہمیں اس چیر کی توفیق عطا فرما ، جو تجھے پسند ہے اور جس سے تو راضی ہے۔پیارے نبی کے نقشِ قدم پر چلا ۔آمین
 
.

Friday, May 31, 2013

ایک شاہکار فلم

 
 
السلام علیکم

مغل اعظم ایک شاھکار فلم ہے جسے برسوں تک یاد کیا جائے گا ۔ ہندوستانی فلمِ تاریخ میں کسی فلم کے بننے کی ایسی مثالیں نہیں مل سکتی کیونکہ یہ فلم کے آصف کا جنون تھی۔ جب فلم کو بنانے والےکے آصف جیسا دیوانہ ہو جو ہر کام کو پر فیکٹ کرنے کی جستجو رکھتا ہو تو پھر فلم شاہکار ہی بنے گی کہتے ہیں کے آصف اس کے بنانے کے لئے اخراجات کی کمی پر اپنا مکان تک فروغ کردیے تھے


1.25کڑوڑ روپے آج کے100کڑوڑ روپے کے برابر خرچ سے یہ فلم تیار ہوئی تھی
کہتے ہیں اس میں جو شیش محل بتایاگیا اسی پر 15لاکھ روپے کا خرچ آیاتھا اس میں جنگ کے منظر کے لئے ہندوستانی فوج کے 8000سپاہیوں کا استمعال کیا گیا۔ فوجیوں کو معاوضہ بھی دیا گیا2000اونٹ اور 400گھوڑے بھی تھے۔وزارت دفاع سے خصوص اجازات لے کر راجستھان رجمنٹ کے سپاہیوں کو لایاگیا تھا کہتے ہیں آصف نے اخراجات کی پرواہ نہیں کی۔ فلم کے ایک منظر میں انار کلی،شہزادہ سلیم کو پھول سونگھادیتی ہے اور اکبر اعظم کے سپاہی اس کو لینے آتے ہیں تو نشہ آوار دوا کے اثر میں سلیم ڈائیلاگ ادا کرتے ہوئے ایک فانوس کو گرا کر توڑنا تھا ۔ایک فانوس تقریبا10ہزار روپے(آج کے۔10لاکھ روپے کے قریب)مالیتی تھا لیکن دلیپ کمار نے اداکاری کے دوران دو فانوس توڑ دئیے ۔آصف نے ذرا برابر بھی شکایت نہیں کی بلکہ واہ واہ ہی کی ایک منظر میں جب سلیم گھر واپس آتا ہے تو جودھا بائی کی کنیزیں اس کے راستے میں موتیاں اور پھول ڈالتی ہیں وہ بھی اصلی استمعاہوئے۔اس ہی طرح مدھو بالا نے قید خانے میں جو زنجیریں پہنیں وہ بھی اصلی تھیںاور ایک سین میں جودھا بائی اکبر کو جو تلوار دیتی ہے وہ بھی اصلی تھی زرہ بکتر بھی اصلی تھا۔فلم میں لارڈکرشنا کی جو مورتی ہے وہ مکمل سونے کی ہے۔ یہاں تک کہ آصف نے فلمساز سے شہزاہ سلیم کے جوتے سونے کے بنوانے کی خواہش کی۔کہتے ہیں آصف فلم کے لئے ہر چیز حقیقی چاہتے تھے انہوں نےملک کے کونے کونے سے کاریگروں کو طلب کیا تھا ۔ملبوسات کت لئے خاص درزی دہلی سے طلب کئے گئے ۔جئے پور اور یوپی کے کاریگروں سے محلات کے نمونے بنائے ۔زیورات کی تیاری حیدرآبادی سناروں کے ذمہ تھی ۔راجستھان کےلوہاروں نے ہتھیار اور زرہ بکتہ تیار کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مغل اعظم تین تین زبانون اردو ،ٹامل اور انگریزی میں بنائی جارہی تھی اسی لئے ہر سین کو تین بار فلمایا گیا ۔بجٹ کی کمی کی وجہہ سے ٹامل اور انگریزی فلم ریلیز نہ ہو سکی ۔کے آصف اس فلم کو رنگین بنانا چاہتے تھے اسی مقصد کے لئے بعض مناظر میں رنگین شیشوں کا استمعال کیاگیا لیکن صرف دو گیتوں کو ہی رنگین بناسکے۔


مغل اعظم ایک تاریخی کہانی فلم پرمبنی ہے تاریخی واقعات کے دھاگوں سے اس قدر خوبصورتی سے پرویا گیا کہ ایک ڈرامائی داستانِ عشق تخلیق ہوگئی اور فلم بینوں کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوا کہ کہاں تاریخ ہے اور افسانہ کہاں ہے


اس فلم کو تاریخی بنانے میں صرف کے آصف ہی نہیں تھے ۔ ان کی پوری ٹیم نے مسلسل 10برس کی محنت اور جستجو کے ساتھ یہ شاندار فلم تیار ک ۔ فلم کو ہدایت آصف نے دی جبکہ اس کا اسکرین پلے آصف اور امان اللہ خاں نے لکھا ۔فلم کے ڈائیلاگ امان اللہ خاں ،کمال امروہی ،،احسن رضوی اور وجاہت مرزا نے لکھے ہیں ۔ فلم میں پر تھوی راج کپور نے اکبر کا، مدھو بالا نے انار کلی کا ،درگا کھوٹے نے مہارانی جودھا بائی کا ،نگار سلطانہ نے بہار کا، اجیت نے درجن سنگھ کا ،ایم کمار نے سنگتراش کا ، مران نے راجہ مان سنگھ کا جلوما نے انار کلی کی ماں کا ،شیلا دلایا نے انار کلی کی بہن ثریا کا ، جانی واکر نے اکبر کے دربار میں زنحے کا ،جلال آغا نے نو عمر شہزادہ سلیم کااور دلیپ کمار نے شہزادہ سلیم کا کردار ادا کیاان کے علاوہ بھی ایس نذیر،بے بی تبسم ،خورشید خاں ،خواجہ شبیر اور پال شرما نے مختلف کردار کئے ہیں ۔ موسیقی نوشاد کی ہے جبکہ شکیل بدایونی نے فلم کے گیت لکھے ۔ فلم میں جن گلوں کاروں نے اپنی آواز دی ان میں بڑے غلام علی خاں ،شمشاد بیگم ،لتا منگیشکر ،محمد رفیع اور نور جہاں شامل ہیں ۔رابن چڑجی ساونڈ ریکارڈ سٹ ،محمد ابراہیم اور محمد شفیع نے میوزک اسسٹنٹ ،آر کوشک نے سانگ ریکارڈسٹ کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں ۔۔کے آصف کی ٹیم میں رشید عباسی ،محمد انور ،رفیق عربی ،کے منوہر ، ایم اے ریاض ،ایس ٹی زیدی ،سریند کپور ،خالد اختر نے اسسٹنٹ ڈائرکٹرس کی حیثیت سےاپنی خدمات انجام دیں


مغل اعظم فلم 5 اگسٹ 1960 کو ہندوستان میں ملک بھر کے150تھیڑوں میں ریلیز کی گئی جوخود ان دنوں ایک ریکارڈ تھا ۔باکس آفس پر اس نے 5۔5کڑوڑ روپے وصول کئے ۔ اس کے پرنٹس ہاتھیوں پر لائے گئے تھے ۔ نومبر 2004 میں اس کو اسٹرلنگ انوومنٹ کارپوریشن نے ایک سال کی محنت کے بعد رنگین بناکر پیش کیا ۔ اس کا شمار اب تک بالی ووڈ میں بنی 20سب سے بہترین فلموں میں ہوتا ہے ۔ رنگین فلم میں بھی 25 ہفتے تک چلتی رہی جو ایک ریکارڈ ہے ۔
۔۔پرتھوی راج کپور بار بار آئینہ دیکھتے فلم اور تھیڑ میں کام کی مہارت کے باوجود آصف کے جذبہ کو دیکھکر نکہار لانے کی کوشش کرتے یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ انہیں اکبر اعظم کہتے ہیں۔
مدھو بالا 15 کلو کی وزنی ہتھکڑیاں پہن کر ادا کاری کرتی تو کئی بار بے ہوش ہوجاتی
اسی طرح شہزادہ سلیم کے کردار میں دلیپ کمار نے جس مدبرانہ اداکاری کا اظہار کیا وہ شاید ہی کوئی اور اداکار کرپاتافلم کے لئے 20 گانے ریکارڈ کرائے تھے لیکن ان میں سے ایک گانا شہزادہ سلیم نے نہیں گایا جو خود ایک باوقار کردار کی علامت ہے ۔

مغل اعظم کو شہرہ آفاق بنانے میں نوشاد کی موسیقی کا بڑا دخل ہے یہ فلم اگر خوبصورت گانوں سے نہ سجی ہوتی تو شاید اس کے لافانی ہونے میں کچھ تو کمی رہ جاتی اسی لئے نقادوں نے اس فلم کے گیتوں کو اس کی روح قرار دیا ہے ۔ کے آصف اور نوشاد کا ہر گیت کو ناقابل فراموش بنانے میں کوئی کسر نہیں رکھی

ڈائیلاگس پر ابھی تک کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے امورٹل ڈائیلاگس آف مغل اعظم شائع کی گئی ایسے کئی محققین ہیں ۔ جنہوں نے اس فلم پر پی ایچ ڈی کی ۔


یوں تو مغل اعظم کا ہر ڈائیلاگ یاد رکھے جانے کے قابل ہے لیکن چند مخصوص مناظر پر مکالمے دماغ پر بہت اثر چھوڑ جاتے ہیں ایسے ہی ایک مکالمہ پیش ہے جب اکبر اعظم انار کلی کو اپنی محبت سے انکار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکبر اعظم :ہمیں یقین ہے کہ قید خانے کے خوفناک اندھیروں نے تیری آرزووں میں وہ چمک باقی نہ رکھی ہوگی جو کبھی تھی

انار کلی : قید خانے کے اندھیرے کنیز کی آرزووں کی روشنی سے کم تھے ۔

اکبر اعظم : اندھیرے اور بڑھا دیئے جائیں گے۔

انار کلی : آرزوئیں اور بڑھ جائیں گی۔

اکبراعظم : اور بڑھتی ہوئی آرزووں کو کچل دیا جائے گا ۔ تجھے سلیم کو بھلانا ہوگا ۔

انار کلی :اور ظل الہی کا انصاف؟

اکبراعظم : ہم کچھ سننا نہیں چاہتے ۔اکبر کا انصاف اس کا حکم ہے ۔تجھے سلیم کو بھلانا ہوگا۔

انار کلی : بھلانا ہوگا؟

اکبراعظم : یقیناً اور صرف اتنا ہی نہیں ۔اسے یقین دلانا ہوگا کہ تجھے اس سے کبھی محبت نہیں تھی ۔

انار کلی : جو زبان ان کے سامنے محبت کا اقرار تک نہ کرسکی وہ انکار کیسے کرے گی ۔


اکبراعظم :تجھے سلیم پر ظاہر کرنا ہوگا کہ تیری محبت جھوٹی ہے ۔ایک کنیز نے ہندوستان کی ملکہ بننے کی آرزو کی اور محبت کا خوبصورت بہانہ ڈھونڈ لیا ۔۔

انار کلی : یہ سچ نہیں ہے ۔خدا گواہ ہے یہ سچ نہیں ہے ۔یہ سچ نہیں ہے ۔

اکبراعظم :لیکن تجھے ثابت کرنا ہوگا کہ یہی سچ ہے ۔


انار کلی : پروردگار مجھے اتنی ہمت عطا فرما کہ میں صاحب عالم سے بے وفائی کرسکوں ۔ کنیز ظل الہٰی کا حکم بجالانے کی کوشش کرے گی ۔

اکبراعظم : کوشش نہیں تعمیل ہوگی ۔اسے آزاد کردیا جائے۔

اب ہم بھی مغل ِاعظم کی باتوں کے سحر سے نکلتے ہیں بہہت بہت شکریہ میرے بلاگ پر تشریف لانے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔
 
اس مضمون کے لئے اکثر معلومات اعتماد اخبار سے لئے ہیں۔

Sunday, May 26, 2013

ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے۔


السلام علیکم

یہ افسانہ کیا ہے بہت سارے لوگوں پر بیتنے والا سچ ہے میں کافی عرصہ قبل اپنے بیٹے کے گھرگئی تھی وہاں ٹی وی پرڈاکو منٹری دیکھی جس میں ماں،بہن، بیوی،بچوں،والد اور دوسرے قریبی رشتہ داروں کے تاثرات کو دیکھا تھا،آج بھی لگتا ہے دل پر جیسے نقش ہوگئے ہیں ۔ بُرےحالات سے تنگ آکر کچھ نے خود کشی کرلی تھی اورجو زندہ رہے وہ زندگی ہی میں بار بار مر تے رہے ۔ میں نےبہت  ہی کم مسالہ کے ساتھ یہ افسانہ بنا کرآپ سب کے ساتھ شئیر کیا ہے امید کہ آپ کو پسند آئے گا۔



 


ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے
 

رات کافی ہو چکی تھی افشاں اور ذیشاں لیٹ کر ماں کو سلائی کرتے دیکھتے اور سونے کی کوشش بھی کرتے رہےلیکن سلائی کی مشین کی آواز اس کوشش کو کامباب نہ ہونے دیتی ۔ دونوں ہی آنکھیں بند کیے اماں کو اس کا احساس نہ ہو سوچکرلیٹے رہے۔ رابعہ بیگم نے سلائی کی مشین سے اٹھ کر دونوں بچوں کو ٹھیک سے اوڑھا کر جانے لگی تو ذیشاں نے اماں کا پلو بکڑ لیا اور کہنے لگا۔
 
اماں اب آپ بھی سو جائیں بہت رات ہو چکی ہے۔
 
نہیں بیٹے کل ماموں مال لینے آنے والے ہیں نا۔
 
کیا میں آپ کی مدد کر دوں؟
 
نہیں نہیں اس کی ضرورت نہیں تقریباً سب تیار ہو گیا ہے۔
 
تو باقی صبح کر لینا اماں، اب آرام کر لو تھک گئی ہونگی۔
 
رابعہ بیگم نے ذیشاں کے سر پر ہاتھ پھیر کر سوچنے لگی تم ہی میرے جاگتی آنکھوں کے خواب ہو۔
  
شام کے چار بج رہے تھے افشاں اور ذیشان کالج سے آ کر کھانا کھا رہے تھےاور رابعہ بیگم دوسرے کمرہ میں پڑوسن سے محو گفتگو تھی۔ کال بیل کی آواز پر ذیشاں نے دروازہ کھولا تو ماموں نے اسے دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوتے ہی آپا جان آپاجان  باآواز بلند صدا لگانے لگے۔ یہ آوازیں سن کر رابعہ بیگم معذرت کرتے اٹھنے لگی تو پڑوسن نے بھی جانے کی اجازات مانگ لی۔
 
یہ کیا آپا جان جب دیکھو آپ کے گھر کوئی نہ کوئی مہمان بیھٹے رہتا ہے اور آپ سامنے نہ ہو تو ہمیں یہ افشاں کی بچی لوٹ لیتی ہے دیکھو ابھی ہمیں آئے کچھ ہی دیر ہوئی اور اس نے ہم سے نئے کپڑے بنانے کے لیے بارہ سو روپے وصول کر لیے ہیں اگر ہم کچھ دیر اور یہاں ٹہرے تو شاید کا سہء گدائی لے کر ہمیں اللہ کے نام پر بابا کہنا نہ پڑھ جائے۔ ان کی نظر ذیشاں پر پڑی تو کہنے لگے ذیشاں بیٹے ہم تمہارے بھی ماموں ہیں تم بھی کبھی ہم سے کچھ مانگ لیا کرو بیٹا۔
 
نہیں ماموں مجھے تو الٹا آپ کی اور امی کی خدمت کرنی چاہیے مگر اماں کی خواہش ہے میں ابھی اپنی پڑھائی پوری کروں، یہ ختم ہوتے ہی میں ان شاءاللہ اپنے بڑوں کی مدد کر سکو گا یہ ہی میرا خواب ہے ماموں۔ ماموں کو اس کی بات کا کوئی جواب نہ بن پڑا تو وہ اچھا اچھا جیتے رہو کہہ کر چپ ہو رہے۔ ماموں پرانے مال کے پیسے دے کر نیا مال لے کر جانے سے پہلے رابعہ بیگم سے کہنے لگے۔ وقتِ جوانی رو دھو کاٹو پیری میں آرام کرو ۔آپا جان اب آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان شاءاللہ آپکے اب مصیبت کے دن ختم ہونے کو ہیں افشاں کا رسم تو ہو گیا ہے اچھا خاندان ہے خوش رہیگی شادی کی تیاری بھی ہم اچھے سے کرلیگے جمع بندی تو کر رکھی ہے نا اور ذیشان تو بہت ہی سلجھا ہوا سمجھدار بچہ ہے ہر ایک اس کی تعریف کرتے تھکتے نہیں اور پھر اس نے آج تو اپنی باتوں سے میرا بھی دل بہت خوش کر دیا ہے وہ ہماری خوابوں کو سچ کر کے دکھائے گا آپا۔ ماموں ہمیشہ کی طرح تسلی دینے کے بعد مال لے کرچلے گئے۔
 
 
آج رابعہ بیگم بہت مطمئن نظر آ رہی تھی افشاں نے ان کو خوش دیکھ کر ان سے بھی پیسے مانگنے چاہے تو رابعہ بیگم پھٹ پڑی اے لڑکی تجھے ہو کیا گیا ہے ۔ ذرا لڑکیوں کی طرح رہاکر، جب دیکھو بے شرمی بے حیائی بدتمیزی پر آمادہ رہتی ہے ایسے ہی رہی نا تو اگلے گھر جائے گی تو میری تو ناک ہی کٹوا دےگی ۔۔مگر اماں میں نے ایسے کیا کر دیا افشاں نے معصوم سی صورت بنا کر پوچھا تو رابعہ بیگم نے چڑ کر کہا کوئی بھلا ایسے کرتا ہے گھر آئے مہمان کے ساتھ۔ اماں وہ کوئی نہیں ہیں ہمارے ماموں ہیں اور پھر وہ ہمیں کتنا چاہتے ہیں نا اماں، افشاں نے وضاحت دینا چاہی تو رابعہ بیگم نے چپ کرتے بولی ہاں ہاں معلوم ہے مگر ایسے تنگ کرتے ہیں کیا؟ وہ بے چارا برسوں سے ہماری مدد کر رہا ہے اگر وہ نہ رہتے تو نہ جانے میں تم دونوں کو لے کر پہاڑ سی بیوگی کی زندگی کیسے گزار پاتی رابعہ بیگم کہتے کہتے آبدیدہ ہوگئی اور جلدی سے دوسرے کمرہ میں چلی گئی۔
 
افشاں ماں کے باتیں گم سم بیھٹی سن رہی تھی ماں کے پیچھے جانے لگی۔ ذیشاں چاہتا تھا اماں اکیلے میں اپنا جی ہلکا کر لے اور افشاں کا بھی کچھ دل بہل جائے یہ سوچ کر اس نے افشاں کا راستہ روک کر کہا افشاں میں تجھ سے ایک پہیلی پوچھتا ہوں دیکھنا تم اب کی بار بھی بوجھ نہ سکو گی اور وہ جلدی سے کہنےلگا۔ بند آنکھوں نے وہ دکھلایا آنکھ کھلی تو کچھ نہ پایا۔
 
 افف فوہ ،بھائی کوئی کیسے بند آنکھوں میں دیکھے گا یہ پہیلی تو بڑی عجیب ہے ذیشاں پھر دوہرانے لگا تو افشاں نے کہا بھائی ہم تو بند آنکھوں میں کچھ دیکھتے ہی نہیں، جو دیکھتے ہیں سب کھلی آنکھوں میں۔ وہ سوچتے ہوئے بولی تو ذیشاں نے کہا اللہ تیرے سارے خواب کھلی آنکھوں میں ہی پورا کرے۔ افشاں چونک پڑی۔ خواب ،خواب میں سمجھ گئی دیکھا ٹھیک پہچان گئی نا۔ افشاں نے لہک کر کہا اب میں پوچھوں گی آپ سے، کالا سمندر پیلا پانی بیچ میں ناچے گڑیا رانی ۔۔ ارے پیٹوں تم تو جب سوچو کھانے کا ہی ۔۔ کڑاھی،تیل پکوڑا ذیشاں بول پڑا۔ بھائی آپ بھی نا،اب کے پوچھئےگا دیکھیں  میں جھٹ سے آپ سے بھی جلدی بتادونگی ۔ وہ ناراضگی چھپاتے بولی ۔ سوگھوڑے اور ایک لگام پیچھے چلیں تمام۔ چلو پہچانو۔۔ذیشان ابھی جملہ پورا بھی نہ کیا تھا کہ رابعہ بیگم نے آکرافشاں کی ہتھیلی پر ہزار روپے رکھتے ہوئے کہا آئندہ سے ماموں سے مت لینا جو بھی چاہئے مجھے سے کہا کر۔ وہ افشاں کو پیسے دیتے ہوئے نرمی سےکہا۔ افشاں کو کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ کالج کی فیس اور اتنے ہی پیسے بیٹے کو بھی دینا چاہا تو اس نے صرف فیس کے پیسے لے کر باقی اضافہ رقم واپس کر دی۔
 
ذیشاں ذیشاں باہر سے دو گھر بعد رہنے والے لڑکے کی آواز آنے پر وہ باہر جا کر جلدی ہی اندر آ کر رابعہ بیگم سے پوچھنے لگا کہ اماں گلی کے سب لڑکے مل کر کرکٹ کھیل رہے ہیں اگر آپ کی اجازات ہو تو میں بھی کھیلوں ۔ ہاں ہاں جاؤ بیٹے یہاں قریب ہی تو کھیل رہے ہو نا، جاؤ جاؤ رابعہ بیگم نے کہا۔۔
 
تھوڑی دیر بعد باہر سے پھر اسی لڑکے کی زور زور سے پکارنے کی آواز آئی۔ آنٹی جی، ذیشاں، ذیشاں، جلدی آئیے، ارے کوئی ہے اور پھر بہت سارے آوازیں ایک ساتھ آنے لگی۔ رابعہ بیگم دوڑ کر باہر بھاگی تو وہ یہ دیکھ کر حیران پریشان ہو گئی کہ پولس ذیشاں اورپڑوس کے ایک دوسرے بچے کو پکڑ کر گاڑی میں لیے جا رہے تھے وہ اندر آ کرفوراً اپنے بھائی کو فون کرنے لگی۔ پھر وہ ڈھوتے ہوئے باہر آئی تو  پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مسجد میں بم رکھنے والوں میں یہ بھی شامل ہے اس لئے لے کر گئے ہیں۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا وہ زیر لب بڑبڑائی ۔۔
 
 
 
یہ سچ نہیں ہے، رابعہ بیگم ہر ایک سے کہتی اور بیٹے کو گھر لانے کی کوشش کرتی رہی پھر دو دن بعد خبر ملی کہ اُس دوسرے لڑکے کو چھوڑ دیا گیا ہے اور ذیشاں کو جیل بھیج دیا گیا ہے ایک قیامت تھی جو رابعہ بیگم پر نازل ہوئی تھی افشاں کے سسرال خبر پہنچی تو سسرال والوں نے رسم توڑ دیا۔ ہر ملنے والوں نے منہ موڑ لیا۔ آج تو ماموں نے بھی فون پر کہہ دیا کہ میری بیوی آپ کے پاس جانے پر ناراض ہے میرے بچوں پر اس کا برا اثر پڑنے کے امکان ہیں آپ ایرانی ہوٹل پر آجائیں میں مال کہاں سے لیتے ہیں اور کہاں پہچانا ہے بتادونگا ۔یہ کام اب آپ خود ہی کرلیا کرے میں بس اتنا ہی کر   سکتا ہوں آپ کی مدد،ابھی دو گھنٹہ بعد آجانا۔ ٹھیک ہے ،بہت احسان ہے آپ کا بھائی ۔ یہ کہہ کر رابعہ بیگم فون رکھ کر رونے لگی۔
 
 
آج آٹھ ماہ ہو گئے رابعہ بیگم بیٹے کو واپس لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہاں کہاں نہیں گئی وہ۔ پولس کے چھوٹے سےلے کر بڑے آدمی تک کا پاوں پکڑے۔ حکمرانوں کےآدمیوں کے آگے ہاتھ جوڑے۔ ہر جاننے والوں کا دروزہ کھٹکھٹایا مگر ہر ایک  انہیں دھتکارتے ہی رہے۔ آج مسلم ،غیر مسلم،تعلیم یافتہ اور ان پڑھ چھوٹے ،بڑے ،مرد ،عورتیں سب ہی ٹی وی،کھیل اور دوسرے لہولہب میں ایسے مصروف ہوگئے ہیں کہ انہیں اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں کا لحاظ باقی نہیں رہا۔ اگر ان لوگوں پر بھی (خدا نہ کرے) ایسا وقت آئے توان کو پتہ چل جائے کہ پریشان حال ،بے قصور ،زبوں حال لوگوں کی طرف سے بے التفاتی اور بے عتنائی کا انجام اور نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ کاش انہیں اس بات کا احساس ہو جائے ان کی انسانیت جاگ جائے تو  یہ لوگ اپنے کھانے، سونے تک کے لئے خود کو وقت نہیں دینا چائیں گے ۔
 
 
آج پھر رابعہ بیگم کو ایک آس بندھی ہے ۔ محلہ کےذیشان کے ساتھ پکڑے جانے والا لڑکا  چھوٹ گیا تھا ۔ اسی کے والد یں نےان کے حال پر رحم کھا کرکسی آدمی سے ملانے کا وعدہ کیے تھے اور وہ بے چینی سے انتظار کر رہی تھیں۔ پھر وہ ان صاحب کو ساتھ لے کر آئے۔ سارے باتیں سننے کے بعد انہوں نے بتایا کہ بات صرف پولس سے نکلنے کی نہیں ہے یہ معاملہ تو جیل تک پہنچ چکا ہے اور وہ بھی بم کا ہے پیسے بہت ہونگے تمہارے پاس تو کوئی کمانے والا بھی نہیں۔۔۔مگر میرا بیٹا بے قصور ہے رابعہ بیگم بے بسی سے بتانے لگی ۔۔ہاں مجھے پتہ ہے ۔ تم یہ بتائیں کہ تمہارا کام کرنا ہے یا نہیں ۔ پھررابعہ بیگم نے افشاں کی شادی والی جمع رقم اور پس انداز پیسوں کا تخمینا دماغ میں لگانے کے بعد سوچ کر ہاں کہہ دی۔۔ٹھیک ہے ہو جائے گا مگر میں پہلے بتا دو کہ اس میں ذرا وقت لگے گا۔ پہلے وکیل کرنا ہوگا کیس چلنے کی بعد رہائی کا بندوبست کرنا پڑے گا قریب ہفتہ سے دو مہینہ لگ سکتے ہیں وہ لوگ یہ کہہ کر چلے گئے
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
ذیشاں بیٹے یہ کیا ہے۔  تمہیں گھر آئے اتنا عرصہ ہوگیا ہے ۔ مگر تم جب سے آئے ہو خود کو گھر میں قید کر لیا ہے۔ نا کبھی کالج جاتے ہو ۔ نہ کہی باہر دوستوں سے ملتے ہو۔ نہ گھر ہی میں بات کرتے ہو۔ یوں چھت کو ٹکٹی باندھے آخر کیا دیکھتے رہتے ہو ۔ سنبھالو بیٹا اپنے آپ کو، اب تم گھر آگئے ہو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ اب ہماری آس تو تم ہی سے بندھی ہے تم ہی کو تو ہمارے خوابوں کو پورا کرنا ہےرابعہ بیگم بغیر رکے کہنے لگی۔۔۔اماں آپ مجھ سے چھپا رہی ہیں مگر مجھے پتہ ہے میری وجہہ سے افشاں کی شادی کا خواب ٹوٹ گیا،ماموں نے بھی آپ سےرشتہ توڑ لیا۔ کوئی ہمارے گھر نہیں آتا۔ کوئی ہم سے بات تک کرنا نہیں چاہتا ۔ایسے ڈرتے ہیں جیسے دوسرے سیارہ سے آئیں ہیں میرے ساتھ کالج اور محلہ میں بھی سب ایسا ہی سلوک کرتے ہیں میں نے اپنے ساتھ آپ لوگوں کا جینا بھی دوبھر کردیا ہے،آپ لوگوں کے خواب بھی چکناچور کردیے اماں ۔اب اپنی اور آپ لوگوں کی توہین نہیں برداشت کرسکتا اماں ۔ ذلت کی نہ دکھائی دینے والی زنجیروں میں لپٹا ہوا ہوں میں ۔ میں مر جانا چاہتا ہوں آپ دونوں میرے جانے کے بعد خوش رہ سکے گے اماں ۔۔۔۔۔ ذیشاں زارو قطار روتے ہوئے کہنے لگا پھر اسنے زہر کی شیشی نکل لی۔ رابعہ بیگم نے ہاتھ سے زہر کی شیشی دور مار گرانے کے بعد بیٹے کو لپٹا لیا نہیں نہیں ایسا نہیں کرتے، ضرور ہمارے خواب پورے ہونگے وہ ہمت اور یقین سے بولی ہم تم اگر ساتھ رہے تو سب ممکن ہے میرے بچے ،قوت ارادی اور قوت فیصلہ سے انہوں نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے کہا ہم یہ شہر چھوڑ کر دور کوئی اور شہر چلے جائیگے جہاں ہم اپنی دوسری پہچان بنائیگے ،جہاں ہم ایک نئی دنیا بسائے گے۔ ایسا اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے میرے بچے ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے ۔

 مگر کیا ہم دوسری جگہ بھی بنا کسی اندشہ اور امن و امان کے ساتھ رہ سکے گے ؟ یہ سوال اک بارگی سب کے دماغ میں سمایا ہوا تھا اور خاموشی چاروں طرف چھائی ہوئی تھی۔