Friday, May 31, 2013

ایک شاہکار فلم

 
 
السلام علیکم

مغل اعظم ایک شاھکار فلم ہے جسے برسوں تک یاد کیا جائے گا ۔ ہندوستانی فلمِ تاریخ میں کسی فلم کے بننے کی ایسی مثالیں نہیں مل سکتی کیونکہ یہ فلم کے آصف کا جنون تھی۔ جب فلم کو بنانے والےکے آصف جیسا دیوانہ ہو جو ہر کام کو پر فیکٹ کرنے کی جستجو رکھتا ہو تو پھر فلم شاہکار ہی بنے گی کہتے ہیں کے آصف اس کے بنانے کے لئے اخراجات کی کمی پر اپنا مکان تک فروغ کردیے تھے


1.25کڑوڑ روپے آج کے100کڑوڑ روپے کے برابر خرچ سے یہ فلم تیار ہوئی تھی
کہتے ہیں اس میں جو شیش محل بتایاگیا اسی پر 15لاکھ روپے کا خرچ آیاتھا اس میں جنگ کے منظر کے لئے ہندوستانی فوج کے 8000سپاہیوں کا استمعال کیا گیا۔ فوجیوں کو معاوضہ بھی دیا گیا2000اونٹ اور 400گھوڑے بھی تھے۔وزارت دفاع سے خصوص اجازات لے کر راجستھان رجمنٹ کے سپاہیوں کو لایاگیا تھا کہتے ہیں آصف نے اخراجات کی پرواہ نہیں کی۔ فلم کے ایک منظر میں انار کلی،شہزادہ سلیم کو پھول سونگھادیتی ہے اور اکبر اعظم کے سپاہی اس کو لینے آتے ہیں تو نشہ آوار دوا کے اثر میں سلیم ڈائیلاگ ادا کرتے ہوئے ایک فانوس کو گرا کر توڑنا تھا ۔ایک فانوس تقریبا10ہزار روپے(آج کے۔10لاکھ روپے کے قریب)مالیتی تھا لیکن دلیپ کمار نے اداکاری کے دوران دو فانوس توڑ دئیے ۔آصف نے ذرا برابر بھی شکایت نہیں کی بلکہ واہ واہ ہی کی ایک منظر میں جب سلیم گھر واپس آتا ہے تو جودھا بائی کی کنیزیں اس کے راستے میں موتیاں اور پھول ڈالتی ہیں وہ بھی اصلی استمعاہوئے۔اس ہی طرح مدھو بالا نے قید خانے میں جو زنجیریں پہنیں وہ بھی اصلی تھیںاور ایک سین میں جودھا بائی اکبر کو جو تلوار دیتی ہے وہ بھی اصلی تھی زرہ بکتر بھی اصلی تھا۔فلم میں لارڈکرشنا کی جو مورتی ہے وہ مکمل سونے کی ہے۔ یہاں تک کہ آصف نے فلمساز سے شہزاہ سلیم کے جوتے سونے کے بنوانے کی خواہش کی۔کہتے ہیں آصف فلم کے لئے ہر چیز حقیقی چاہتے تھے انہوں نےملک کے کونے کونے سے کاریگروں کو طلب کیا تھا ۔ملبوسات کت لئے خاص درزی دہلی سے طلب کئے گئے ۔جئے پور اور یوپی کے کاریگروں سے محلات کے نمونے بنائے ۔زیورات کی تیاری حیدرآبادی سناروں کے ذمہ تھی ۔راجستھان کےلوہاروں نے ہتھیار اور زرہ بکتہ تیار کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مغل اعظم تین تین زبانون اردو ،ٹامل اور انگریزی میں بنائی جارہی تھی اسی لئے ہر سین کو تین بار فلمایا گیا ۔بجٹ کی کمی کی وجہہ سے ٹامل اور انگریزی فلم ریلیز نہ ہو سکی ۔کے آصف اس فلم کو رنگین بنانا چاہتے تھے اسی مقصد کے لئے بعض مناظر میں رنگین شیشوں کا استمعال کیاگیا لیکن صرف دو گیتوں کو ہی رنگین بناسکے۔


مغل اعظم ایک تاریخی کہانی فلم پرمبنی ہے تاریخی واقعات کے دھاگوں سے اس قدر خوبصورتی سے پرویا گیا کہ ایک ڈرامائی داستانِ عشق تخلیق ہوگئی اور فلم بینوں کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوا کہ کہاں تاریخ ہے اور افسانہ کہاں ہے


اس فلم کو تاریخی بنانے میں صرف کے آصف ہی نہیں تھے ۔ ان کی پوری ٹیم نے مسلسل 10برس کی محنت اور جستجو کے ساتھ یہ شاندار فلم تیار ک ۔ فلم کو ہدایت آصف نے دی جبکہ اس کا اسکرین پلے آصف اور امان اللہ خاں نے لکھا ۔فلم کے ڈائیلاگ امان اللہ خاں ،کمال امروہی ،،احسن رضوی اور وجاہت مرزا نے لکھے ہیں ۔ فلم میں پر تھوی راج کپور نے اکبر کا، مدھو بالا نے انار کلی کا ،درگا کھوٹے نے مہارانی جودھا بائی کا ،نگار سلطانہ نے بہار کا، اجیت نے درجن سنگھ کا ،ایم کمار نے سنگتراش کا ، مران نے راجہ مان سنگھ کا جلوما نے انار کلی کی ماں کا ،شیلا دلایا نے انار کلی کی بہن ثریا کا ، جانی واکر نے اکبر کے دربار میں زنحے کا ،جلال آغا نے نو عمر شہزادہ سلیم کااور دلیپ کمار نے شہزادہ سلیم کا کردار ادا کیاان کے علاوہ بھی ایس نذیر،بے بی تبسم ،خورشید خاں ،خواجہ شبیر اور پال شرما نے مختلف کردار کئے ہیں ۔ موسیقی نوشاد کی ہے جبکہ شکیل بدایونی نے فلم کے گیت لکھے ۔ فلم میں جن گلوں کاروں نے اپنی آواز دی ان میں بڑے غلام علی خاں ،شمشاد بیگم ،لتا منگیشکر ،محمد رفیع اور نور جہاں شامل ہیں ۔رابن چڑجی ساونڈ ریکارڈ سٹ ،محمد ابراہیم اور محمد شفیع نے میوزک اسسٹنٹ ،آر کوشک نے سانگ ریکارڈسٹ کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں ۔۔کے آصف کی ٹیم میں رشید عباسی ،محمد انور ،رفیق عربی ،کے منوہر ، ایم اے ریاض ،ایس ٹی زیدی ،سریند کپور ،خالد اختر نے اسسٹنٹ ڈائرکٹرس کی حیثیت سےاپنی خدمات انجام دیں


مغل اعظم فلم 5 اگسٹ 1960 کو ہندوستان میں ملک بھر کے150تھیڑوں میں ریلیز کی گئی جوخود ان دنوں ایک ریکارڈ تھا ۔باکس آفس پر اس نے 5۔5کڑوڑ روپے وصول کئے ۔ اس کے پرنٹس ہاتھیوں پر لائے گئے تھے ۔ نومبر 2004 میں اس کو اسٹرلنگ انوومنٹ کارپوریشن نے ایک سال کی محنت کے بعد رنگین بناکر پیش کیا ۔ اس کا شمار اب تک بالی ووڈ میں بنی 20سب سے بہترین فلموں میں ہوتا ہے ۔ رنگین فلم میں بھی 25 ہفتے تک چلتی رہی جو ایک ریکارڈ ہے ۔
۔۔پرتھوی راج کپور بار بار آئینہ دیکھتے فلم اور تھیڑ میں کام کی مہارت کے باوجود آصف کے جذبہ کو دیکھکر نکہار لانے کی کوشش کرتے یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ انہیں اکبر اعظم کہتے ہیں۔
مدھو بالا 15 کلو کی وزنی ہتھکڑیاں پہن کر ادا کاری کرتی تو کئی بار بے ہوش ہوجاتی
اسی طرح شہزادہ سلیم کے کردار میں دلیپ کمار نے جس مدبرانہ اداکاری کا اظہار کیا وہ شاید ہی کوئی اور اداکار کرپاتافلم کے لئے 20 گانے ریکارڈ کرائے تھے لیکن ان میں سے ایک گانا شہزادہ سلیم نے نہیں گایا جو خود ایک باوقار کردار کی علامت ہے ۔

مغل اعظم کو شہرہ آفاق بنانے میں نوشاد کی موسیقی کا بڑا دخل ہے یہ فلم اگر خوبصورت گانوں سے نہ سجی ہوتی تو شاید اس کے لافانی ہونے میں کچھ تو کمی رہ جاتی اسی لئے نقادوں نے اس فلم کے گیتوں کو اس کی روح قرار دیا ہے ۔ کے آصف اور نوشاد کا ہر گیت کو ناقابل فراموش بنانے میں کوئی کسر نہیں رکھی

ڈائیلاگس پر ابھی تک کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے امورٹل ڈائیلاگس آف مغل اعظم شائع کی گئی ایسے کئی محققین ہیں ۔ جنہوں نے اس فلم پر پی ایچ ڈی کی ۔


یوں تو مغل اعظم کا ہر ڈائیلاگ یاد رکھے جانے کے قابل ہے لیکن چند مخصوص مناظر پر مکالمے دماغ پر بہت اثر چھوڑ جاتے ہیں ایسے ہی ایک مکالمہ پیش ہے جب اکبر اعظم انار کلی کو اپنی محبت سے انکار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکبر اعظم :ہمیں یقین ہے کہ قید خانے کے خوفناک اندھیروں نے تیری آرزووں میں وہ چمک باقی نہ رکھی ہوگی جو کبھی تھی

انار کلی : قید خانے کے اندھیرے کنیز کی آرزووں کی روشنی سے کم تھے ۔

اکبر اعظم : اندھیرے اور بڑھا دیئے جائیں گے۔

انار کلی : آرزوئیں اور بڑھ جائیں گی۔

اکبراعظم : اور بڑھتی ہوئی آرزووں کو کچل دیا جائے گا ۔ تجھے سلیم کو بھلانا ہوگا ۔

انار کلی :اور ظل الہی کا انصاف؟

اکبراعظم : ہم کچھ سننا نہیں چاہتے ۔اکبر کا انصاف اس کا حکم ہے ۔تجھے سلیم کو بھلانا ہوگا۔

انار کلی : بھلانا ہوگا؟

اکبراعظم : یقیناً اور صرف اتنا ہی نہیں ۔اسے یقین دلانا ہوگا کہ تجھے اس سے کبھی محبت نہیں تھی ۔

انار کلی : جو زبان ان کے سامنے محبت کا اقرار تک نہ کرسکی وہ انکار کیسے کرے گی ۔


اکبراعظم :تجھے سلیم پر ظاہر کرنا ہوگا کہ تیری محبت جھوٹی ہے ۔ایک کنیز نے ہندوستان کی ملکہ بننے کی آرزو کی اور محبت کا خوبصورت بہانہ ڈھونڈ لیا ۔۔

انار کلی : یہ سچ نہیں ہے ۔خدا گواہ ہے یہ سچ نہیں ہے ۔یہ سچ نہیں ہے ۔

اکبراعظم :لیکن تجھے ثابت کرنا ہوگا کہ یہی سچ ہے ۔


انار کلی : پروردگار مجھے اتنی ہمت عطا فرما کہ میں صاحب عالم سے بے وفائی کرسکوں ۔ کنیز ظل الہٰی کا حکم بجالانے کی کوشش کرے گی ۔

اکبراعظم : کوشش نہیں تعمیل ہوگی ۔اسے آزاد کردیا جائے۔

اب ہم بھی مغل ِاعظم کی باتوں کے سحر سے نکلتے ہیں بہہت بہت شکریہ میرے بلاگ پر تشریف لانے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔
 
اس مضمون کے لئے اکثر معلومات اعتماد اخبار سے لئے ہیں۔

Sunday, May 26, 2013

ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے۔


السلام علیکم

یہ افسانہ کیا ہے بہت سارے لوگوں پر بیتنے والا سچ ہے میں کافی عرصہ قبل اپنے بیٹے کے گھرگئی تھی وہاں ٹی وی پرڈاکو منٹری دیکھی جس میں ماں،بہن، بیوی،بچوں،والد اور دوسرے قریبی رشتہ داروں کے تاثرات کو دیکھا تھا،آج بھی لگتا ہے دل پر جیسے نقش ہوگئے ہیں ۔ بُرےحالات سے تنگ آکر کچھ نے خود کشی کرلی تھی اورجو زندہ رہے وہ زندگی ہی میں بار بار مر تے رہے ۔ میں نےبہت  ہی کم مسالہ کے ساتھ یہ افسانہ بنا کرآپ سب کے ساتھ شئیر کیا ہے امید کہ آپ کو پسند آئے گا۔



 


ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے
 

رات کافی ہو چکی تھی افشاں اور ذیشاں لیٹ کر ماں کو سلائی کرتے دیکھتے اور سونے کی کوشش بھی کرتے رہےلیکن سلائی کی مشین کی آواز اس کوشش کو کامباب نہ ہونے دیتی ۔ دونوں ہی آنکھیں بند کیے اماں کو اس کا احساس نہ ہو سوچکرلیٹے رہے۔ رابعہ بیگم نے سلائی کی مشین سے اٹھ کر دونوں بچوں کو ٹھیک سے اوڑھا کر جانے لگی تو ذیشاں نے اماں کا پلو بکڑ لیا اور کہنے لگا۔
 
اماں اب آپ بھی سو جائیں بہت رات ہو چکی ہے۔
 
نہیں بیٹے کل ماموں مال لینے آنے والے ہیں نا۔
 
کیا میں آپ کی مدد کر دوں؟
 
نہیں نہیں اس کی ضرورت نہیں تقریباً سب تیار ہو گیا ہے۔
 
تو باقی صبح کر لینا اماں، اب آرام کر لو تھک گئی ہونگی۔
 
رابعہ بیگم نے ذیشاں کے سر پر ہاتھ پھیر کر سوچنے لگی تم ہی میرے جاگتی آنکھوں کے خواب ہو۔
  
شام کے چار بج رہے تھے افشاں اور ذیشان کالج سے آ کر کھانا کھا رہے تھےاور رابعہ بیگم دوسرے کمرہ میں پڑوسن سے محو گفتگو تھی۔ کال بیل کی آواز پر ذیشاں نے دروازہ کھولا تو ماموں نے اسے دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوتے ہی آپا جان آپاجان  باآواز بلند صدا لگانے لگے۔ یہ آوازیں سن کر رابعہ بیگم معذرت کرتے اٹھنے لگی تو پڑوسن نے بھی جانے کی اجازات مانگ لی۔
 
یہ کیا آپا جان جب دیکھو آپ کے گھر کوئی نہ کوئی مہمان بیھٹے رہتا ہے اور آپ سامنے نہ ہو تو ہمیں یہ افشاں کی بچی لوٹ لیتی ہے دیکھو ابھی ہمیں آئے کچھ ہی دیر ہوئی اور اس نے ہم سے نئے کپڑے بنانے کے لیے بارہ سو روپے وصول کر لیے ہیں اگر ہم کچھ دیر اور یہاں ٹہرے تو شاید کا سہء گدائی لے کر ہمیں اللہ کے نام پر بابا کہنا نہ پڑھ جائے۔ ان کی نظر ذیشاں پر پڑی تو کہنے لگے ذیشاں بیٹے ہم تمہارے بھی ماموں ہیں تم بھی کبھی ہم سے کچھ مانگ لیا کرو بیٹا۔
 
نہیں ماموں مجھے تو الٹا آپ کی اور امی کی خدمت کرنی چاہیے مگر اماں کی خواہش ہے میں ابھی اپنی پڑھائی پوری کروں، یہ ختم ہوتے ہی میں ان شاءاللہ اپنے بڑوں کی مدد کر سکو گا یہ ہی میرا خواب ہے ماموں۔ ماموں کو اس کی بات کا کوئی جواب نہ بن پڑا تو وہ اچھا اچھا جیتے رہو کہہ کر چپ ہو رہے۔ ماموں پرانے مال کے پیسے دے کر نیا مال لے کر جانے سے پہلے رابعہ بیگم سے کہنے لگے۔ وقتِ جوانی رو دھو کاٹو پیری میں آرام کرو ۔آپا جان اب آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان شاءاللہ آپکے اب مصیبت کے دن ختم ہونے کو ہیں افشاں کا رسم تو ہو گیا ہے اچھا خاندان ہے خوش رہیگی شادی کی تیاری بھی ہم اچھے سے کرلیگے جمع بندی تو کر رکھی ہے نا اور ذیشان تو بہت ہی سلجھا ہوا سمجھدار بچہ ہے ہر ایک اس کی تعریف کرتے تھکتے نہیں اور پھر اس نے آج تو اپنی باتوں سے میرا بھی دل بہت خوش کر دیا ہے وہ ہماری خوابوں کو سچ کر کے دکھائے گا آپا۔ ماموں ہمیشہ کی طرح تسلی دینے کے بعد مال لے کرچلے گئے۔
 
 
آج رابعہ بیگم بہت مطمئن نظر آ رہی تھی افشاں نے ان کو خوش دیکھ کر ان سے بھی پیسے مانگنے چاہے تو رابعہ بیگم پھٹ پڑی اے لڑکی تجھے ہو کیا گیا ہے ۔ ذرا لڑکیوں کی طرح رہاکر، جب دیکھو بے شرمی بے حیائی بدتمیزی پر آمادہ رہتی ہے ایسے ہی رہی نا تو اگلے گھر جائے گی تو میری تو ناک ہی کٹوا دےگی ۔۔مگر اماں میں نے ایسے کیا کر دیا افشاں نے معصوم سی صورت بنا کر پوچھا تو رابعہ بیگم نے چڑ کر کہا کوئی بھلا ایسے کرتا ہے گھر آئے مہمان کے ساتھ۔ اماں وہ کوئی نہیں ہیں ہمارے ماموں ہیں اور پھر وہ ہمیں کتنا چاہتے ہیں نا اماں، افشاں نے وضاحت دینا چاہی تو رابعہ بیگم نے چپ کرتے بولی ہاں ہاں معلوم ہے مگر ایسے تنگ کرتے ہیں کیا؟ وہ بے چارا برسوں سے ہماری مدد کر رہا ہے اگر وہ نہ رہتے تو نہ جانے میں تم دونوں کو لے کر پہاڑ سی بیوگی کی زندگی کیسے گزار پاتی رابعہ بیگم کہتے کہتے آبدیدہ ہوگئی اور جلدی سے دوسرے کمرہ میں چلی گئی۔
 
افشاں ماں کے باتیں گم سم بیھٹی سن رہی تھی ماں کے پیچھے جانے لگی۔ ذیشاں چاہتا تھا اماں اکیلے میں اپنا جی ہلکا کر لے اور افشاں کا بھی کچھ دل بہل جائے یہ سوچ کر اس نے افشاں کا راستہ روک کر کہا افشاں میں تجھ سے ایک پہیلی پوچھتا ہوں دیکھنا تم اب کی بار بھی بوجھ نہ سکو گی اور وہ جلدی سے کہنےلگا۔ بند آنکھوں نے وہ دکھلایا آنکھ کھلی تو کچھ نہ پایا۔
 
 افف فوہ ،بھائی کوئی کیسے بند آنکھوں میں دیکھے گا یہ پہیلی تو بڑی عجیب ہے ذیشاں پھر دوہرانے لگا تو افشاں نے کہا بھائی ہم تو بند آنکھوں میں کچھ دیکھتے ہی نہیں، جو دیکھتے ہیں سب کھلی آنکھوں میں۔ وہ سوچتے ہوئے بولی تو ذیشاں نے کہا اللہ تیرے سارے خواب کھلی آنکھوں میں ہی پورا کرے۔ افشاں چونک پڑی۔ خواب ،خواب میں سمجھ گئی دیکھا ٹھیک پہچان گئی نا۔ افشاں نے لہک کر کہا اب میں پوچھوں گی آپ سے، کالا سمندر پیلا پانی بیچ میں ناچے گڑیا رانی ۔۔ ارے پیٹوں تم تو جب سوچو کھانے کا ہی ۔۔ کڑاھی،تیل پکوڑا ذیشاں بول پڑا۔ بھائی آپ بھی نا،اب کے پوچھئےگا دیکھیں  میں جھٹ سے آپ سے بھی جلدی بتادونگی ۔ وہ ناراضگی چھپاتے بولی ۔ سوگھوڑے اور ایک لگام پیچھے چلیں تمام۔ چلو پہچانو۔۔ذیشان ابھی جملہ پورا بھی نہ کیا تھا کہ رابعہ بیگم نے آکرافشاں کی ہتھیلی پر ہزار روپے رکھتے ہوئے کہا آئندہ سے ماموں سے مت لینا جو بھی چاہئے مجھے سے کہا کر۔ وہ افشاں کو پیسے دیتے ہوئے نرمی سےکہا۔ افشاں کو کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ کالج کی فیس اور اتنے ہی پیسے بیٹے کو بھی دینا چاہا تو اس نے صرف فیس کے پیسے لے کر باقی اضافہ رقم واپس کر دی۔
 
ذیشاں ذیشاں باہر سے دو گھر بعد رہنے والے لڑکے کی آواز آنے پر وہ باہر جا کر جلدی ہی اندر آ کر رابعہ بیگم سے پوچھنے لگا کہ اماں گلی کے سب لڑکے مل کر کرکٹ کھیل رہے ہیں اگر آپ کی اجازات ہو تو میں بھی کھیلوں ۔ ہاں ہاں جاؤ بیٹے یہاں قریب ہی تو کھیل رہے ہو نا، جاؤ جاؤ رابعہ بیگم نے کہا۔۔
 
تھوڑی دیر بعد باہر سے پھر اسی لڑکے کی زور زور سے پکارنے کی آواز آئی۔ آنٹی جی، ذیشاں، ذیشاں، جلدی آئیے، ارے کوئی ہے اور پھر بہت سارے آوازیں ایک ساتھ آنے لگی۔ رابعہ بیگم دوڑ کر باہر بھاگی تو وہ یہ دیکھ کر حیران پریشان ہو گئی کہ پولس ذیشاں اورپڑوس کے ایک دوسرے بچے کو پکڑ کر گاڑی میں لیے جا رہے تھے وہ اندر آ کرفوراً اپنے بھائی کو فون کرنے لگی۔ پھر وہ ڈھوتے ہوئے باہر آئی تو  پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مسجد میں بم رکھنے والوں میں یہ بھی شامل ہے اس لئے لے کر گئے ہیں۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا وہ زیر لب بڑبڑائی ۔۔
 
 
 
یہ سچ نہیں ہے، رابعہ بیگم ہر ایک سے کہتی اور بیٹے کو گھر لانے کی کوشش کرتی رہی پھر دو دن بعد خبر ملی کہ اُس دوسرے لڑکے کو چھوڑ دیا گیا ہے اور ذیشاں کو جیل بھیج دیا گیا ہے ایک قیامت تھی جو رابعہ بیگم پر نازل ہوئی تھی افشاں کے سسرال خبر پہنچی تو سسرال والوں نے رسم توڑ دیا۔ ہر ملنے والوں نے منہ موڑ لیا۔ آج تو ماموں نے بھی فون پر کہہ دیا کہ میری بیوی آپ کے پاس جانے پر ناراض ہے میرے بچوں پر اس کا برا اثر پڑنے کے امکان ہیں آپ ایرانی ہوٹل پر آجائیں میں مال کہاں سے لیتے ہیں اور کہاں پہچانا ہے بتادونگا ۔یہ کام اب آپ خود ہی کرلیا کرے میں بس اتنا ہی کر   سکتا ہوں آپ کی مدد،ابھی دو گھنٹہ بعد آجانا۔ ٹھیک ہے ،بہت احسان ہے آپ کا بھائی ۔ یہ کہہ کر رابعہ بیگم فون رکھ کر رونے لگی۔
 
 
آج آٹھ ماہ ہو گئے رابعہ بیگم بیٹے کو واپس لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہاں کہاں نہیں گئی وہ۔ پولس کے چھوٹے سےلے کر بڑے آدمی تک کا پاوں پکڑے۔ حکمرانوں کےآدمیوں کے آگے ہاتھ جوڑے۔ ہر جاننے والوں کا دروزہ کھٹکھٹایا مگر ہر ایک  انہیں دھتکارتے ہی رہے۔ آج مسلم ،غیر مسلم،تعلیم یافتہ اور ان پڑھ چھوٹے ،بڑے ،مرد ،عورتیں سب ہی ٹی وی،کھیل اور دوسرے لہولہب میں ایسے مصروف ہوگئے ہیں کہ انہیں اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں کا لحاظ باقی نہیں رہا۔ اگر ان لوگوں پر بھی (خدا نہ کرے) ایسا وقت آئے توان کو پتہ چل جائے کہ پریشان حال ،بے قصور ،زبوں حال لوگوں کی طرف سے بے التفاتی اور بے عتنائی کا انجام اور نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ کاش انہیں اس بات کا احساس ہو جائے ان کی انسانیت جاگ جائے تو  یہ لوگ اپنے کھانے، سونے تک کے لئے خود کو وقت نہیں دینا چائیں گے ۔
 
 
آج پھر رابعہ بیگم کو ایک آس بندھی ہے ۔ محلہ کےذیشان کے ساتھ پکڑے جانے والا لڑکا  چھوٹ گیا تھا ۔ اسی کے والد یں نےان کے حال پر رحم کھا کرکسی آدمی سے ملانے کا وعدہ کیے تھے اور وہ بے چینی سے انتظار کر رہی تھیں۔ پھر وہ ان صاحب کو ساتھ لے کر آئے۔ سارے باتیں سننے کے بعد انہوں نے بتایا کہ بات صرف پولس سے نکلنے کی نہیں ہے یہ معاملہ تو جیل تک پہنچ چکا ہے اور وہ بھی بم کا ہے پیسے بہت ہونگے تمہارے پاس تو کوئی کمانے والا بھی نہیں۔۔۔مگر میرا بیٹا بے قصور ہے رابعہ بیگم بے بسی سے بتانے لگی ۔۔ہاں مجھے پتہ ہے ۔ تم یہ بتائیں کہ تمہارا کام کرنا ہے یا نہیں ۔ پھررابعہ بیگم نے افشاں کی شادی والی جمع رقم اور پس انداز پیسوں کا تخمینا دماغ میں لگانے کے بعد سوچ کر ہاں کہہ دی۔۔ٹھیک ہے ہو جائے گا مگر میں پہلے بتا دو کہ اس میں ذرا وقت لگے گا۔ پہلے وکیل کرنا ہوگا کیس چلنے کی بعد رہائی کا بندوبست کرنا پڑے گا قریب ہفتہ سے دو مہینہ لگ سکتے ہیں وہ لوگ یہ کہہ کر چلے گئے
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
ذیشاں بیٹے یہ کیا ہے۔  تمہیں گھر آئے اتنا عرصہ ہوگیا ہے ۔ مگر تم جب سے آئے ہو خود کو گھر میں قید کر لیا ہے۔ نا کبھی کالج جاتے ہو ۔ نہ کہی باہر دوستوں سے ملتے ہو۔ نہ گھر ہی میں بات کرتے ہو۔ یوں چھت کو ٹکٹی باندھے آخر کیا دیکھتے رہتے ہو ۔ سنبھالو بیٹا اپنے آپ کو، اب تم گھر آگئے ہو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ اب ہماری آس تو تم ہی سے بندھی ہے تم ہی کو تو ہمارے خوابوں کو پورا کرنا ہےرابعہ بیگم بغیر رکے کہنے لگی۔۔۔اماں آپ مجھ سے چھپا رہی ہیں مگر مجھے پتہ ہے میری وجہہ سے افشاں کی شادی کا خواب ٹوٹ گیا،ماموں نے بھی آپ سےرشتہ توڑ لیا۔ کوئی ہمارے گھر نہیں آتا۔ کوئی ہم سے بات تک کرنا نہیں چاہتا ۔ایسے ڈرتے ہیں جیسے دوسرے سیارہ سے آئیں ہیں میرے ساتھ کالج اور محلہ میں بھی سب ایسا ہی سلوک کرتے ہیں میں نے اپنے ساتھ آپ لوگوں کا جینا بھی دوبھر کردیا ہے،آپ لوگوں کے خواب بھی چکناچور کردیے اماں ۔اب اپنی اور آپ لوگوں کی توہین نہیں برداشت کرسکتا اماں ۔ ذلت کی نہ دکھائی دینے والی زنجیروں میں لپٹا ہوا ہوں میں ۔ میں مر جانا چاہتا ہوں آپ دونوں میرے جانے کے بعد خوش رہ سکے گے اماں ۔۔۔۔۔ ذیشاں زارو قطار روتے ہوئے کہنے لگا پھر اسنے زہر کی شیشی نکل لی۔ رابعہ بیگم نے ہاتھ سے زہر کی شیشی دور مار گرانے کے بعد بیٹے کو لپٹا لیا نہیں نہیں ایسا نہیں کرتے، ضرور ہمارے خواب پورے ہونگے وہ ہمت اور یقین سے بولی ہم تم اگر ساتھ رہے تو سب ممکن ہے میرے بچے ،قوت ارادی اور قوت فیصلہ سے انہوں نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے کہا ہم یہ شہر چھوڑ کر دور کوئی اور شہر چلے جائیگے جہاں ہم اپنی دوسری پہچان بنائیگے ،جہاں ہم ایک نئی دنیا بسائے گے۔ ایسا اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے میرے بچے ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے ۔

 مگر کیا ہم دوسری جگہ بھی بنا کسی اندشہ اور امن و امان کے ساتھ رہ سکے گے ؟ یہ سوال اک بارگی سب کے دماغ میں سمایا ہوا تھا اور خاموشی چاروں طرف چھائی ہوئی تھی۔
 
 
   
 
 

Thursday, May 16, 2013

غزل ۔۔ معین الدین چشتیؒ

 
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ
کی ایک غزل


آپ بہت صاحبِ حال بزرگ گزرے ہیں جن کاظاہر شریعیت سے مزین اور باطن طریقت و معرفت سے لبریز ہے بالفاظ دیگر ظاہر،باطن اور باطن، ظاہرکا نورہی نور تھا ۔دنیا میں ان کا فیض ہمیشہ جاری ہے ۔ان کی شاعری بناوٹ،تصنع،دکھاوا وغیرہ سے پاک رہی ۔ وہ شاعری شاعری نہیں بلکہ سب اسرار و رموزالہی کا بیان ہے ۔رب تعالی سے ملنے کے لئے راہ سلوک کی منزلوں کو بیان کیا ہے ۔
خواجہ صاحب قدس سرہ کاسلوک چشتیہ "اسم ِذات" اور اس کے ذکر اور" تصور اسم ذات" سے مربوط ہے آپ کی شاعری کا رنگ سب سے الگ اور ممتاز ہےآپ کی غزلیات سے یہاں پر ایک حمدیہ غزل پیش کی جاتی ہےجس کا ہر ایک شعرآپکی جلالت علمی اور ذکر حق میں کمال استغراق کی داد دیتا ہےاردو ترجمہ ہفت مراحل سلوک اورانگریزی ترجمہ
"per-pughal persian in Hindustan"
سے لیا ہے۔

ربود جان ودلم را،جمال ِنام خدا
نو اخت تشنہ لباںرا، زلال نام خدا

 
وصال حق طلبی، ہمنشین ِنامش باش
بہ بین وصال خدا، دروصال ِنامِ خدا

 
میاںِ اسم ومسمئ، چو نیست فرق بہ مین
تو درتجلئ اسماء ،کمال ِناِم خدا

 
یقین بدان کہ تو باحق نشستہ ای شب وروز
چو ہمنشین تو باشد، خیال نامِ خدا

تُراسزوِطیران ورفضائی عالم قدس
بہ شرط آنلہ بہ پری، بہ بال ِنامِ خدا

 
چو نامِ اوشنوم، گربودمرا صدجان
فدای اوست، بہ عزوجلال نامِ خدا

 
معین زگفتنِ نامش ملول کئ گرود
کہ ازخدا است ملالت، ملال نامِ خدا

اردو ترجمہ


 
خداکے نام کاجمال میرے دل وجان کو اڑالے گیا
خدا کے نام تشنہ لبوں کو آب زلال (پاک پانی) سے نوازا
اگر تو حق کےوصال کا طالب ہے تو اس کے نام کا
ہمنشین بن جا( اور )خداکے نام کے وصال میں خداکا وصال دیکھ لے


جب نام اور صاحبِ نام میں کوئی فرق نہیں ہے تو
اسم ذاتِ الہی میں تمام اسمائےصفاتی کی کامل تجلیات دیکھ لے ۔

یقین جان کہ، تو شب وروز حق کے ساتھ بیٹھاہوا ہے
جب بھی خدا کے نام کے خیال کا ہمنشین ہے

عالم قدس کی فضاوں میں پرواز کرنا تجھے سزاوار ہے
بشرطیکہ تو خدا کے نام کے بازووں سے پرواز کرلے

 
جب بھی میں اس کا نام سنوں اور مجھے سو جانیں مل جائیں تو خدا کے نام کی عزت وجلال کی قسم، اس نام پر تمام جانین قربان ہیں
معین اس( خدا) کے نام کا ذکر کرنے سے کب ملول
بیزار) ہو کیوں کی خدا کے نام کے ذکرسے بیزار ہونا( دراصل) خدا سے بیزارہونا ہے.

 
مسئلہ شرعی یہی ہے کہ خدا کے نام کاذکر ہی خداہے اور اس کے ذکر سے بیزاری خدا سے بیزاری ہے اور خدا سے بیزاری کفر ہے ۔

English Translation

The beauty of the name of God (ALLAH) has robbed me of my heart and soul.
The pure water of His name quenched the thirsty lips.

If you desire His Union, be an associate of His name.
Realise the Union with God in the recitation of His name.

 
When there is no difference in the name and the Named, see in the glorification of His name the perfection of the same.

 
Believe that you are sitting in the company of God, day and night.
When your companion is the reminiscence of His name.

 
It is befitting for you to fly in the air of the celetial world, If only you fill in with the winds of His name..

 
When I hear His name, if there be a hundred lives in me, I swear by the glory of His name that I would sacrifice them all..

 
When does Mu'in grudge the repetition of His name?
Since that grudge implies a grudge against Him.


آپ کی اس ساری غزل میں واذکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا(مزمل ۷۳۔۸)اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہورہو اور وللہ الاسماءالحسنی فادعوہ بھا(اعراف ۔۱۸۰)"اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو ان سے پکارو" ۔ کا بیان ملے گا۔ اور یہ عتماد اخبار سے لیا گیا ہے ۔

 

آپ سب نے ٹائم دیا ممنون ہوں ۔اب کوثر کو اجازت دیے
 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Saturday, May 11, 2013

ماہِ رجب

 
 
 
السلام علیکم
 

اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان
 

 رجب  قمری سال کا ساتواں مہنہ ہے ۔ سال میں چار ماہ حرمت والے ہیں جن میں سے رجب المراجب بھی ایک ہے۔اس ماہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم معراج کے شرف سے سرفراز ہوئے ۔ ہمارے پیارے رسول اللہ علیہ وسلم شوال سے جمادی الثانیہ تک کی عبادت کے لئے معمول کی عبادت فرماتے تھے اور جب رجب کا مہینہ آجاتا تو عادت میں اضافہ فرمایا کرتے تھے ۔ہمیں بھی چاہیے کہ کوئی لمحہ یا وقت ایسا جانے نہ دیے جس میں اللہ تعالی سے غفلت ہوجائے۔
 
حقیقت یہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ مسلمان کے لئے سیزن ہے اور سیزن کی تیاری رجب کے مہینے سے شروع ہوجاتی ہے ۔ لوگ رمضان کے مہینے کو آمدی اور کمائی کا سیزن سمجھتے ہیں حالانکہ کمائی اور آمدنی کےلئےاللہ تعالی کسی مخصوص مہینہ اور مخصوص سیزن کے ہرگز مختاج نہیں اللہ جس کو نفع پہچانا چاہیں تو رمضان کے علاوہ بھی نفع پہنچانے پر قادر ہیں اور اگر کسی کونقصان ہونا ہو تو رمضان میں بھی ہوجاتا ہے۔اللہ پاک تو قادرالمطلق ہےبندے اللہ عزوجل کی بندگی نہ کریں تو اللہ تعالی کے مقام میں کوئی کمی نہیں آتی اور بندے اللہ کی بندگی کریے توبندوں ہی کا فائدہ ہےاللہ پاک بہرحال تمام تر تعریف کے لائق ہے۔

حصرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اپنی روز مرہ کی دعاوں میں یہ دعا شامل فرمایا کرتے " اے اللہ رجب کے شعبان کے مہینہ میں برکت نازل فرمائیےاور صحت اور مغفرت کے ہم اپنے آپ کو مستحق بناسکیں" ہم رسولِ اکرم کے نام لیوا اغلام اور امتی ہیں ہم سب پر لازم اور ضروری ہے کے آپ کے نقش ِقدم پر چلیےرمضان کی تیاری رجب ہی سے شروع کریے۔ نمازوں کی پابندی، قرآن کی تلاوت، آپس میں دینی مذاکرت ،صدق و عدل کی کوشش، ماں باپ کا ادب واحترام، پڑوس کے ساتھ حسن سلوک بڑوں کا ادب چھوٹوں کے ساتھ شفقت کسی بھی طرح کے نیک کاموں کی توفیق یہی کام ہیں جو کل آخرت میں کام آنے والے ہیں۔ کوئی بھی چھوٹی نیکی کو کمتر نہ سمجھے زیادہ سے زیادہ بٹور نے کی کوشش کریے ۔ آدمی کا بیوی بچوں کے لئے کمانا بھی نیکی ہے۔اور بیوی کا میاں بچوں کی خدمت کرنا بھی نیکی ہے ۔ میرے بابا ہم سے فرماتے تھے کہ ۔۔۔۔ ہم کو چاہیے کے آفس جاتے یا گھر کا کام شروع کرنے سے پہلےباوضو ہو اور ابتدا سے پہلے اللہ میں تیری رضا اور فرض کی ادائیگی کےلئے یہ کام کرتا ہوں یا کرتی ہوں نیت کرے تو آپ اپنا ساری وقت اللہ کی فرمابرداری میں گزرنے کی امید کرسکتے ہیں۔ان شاءاللہ۔
 
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہم چاہیے تو سیل فون میں قرآن مبارک محفوظ کرکے کام کےدوران سن سکتے ہیں۔آرام کے خیال سے پلنگ پربیھٹے وقت بیٹھے بیٹھےسن سکتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو توجو یاد ہے وہ دوہرا لیں  اور دل ہی دل میں کلمہ طیبہ ،درود یا استغفارپڑھتے رہیں۔ جب بات کرنا ہو کرے پھر فوراً بات ختم ہوتے ہی ذکر شروع کردیں ۔ اگر یہ بھی نہ کرسکے تو صرف اللہ اللہ کی ضرب سے دل اللہ کی طرف لگا رکیں ۔ جب اللہ موجود ہوتا ہے تو شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے اس طرح سے دل سے وسوس دور ہوگئے اورنیک کاموں کی اللہ کی طرف سے توفیق ہوگی یہ ساری باتیں میرے بابا کی بتائی ہوئی ہیں میں اس کو دوسروں تک پہچانا اپنا فرض سمجھتی ہوں۔ بزرگ لوگ شروع رجب میں روزہ رہنے کو بعض اجر  و ثواب بھی کہتے ہیں ۔ اللہ ہمیں صحت اور توقیق  دیےکے ہم اپنے آپ کو مستحق بناسکیں اللہ مجھے اور امتِ محمدی کو نیک ہدایت  دیے ، آمین۔۔
 
اگر کچھ غلط کہا تو اللہ معاف کرے ۔

 شکریہ آپ سب مہربانوں کا ۔

پھر ملےگےگر خدا لایا
 
 



Monday, May 06, 2013

جب میں ماں بنی


 

السلام علیکم
پہلا احساس ....جب میں ماں بنی
 
آج میری ایک عزیزہ ملنے آیی اور وطن جانے کا کہا اور باتوں میں کئی بار دعا کرنے بھی کہا.  لگ ایسے رہا تھا کے وہ کچھ فکر مند ہو میں نے اس سے کہا کے اس میں فکر کی کیا بات ہے تم کو تو ہر وقت خوش رہنا اورشکر کرنا چاہیے کہ تم کو ماں جیسے مقام پر فائز ہورہی ہو۔ پھر والدین شوہر کا ساتھ بھی ہےاس بلند مرتبہ کو پانے کے عوض کچھ تکلیف بھی اٹھانا پڑھے تو بھی ُمضایقہ نہیں اللہ جتنی برداشت ہو اتنی ہیں تکلیف دیتے ہیں ۔ جب نو مولود پر نظر پڑیگی تب ہی سب بھول جاوگی۔ میری امی کہتی تھی کہ تم نیکی کے زیادہ سے زیادہ کام کرو نماز،قرآن پڑھو آنے والے بچے کو بھی فائدہ دیتی ہے اور تم کو ثواب بھی خوب ملتا ہے وغیرہ کہکر تسلی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پھر مجھے بہت اصرار کیا کہ آپ کا اس و قت کیا احساس تھااور کیا حالات وغیرہ تھے بتلائیں ۔۔ تومیں نے سوچا کے چلو یہ سب باتیں واحساسات آج میں اپنے بلاگ پر بھی شیئر کرلوں۔

اس بات کو گزرے زمانہ ہوگیا مگر چند یادیں ایسی ہوتی ہیں کے وہ ہمیشہ تر و تازہ ہی رہتی ہیں۔

ان جانے تجربوں اور مراحل سے زندگی گزار رہی تھی اپنوں سے دورکہنے کو گھر میں دو جھیٹانیوں کا ساتھ تھا مگرتکلّف اورحیا اجازات نہ دیتی گھر، دعوتوں، دواخانہ کی دوڑ سب ہی میں وہ ساتھ رہتی یہ ہی ہمت بہت تھی پھر ایک دن وہ سب جبیل ساحلِ سمندرگئےمیں اور میاں گھر پر ہی تھےاس دن میں کچھ زیادہ ہی بے چین تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کریں توہم نے امی سےفون پر بات کی ،، امی نے کہا کے اب تم اپنا بیگ تیار رکھوں اورکیا کیا چاھیے بھی بتادیا،،۔ میرے میاں اپنی بھابیوں سے کہا تو انہوں نے کہا پہلے سے تیاری کرنا ٹھیک نہیں سمجھا جاتایہ بہتر نہیں جب ہوگا دیکھا جائےگا۔ ۔۔ میری ایک بھابی کم دوست قریب ہی رہتی تھی اس نے یہ سنا تو نہ صرف تائیدکی بلکہ اپنی  خدمات بھی پیش کی۔۔ ۔۔ ۔۔

 پھر چند دنوں کے بعد وہ دن بھی آگیا جب میں، میاں ان کے بھائیوں بھابیوں کے ساتھ دواخانہ جانے لگی ۔ جس طرح قبر تک رشتہ دار ساتھ آتے ہیں اسی طرح یہاں آوٹ پیشنٹ تک ساتھ رہے ۔ دوسرے دن وہ گھڑی بھی آگئی جب میرے کانوں نے رونے کی آواز سن لی پھرڈاکٹر نے میرے آرام کے لئےانجکشن لگایا اور مجھےنیند آگئی ،جب بیدار ہوئی تو دیکھا کےوہ کمرے میں کوئی نہیں ہے دور دوسرے پلنگ پربچا لیٹا ہے اس کے پاوں میری طرف تھے۔ بہت دیر تک اسی پر نطر گھاڑے رکھی دل کرتا کے دوڑکر سینہ سے لگالوبہت دیر تک ٹکٹکی باندھی رکھی پھر جب بہت دیر تک حرکت نہ ہوئی تو دل میں عجیب خیال گھرکرنے لگے اور پھر کچھ دیر بعد یقین ہوگیا کے بچا مردہ ہے کیونکہ وہ بے حس و حرکت تھااور دوخانہ کےسفید کپڑے میں لپٹا ہواتھا ۔ میرے گھر سے ساتھ لائے ہوئے کپڑے نہیں پہنائےتھے ۔ اس خیال کے آتے ہی دل نے مالک حقیقی کو یاد کرنےلگا اور دل کی کیفیت بتانے لائق نہیں رہی پھرمیں ہمت سمیٹنے لگی اور پوری طاقت سے اٹھکر جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ بچے نےزورسے چھینکا اور میرے منہ سے بے اختیار الحمدللہ نکلا اورکچھ ہی لمحہ بعد دوسرے کمرہ سے نرس نے آتے ہی مجھے دیکھکر مسکرایا اور بچے کو میرے قریب لے آئی ۔
 
 پڑر پڑر کرتی آنکھوں پر نظر پڑتے ہی جان میں جان آیئ میں نے خدا کا شکریہ ادا کیا۔ گھر کی سب سے چھوٹی ہونے سے مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ بالکل چھوٹے بچے ہمیشہ ہاتھ پاوں نہیں چلاتےاور پھر پورہ لپٹا کر رکھا ہوا بھی تھا۔ بہنوں بھابیوں کے بچوں کوہمیشہ ہلتے دیکھا تھا سمجھ نہیں آرہا تھا کے اپنی عقل پر رونا چاہیے یا ہنسنامگر مجھے اس خوشی کے احساس کےوقت اللہ کاخیال غالب رہا ۔ شایدایسے نہ ہوتا تو میں اس پیارےاحساس پر خود کو ہی فراموش کرجاتی پھر میں نے گود میں لے کرلحاف نکلااس کےگال کے لمس نےمیرے وجود کوممتا کے نور سے معمور کردیا، ہاتھوں کوچھوکرگرمایا ، پاوں کی نرمی نے میرے اندراس کے لئے بہت نرم جذبہ کومحسوس کیا ۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ناک نقشِ نے مجھے سکون ،محبت، اپنے پن کےبہاو میں ڈوبو دیا۔ میں نے ہر طرح سے نارمل ہونے پر دل میں شکرادا کیا۔
 
 اورپھر دوسرے کمرہ میں لے جایا گیا جہاں لوگ اپنی فیملی کو آکر لے جانے نرس کو بھجتے اور وہ آکرساتھ لے جاتی ہے۔ بارہ بیڈ تھے جس میں سےچاربستر خالی تھے  ۔ مجھے بے چینی سے گھر جانے کا انتظار تھا پھر سسڑر نےمیرے ہم نامی کو پکارامیں نے خود کے طرف توجہ دیلائی تو اس نے نفی میں سر ہلا کراس مصری خاتون کو لے گئی پھر کچھ دیر کے بعددونوں ہنستے لوٹ آیے سسڑرمیاں کےلباس کی وجہہ سے غلط فہمی کاشکار ہوئی تھی۔

پھر میں نرس کے ساتھ گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ میاں بھی باہر ہنس رہے تھے ۔  انہوں نے پھر بڑے پیار سے بچے کو لےلیا اورہم دونوں کبھی بیٹے کو دیکھتے اور کبھی مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھتے ۔ آج ہمارا ایک حسین کھولی آنکھوں کا خواب پورا ہوا تھا ہم دونوں ہی ایک ساتھ ایک نئے رشتہ میں بندھے تھے نہ جانے کتنے باتیں اور کتنے خواب ایک ہی طرح  کے ہماری آنکھوں میں روش تھے  ۔ پھر میاں نے مجھے  پہلے والی لڑکی کے بارے میں ہنس ہنس کے بتانے لگے ۔ ۔۔۔ یہ آج بھی وہ  واقعہ اتنا ہنس ہنس کراچھے سے بتاتےجاتے ہیں اور خوش ہوتےرہتے ہیں۔ میں جانتی ہوں وہ اس بہانے سے خود کے وہ پیارے احساس کویاد کرکے خوش ہوتے ہیں اللہ کی یہ بھی مہربانی ہے کے اس نے ماں باپ کے دل میں پیار کی جوت جلائی اولاد کو والدین کےلئےخدمت کا حکم دیااور دل میں محبت بھی۔ بس اللہ ہم کواچھی تربیت اور اپنے اپنے حقوق کی ادائیگی کی توفیق دیے۔ جو اس احساس سے محرم ہیں اللہ اپنے کرم  سے انکی گود بھی بھر دے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کا شکربجا لایا کرے۔
 

کیسی لگی میری روداد زحمت نہ ہوتی ہو تو بتایے گا ۔ نہیں تو آپ نے پڑھا اتنا وقت دیا یہ ہی بہت ہےمیرے لیے۔ بڑی نوازش کی آپ سب نے ۔۔۔۔۔۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔