Monday, May 06, 2013

جب میں ماں بنی


 

السلام علیکم
پہلا احساس ....جب میں ماں بنی
 
آج میری ایک عزیزہ ملنے آیی اور وطن جانے کا کہا اور باتوں میں کئی بار دعا کرنے بھی کہا.  لگ ایسے رہا تھا کے وہ کچھ فکر مند ہو میں نے اس سے کہا کے اس میں فکر کی کیا بات ہے تم کو تو ہر وقت خوش رہنا اورشکر کرنا چاہیے کہ تم کو ماں جیسے مقام پر فائز ہورہی ہو۔ پھر والدین شوہر کا ساتھ بھی ہےاس بلند مرتبہ کو پانے کے عوض کچھ تکلیف بھی اٹھانا پڑھے تو بھی ُمضایقہ نہیں اللہ جتنی برداشت ہو اتنی ہیں تکلیف دیتے ہیں ۔ جب نو مولود پر نظر پڑیگی تب ہی سب بھول جاوگی۔ میری امی کہتی تھی کہ تم نیکی کے زیادہ سے زیادہ کام کرو نماز،قرآن پڑھو آنے والے بچے کو بھی فائدہ دیتی ہے اور تم کو ثواب بھی خوب ملتا ہے وغیرہ کہکر تسلی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پھر مجھے بہت اصرار کیا کہ آپ کا اس و قت کیا احساس تھااور کیا حالات وغیرہ تھے بتلائیں ۔۔ تومیں نے سوچا کے چلو یہ سب باتیں واحساسات آج میں اپنے بلاگ پر بھی شیئر کرلوں۔

اس بات کو گزرے زمانہ ہوگیا مگر چند یادیں ایسی ہوتی ہیں کے وہ ہمیشہ تر و تازہ ہی رہتی ہیں۔

ان جانے تجربوں اور مراحل سے زندگی گزار رہی تھی اپنوں سے دورکہنے کو گھر میں دو جھیٹانیوں کا ساتھ تھا مگرتکلّف اورحیا اجازات نہ دیتی گھر، دعوتوں، دواخانہ کی دوڑ سب ہی میں وہ ساتھ رہتی یہ ہی ہمت بہت تھی پھر ایک دن وہ سب جبیل ساحلِ سمندرگئےمیں اور میاں گھر پر ہی تھےاس دن میں کچھ زیادہ ہی بے چین تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کریں توہم نے امی سےفون پر بات کی ،، امی نے کہا کے اب تم اپنا بیگ تیار رکھوں اورکیا کیا چاھیے بھی بتادیا،،۔ میرے میاں اپنی بھابیوں سے کہا تو انہوں نے کہا پہلے سے تیاری کرنا ٹھیک نہیں سمجھا جاتایہ بہتر نہیں جب ہوگا دیکھا جائےگا۔ ۔۔ میری ایک بھابی کم دوست قریب ہی رہتی تھی اس نے یہ سنا تو نہ صرف تائیدکی بلکہ اپنی  خدمات بھی پیش کی۔۔ ۔۔ ۔۔

 پھر چند دنوں کے بعد وہ دن بھی آگیا جب میں، میاں ان کے بھائیوں بھابیوں کے ساتھ دواخانہ جانے لگی ۔ جس طرح قبر تک رشتہ دار ساتھ آتے ہیں اسی طرح یہاں آوٹ پیشنٹ تک ساتھ رہے ۔ دوسرے دن وہ گھڑی بھی آگئی جب میرے کانوں نے رونے کی آواز سن لی پھرڈاکٹر نے میرے آرام کے لئےانجکشن لگایا اور مجھےنیند آگئی ،جب بیدار ہوئی تو دیکھا کےوہ کمرے میں کوئی نہیں ہے دور دوسرے پلنگ پربچا لیٹا ہے اس کے پاوں میری طرف تھے۔ بہت دیر تک اسی پر نطر گھاڑے رکھی دل کرتا کے دوڑکر سینہ سے لگالوبہت دیر تک ٹکٹکی باندھی رکھی پھر جب بہت دیر تک حرکت نہ ہوئی تو دل میں عجیب خیال گھرکرنے لگے اور پھر کچھ دیر بعد یقین ہوگیا کے بچا مردہ ہے کیونکہ وہ بے حس و حرکت تھااور دوخانہ کےسفید کپڑے میں لپٹا ہواتھا ۔ میرے گھر سے ساتھ لائے ہوئے کپڑے نہیں پہنائےتھے ۔ اس خیال کے آتے ہی دل نے مالک حقیقی کو یاد کرنےلگا اور دل کی کیفیت بتانے لائق نہیں رہی پھرمیں ہمت سمیٹنے لگی اور پوری طاقت سے اٹھکر جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ بچے نےزورسے چھینکا اور میرے منہ سے بے اختیار الحمدللہ نکلا اورکچھ ہی لمحہ بعد دوسرے کمرہ سے نرس نے آتے ہی مجھے دیکھکر مسکرایا اور بچے کو میرے قریب لے آئی ۔
 
 پڑر پڑر کرتی آنکھوں پر نظر پڑتے ہی جان میں جان آیئ میں نے خدا کا شکریہ ادا کیا۔ گھر کی سب سے چھوٹی ہونے سے مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ بالکل چھوٹے بچے ہمیشہ ہاتھ پاوں نہیں چلاتےاور پھر پورہ لپٹا کر رکھا ہوا بھی تھا۔ بہنوں بھابیوں کے بچوں کوہمیشہ ہلتے دیکھا تھا سمجھ نہیں آرہا تھا کے اپنی عقل پر رونا چاہیے یا ہنسنامگر مجھے اس خوشی کے احساس کےوقت اللہ کاخیال غالب رہا ۔ شایدایسے نہ ہوتا تو میں اس پیارےاحساس پر خود کو ہی فراموش کرجاتی پھر میں نے گود میں لے کرلحاف نکلااس کےگال کے لمس نےمیرے وجود کوممتا کے نور سے معمور کردیا، ہاتھوں کوچھوکرگرمایا ، پاوں کی نرمی نے میرے اندراس کے لئے بہت نرم جذبہ کومحسوس کیا ۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ناک نقشِ نے مجھے سکون ،محبت، اپنے پن کےبہاو میں ڈوبو دیا۔ میں نے ہر طرح سے نارمل ہونے پر دل میں شکرادا کیا۔
 
 اورپھر دوسرے کمرہ میں لے جایا گیا جہاں لوگ اپنی فیملی کو آکر لے جانے نرس کو بھجتے اور وہ آکرساتھ لے جاتی ہے۔ بارہ بیڈ تھے جس میں سےچاربستر خالی تھے  ۔ مجھے بے چینی سے گھر جانے کا انتظار تھا پھر سسڑر نےمیرے ہم نامی کو پکارامیں نے خود کے طرف توجہ دیلائی تو اس نے نفی میں سر ہلا کراس مصری خاتون کو لے گئی پھر کچھ دیر کے بعددونوں ہنستے لوٹ آیے سسڑرمیاں کےلباس کی وجہہ سے غلط فہمی کاشکار ہوئی تھی۔

پھر میں نرس کے ساتھ گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ میاں بھی باہر ہنس رہے تھے ۔  انہوں نے پھر بڑے پیار سے بچے کو لےلیا اورہم دونوں کبھی بیٹے کو دیکھتے اور کبھی مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھتے ۔ آج ہمارا ایک حسین کھولی آنکھوں کا خواب پورا ہوا تھا ہم دونوں ہی ایک ساتھ ایک نئے رشتہ میں بندھے تھے نہ جانے کتنے باتیں اور کتنے خواب ایک ہی طرح  کے ہماری آنکھوں میں روش تھے  ۔ پھر میاں نے مجھے  پہلے والی لڑکی کے بارے میں ہنس ہنس کے بتانے لگے ۔ ۔۔۔ یہ آج بھی وہ  واقعہ اتنا ہنس ہنس کراچھے سے بتاتےجاتے ہیں اور خوش ہوتےرہتے ہیں۔ میں جانتی ہوں وہ اس بہانے سے خود کے وہ پیارے احساس کویاد کرکے خوش ہوتے ہیں اللہ کی یہ بھی مہربانی ہے کے اس نے ماں باپ کے دل میں پیار کی جوت جلائی اولاد کو والدین کےلئےخدمت کا حکم دیااور دل میں محبت بھی۔ بس اللہ ہم کواچھی تربیت اور اپنے اپنے حقوق کی ادائیگی کی توفیق دیے۔ جو اس احساس سے محرم ہیں اللہ اپنے کرم  سے انکی گود بھی بھر دے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کا شکربجا لایا کرے۔
 

کیسی لگی میری روداد زحمت نہ ہوتی ہو تو بتایے گا ۔ نہیں تو آپ نے پڑھا اتنا وقت دیا یہ ہی بہت ہےمیرے لیے۔ بڑی نوازش کی آپ سب نے ۔۔۔۔۔۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

18 comments:

MAniFani said...

سینٹی کر دیا جی۔ اللہ آپ کو اور آپ کے بچوں کو سدا خوش و خرم رکھے۔

الجنتہ تخت اقدام المھات

کوثر بیگ said...

اطہار خیال اور دعا کے لئے بے حد شکریہ ۔ اللہ آپ کو بھی شاد و آبااد رکھے ۔

محمد سلیم said...

اتنی جزئیات کے ساتھ احساسات کو ابھی تک یاد رکھنے کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ یہ تجربہ زندگی کا حسین تجربہ تھا۔ اپنی کچھ یادوں میں کھو کر میری آنکھیں بھیگ گئیں۔
اللہ تبارک و تعالٰی آپ کے بچوں کو سلامت اور آپ کو ایمان کی سلامتی دے۔ آمین

کوثر بیگ said...

جی بھائی یہ زندگی کے حسین لمحے ہی تھے جسے اللہ پاک نے اپنے کرم سے عطا کیے ۔آپ نے دونوں ہی انمول دعائیں دی ہیں جو ہر ماں کی دلی خواہش ہوتی ہے۔۔۔ بے حد شکریہ اس دعائیہ کلمات کے لئے ۔اللہ جزائے خیر دے

noureen tabassum said...



سوچ کے لمس کو چھوتی تخیّلات کی دُنیا کا یہ لازوال احساس بے شک ہر ماں کا نصیب ہے ،لیکن خوش نصیبی اور کم نصیبی کے درمیان بھی بہت باریک سی حد ِفاضل ہے اللہ تعالٰٰی سب ماؤں کی گود بھری رکھے آمین

کوثر بیگ said...

آمین، آپ کی تحاریر اور کمنٹز دونوں ہی بہت لا جواب ہوتی ہیں ۔ بلاگ پر تشریف آواری کا شکریہ

عمران اقبال said...

مجھے وہ لمحہ آج بھی یاد ہے جب تین سال پہلے میں نے اپنی بیٹی علیزہ کو پہلی بار اپنے بازوں میں بھرا تھا۔۔۔ شاید اس لمحے کی کیفیت کا بیان کرنا ناممکن ہے میرے لیے۔۔۔ سوائے اس کے، اتنا سکون اور اتنی خوشی پہلے کبھی نا دیکھی تھی نا محسوس کی تھی۔۔۔

وہ لمحے پھر سے محسوس کروانے کا بہت بہت شکریہ۔۔۔

کوثر بیگ said...

ماشاءاللہ آپ بھی ایک پیاری سی بیٹی کے والد محترم ہیں اور بہت پیارا ہے برخوردری کا نام علیزہ ،اللہ خوش نصیب اور نیک بنائے بٹی کو میری طرف سے ڈھیروں دعائیں پہچائے اسے ۔اللہ آپ کی آنکھوں ہمیشہ ٹھنڈک رکھے ۔ شکریہ کمنٹ کے لئے

ڈاکٹر جواد احمد خان said...

بہت عمدہ۔۔۔۔ میرے خیال میں تو ماں بننا اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے ایک خاص قسم کا انعام ہوتا ہے اور ایک نہایت ہی خاص قسم کا تجربہ۔۔۔

کوثر بیگ said...

جی باکل ٹھیک کہا آپ نے ڈاکٹر جواد بھائی ۔۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ ایک ماں کو پیدائش سے بھی بہت پہلے بچے کی محبت کاخاص دل میں گھر کرجاتی ہے اور ذہنی اور دوسری قسم کی تبدیلیاں اسے ہر پل یہ احساس دیلاتی رہتی ہیں کہ یہ بہت خاص عنایت کے لئے قدرت کا سامان ہے اور وہ ہر وقت اس انعام کا استقبال میں محو رہتی ہے پھر اس کی من چاہی مراد ملتی ہے تو وہ خود کے وجود کو مکمل محسوس کرلیتی ہے ۔۔بہت شکریہ بھائی کمنٹ کے لئے

shahidaakram said...

پياری کوثر اتنا پيارا لکھنے پر کيسی مُبارکباد چاہوگی کہ اتنا پيارا احساس صرف قُدرت ہی دے سکتی ہے اور ماں بننے کا احساس ايک ايسا انمول احساس جو صرف ايک عورت ہی جان سکتی ہے باپ کے لۓ بھی ايک نيا لمس نئ خُوشی ايک نئ دُنيا دريافت کرنے جيسا ہوتا ہے ميری بيٹی ايرج جب ميری گود ميں آئ يہی سب احساسات تھے ميرے آپ کو تو ميں نے نہيں بتاۓ تھے ليکن بتانے کی کوئ ضرُورت نہيں شايد سبھی ماؤں کے جزبات ايسے ہی ہوتے ہيں اب جب وُہ باتيں ياد آتی ہيں تو بہُت ہنسی آتی ہے اور وُہی باتيں جو امّی کہا کرتی تھيں خُود کہہ رہی ہوتی ہُوں تو وقت کو پيچھے دھکيل دينے کو بہُت دل چاہتا ہے ساری بيوقُوفياں اور حماقتيں کہيں پيچھے رہ گئ ہيں اور اب بچوں کی وُہی حرکتيں ديکھ کر سمجھ ميں آتا ہے کہ يہ بھی ايک دور ہے ليکن مزے کا ہے اللہ تعاليٰ بہُت خُوش رکھے ڈھيروں خُوشياں مليں بچوں کی بہاريں ديکھو اور اللہ تعاليٰ آپ کے بچوں کو اور سب کے بچوں کو ماں باپ کا فرمانبردار بناۓ اور جو ہمارے پيارے ماں باپ ہم سے دُور جا چُکے ہيں اللہ تعاليٰ اُن کے درجات بُلند کرے آمين کہ اب بس اُن کی ياديں ہی ہمارا سرمايہ ہيں

کوثر بیگ said...

آمین ! آپ کا یہ اتنا اچھا سا کمنٹ ہی میرے لئے زبردست تحفہ اور مبارکباد سے کم نہیں ، اللہ پاک آپ کو اولاد کی بہت ساری خوشیاں دیکھائے خوب ان سے عزت محبت دلائے۔
بالکل سچ کہا آپ نے یہ اتنا بے مثال احساس ہوتا ہے کہ جن کو الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے مگر میں نے پھر بھی کوشش کی ہے شاید ہر ماں کو یہ ہی کچھ محسوس ہوتا ہے ۔سنے اور خود پر گزرنے میں کتنا فرق ہوتا ہے نئیں؟ ماں بن جانے کے بعد اپنی ماں کی قدر ہمارےدل میں اور بڑھ جاتی ہے مگر ہم اس کا اظہار کر نہیں پاتے ، ان سے دور جو ہوجاتے ہیں ۔ دیکھا جائے تو بیٹی بنکر رہنے اور ماں بنکر رہنے کا اپنا،اپنا ایک الگ ہی مزہ ہے۔گھر بھر کا سکھ مل بھی جائے تو بھی والدین کی کمی ہمیشہ رہتی ہی ہے ۔۔۔میری جانب سے وہ ساری دعائیں اللہ پاک آپ کو بھی عطا فرمائے جو آپ نے ہمارے لئے مانگی ہیں۔۔۔

M Behzad Jhatial said...

روح کو دنیا میں لانا اتنا ہی تکلیف دہ اور خوشگوار ھوتا ھے۔ بھت اچھا لگا پرھ کے۔

کوثر بیگ said...

خوش آمدید بھائی بلاگ پر آنے کے لئے اور پسند فرما یا جس کا بے حد شکریہ اللہ خوش رکھے سدا آپکو

سید آصف جلال said...

ساری تکلیفیں ختم، درد کا احساس غائب ،آزمائش آلائیش میں تبدیلی ۔ جب سامنے ایک نومولود ، آپ کا لخت جگر، انکھوں کی ٹھندک، دل کا چین ، روح کا قرار اپنے ننھی ننھی ٹانگوں،کیوٹ کیوٹ سے ہاتھوں کو بے اختیار ہلاتا ہوا انکھوں کو ٹھنڈک بہنچا رہا ہوں۔۔۔
آہ میری ماں تو بہت عظیم ہے۔۔ بس مجھ سے ہمیشہ محبت کرنا، اے ماں جیسے میں اس لمحہ تیرا چین و سکون تھا اسی طرح تو میرا چین و سکون ہے ، تجھے دیکھ کر میں بھی اب اپنی آنکھیں یونہی ٹھنڈی کرتا ہوں جیسے مجھے سیکھ کر تو نے اپنی تکالیف و آزمائش کو بھُلا دیا تھا۔بس ہمیشہ میرے ساتھ رہنا، باہم محبت کا یہ جذبہ قائم رکھنا

کوثر بیگ said...

خوش آمدید آصف بھائی
بہت عمدہ بہت خوب باتیں لکھی آپ نے بے اختیار دل واہ کہنے کو کرتا ہے ۔
ماں تو ہمیشہ بنا مانگے ہر حال میں اور ہر وقت محبت دینے والی ہستی ہے ۔ وہ خوش قسمت اولاد ہے جو اس کی اطاعت و خدمت سے اپنی دنیا اور آخرت بنالیتے ہیں ۔۔اللہ پاک آپ کی اور ہر اس اولاد کی جن کے والدین با حیات ہیں انکی آنکھیں ٹھنڈی کرتے رہے اپنی ماں کی زیارت سے اور وہ خوش و راضی بھی رہیں

Munir Anwar said...

Mutasr kun tehreer

کوثر بیگ said...

بے حد دلی شکریہ تعریف کے لئے۔ جزاک اللہ خیر

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔