Sunday, July 27, 2014

دکن میں عید


دکن میں عید

رمضان کا بابرکت مہینہ کے آنے سے رونقوں،رحمتوں , برکتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ اپنے اختتام پر عید کی نوید بھی لے آتا ہے ۔عید کی تیاری ہر طبقہ اپنی استطاعت کے لحاظ سے کرتے ہیں ۔اللہ کریم کے قانونِِ فطرت کے کیا کہنے امیر کو ثواب وجزادینے کا وعدہ کرکے غریبوں کی خوشیوں کا بندوبس فرماتا ہے ۔ زیادہ تررمضان میں نیکیوں کے حریص حضرات زکوتہ اور خیرخیرات کا اہتمام کرتے ہیں ۔عید کی آمد، کیا امیر کیا غریب سب کے لئے موجبِ مسرت ہوتی ہے ۔اس کی تیاری کئی دن پہلے سےشروع ہوجاتی ہے ۔ مرد حضرات جاب، روزے،تراویح کی نمازکے ساتھ ساتھ اپنے کنبہ کی عید کی تیاری میں کوشاںریتے ہیں تو خواتین سحری،افظار،تلاوت ،نماز کی مصروفیت کے باوجود سب کے لئے نئی کپڑے ،گھر کی تفصیلی صفائی اور شوپنگ میں مگن ہوتی ہیں ۔ نو بیاہ اور منگنی والی لڑکی کے گھر سسرال سے عیدی بھیجی جاتی ہے ۔ نوخیز لڑکیاں اور سہاگن عورتیں مہدی ہاتھوں پر لگاتی ہیں بچوں کی خوشی تو دیدنی ہوتی ہے۔ جیسے جیسے ماہ رمضان اختتام کے قریب آتا ہےشوپنگ عروج پر ہوتی ہےاورہرطرف خواتین وحضرات خریداری کرتے نظرآتےہیں چاہیے وہ چھوٹاہویابڑاامیرہوکے غریب کسی دانشوار کاقول ہے کہ کھانااپنے لئےاور پہنا دوسروں کےلئےکے مصدق لباس ہوکے زیوارت،چپل ہوکےچوڑیاں ہرکوئی ایک دوسرےپرسبقت لے جانےکی کوشش میں لگےرہیتے ہیں سب کو خوب سے خوب تر کی تلاش ہوتی ہے۔ ماہ ِرمضان ایسامہینہ ہے۔جس میں چھوٹے سے چھوٹےبیوپاری کا کاروباری بھی عروج پر رہتا ہےاور ان کی مارکٹ میں مانگ بڑجاتی ہے ۔ قلی قطب شاہ کے بسائے ہوے شہر حیدرآباد دکن کے قلبِ شہرچار مینار کی گود میں شاہ علی بنڈہ سے پرانے پل تک تو خلوت سےپرانی حویلی تک سامان سے لدی دوکانوں پر ایسے مناظردیکھے جاسکتے ہیں جس میں کوئی پھترگٹی سے لباس وعطریات خرید رہے ہیں تو کوئی سونے،چاندی اور نقلی زیورات کے لئے گلزار حوض سے کالی کمان کے چکر لگا ریے ہیں تو کوئی لاڈبازار سے چوڑیاں وسلمٰی ستارےاور میک اپ کی شاپنگ میں مصروف ہوتے ہیں تو کوئی کوئی گھر کی سجاوٹ کی اشیاء کی خریداری میں محو ہیں اور کوئی گھرآیے مہمان کی ضیافت کے لئے تیار کیاجانے والے پکوان کاخورد ونوش کے سامان کامیر عالم منڈی میں تول مول کررہے ہیں تو کوئی اس ہجوم کوصرف دیکھنےہی چلے آتے ہیں۔عید کے دن سے پہلے فجر تک بازار میں کاروبار چلتاہی رہتا ہے۔
عید کا چاند نظر آتے ہی سب اپنے سے بڑوں کو فرشی سلام کرتے ہیں چاند کی مبارک باد دیتے ہیں ۔ پھر صبح فجر سے اٹھکر مرد حضرات نہا دھو کر نئے کپڑے زیب تن کرکے شیر قورمہ نوش کرنے کے بعد عیدگاہ یا مکہ مسجد جاکر عید کی نماز ادا کرتے ہیں اور ان کے آنے تک خواتین پکوان سے فارغ ہوکر چھوٹے بچوں کی تیاری کےبعدخود بناوسنگار کرکے نماز سے واپسی کا انتظار کرتی ہیں اڑوس پڑوس میں شیرقورمہ بھیجایا جاتاہے ۔ نماز سے واپسی کے بعد عید کا سلام اور مبارک بادی ایک دوسرے کو دیتے ہیں اپنے سے چھوٹوں کو عیدی دیی جاتی ہے پھر کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مرد حضرات عزیز واقارب سے ملنے چلے جاتے ہیں اور خواتین آنےوالے مہمانوں کی ضیافت میں مصروف ہوجاتی ہیں آنے والے مہمان کوشیر قورمہ کھاری سویاں،نہتاری سویاں،چائےیا شربت اور عطر،پان پیش کیا جاتا ہے۔پھر دوسرے دن خواتین اپنے میکے جاکر ملاقات کر آتی ہیں ہر وقت ہر مقام پر سب ہی بہت خوش نظرآتے ہیں۔ عزیز اقارب پڑوسی اپنے پرائےدوست دشمن سب ہی ایک دوسرےکےگِلے شکوے بھولا کرآپس میں َگلےمل لیتے ہیں۔

6 comments:

محمداسلم فہیم said...

ہم بھی بھو حیدر آباد ہوتے ناں تو اور نہیں تو کھاری اور نہتاری سویاں کھانے ضرور آپ کے ہاں چلے آتے

کوثر بیگ said...

ہاہاہاہا! ضرور کیوں نہیں .
بهائی سچ میں حیدرآباد کے پکوان حیدرآباد لوگ کچه الگ ہی ہوتے ہیں

sarwataj said...

بہت خوبصورت حال لکھا۔ ۔ ۔ واہ واہ۔ ۔ ۔س خوش رہیں ۔ ۔ ۔

hijab said...

کهاری اور نهتاری سویان کیسے پکتی هین ؟

کوثر بیگ said...

بے حد شکریہ پسندیدگی کے لئے
اللہ پاک آپ کو بهی شاد و آباد رکهے .

کوثر بیگ said...

پیاری حجاب کمنٹ کا شکریہ

کهاری سویاں میں قیمہ پہلے پکایا جاتا ہے پهر موٹی سویاو ں کو تهوڑے سے گهی میں بهون کر دم پر ملا دی جاتی ہیں ہرا مسالہ ڈالکر پیش کرتے ہیں.

نتھار سویاں بهی موٹی سائز کی ہوتی ہیں .
سب سے پہلے دو تین انچ کی توڑ کر ایک کڑی یا فرینگ پین میں بنا تیل کے بهون لیتے ہیں ہلکی لال ہونے کے بعد ایک پیتلی میں پانی ابال کر اس میں بهونی ہوئی سویاں ڈال دہتے ہیں پهر سارا پانی نتهار کر گرم گرم سویاں ایک کهولی ڈش میں پیهلا کر اس پر جلدی سے گهی اور پسی شکر اطراف ڈالکر ہلکے ہاته سے ملائے اور پهر بارک کهوپرا اوپر جما دے.
سوری ا ڈیا میں ہونے کی وجہہ سے جواب جلد ہ دے سکی

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔