Tuesday, October 02, 2012

دو اکٹوبر





السلام علیکم
میرے عزیز بھائیوں اور بہنوں:۔
آج دو اکٹوبر کے دن مجھے ہمیشہ اپنے اسکول کے دورکی یاد آنے لگتی ہے کیونکہ ہندوستان کے دو بڑے نیتا نے اس دن جنم لیا جس کی خوشی میں ہمیں پڑھنے پڑھانے سے چھٹی ہوتی ،خوب سارے پروگرام کا انعقاد ہوا کرتا ۔ سب ہی خوب انجوئے کیا کرتے۔

اب سوچتی ہوں کہ وہ دن بھی کتنے عجب تھے یوں دھوم مستی کرنے کی جگہ ہمیں ان کے اصول اور وطن کی محبت اور قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا چاھیے ان کی سچائی اور پیغام کو سمجھنا خود عمل کرنا اور پھیلانا چاہئے ۔ اور یہ ہی بات ہمارے ذہین نشین کرنے ہنستے ہنساتے دماغ میں محفوظ کی جاتی تھی ۔ آج غور سے دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ آج ان آزادی کے متوالوں کا صرف نام ہی زندہ رہ گیا ہے ان کے اصول اور کار نامہ تو کہی کھو گئے ہیں اب پہلے جیسی ٹیچرز بھی نہیں رہے ۔ آج اسکول کو چھٹی دے دی جاتی ہے تاکہ بچے گھر ٹی وی
دیکھے یا کمپوٹر پر کیم کھیلے یا پھر خواب ِ خر گوش کے مزہ لے آج پہلے کی طرح سبق کوسبق کی طرح نہیں پڑھیا جاتا بس ایک مصمون کی طرح پڑھا دیا جاتا ہے پھر نمبر مل جاتے ہیں اور ترقی ہوتے جاتی ہے پھر بہت ساری کمائی کی رہ کھول جاتی ہے خیر چھوڑیئے ان تلخ باتوں کو چلیں میں ان کو محو کرنے اپنے یادوں میں سے ایک اسکول کے دور کا ایک واقعہ شیئر کرتی ہوں ہمارے اسکول میں میوزک سیکھانے کے لئے ٹیچر تھیں ، میں نے کبھی ریگولر کلاس تو نہیں لی تھی ان سے مگر وہ ہی ڈرامہ اور پروگرام کرنے میں سب کی مدد کیا کرتی تھی ۔ ہمارے سکول میں تین میڈیم تھے تلگو،انگلش اور اردو ۔ روز ایک میڈم کے بچے اپنی زبان میں حمد یا بھجن اسمبلی میں قومی ترانہ سے پہلے گاتےتو ان کی ذمہ داری بھی میوزک ٹیچر ہی کی ہوتی مجھے یاد ہے میری بڑی بہن نائتھ میں تھی اور میں ابھی ہائی سکول میں پاؤں رکھے ہی تھے۔میری بہن اکثر اسمبلی میں پہلے سے حمد پڑھتی ر ہی تھی ۔ میرے بڑے اسکول میں آنے کے بعد ایک دن انہوں نے میری موجودگی کومحسوس کیا اور ٹیچر کی صلاح سے دونوں ملکر ہمارے دادا کی حمد پڑھنے کی ٹھانی ۔ میں نے لاکھ منا کیا پر وہ نہ مانی ان کو مجھ پر مجھ سے بھی زیادہ یقین تھا کیونکہ ہمارے گھر میں اکثر بابا حمد اور نعت کی محفل رکھتے اور ہم سب کو اس میں شامل رہنا ضروری بھی رہتا ۔ بابا دھن اور اتار چھڑاو سے واقف کرواتےاور اس طرح ہم تھوڑا بہت ترنم سے پڑھنے کے لایق ہوگئے تھے۔ اس بات سے آپا کو یقین تھا کے ہم اچھا پرفورم کریگےاور ٹیچر نے اسٹاف روم میں ہمیں سنا تو انہیں لگا کےجیسے پکا پکایا ہوا پھل مل گیا ہو ۔ دوسرے ہی دن ہم کو پڑھنے کا موقعہ مل گیا ۔ وہسے میں نے چھوٹی رہنے مسجد کے سالانہ جلسے میں کئی بار پڑھا بھی تھا مگراسکول آنے کے بعد یہ میرا پہلا موقعہ تھا اتنے زیادہ لوگوں کے سامنے گانے کا ۔ ہم دونوں اسمبلی میں اپنی اپنی کلاس کی لائن سے نکل کر سیڑیوں کو عبور کر کے اوپر آئیے اورحمدترنم میں پڑھنے لگے ابھی دو اشعار ہی پڑھے تھے کے میری آواز حلق میں گھٹنے لگی اور سارے ٹیچرز جھانک جھانک کر دیکھنے لگے میری تو اور حالت بری ہونے لگی۔ ۔ ۔ ۔ چند دنوں کے بعد میں بھی ڈرامہ میں حصہ لینے والی تھی جس میں میری سہیلی باپو جی یعنی گاندھی جی اور میں لال بہادر شاستری بنے والی تھی جس میں چند مکالمہ کے بعد جوش سےسلیٹ مار کر ہمیں نعرہ لگانا تھا اس کے بعد ہماری ٹیچر اتنی خوف زدہ ہوئی کے یہ ایٹم سرے سے نکلنا چاہتی تھی مگر میری بہن کے تین ڈراموں کی دست برداری سےڈر کر صرف ہم کو اسٹیچ پر کھڑا کرکے فل آواز میں گانا لگا دیا ۔“آج ہے دو اکٹوبر کا دن آج کا دن ہے بڑا مہان آج کے دن دو پھول کھلے تھے جس سے مہکا ہندوستان”کیونکہ دوسرے اسکول کے بچے اور ٹیچرز آئے ہوئے تھےاس لئے ریسک نہیں لیا جاسکتا تھا پھر اس کے بعد میراخوف بھی نکل گیا
ہم بہنیں بعد میں تو جب بھی کوئی اسمبلی میں پڑھنے نہ ہو تو ٹیچر ہمیں بلالیا کرتی یہاں تک کہ تلگو میڈم کی گانے والی لڑکیاں نہ آیے تو بھی ان کی جگہ ہم  بھی گالیا کرتے تھے ۔
 

میرے بلاگ پر آنے اور عجب طرح کی باتیں برداشت کرنے کا بے حد شکریہ ۔۔آپ سب ہی بہت خوش رہیں



۔

3 comments:

Anonymous said...

آپ کے تعلمی تجربات پڑھ کے اچھا لگا
سعید

کوثر بیگ said...

بہہہت بہت شکریہ کمنٹ اور بلاگ پر تشریف لانے کے لئے۔اللہ پاک خوش رکھے۔۔۔

M.a.t said...

الله يحفظك من كل مصائب

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔