Wednesday, July 11, 2012

ایک سوچ



السلام علیکم

میرے معزیز بھائیوں اور پیاری بہنوں:ـ

آپ سب نے بھی مشاہدہ کیا ہی ہوگا کسی کے اس دنیا سے گزارنے کے بعد ،بہت تکلیف ہوتی ہے جب کوئی اپنا اس دنیا سے چلے جاتا ہے ۔ ہر ایک کی زندگی میں کبھی نہ کبھی  ایسا وقت ضرور آتا ہے اور بہت شدید دردکا احساس ہوتا ہے کسی اپنے کے جانے پر  لگتا ہے ہم کیوں زندہ ہیں، ہم کیوں نہیں مر گئے اب کیسے رہنگے کیوں کر ان کے بنا جیئے گے ۔ ایسے وقت اللہ کے بہت قریب خود کو محسوس کرتے ہیں دل میں اللہ کا ڈر اور اس کی مدد کی محتاجی محسوس کرتے ہیں  مگر صبر آہی جاتا ہے اللہ کے کرم سے ۔اللہ جانے والوں کو بلند سے بلند مقام دے

 جانے والوں کے بارے میں تو اللہ کی مرضی سوچ کر دل کو اطمینان دینے کی کوشش کریے گے مگر جو ان کے بہت قریبی ہوتے ہیں ان کا دکھ دیکھا نہیں جاتا ۔پھر اللہ ہی کی مدد تھام لیتی ہے انہیں کچھ عرصہ کے بعد ہم خود حالات سے سمجھوتا کرتے دیکھ کر دنگ رہتے ہیں کہ کیسے ہمت ملی کیسے اتنے دن گزار لے ہونگے سوچ کر ۔ مرحوم کے لئے دعا  مغفرت مانگتے نہیں تھکتے  بھلے ہی کبھی زندگی میں پانی تک پلانے کی  توفیق تک نہ ہوئی  ہو ۔ ہم زندہ رہنے تک خوش کیوں نہیں رکھتےاور انکے مرنے کے بعد ان کی خواہشوں کی تکمیل کے لئے کوشا کیوں ہوجاتے ہیں ۔  وہ یہ چاہتے تھے ،ان کی مرضی ایسی تھی، ہم اب ان کی خوشی کے لئے یہ کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ یہ سب دیکھ کر ہمیشہ میں اپنے آپ سے سوال کرنے لگتی ہوں  کہ کوئی مر جانے کے بعد  ایسے خیال کیوں رکھتے ہیں؟ زندگی میں پرواہ کیوں نہیں کرتے ؟ پھر یہ سوچ کر تسلی ملتی ہے کہ شاید  مقدر کی تکمیل کے لئے اللہ پاک ہمارے دماغ میں اسباب کو پیدا کردیتا ہے یا کچھ اوربات ہوتی ہے یہ ہی دنیا ہے ایسے ہی دنیا کے کاروبار چل رہا ہے یہ سب کچھ خدائے بزروگوار ہی کے ہاتھ ہے وہ ہی درد دیتا ہے پھر وہ ہی دوا بھی دیتا ہے ۔
 جانے والے تو چلے جاتے ہیں دنیا چلتے ہی رہتی ہے

ایک دن ہمیں بھی ایسے ہی جانا ہے پھرسب کچھ ایسے ہی ہوگا ۔  پہلے چند دن خوب رویا جائے گا پھر یاد کرکے آہیں بھری جائے گی اور پھر کبھی کبھی خاص موقعہ یا بات پر یاد کیا جائے گا اور آخر میں بھولی بسری کہانی بن جائنگے ۔اب ہمارے سوچنے کا وقت یہ ہی ہے۔ہم اسے یا وہ ہمیں چھوڑنا ہی ہے پھر ہمیں بھی اس بے وفا  دنیا کے لئےکیا سوچنا اس دنیا اور اس میں بسنے والوں کی فکر کیوں کرنا۔۔۔۔۔۔۔ بس ہمیں اللہ کی رضا اور ان کے احکام پر زیادہ سے زیادہ نظریں جما کر شب وزور  گزارنا چاہیےاللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو مشعل راہ بناکر ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے پھرہم خود دیکھے گے ۔ ۔ہم اللہ کی پیدائش کے مقصد یعنی اس کی عبادت کرکے آخرت سنوارے گے ہی نہیں بالکہ  دنیا میں سب کے حقوق بھی بہت اچھے سے ادا کرکے عزیزوں رشتہ داروں کے دل میں بھی سدا زندہ ہونگے اس طرح ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائی ملے گی اور کامیاب زندگی گزار کر کامیاب آخرت کے سفر پر رواں ہو جائیگے۔ان شاءاللہ ۔ اللہ پاک ہدایت دے ہمیں

آپ ہی گویا مسافر ،آپ ہی منزل ہوں میں

__________________

6 comments:

اسد said...

پچھلے رمضان میں میرے تایا فوت ہوئے تو ایسے ہی جزبات میرے بھی تھے۔ شروع میں ان کی وفات ایک بہت پڑا صدمہ تھی۔ اب سوچتا ہوں کہ ان کے جانے کے بعد سب کچھ ویسے ہی چل رہا ہے۔ کاروبارِ زندگی بھی ویسا ہی ہے۔ ان کے جانے سے دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جب ہم یہاں نہ ہوں گے تو شاید شروع میں کچھ واویلا ہو مگر پھر زندگیاں معمول پر آ جائیں گی اور ہماری اولاد ، بہن بھائی ۔ چاہنے والے سب ہمیں بھول جائیں گے اور اپنی زندگیوں میں مگن ہو جائیں گے۔ ایسے میں اپنی تنہائی کا احساس ہوتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم آخرت کے لئے کیالے کر کے جاتے ہیں۔اللہ ہمیں اپنے محبوب کے نقشِ قدم پر چلائے۔

کوثر بیگ said...

بالکل ٹھیک کہا بھائی آپ نے یہ ہی کچھ ہوتا ہے ۔اس لئے ہمیں ہر وقت ہرجگہ ہر کام میں اللہ پاک سے ڈرے ،اس کو حاضر جانے ،اس ہی کی رضا مندی کو مدنظر رکھے تو دونوں دنیا میں بھلائی حاصل ہوگئی ۔ میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں کہ آپ اپنی رائے اور خیالات سے آگاہ کرتے ہیں ۔اللہ جزائے خیر عطا کرے

Anonymous said...

....... مگر جو ان کے بہت قریبی ہوتے ہیں ان کا دکھ دیکھا نہیں جاتا ۔پھر اللہ ہی کی مدد تھام لیتی ہے .....

اللہ کی مدد کے تھام لینے والی بات واقعی برحق ہے، مجھے اپنے پہ بیتی باتیں یاد دلاگئے یہ الفاظ - بطور تحدیث نعمت آپ سے یہ بات شیئر کرنا چاہتا ہوں، امید ہے آپ میری دل جوئ کی خاطر برداشت فرمالیں گی - دو سال پہلے تیئیس مئ کو میری والدہ کا انتقال ہوا، زمین کھسکتی ہوئ سی معلوم ہوئ، صحت مند ہونے کی وجہ یہ بات خواب و خیال میں بھی نہیں تھی کہ وہ خالق حقیقی کے پاس تشریف لے جانی والی ہیں، انتقال کے ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد کی بات ہے کہ میں یونہی گم سم بیٹھا تھا کہ اللہ نے دل میں یہ بات ڈالی کہ یہ اللہ سے ناراض ہونے اور شکایت کرنے کا وقت نہیں ہے، یہ تو اللہ کا شکر ادا کرنے کا وقت ہے کہ انہوں نے تجھے اٹھائیس سال تک اپنی والدہ کے پاس اور ساتھ رکھا،ایسے ہزاروں لوگ ہیں جنکی مائیں شیر خوارگی کے زمانہ میں ہی مالک حقیقی سے جاملیں، تیرے ساتھ تو اللہ نے کرم کا معاملہ فرمایاکہ اٹھائیس سال تک والدہ سے استفادہ کا موقعہ نصیب فرمایا.......اس اچانک آنے والے خیال نے ڈھارس بہت بندھائ اور میں ساختہ وضوء کرنے چلا گیا، مصلی پچھایا اور دو رکعت نماز کی نیت باندھ لی دو باتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے، ایک اتنے طویل دورانیہ تک والدہ کو ہمارے ساتھ رکھنے پر دوسرے اس قید خانہ سے والدہ کو آزادی دینے پر-

سعید

کوثر بیگ said...

بہہہت بہہت شکریہ بھائی آپ نے اپنے دلی جذبات شئیر فرمائے ۔ بہت سچی اور اچھی باتیں بتا کر ہمیں بھی ہر وقت شکر گزاری کا درس دیا ہے ۔ جس ماں کی وفات بھی اپنی اولاد کو اللہ سے ملاتی ہو اس کو شکر گزار بناتی ہو وہ بھی یقیناً بہت اچھی ہونگی اللہ پاک ان کی مقفرت فرمائے۔ ماں کا رشتہ اور محبت ایسی ہوتی ہے جو ہر دکھ درد اور مصیبت وبیماری میں یاد آتی ہے اللہ آپ کو ہر بار صبر کی توفیق عطا کرے

حجاب said...

کسی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد زندگی معمول پہ ضرور آجاتی ہے لیکن دل کی دنیا اجڑ جاتی ہے پھر ہم زندگی میں خوش رہنے کے لیے کچھ بھی کرلیں سچی خوشی نہیں ملتی ، خاص کر ماں باپ کے چلے جانے کے بعد ۔۔۔

کوثر بیگ said...

آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں والدین کا تعلق تو روحانی ،قلبی،جسمانی ہوتا ہے خود سے بڑھکر ہمیں چاھتے ہیں تو پھر کیسے ان کے بنا خوش رہ سکتے ہیں مگر کھانا پینا ہسنا بولنے ملنا ملانا جینا تو نہیں چھوڑتے بظاہر دیکھنے والے تو نارمل ہی محسوس کرتے ہیں نا۔
ہاں مگر ہمارے پیارے ہم میں زندہ رہتے ہیں ۔ہم ان کی روحکے سکون کے لئے اچھے سے اچھے عمل کی کوشش کرے یہ ہی چیز ہمارے اور ان کے کام آئے گا۔

آپ کی میں مشکور ہوں بلاگ پر تشریف لانے کے لئے اللہ خوش رکھے۔۔

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔