Wednesday, July 04, 2012

پسندیدہ پھل ۔۔۔ آم



السلام علیکم

میرے معزیز بھائیوں اور پیاری بہنوں
آج ہمارے ایک نیٹ کے  فارس بھائی نے آم کے بارے میں بتاتے ہوئے لکھنے کے بعد ہم سے پوچھا ہے کہ 
آپ کو امبا کا ذائقہ کیسا لگتا ہے؟

ان کے اس سوال نےہمیں
 یادوں میں پہچادیا ہے ۔آم کو لے کر بہت سی یادیں ایسی ہیں  دماغ میں کہ کیا بتاوں
 یہاں بھی آم آتے ہیں کھاتے ہیں مگر اپنے وطن کا مزہ کہاں بچپن میں چھاڑوں پر پتھر مارنا پھر نشانہ لگنے پر خوشی اور پھر اس کو لوٹنے میں کامیاب ہونے کی بھی الگ خوشی اگر گرا تو دیے اور لے کوئی اور گیا تو پھر سے مارنے کی کوشش سے مسلسل ہمت نہ ہارنے کی سیکھ ملتی اور دوسروں پرمہربانی کا بھی ایک الگ لطف ہوا کرتا تھا۔


بابا کے پلنگ کے نیچے گھانس میں لپٹے آم پھیلے ہوتے جو پیلے ہوتے ہی موقعہ دیکھ کر ہم ہاتھ صاف کرجاتے اور دوسرے دن بابا جب کہتےکہ میں نے کل ہی توآٹھ دس آم پکنے کے قریب دیکھے تھے وہ کہاں ہیں اور ہمیں سے دیکھنے کہتے تو پھر ہم تین چار آم کے نکلنے کے بعد ڈرتے ڈرتے کہتے کہ بس اتنے ہی ہیں اور بھی ہونے کا بابا کو یقین ہوتا اور ڈھونڈنے کہتے تو ہم نادم سے ہوکر نہیں ہے وہ وہ دو تین، بار کہتے تو بابا سمجھ جاتے اور ہنسی دبا کر تیور بدل کر کہتے ارے بیٹے چین سے رس نکل کردودھ ملکر آم رس بناتے اور کھاتے نا اور پھر چپ ہوجاتے۔بابا کو کیا پتہ آم دیکھتے ہی کھاجانے کو دل ہمارا کتنا بے چین ہوتا تھا اب جاکر میں بھی بابا ہی کی طرح سوچتی ہوں مگر میرے بچے بےچاروں کو فریج میں پڑے آم اتنا مغلوب کیوں نہیں کرتے یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے۔۔


جب اردو لکھنا سیکھی تو الف سے آم ہی تو لکھا تھا میں نے سب سے پہلے اور دیکھو تو آم میں الف اور میم کامن ہے امی کے نام کی طرح اور ہمیں دونوں ہی بہت پیارے لگتے ہیں۔  یہ آم کوچھوٹے سے بڑے تک سب ہی بڑے آرام و اطمینان سے کھاسکتے ہیں اسے غالب کا میوہ کہو یا اکبر کا پسندیدہ یا پھر بابر بادشاہ کا یہ میووں میں بادشاہ ہوتا ہے اور جو نہ کھائے وہ ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ کہتے ہیں گدھا آم نہیں کھاتا۔۔۔
یہ میں نہیں کہتی یہ تو چیچا غالب کا خیال ہے جو کہیں میں نے پڑھا تھا آپ بھی پڑھکر اطمینان کرلیجئے اور بتایے گا کہ کیا یہ سچ ہے ۔۔۔


کہتے ہیں ایک بار مرزا غالب گلی میں بیٹھے آم کھارہے تھے انکے ساتھ ایک ایسے دوست بھی بیٹھے تھے جن کو آموں سے ذرہ برابر بھی ر‏غبت نہیں تھی اتنے میں ایک گدھا آیا ، مرزا غالب نے آم کے چھلکے اس کے سامنے رکھ ديئے مگر اس گدھے نے صرف ان کو سونگھا اور آگئے بڑھ گیا ، مزرا غالب کے دوست نے طنزیہ کہا ، دیکھ لو گدھا بھی ایسی چیزوں کو نہیں کھاتا
مرزا غالب نے ہاتھ میں پکڑے آم کو مزے سے چوتے ہوئے بڑی اطمینان سے جواب دیا
گدھا آم نہیں کھا تا۔





کیا کسی نے ہاتھ سے گھما گھما کرہاتھ کے آلہ میں بنانے والی آئسکریم کھائی اور بنائی ہے؟
ہر سال ہمارےبابا کے پاس بنائی جاتی تھی بڑا مزہ آتا تھا سارے بہنوں بھائیوں کے ساتھ ملکر گھر پرآئسکریم بنائی جاتی ، تیز گرما کا موسم، چھٹیوں کے دن اور سب کی گھر پرموجودگی ۔جب بھی بنانے کا پروگرم بنتا ہر کوئی آئسکریم بنانے میں مصروف ہوتا۔  کوئی برف لانے بھاگ رہا ہے تو کوئی کسٹرڈ تیار کررہی ہیں کوئی پانی میں آم ڈالتا ہے تو کوئی رس نکال رہا ہے کوئی سال بھر سے پڑے آلہ کی صفائی کرتاہے۔ تو کوئی نمک بڑے سے کٹورے میں بھرکر تیار رکھتاآلہ میں ڈالنے اورکوئی  آئسکریم بنے کے بعدڈالنے کے لئے چھوٹی چھوٹی کٹوریوں کو دھو کر ٹرے میں جما کر رکھ رہے ہیں اورامی ہر ایک کو الگ الگ کاموں کی ہدایت دیتی آگے کا آگےکام یاد دیلاتے رہتی ۔اور  بابا کا کام  ہوتاکہ جیب ہلکی کرتے رہنا اور سب کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہنا۔پھر گھمانے کے وقت سب باری باری مقابلہ سے گھماتے کون کتنی دیر پھیراتے رہا دیکھا جاتا ۔ افف ہاتھ دکھ جاتا مگر پھر بھی چکّردیتے رہتے ۔ جب میری باری آتی گھر بھر میں چھوٹی ہونے سے کچھ دیر میں ہی  کوئی بھائی ہاتھ زبردستی پکڑلیتے ہمارے تردُّد  پر ہمارے جیتنے کا اعلان کردیتے تب جاکر ہم ہاتھ ہٹاتے۔۔۔۔۔۔۔ سب کچھ آج جب بھی گرما میں آئسکریم کے نام سے ایسے یاد آتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ کوئی لوٹا دے میرے بیتے ہوئے دن۔۔۔۔۔۔۔
اب تو ہمارے یہاں تیار آئسکریم ہی آتی ہے گھرمیں ایک دو بار نند نے اور پھر بیٹی نےفریج کی بنائی وہ آئسکریم ایسی تھی کہ محنت تو خوب کی ان لوگوں نے زبان سے تو تعریف ہی نکلی محنت کی وجہہ سے مگر دل نے کھانے کے بعد کہا" دل کے بہلانے کوغالب یہ خیال اچھا ہے ۔۔۔


غالب کے خیال سے مجھے  ایک اورشاعر یاد آگئے آم کا ذکر ہو اورحضرت اکبر آلہ آبادی یاد نہ آئے یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔ ہم تو ہر سال آم کو دیکھ کر بچپن میں یاد کی گئی نظم پڑھے بنا میں رہ ہی نہیں سکتی ۔ کہتے ہیں منشی نثار حسین ایڈیٹر(
 گلدستہ )کو اکبر آلہ آبادی نے فرمائش کی طور پر یہ نظم لکھ بھیجی تھی جو نصاب میں تھی۔۔
   


نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے
اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے
معلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس
سیدھے الٰہ آباد مرے نام بھیجئے
ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میں
تعمیل ہوگی! پہلے مگر دام بھیجئے




حضرت اکبر آلہ آبادی نہ صرف تحفہ میں آم کو منگوانا  پسند کرتے تھے بالکہ لگتا ہے اتنا ہی  تحفہ میں بھجانا بھی پسند کرتے تھے۔  کہتے ہیں ایک بار
اکبر الٰہ آبادی نے علامہ اقبال کے لیے الٰہ آباد سے لنگڑے آموں کا پارسل بھیجا۔ علامہ اقبال نے پارسل کی رسید پر دستخط کرتے ہوئے یہ شعر  لکھ  بھیجا تھا انہیں



اثر یہ تیرے اعجازِ مسیحائی کا ہے اکبر
الٰہ آباد سے چلا لنگڑا، لاہور تک آیا



کسی نے  حضرت اکبر الہ آبادی سے دریافت کیا !
دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنؤ میں کیا فرق ہے؟
فرمایا!
دیوبند ہے شریعت کا فرزند ارجمند
اور ندوہ ہے فقط زبان ہو شمند

ہمیں تو اس گرما کی شدت و حدد کے باوجود اس موسم کا آم ہی کی وجہہ سے انتظار رہتا ہے اورپھر اس آم جیسی نعمت سے خوب لطف اندوز ہوا جاتا ہےاورکہتے ہیں اس  کے فوائد بھی بہت زیادہ ہے بہت سارے فوائد میں ہمیں بس مطلب کا ایک ہی فائدہ یاد رہ گیا وہ یہ کہ اس کے کھانے سےبہت خون بنتا ہے جس کی وجہہ سے چہرہ صاف اور نکھرا نکھرا نظر آتا ہے ۔آم کی وجہہ سے لبوں پر بے اختیار اللہ کا شکر آ جاتا ہے ایک طرح سے یہ کھانے سے اللہ کے شکر گزار بن جاتے ہیں ۔۔
ٹھیک کہا نا میں نے اور میں بھی آپ سب کی شکر گزار ہوں بلاگ پر آنے اور تحریر پڑھنے کے لئے۔۔جیتےرہیے خوش رہیے۔۔۔


2 comments:

اسد said...

جبکہ میں آپ کا مضمون پڑھ رہا تھا تو میرے ساتھ والے کمرے میں آم پیل ڈال کر رکھے گئے ہیں۔ مضمون پڑھ کر منہ میں پانی آگیا۔ دل کر رہا ہے کہ جاؤں اور دو چار سے ہاتھ صاف کر لوں۔
ماشاءاللہ آپ کا مضمون آموں کی طرح ہی عمدہ ہے کہ پڑھنا شروع کیا تو ختم کر کے ہی سانس لیا۔ بس آم کھانے کے بعد کچی لسی کے استعمال کے بارے میں بھی بتاتیں تو اور بھی اچھا تھا۔

کوثر بیگ said...

سب سے پہلے پسندیدگی کا بے حد شکریہ
ارے زیادہ سوچئے گا مت جائے اور اپنی خواہش کی تکمیل میں لگ جائیے گا اور دعا ہمیں دیجئے گا اس اچھے مزہدار مشورے کے لئے۔۔
تو کیا ہوا بھائی آپ ہی بتادیا ہوتا پرھنے والوں کو مزید معلومات ہو جاتے ۔۔بہت شکریہ اس اچھے کمنٹ کے لئے آپ کا ۔۔۔۔۔

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔