Saturday, May 11, 2013

ماہِ رجب

 
 
 
السلام علیکم
 

اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان
 

 رجب  قمری سال کا ساتواں مہنہ ہے ۔ سال میں چار ماہ حرمت والے ہیں جن میں سے رجب المراجب بھی ایک ہے۔اس ماہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم معراج کے شرف سے سرفراز ہوئے ۔ ہمارے پیارے رسول اللہ علیہ وسلم شوال سے جمادی الثانیہ تک کی عبادت کے لئے معمول کی عبادت فرماتے تھے اور جب رجب کا مہینہ آجاتا تو عادت میں اضافہ فرمایا کرتے تھے ۔ہمیں بھی چاہیے کہ کوئی لمحہ یا وقت ایسا جانے نہ دیے جس میں اللہ تعالی سے غفلت ہوجائے۔
 
حقیقت یہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ مسلمان کے لئے سیزن ہے اور سیزن کی تیاری رجب کے مہینے سے شروع ہوجاتی ہے ۔ لوگ رمضان کے مہینے کو آمدی اور کمائی کا سیزن سمجھتے ہیں حالانکہ کمائی اور آمدنی کےلئےاللہ تعالی کسی مخصوص مہینہ اور مخصوص سیزن کے ہرگز مختاج نہیں اللہ جس کو نفع پہچانا چاہیں تو رمضان کے علاوہ بھی نفع پہنچانے پر قادر ہیں اور اگر کسی کونقصان ہونا ہو تو رمضان میں بھی ہوجاتا ہے۔اللہ پاک تو قادرالمطلق ہےبندے اللہ عزوجل کی بندگی نہ کریں تو اللہ تعالی کے مقام میں کوئی کمی نہیں آتی اور بندے اللہ کی بندگی کریے توبندوں ہی کا فائدہ ہےاللہ پاک بہرحال تمام تر تعریف کے لائق ہے۔

حصرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اپنی روز مرہ کی دعاوں میں یہ دعا شامل فرمایا کرتے " اے اللہ رجب کے شعبان کے مہینہ میں برکت نازل فرمائیےاور صحت اور مغفرت کے ہم اپنے آپ کو مستحق بناسکیں" ہم رسولِ اکرم کے نام لیوا اغلام اور امتی ہیں ہم سب پر لازم اور ضروری ہے کے آپ کے نقش ِقدم پر چلیےرمضان کی تیاری رجب ہی سے شروع کریے۔ نمازوں کی پابندی، قرآن کی تلاوت، آپس میں دینی مذاکرت ،صدق و عدل کی کوشش، ماں باپ کا ادب واحترام، پڑوس کے ساتھ حسن سلوک بڑوں کا ادب چھوٹوں کے ساتھ شفقت کسی بھی طرح کے نیک کاموں کی توفیق یہی کام ہیں جو کل آخرت میں کام آنے والے ہیں۔ کوئی بھی چھوٹی نیکی کو کمتر نہ سمجھے زیادہ سے زیادہ بٹور نے کی کوشش کریے ۔ آدمی کا بیوی بچوں کے لئے کمانا بھی نیکی ہے۔اور بیوی کا میاں بچوں کی خدمت کرنا بھی نیکی ہے ۔ میرے بابا ہم سے فرماتے تھے کہ ۔۔۔۔ ہم کو چاہیے کے آفس جاتے یا گھر کا کام شروع کرنے سے پہلےباوضو ہو اور ابتدا سے پہلے اللہ میں تیری رضا اور فرض کی ادائیگی کےلئے یہ کام کرتا ہوں یا کرتی ہوں نیت کرے تو آپ اپنا ساری وقت اللہ کی فرمابرداری میں گزرنے کی امید کرسکتے ہیں۔ان شاءاللہ۔
 
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہم چاہیے تو سیل فون میں قرآن مبارک محفوظ کرکے کام کےدوران سن سکتے ہیں۔آرام کے خیال سے پلنگ پربیھٹے وقت بیٹھے بیٹھےسن سکتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو توجو یاد ہے وہ دوہرا لیں  اور دل ہی دل میں کلمہ طیبہ ،درود یا استغفارپڑھتے رہیں۔ جب بات کرنا ہو کرے پھر فوراً بات ختم ہوتے ہی ذکر شروع کردیں ۔ اگر یہ بھی نہ کرسکے تو صرف اللہ اللہ کی ضرب سے دل اللہ کی طرف لگا رکیں ۔ جب اللہ موجود ہوتا ہے تو شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے اس طرح سے دل سے وسوس دور ہوگئے اورنیک کاموں کی اللہ کی طرف سے توفیق ہوگی یہ ساری باتیں میرے بابا کی بتائی ہوئی ہیں میں اس کو دوسروں تک پہچانا اپنا فرض سمجھتی ہوں۔ بزرگ لوگ شروع رجب میں روزہ رہنے کو بعض اجر  و ثواب بھی کہتے ہیں ۔ اللہ ہمیں صحت اور توقیق  دیےکے ہم اپنے آپ کو مستحق بناسکیں اللہ مجھے اور امتِ محمدی کو نیک ہدایت  دیے ، آمین۔۔
 
اگر کچھ غلط کہا تو اللہ معاف کرے ۔

 شکریہ آپ سب مہربانوں کا ۔

پھر ملےگےگر خدا لایا
 
 



Monday, May 06, 2013

جب میں ماں بنی


 

السلام علیکم
پہلا احساس ....جب میں ماں بنی
 
آج میری ایک عزیزہ ملنے آیی اور وطن جانے کا کہا اور باتوں میں کئی بار دعا کرنے بھی کہا.  لگ ایسے رہا تھا کے وہ کچھ فکر مند ہو میں نے اس سے کہا کے اس میں فکر کی کیا بات ہے تم کو تو ہر وقت خوش رہنا اورشکر کرنا چاہیے کہ تم کو ماں جیسے مقام پر فائز ہورہی ہو۔ پھر والدین شوہر کا ساتھ بھی ہےاس بلند مرتبہ کو پانے کے عوض کچھ تکلیف بھی اٹھانا پڑھے تو بھی ُمضایقہ نہیں اللہ جتنی برداشت ہو اتنی ہیں تکلیف دیتے ہیں ۔ جب نو مولود پر نظر پڑیگی تب ہی سب بھول جاوگی۔ میری امی کہتی تھی کہ تم نیکی کے زیادہ سے زیادہ کام کرو نماز،قرآن پڑھو آنے والے بچے کو بھی فائدہ دیتی ہے اور تم کو ثواب بھی خوب ملتا ہے وغیرہ کہکر تسلی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پھر مجھے بہت اصرار کیا کہ آپ کا اس و قت کیا احساس تھااور کیا حالات وغیرہ تھے بتلائیں ۔۔ تومیں نے سوچا کے چلو یہ سب باتیں واحساسات آج میں اپنے بلاگ پر بھی شیئر کرلوں۔

اس بات کو گزرے زمانہ ہوگیا مگر چند یادیں ایسی ہوتی ہیں کے وہ ہمیشہ تر و تازہ ہی رہتی ہیں۔

ان جانے تجربوں اور مراحل سے زندگی گزار رہی تھی اپنوں سے دورکہنے کو گھر میں دو جھیٹانیوں کا ساتھ تھا مگرتکلّف اورحیا اجازات نہ دیتی گھر، دعوتوں، دواخانہ کی دوڑ سب ہی میں وہ ساتھ رہتی یہ ہی ہمت بہت تھی پھر ایک دن وہ سب جبیل ساحلِ سمندرگئےمیں اور میاں گھر پر ہی تھےاس دن میں کچھ زیادہ ہی بے چین تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کریں توہم نے امی سےفون پر بات کی ،، امی نے کہا کے اب تم اپنا بیگ تیار رکھوں اورکیا کیا چاھیے بھی بتادیا،،۔ میرے میاں اپنی بھابیوں سے کہا تو انہوں نے کہا پہلے سے تیاری کرنا ٹھیک نہیں سمجھا جاتایہ بہتر نہیں جب ہوگا دیکھا جائےگا۔ ۔۔ میری ایک بھابی کم دوست قریب ہی رہتی تھی اس نے یہ سنا تو نہ صرف تائیدکی بلکہ اپنی  خدمات بھی پیش کی۔۔ ۔۔ ۔۔

 پھر چند دنوں کے بعد وہ دن بھی آگیا جب میں، میاں ان کے بھائیوں بھابیوں کے ساتھ دواخانہ جانے لگی ۔ جس طرح قبر تک رشتہ دار ساتھ آتے ہیں اسی طرح یہاں آوٹ پیشنٹ تک ساتھ رہے ۔ دوسرے دن وہ گھڑی بھی آگئی جب میرے کانوں نے رونے کی آواز سن لی پھرڈاکٹر نے میرے آرام کے لئےانجکشن لگایا اور مجھےنیند آگئی ،جب بیدار ہوئی تو دیکھا کےوہ کمرے میں کوئی نہیں ہے دور دوسرے پلنگ پربچا لیٹا ہے اس کے پاوں میری طرف تھے۔ بہت دیر تک اسی پر نطر گھاڑے رکھی دل کرتا کے دوڑکر سینہ سے لگالوبہت دیر تک ٹکٹکی باندھی رکھی پھر جب بہت دیر تک حرکت نہ ہوئی تو دل میں عجیب خیال گھرکرنے لگے اور پھر کچھ دیر بعد یقین ہوگیا کے بچا مردہ ہے کیونکہ وہ بے حس و حرکت تھااور دوخانہ کےسفید کپڑے میں لپٹا ہواتھا ۔ میرے گھر سے ساتھ لائے ہوئے کپڑے نہیں پہنائےتھے ۔ اس خیال کے آتے ہی دل نے مالک حقیقی کو یاد کرنےلگا اور دل کی کیفیت بتانے لائق نہیں رہی پھرمیں ہمت سمیٹنے لگی اور پوری طاقت سے اٹھکر جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ بچے نےزورسے چھینکا اور میرے منہ سے بے اختیار الحمدللہ نکلا اورکچھ ہی لمحہ بعد دوسرے کمرہ سے نرس نے آتے ہی مجھے دیکھکر مسکرایا اور بچے کو میرے قریب لے آئی ۔
 
 پڑر پڑر کرتی آنکھوں پر نظر پڑتے ہی جان میں جان آیئ میں نے خدا کا شکریہ ادا کیا۔ گھر کی سب سے چھوٹی ہونے سے مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ بالکل چھوٹے بچے ہمیشہ ہاتھ پاوں نہیں چلاتےاور پھر پورہ لپٹا کر رکھا ہوا بھی تھا۔ بہنوں بھابیوں کے بچوں کوہمیشہ ہلتے دیکھا تھا سمجھ نہیں آرہا تھا کے اپنی عقل پر رونا چاہیے یا ہنسنامگر مجھے اس خوشی کے احساس کےوقت اللہ کاخیال غالب رہا ۔ شایدایسے نہ ہوتا تو میں اس پیارےاحساس پر خود کو ہی فراموش کرجاتی پھر میں نے گود میں لے کرلحاف نکلااس کےگال کے لمس نےمیرے وجود کوممتا کے نور سے معمور کردیا، ہاتھوں کوچھوکرگرمایا ، پاوں کی نرمی نے میرے اندراس کے لئے بہت نرم جذبہ کومحسوس کیا ۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ناک نقشِ نے مجھے سکون ،محبت، اپنے پن کےبہاو میں ڈوبو دیا۔ میں نے ہر طرح سے نارمل ہونے پر دل میں شکرادا کیا۔
 
 اورپھر دوسرے کمرہ میں لے جایا گیا جہاں لوگ اپنی فیملی کو آکر لے جانے نرس کو بھجتے اور وہ آکرساتھ لے جاتی ہے۔ بارہ بیڈ تھے جس میں سےچاربستر خالی تھے  ۔ مجھے بے چینی سے گھر جانے کا انتظار تھا پھر سسڑر نےمیرے ہم نامی کو پکارامیں نے خود کے طرف توجہ دیلائی تو اس نے نفی میں سر ہلا کراس مصری خاتون کو لے گئی پھر کچھ دیر کے بعددونوں ہنستے لوٹ آیے سسڑرمیاں کےلباس کی وجہہ سے غلط فہمی کاشکار ہوئی تھی۔

پھر میں نرس کے ساتھ گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ میاں بھی باہر ہنس رہے تھے ۔  انہوں نے پھر بڑے پیار سے بچے کو لےلیا اورہم دونوں کبھی بیٹے کو دیکھتے اور کبھی مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھتے ۔ آج ہمارا ایک حسین کھولی آنکھوں کا خواب پورا ہوا تھا ہم دونوں ہی ایک ساتھ ایک نئے رشتہ میں بندھے تھے نہ جانے کتنے باتیں اور کتنے خواب ایک ہی طرح  کے ہماری آنکھوں میں روش تھے  ۔ پھر میاں نے مجھے  پہلے والی لڑکی کے بارے میں ہنس ہنس کے بتانے لگے ۔ ۔۔۔ یہ آج بھی وہ  واقعہ اتنا ہنس ہنس کراچھے سے بتاتےجاتے ہیں اور خوش ہوتےرہتے ہیں۔ میں جانتی ہوں وہ اس بہانے سے خود کے وہ پیارے احساس کویاد کرکے خوش ہوتے ہیں اللہ کی یہ بھی مہربانی ہے کے اس نے ماں باپ کے دل میں پیار کی جوت جلائی اولاد کو والدین کےلئےخدمت کا حکم دیااور دل میں محبت بھی۔ بس اللہ ہم کواچھی تربیت اور اپنے اپنے حقوق کی ادائیگی کی توفیق دیے۔ جو اس احساس سے محرم ہیں اللہ اپنے کرم  سے انکی گود بھی بھر دے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کا شکربجا لایا کرے۔
 

کیسی لگی میری روداد زحمت نہ ہوتی ہو تو بتایے گا ۔ نہیں تو آپ نے پڑھا اتنا وقت دیا یہ ہی بہت ہےمیرے لیے۔ بڑی نوازش کی آپ سب نے ۔۔۔۔۔۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔