Tuesday, November 18, 2014

بہنوں کو نصیحت


السلام علیکم و رحمتہ اللہ

میری پیاری بہنوں اور عزیز بھائیوں


اکثر بہنوں سے یہ سنتی آئی ہوں کہ عورت ذات بڑی بد قسمت ہوتی ہے  ۔سب ہی کو بیٹے کی پیدائش کے آرزو مند دیکھا ہے 
اگر وجہہ پوچھو تو کہیں گے کہ بیٹی کے نصیب سے ڈر لگتا ہےاگر اچھے نہ ہو تو ۔۔۔۔ کبھی تو یہ بھی سنا کہ کتنا پڑھ لو لکھ لو نوکری کرلو پھر بھی وہ مجبور و بے بس ہوتی ہے۔ دب کر زندگی گزارنا ازل سے  اس کا مقدر ہے اور بھی اس طرح کے جملے آئے دن سننے میں آتے رہتے ہیں۔میری پیاری بہنوں یوں گلہ کرنے کے بجائے کیا آپ نے سوچا ہے کہ اللہ تعالٰی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم پر کتنے احسان کئے ہیں۔ ہماری فطری شرم و حیا کے مطابق ہمیں باہر کے اموار سے دور رکھا ۔ کمانے کا پرمشقت کام آدمی پرواجب کئے ۔ سب سے زیادہ ماں کی اطاعت کا حکم دیا۔ بیٹی کی تربیت اور شادی کے بدلہ جنت کی بشارت دی۔ بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرمائے۔  
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے کوئی چیز اٹھاتی ہے یا رکھتی ہے اور وہ بھلائی کا اردہ کرتی ہے  تو اللہ تعالی اس عمل کے بدلے اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور جب کسی عورت کا اپنے خاوند سے حمل ٹہرتا ہے تو اس کے لئے رات  کو قیام کرنے والے ،روزہ دار اور اللہ تعالٰی کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ثواب لکھا جاتا ہے اور جب بچہ ہوتے وقت تکلیف میں مبتلا ہوتی ہے تو ہر تکلیف کے بدلے ایک غلام آزاد کرنے اور ہر دودھ پلانے کے بدلے غلام آزاد کرنے کا ثواب حاصل ہوتا ہے ۔ جب وہ بچے کا   دودھ چھڑاتی ہے تو آسمان سے منادی اعلان کرتا ہے ۔ اے عورت !تونے اپنا گزشتہ عمل مکمل کرلیا اب بقیہ کام کے لئے تیار ہوجا ۔۔۔
حضرت عبادہ بن کثیر بواسطہ عبداللہ حریری ،حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے رویت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اشاد فرمایا میری امت میں بہترین مرد وہ ہیں جو عورتوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں  اور میری امت میں بہترین  عورتیں وہ ہیں جو اپنے شوہر کے حق میں بہتر ہیں ۔ ان میں سے ہر عورت کے لئے روزانہ ایک ہزار شہید کا ثواب لکھا جاتا ہے جس نے اللہ تعالٰی کے راستے میں صبر اور ثواب کی نیت سے جام شہادت نوش کیا ۔اور ان عورتوں میں سے ایک بڑی بڑی آنکھوں والی حور پر ایسے ہی فضیلت  رکھتی ہے جیسے مجھے تم میں سے ادنی آدمی پر فضیلت حاصل ہے اور میری امت  میں بہترین عورت وہ ہے جو اپنے خاوند کی خواہش آسانی سے پورا کرتی ہیں بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہو ۔اور میری امت  کے بہترین مرد وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ نرمی سے پیش آتے ہیں ان میں سے ہر مرد کے لئے روزانہ ایک سو ایسے شہید کا ثواب لکھا جاتا ہے جو اللہ تعالٰی کے راستے میں صبر کرتے ہوئے  اور ثواب کی نیت سےشہید   ہوئے ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ کیا بات ہے عورت کے لئے ایک ہزار شہید کا ثواب اور مرد کے لئے ایک   سو شہید کا ثواب؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا  کیا تم کو معلوم نہیں کہ عورت کے لئے مرد سے زیادہ اجر اورافضل ثواب ہے بیشک اللہ جنت میں مرد کے درجات بیوی کے راضی ہونے اور اس کے مرد کےلئے دعا کرنے کی وجہہ سے بلند کریگا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ شرک کے بعد بڑا گناہ عورت کا اپنے خاوند کو ناراض کرنا ہےسنو دو کمزورں کے بارے میں اللہ ربی عالٰی سے ڈرو  بیشک اللہ تعالٰی ان دونوں کے بارے میں تم سے پوچھے گا ایک یتیم اور دوسری عورت جس نے ان دونوں سے حسن سلوک کیا اس نے اللہ تعالٰی اور اس کی رضا پالیا اور جس نے ان سے برا سلوک کیا وہ اللہ تعالٰی کی ناراضگی کا مستحق ہوا اور خاوند کا حق ایسے ہی ہے جیسے میرا تم پر حق ہے جس نے میرے حق کو ضائع کیا اس نے اللہ تعالٰی کے  حق کو ضائع کیا اور جس نے اللہ کا حق ضائع کیا وہ اللہ تعالٰی کی ناراضگی کا مستحق ہوا۔ اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ لوٹنے کی کیا ہی بری جگہ ہے ۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کیا عورتوں پر جہاد فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ان کا جہاد غیرت کرنا ہے وہ اپنے نفسوں کے ساتھ جہاد کریں اگر صبر کریں تو مجاہد شمار ہونگی اگر راضی رہیں تو اسلامی سرحد کی حفاظت کرنے والی کہلائیں گی پس ان کے لئے دو اجر ہیں  نیز وہ اس حق کی ادائیگی کا اعتقاد بھی رکھیں جو دونوں میں سے ہر ایک کے دوسرے پر واجب ہے ۔جیسا کہ ارشاد خدا ہے کہ  "اور عورتوں کے لئے  اس کی مثل جو ان کے ذمہ ہے "۔اور یہ اس لئے ضروری ہے تاکہ دونوں  اللہ کی اطاعت کریں اور اس کا حکم بجالائیں ۔ عورت کو یہ عقیدہ رکھنا چاہئے کہ یہ کام اس کے لئے جہاد سے بہتر ہے کیونکہ نبی اکرم   صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا عورت کے لئے خاوند اور قبر سے بہتر کوئی چیز نہیں  اور آپ صلی اللہ نے فرمایا وہ شخص مسکین ہے جس کی بیوی نہیں ،عرض  کیا گیا اگر مال کے اعتبار سے غننی ہو؟ آپ نے فرمایا ، اگرچہ مالدار ہو ایسے ہی عورت کے لئے بھی کہا گیا ۔۔
میری بہنوں ان نوازشوں کے عوض میں ہمیں اپنے باپ  اور میاں کی عزت کی رکھوالی کرنا ہے ۔ شرم و حیا کو اپنا زیوار بنانا ہے شوہر کی فرمابرداری اور اسکے آرام و راحت کا خیال رکھنا ہے اگر دیکھا جائے تو آخرت کے ان انعامات کے آگے یہ کام کچھ بھی نہیں پھراچھے ماحول میں اولاد کی نیک تربیت کرنے سے ان کے نیک اعمال بھی آپ کے کھاتے میں ان شاءاللہ جمع ہوتے رینگے ۔  میری بہنوں ! رنگ برنگ کے کپڑے طرح طرح کے فیشن قسم قسم کے کھانے بھائیں بھائیں کے لوگ یہ کچھ کام نہیں آنے والا تمہارے اعمال ہی تمہارے کام آئنگے نماز کی پابندی کے ساتھ قرآن کی تلاوت ایک رکوع ہی کیوں نہ ہو پڑھا کرو۔ اگر ہوسکے تو صدقہ خیرات کرو۔ گھر کے کام جوبھی کرو ثواب کی نیت سے کرو ۔

اللہ ہم مسلمان عورتوں کو عزت اور ایمان کی زندگی اور موت دے ۔آمین   

6 comments:

Junaid Raza said...

آپ کی قلم میں بہت تاثیر ہے لکھتی رہا کی جیے جزاک اللہ

کوثر بیگ said...

اس حوصلہ آفزائی کا بے حد شکریہ..اللہ شاد و آباد رکهے .

Abdul Rauf said...

بہت خوب صورت تحریر ہے۔پاکستان کے کسی اچھے میگزین میں بھی چھپنی چاہئے۔ پاکستان میں ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں کے باعث ازدواجی زندگیوں میں خوشگوار اثر ڈال سکتی ہے

کوثر بیگ said...

پسندیدگی کے لیے مشکور ہوں. اگر میری کوئی ہند پاک کے اخبار تک رسائی ہوتی تو ضرور آپ کی بات پر عمل کرتی . کمنٹ کا شکریہ

منصور مکرم said...

مفید تحریر
اور واقعی یہ باتیں ہمارے معاشرے مین آہستہ آہستہ رچ بس رہی ہیں۔

کوثر بیگ said...

ہم عورتوں کی دین سے دوری نے معاشرہ کو تبدیل کررہا ہے .اللہ ہمارے لئے اپنے تک آنے کا راستہ آسان کردے
کمنٹ کا شکریہ منصور مکرم بهائی

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔