Saturday, April 19, 2014

قصہ ایک تقریب کا



السلام علیکم



بہت پرانی تحریر جو پوسٹ کرنے سے رہ گئی تھی آج نظر آئی تو شائع کررہی ہوں ۔ ہوسکتا ہے آپ کو اچھی لگے یا پھر کوئی اور بھی آپ میں سے اس تجربہ سے گزرچکے ہوں ۔

مجھے ایک شادی کی تقریب میں جانے کا موقع ملا وہاں بِیٹھے بیٹھے کچھ اپنے تاثرات قلم بند کئے تھے وہ حاضر ہیں ۔



آج پهر شادی کی دعوت ہے بخار کے باوجود دوا کهاکر ہاته منہ دهو کر خود کو تازہ دم کرکے آئی ہوں دوستی کے لئے اتنا تو کرنا ہی چاہئے نا

مگر یہاں آنے کے بعد دلہا دلہن اور ان کے قریبی لوگ سب ہی ندارد ہیں بہت انتظار کے بعد ساڑهے نو بجے دلہے راجا آئے ہیں دلہن تو ابهی تک غائب ہے . ان کو خود پر کنٹرول نہیں وقت کی پابندی نہیں کرسکتے تو آٹه بجے کا وقت رقعہ پر لکهنے کی کیا ضرورت ہے ۔

اب کی بار انڈیا آنے پرکئی شادیوں میں شرکت کا موقعہ ملا میں تو پہلی بار کےتلخ تجربہ کے بعد جلدی جانے کی مخالفت کرتی مگر میاں نہ کبهی مانے ہیں نہ مانےگے ہر بار یہ ہی کہتے ہیں کہ "کیا معلوم یہ لوگ وقت کے پابند ہو" کوئی پابند تو نہ نکلے مگر مجهے تو صاحب کی بات کے پابند ہونا ہی پڑتا ہے .


دلہن بیوٹی پارلرمیں بیٹهی دلہے میاں کے لئے سولہ سنگھار کرواتی ہے مہمان اپنے ٹی وی پروگرام دیکهکر آتے ہیں .اب تو قاضی حضرات پہلے کے جیسا شہر کے اندیشہ میں دبلی بهی نہیں ہوتے بلکہ دلہا دلہن کی تیاری کے بعد ایک فون کرنے پرکچه دیر میں آجاتے ہیں .سیل فون کا دور ہے ادهر دلہن بیوٹی پارلر میں تیار ہوئی دلہے میاں کو اطلاع ملی اور ایک کال قاضی صاحب کو لگادیا جاتا ہے اور وہ کثیر رقم کی امید پر بھاگے آجاتے ہیں .


اب تو ساڑهے دس بجنے والے ہیں.دلہن کا سجا ہوا اسٹیج بے فکر ماوں کےبچے دلہن کے استمعال سے پہلے پهول نوچ کراور تکیوں سے گهر گهر کهیل رہے ہیں.میں آئی وقت کچه لوگ تهے لیکن اب تو ہال بهی مہمانوں سے کچها کهچ فل ہوگیا ہے . چلیے اب بہت آپ سب سے کہہ کر جی ہلکا کرلیا ہے .میرے اطراف سجی سجائی دلہنیں، میرا مطلب ہے خواتین جلوہ افروز ہونے لگی ہیں ان پر بهی اپنی کچھ نظرکرم ڈالو آخر یہ ہمارے ہی لئے تو سنگار کرکے آئی ہیں نہیں توپھر ان کے ساته زیادتی ہوگی۔

اس شادی کے ہنگاموں میں رتی وقت کے لئے بھی میرے دماغ سے یہ کوفت دور نہ ہوسکی اور خود سے سوال کرتی رہی کہ  ہم مسلم ایسے کیوں ہیں جبکہ نماز، روزے، حج جیسی عبادتوں کے لئے بهی اوقات کی پابندی ضروری ہوتی ہے .پھر یہ کہکر دل کو تسلی دی کہ  ہم تو دل کی ماننے والے لوگ ہیں اور دل تو دیوانہ ہوتا ہے۔

شکریہ بلاگ پر تشریف لانے کے لئے۔
۔

16 comments:

Naeemullah Khan said...

جس جس بات کی ہدایت ہمیں کی گئی ہے اس سے ہم نظریں چراتیں ہیں. وقت کی اہمیت کا ہمیں احساس ہی نہیں.

افتخار اجمل بھوپال said...

ہمارے ساتھ تو چند بار ایسا ہوا کہ جب تھک گئے تو میزبانون کا کوئی فرد نظر آیا ۔ تحفہ یا سلامی اسے تھمائی اور بغیر کچھ کھائے پیئے گھر کو لوٹے

کوثر بیگ said...

جی بھائی ہم مسلمانوں کے زوال کی وجہہ مجھے تو یہ ہی لگتی ہے کہ ہم اللہ کے احکام کے خلاف کرنے لگے ہیں ۔ شادیوں میں تو کئی باتیں قابلاعتراض ہوا کرتی ہیں کیا بتاوں ۔اللہ ہم کو توفیق دے بس۔

کوثر بیگ said...

ایسا کرنے پر بھی اجمل بھائی برا مان لینے کا ڈر رہتا ہے اور اگر کوئی قریب کی تقریب ہو تو ساتھ دینا لازم سمجھا جاتا ہے ۔بڑی مشکل ہے آج کے لوگوں اور ان کی ذہنیت سے
خیر کہنے والے تو ہر حال میں کہتے ہیں ۔۔آئندہ اگر ایسا ہوا تو میں بھی ان شاٗاللہ آپ ہی کے جیسا کرونگی

منصور مکرم said...

ہمارا بھی ایسا طریقہ ہے کہ جو ٹائم درض ہوتا ہے شادی کارڈ پر،اس سے دو گھنٹے لیٹ جاتے ہیں۔ بس مناسب موقع پہنچ جاتے ہیں۔

Mustafa Malik said...

کوثر بہن ، اب تو ہر جگہ ایسا ہی ہو رھا ہے ، میرے خیال میں اس کا واحد حل اس تقریب سے اٹھ کر آ جانا ہے مگر کیا کریں پھر لوگ ہمیں ہی بد تہذیب کہیں گے ، انہیں کوئی نہیں سمجھائے گا

کوثر بیگ said...

بہت اچھا کرتے ہیں بھائی نہیں تو جزا سزا میں بدلتی محسوس ہوتی ہے ۔میں بھی یہ ہی کہتی ہوں مگر میاں جی مانے نا

DuFFeR - ڈفر said...

آج کل مسلمانی بس کلمے تک ہی محدود رہ گئی
اور اسلامی تعلیمات؟ وہ کیا چیز ہوتا ہے؟

کوثر بیگ said...

مصطفیٰ ملک بهائی جی ا ب ہم ایسا ہی کرینگے ہمیں دیکهکر اگر ہماری طرح اور لوگ بهی کرنے لگے تو پهر کوئی بہتری کی صورت نظر آتی ہے

کوثر بیگ said...

ڈی بهائی ( ڈفر میں آپکو نہیں کہنا چاہتی )بالکل اسلام کی محبت تعلیم پر تو دهیان ہی نہیں دیتے یہ ہی تو رونا ہے .اور سمجهاو تو کہتے ہیں ہر جگہ ہر کام میں اسلام کو کهیچکر لاتے ہیں جب کہ اسلام ایک جامع مذہب ہے .

sheikho said...

بہت اچھا موضوع
میرے ساتھ ایسا دو تین بار ہو چکا ہے ۔۔۔ اس کے بعد سے میں نے ایسی شادیوں میں جانا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ اب تو ہمارے ہاں گورنمنٹ کی جانب سے پابندی ہے کہ رات دس بجے کے بعد شادی ہال میں سے باہر نکال پھینکتے ہیں ۔۔۔ جو نہیں جاتا بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے

کوثر بیگ said...

ہاہاہاہا ! یہ بہت اچها ہوا اس طرح مجبور کرنے سے ان شاءاللہ سب ہی کا نظام العمل ٹهیک ہوجائے گا .آپ کی بات سنکر مجهے تو بہت خوشی ہوئی
آپ کو ایک بات بتاوں میری شادی والے دن گاڑی دیر سےآنے پر میرے بابا گهر میں رسموں ،رشتہ داروں اورمیرے
بنا میک اپ اوربغیر چوٹی ڈالنے کی پرواہ کئے رکشہ میں بیٹها کر وقت سے پہلےشادی خانہ لےکر وقت سے پہلے لےکر گئے ..اب ویسے لوگ کہاں رہے..

Dohra Hai said...

جب نماز ایک عادت کے طور پر پڑھی جائے نه که الله کے حکم اور تربیت کے طور . تو نتیجه یهی نکلتا هے .کسی کام میں بھی مسلمانیت جھلکتی نظر نهیں آتی

کوثر بیگ said...

اللہ ہمیں توفیق دے..اسی لئے تو کہتے ہیں نا بهائی ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے .
بہت شکریہ کمنٹ کے لئے

محمودا لحق said...

وقت کی پابندی کا مذہب ہمیں پابند کرتا ہے مگر اب تو ساری گرہین کھلتی جا رہی ہیں۔ دلہا دلہن کا بیوٹی پارلر سے تیار ہونے کے بعد فوٹو شوٹ ۔ بیش قیمت عروسی ملبوسات پھر سب سے بڑھ کر جہیز کی لعنت۔ رسم تو کہنے کو رہ گئی ہے صرف فیشن ہی رہ گیا ہے۔ کس کس بات کو روئیں ۔
بس یہی اچھا ہے کہہ یا لکھ کر جی ہلکا کر لیں ۔

کوثر بیگ said...

جی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں دل کے ہلکا ہونے سے زیادہ ان تحاریرکا کوئی اثر نہیں ہیں پہلے رسم و رواج کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہوا کرتا تھا جیسے سوا مہنے تک دلہن شادی وال چوڑیاں پہنا کرتی ۔شادی والا کپڑوں کا جوڑا نند لے لیتی اس سے نند کے دل میں کچھ جگہ بن جاتی ۔گھر کے آگے شامیانہ لگا یا جاتا اور شادی گھر کے صحن اور باہر ہی کی جاتی جس سے شادی خانہ کی اخراجات کی بچت ہوجاتی۔شادی میں مہمان رہنے آتے اور تو سب ملکر شادی کی تیاری میں حصہ لیتے اور کوئی چیز کی کمی پیشی نظر آتی تو ملکر پوری کرلیتےکوئی رسم ہوتی نکاح سے پہلے دلہا دلہن کو دیکھایا جاتایوں بہت پہلے سے یوں ملاقاتیں نہیں کرتے تھے ۔شادی کے بعد دلہن آنکھے بند رکتی اور اس عرصہ میں گھر کا جائزہ اور لوگوں کی مزاج کا اندازہ کرلیتی ۔۔۔۔ مگر آج کل قائم ہیں تو بیکار رسومات ۔ جہیز کا دینا ، باچا گاجا ، مہدی کی رسم وغیرہ ۔اللہ ہم پر رحم کرے

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔