Monday, April 22, 2013

حاصل زندگی

 
 
 
السلام علیکم
 
محترم بھائیوں اور پیاری بہنوں
 
 
آج 22 اپریل کوعیسوی لحاظ سےہمارے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے میلاد کا دن ہے  ۔ ہمیں ان کے امتی ہونے اور اپنے مسلمان ہونےپر فخر کرنا چاہیے ۔ یہ وہ خدائی نعمت ہے جو خریدنے سے نہیں بالکہ اللہ کی توفیق سے ملتی ہے اور جس نے اسے پالیا اس نے دونوں جہاں میں سرخرو ہو گیا ۔ پیارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کو لازم کرلیں کیونکہ یہ جز ایمان ہے۔جب تک آپﷺکواپنی ہر محبوب چیز سے زیادہ نہیں چاہنگے تب تک ہمارا ایمان کامل نہیں ہوگا۔ آپ کی محبت کو پیدا کرنے آپﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں۔ دیکھنا پھر آپ عش عش کرنے لگے گے پھر ایک ایک بات وحرکت پر غور کیجئے آپ پیارے رسول کے گرویدہ ہوتے چلے جائنگے ۔ پھر آپ کا دل خودبخود خصورﷺ کی تعلیمات و سنت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرئیگا  ۔ حبیبﷺ کی سنت و محبت کی وجہہ سے ہمارے اخلاق و کردار  ،عادات واطوار ،میل میلاپ ، طرز زندگی خوب سے خوب تر ہوتے چلی جاتی ہے ۔آپﷺ کا سچا عاشق ہی سچا مسلمان اور مخلوق میں اشرف ہوتا ہے جو نہ خود پر ظلم (گناہ )کرتا ہے نہ دوسروں پر ظلم کرتا ہے۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی کامیابی آپ  سے جڑی ہے آپ کی محبت ہی حاصل ایمان ہےاور وہ ہی حاصلِ زندگی بھی ہے ( ایمان کے بغیر کوئی زندگی زندگی نہیں )۔  
 
اللہ پاک ہم سب کو دینِ محمدی کے راستہ پر چلنے کی توفیق دے۔ سنت کو زندہ کرنے والا سنت کو اپنانے والا بنائے ۔آمین 
 
 
.................................................................................
 
 تیرے در سے دور ہٹ کر ، میں کہیں نہ جا سکوں گا
جو اُٹھا دیا یہاں سے ، کوئی راہ نہ پا سکوں گا
 
میری زندگی تمہیں سے ، میری بندگی تمہیں سے
 تیرے نقش پا پہ چل کر ، تیرے رب کو پا سکوں گا
 
جو پکڑ لیا ہے دامن، پہ ہزار نا توانی
نہ چھڑایئے خدا را، کہ کہیں نہ جا سکوں گا
 
تیری پاک صحبتوں میں ، جو ملا ہےراز ہستی
نہ کہیں سے مل سکا تھا، نہ کہیں سے پا سکوں گا
 
وہ جو با ر امانتوں کا ، نہ اُٹھا سکا تھا کوئی
 تیری بندہ پروری سے ، اسے میں اُٹھا سکوں گا
 
میری سجدہ ریزیوں کو، تیرے سنگ ِ آستاں سے
وہ ملا ہے ذوقِ سجدہ، نہ کبھی بھلا سکوں گا
 
میرے دل کے چند ٹکڑے ، للہ قبول کیجے
 نہ انہیں بساط و ساماں، نہ کچھ اور لا سکوں گا
 
 
میری تشنگی کا عالم ، ہر لحظہ بڑھ رہا ہے
میرے ولولوں سے پوچھو، کیسے بجھا سکوں گا
 
یہ بجھا بجھا سا دیپک ، ارمان و آرزو کا
تیرے حسنِ ضوفشاں سےدائم جلا سکوں گا
 
میرا من ہو تیری بستی، میرا تن ہو تیری نگری
کہ میں داغ ہائے سینہ ، یونہی جلا سکوں گا
 
پنہائیاں یہ دل کی، مہمان کی ہیں طالب
تجھ سے یہ گھر سجے گا ، تجھ سے بسا سکوں گا
 
سرِ عا شقے علامت ، دلِ عاشقے سلامت
زہے جذبہء شہادت کہ نہ سر اُٹھا سکوں گا
 
میر اسلسلہ قلندر  میرا واسطہ محمدؐ
اسی واسطے سے خاؔور میں خدا کو پا سکوں گا
 
خاورسہروردی
 
 

4 comments:

Anonymous said...

مجھے تو آپ کے زریعے پتا چلا ہے آج حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد کا دن ہے

Naeemullah Khan said...

آمین

کوثر بیگ said...

بہت شکریہ آپ کا بلاگ پر آنے اور کمنٹ کرنے کے لئے ۔اللہ خوش رکھے سدا

کوثر بیگ said...

نعیم بھائی آج کی پوسٹ صرف آپ کے فیس بک کے میسج کے پڑھنے کے بعد لکھنے کا موڈ بنا اور فوراً وجود میں آئی ہے۔۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ بھائی

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔