Tuesday, March 12, 2013

حیدرآبادی ثقافت کا ایک جز ۔۔ پان

 
 السلام علیکم
 
میرے معزز بھائیوں اور پیاری بہنوں
 
آج حیدرآباد کی باتیں اپنے پرانے شوق اور پسند کے بارے میں سوچا تو ذہن نے یادوں کے دریجہ سے کچھ  پان کی باتیں یادکروانے لگی اور میں نے سوچا کہ یہ ہی ٹاپک پر بلاگ میں بھی آپ سب کے ساتھ باتیں اور یادیں شیئر کرلو ۔
آپ سب کو تو پتہ ہے میں حیدرآبادی ہوں تو پان کے ٹسٹ کو نہ جانے یہ ہو ہی نہیں سکتا ہر حیدرآبادی یا حیدرآباد آیا ہوا مہمان میرے خیال سے ایک بار تو پان کبھی نہ کبھی کھایا ہی ہوتا ہے۔
 
کہتے ہیں کہ پان کھانا نور جہاں نے ایجاد کیا۔یہ دربار سے ہوتے ہوئے امیروں میں آیا اور پھر شاہانِ مغلیہ سے سلطنت ِآصفیہ کو ورثے میں ملا۔ یہاں کے امیروں سے پھر عام خاص میں بھی پھیل گیا۔


پان کے ساتھ ہی مجھے پہلے زمانے کے وہ گھر یاد آتے ہیں جس کا کشادہ سا دالان ہوا کرتا جس میں سفید چاندنی(سفید چادریں) کا فرش بچھا ہوتا اس کے بیچ میں سوجنی اوپر کے حصہ میں بیچھائی جاتی اور سوجنی پر دور دور دو یا تین گاو تکیہ لگے ہوتے ۔اور ایک کونے میں پاندان(جس میں سارے پان کے لوازمات ہوتے)،ناگردان(جس میں ایک صاف کپڑے میں پان لپٹ کر رکھا جاتا)،ایک ٹرے جواکثر پان ہی کہ واضع کی ہوتی جس کے اندر ایک چین رکھی جاتی جس سے متصل چھوٹی چھوٹی چین اور بھی جڑی ہوتی اس میں تھوڑی تھوڑی دور پرلونگ کی طرح بنے ہوئے کانٹے ہوتے جس میں پان کی گلوری کوچھو یاجاتا اور اسےمختلف ڈیزائن کی تھالیاں یا خاصدان میں رکھکر کھانے والوں کے سامنے پیش کیا جاتا ۔ سروطا جس سے چھالیہ کاٹی جاتی ، ساتھ میں اُگالدان بھی رہتا ۔ یہ پان کھانے کے بعد پیک کے لئے ہوتاتھا۔اس کی خاص وضع بنی ہوتی نیجے اور اوپر سے کھلا کھلا اور پیچ میں (خوبصورت حسینہ کی طرح) کمر تنگ بنا ہوتا ہےاس وضع سے فائدہ یہ ہوتاہے کہ پیک نظر نہیں آتی اور چھیٹے بھی اچھل کرکپڑوں پر نہیں آتے۔ پہلے زمانے میں نوابوں کے پاس ملازم خدمت میں مامور ہوتےتھے جہاں آنکھوں کا اشارہ اگلدان کی طرف کیا جاتا وہ دوڑ کر قریب لے آتا۔ غریب گھروں میں یہ فرض بیوی بھی اٹھا تی اور کبھی بیٹی کے بھی ذمہ رہتااور اکثر عادی حضرات کے بازو ہی اگالدان رکھ دیتے تھے کیوں کہ وہ اس کے بار بار حاجت مند رہتے ۔ پان مختلف وضع کے بنائے جاتے ہیں جیسے کون کیطرح اور چار کونی ،تین کونی سموسہ کی طرح بھی بنائے جاتے ہیں یہ بنانے کا بھی خاص طریقہ ہوتا جس کے بنے کے بعد بیڑا کھولتا بالکل نہیں ہےاور کھول نہ جائے احتیات کے خیال سے بیڑے کو لونگ لگا دیا کرتے ہیں ۔ شادی بیاہ یا دعوتوں میں پان پر چاندی کا ورق لگا کردیا جاتا ہے ۔ جس سے پان کی شان اور میزبان کےسلیقہ کا مظاہرہ ہواکرتا ہے۔
 
 پان مختلف طریقوں سے بنایا جاتا اور ہر طریقہ کو نام بھی دیا گیا ہے جیسے زعفرانی پان ،پودینہ کا پان ،سادہ پان ،زردہ کا پان ،قوام کا پان اور میٹھا پان جس میں گلقند کھوپرا ڈالا جاتا ۔

پاندان جہیز میں دینا لازمی ہوا کرتا۔ پاندان کے ساتھ خاصدان ،اگلدان ،پان کی ڈبہ یا تھالی بھی دیجاتی۔ یہ پاندان مختلف ساخت کے بنائے جاتے جو مختلف سائز کے ہوا کرتے اور مختلف دھات کے بنے ہوتے ۔ جرمن سلور کے پاندان مرادآباد کا بنا رہتا ہے اس لئے یہ مراد آبادی پان دان ہی کہلاتا جس میں منقش اور بغیر نقش کے بھی ہوتے ہیں اور بعض میں جالی بھی بنی ہوتی یہ بنے تو جست ،تابنہ یا پیتل کے بھی ہوتے ہیں اکثر ان کے اوپر چاندی کی پالش  چڑائی جاتی ہے ۔ اور امیرں کے گھروں میں چاندی ہی کے پاندان رہا کرتے تھے ۔ پچھلے بیس ،تیس سال سے اسٹیل کے بھی پاندان بنے لگے ہیں۔

پان کی گلوریاں یا بیڑے رہن سہن میں اتنا شامل ہوگئے تھے کہ ان کی ضیافت اور گھر میں بی بی سے باندی تک کھانا ایک عمومی عمل تھا۔ اس لئے یہ رسومات کا حصہ بھی بن گئے ۔

 جیسے گود بھراؤ کی رسم جس میں پہلے دلہن کو پان اور سپارہ چھپا کر گود میں دی جاتی ہے پھر سات یا گیارہ سہاگنوں کا گود بھرا جاتا ہے یعنی وہ پان اور سپیاری چھپا کر دی جاتی ہے ۔ پھر جب پھول پہنا کر منہ میٹھا کیا جاتا اس کے ساتھ ہی پان کا ورقی بیڑا دلہا دلہن کو کھلا دیا جاتا ۔ اور جب دلہن سسرال آنے کے بعد اگلے دن گھر کے تمام افراد کو گھونگٹ ڈال کر جہیز میں آئے ہوئے پاندان سے  پان بنا بناکر دیتی ہے ۔ گھر کی بہن وغیرہ ساتھ مدد کرنے کے لئے ہوتی تھی جو نام بنام رشتہ بتاتی اور چھوٹے اور بڑے ہونے اور آگے انہیں کیا پکارنا ہے بھی ساتھ سمجھاتے جاتی تھی۔ جس سے نئی دلہن کو افراد خاندان کے نام رشتوں کا اندازہ ہوجایا کرتا تھا۔ چھوٹے اگر ہوں تو قریب آکر پان لے کر سلام کرتےجاتے تھے اور بڑوں کے پاس دلہن کا ہاتھ پکڑ کر لے جایا جاتا تھاوہ دعا دیتے ہوئے پان لیتے۔



اگر دعوت دی جائے تو سب سے آخری چیز ضیافت میں پان پیش کی جاتی،اس سے میزبان کی طرف سے جب جانا چاہیے جانے کی اجازات سمجھی جاتی ہے۔

پان کھانے کے آداب بھی ہوا کرتے تھے چھوٹے بڑوں کے سامنے بنا اجازات کے پان کھانا بد تمیزی سمجھا جاتا،پان کی گلوری منہ میں ڈالتے وقت سیدھے ہاتھ سے کھانا اور دوسرا ہاتھ منہ کے اوپر رکھ کر کھانا، دینے والے اور گھر کے سب سے بڑی ہستی اگر سامنے ہوتو انکو بھی سلام کرنا ضروری سمجھا جاتا۔ لیڈیز میں اگر کوئی بڑے آنے پر پاندان ان کے اختیار میں دے دیتے اس کو عزت دینے میں شمار کیا جاتاتھا ۔ میری طرح بعض لوگ اپنے ہی ہاتھ کا بنا پان کھانا پسند کرتے تو وہ میزبان کی اجازات لے کر خود ہی بنا لیتےاورامانت کی طرح پاندان میزبان کی طرف بڑا دیتےتھے ۔ بغیر اجازات کے پاندان کو استمعال کرنا بد تمیزی سمجھا جاتا ۔

جب کسی کی تعریف کرنے دل کرے تو پان کھانے کے بعد جو ہونٹوں پر لالی آتی، وہ وقت تعریف کے لئے چنا جاتا اور کہا جاتا کہ چہرے پر پان کا لاکھا آیا ہے یا پان کا لاکھا نے تو رونق بڑھا دی ہے یا اہ دیکھو تو پان کی کیا خوب لالی آئی ہے وغیرہ کہا جاتا ۔
 
نوابوں کو جو جاگیر ملتی اسے اور میاں ،بیوی کو جو پاکٹ منی دیتا اس کوپانصدی کہا جاتا تھا۔
 
پیسے مانگنا اچھا نہیں لگتا اس لئے پان سپاری ختم ہوگئی کہنے پر پیسے مل جایا کرتے اور اس طرح پان کے خرچے کے بہانہ تحفتاً پیسے لیے اور دیے جاتےتھے ۔ داماد کو سلامی پان کی ڈبہ میں رکھ کر دی جاتی تھی۔
بی بیاں اپنے صاحب کو توشہ کے ساتھ گلوری بنا کر پان کی ڈبہ میں رکھکر دیا کرتی تھی۔
 
 
جب سے پان میں تمباکو کا استمعال شروع ہوا تب ہی سے پان میں خرابیاں نظرآنے لگی ہیں اور اسے مضر صحت ماننے لگےہیں اوراسی کی بنا پان کا عروج زوال کی طرف آنے لگا۔ تمباکو یعنی زردہ جب پان میں ڈالتے ہیں تو تھوکنا ضروری ہو جاتا ہے اور لوگ بازار میں جب سے کھانے لگے ہیں سڑک پرجہاں جی چاھا تھوک دینے لگے ہیں جس کی وجہہ سے کراہت کا باعث بن گیاہے ۔ اور تمباکو کے نقصاندہ نتائج نے  اسکی شہرت اور استمعال میں کمی کردی۔
 
جہاں پہلے بچے بڑے پان پر جان دیا کرتے تھے ۔بوڈھے پان چبا نہ سکنے پر پان کوٹ کر کھا تے جس کے لئے  ضعیف لوگوں کے لئے ایک چھوٹی پانکوٹنی  بھی رکھا کرتے ۔سب ہی اس کے بے شمارفائدے بتایا کرتے پان کے پتے ہزار سال سے طبی ضروریات میں استمعال کیا جاتا رہا ۔اس میں ڈالے جانے والے اجزاء  لونگ ،الائچی ،سونف،سکھ مکھ،گلقند،نرملی ،چکنی سپیاری ، چھالیہ ، جونا (جس کی تیزی کو کم کرنے) کتھا اور خود پان کی تعریف کرتے سب  ہی نہیں تھکتے ۔   یہاں تک کہ اس کے جبانے کو تک ہاضمہ کے لئے بہتر مانا جاتا اب پان کی جگہ پیپسی نے لے رکھی ہے۔
 
 
آج کے موجودہ دور کی پان سے متعلق صورت حال دیکھے تو بہت افسوس ہوتا ہے۔ پہلے کا الٹ معاملہ ہے اب گھر سے اٹھکر پاندان بازار میں چلے آیا ہے۔ پہلے کی گھر میں پان بنانے والی بیبیاں بھی باہر سے پان منگواکر کھاتی ہیں پہلے وظیفہ خوار کوخود کو خوار نہ سمجھنےانکی اہمیت قائم رہنے کے احساس کے لئے پان کا بیڑا پیش کیا جاتا تھا۔آج کا بزرگ صحت وخرچہ کے مد نظرپان کی عادت کو ترک کر دیے ہیں اور نوجوان لڑکے پان کے ڈبہ پر کھڑے ہوکر پان کھاتے اور جہاں دل چاہا پیک تھوکتے پھرتےہیں،اکثر پٹاری کی دوکانوں پر بد اخلاق لوگ آتےہیں جن کا آمنا سامنا بچوں کوہوتے رہتا ہے اور پھر ملاقات دوستی میں بدل جاتی پھر دوستی اپنا اثر دیکھانے لگتی ہے۔
پان بنا نا بھی ایک فن ہے یہ ہر ایک کے ہاتھ سے الگ الگ مزہ کا بنتا ہے اس کو مزیدار بنانے میں مسالوں کے استمعال کی ٹھیک معلومات اور مقدار اہمیت رکھتی ہے ۔ کسی ماہر کے ہاتھ کا کھاکر دیکھیے یاد رہ جائے گا
۔
کچھ قدیم چیزیں دیکھنے میں بہت اچھی لگتی ہیں اس لئے آج کل اسے سجاوٹی سامان کی طرح بھی رکھا جانے لگا ہے۔
پان پر شاعروں نے شاعری کی ، فلموں میں حیدرآبادی رول میں جان ڈالنے پان کھاتے دیکھایا گیا ،اس پر پہلیاں بھی بنائی گئی۔
 
مجھے بھی بچپن سے پان کا شوق تھا مگر کبھی عادت نہیں بنائی ۔ میری پسند کویاد رکھتے ہوئے میری غیر موجودگی کے باوجود بہن بھائیوں نے ترکہ کے وقت مرادآبادی پاندان جو دعوتوں میں نکلا جاتا وہ اور عام دنوں والا اور اسٹیل کا سفری جو چھوٹا سا ہوا کرتا ہے امی کا مجھے دے دیا  ۔
 
میں نے بھی یہ ساری رسمیں نبھائیں ہیں بہت سارے پان بنائیں اور کھلائے ہیں اور کھائے بھی ہیں ۔ میاں جی آج بھی پان کے شوقین ہے بیٹیوں اور بہوں کو سیکھا دیا ہے اور اب تو کھانے کے ساتھ بنانا بھی چھوڑا ہوا ہے۔


بہت شکریہ میری باتوں کو پڑھنے کی زحمت کے لئے
 


 پاندان اندر سے
 

چاندی کے پاندان کی دوکان جس میں ناگردان ،خاصدان اورتھالیاں دیکھی جاسکتی ہیں

  پان کے پتے
 
پان کے مسالہ

20 comments:

MAniFani said...

بہت اچھا مضمون ہے، پان کی تعریف میں

کرتا ہوں جان سپاری کتھئی ہیں ہاتھ جس کے
کرنے کوں دل کا چونا آتا ہے پان کھا کر
اور کراچی والوں کا پان خوری پر بھی ایک مضمون پڑھئے گا

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=20017&type=text

محمد ریاض شاہد said...

اچھی معلومات ہیں

Hyderabadi said...

ریاست ِ حیدرآباد کی سڑکیں پہلے امراء و نوابوں کے پانوں سے لال ہوا کرتی تھیں پھر نہ جانے کس کی نظر لگی۔ پولیس ایکشن میں لاکھوں معصوم انسانوں کے لہو سے کئی شہروں کی سڑکیں لال ہوئیں۔ آجکل آئے دن حادثات سے لال ہوتی رہتی ہیں ۔ اب نہ وہ حیدرآباد رہا اور نہ و ہ تہذیب البتہ اس تہذیب کی کچھ باقیات الصالحات میں سے ایک تو شاعری ہے جسے آٹو رکشا والوں نے بڑی محبت سے باقی ر کھا ہے اور دوسرے وہ پان کے ساتھ فرشی " آداب عرض " کی ادا جسے آج بھی چند ایک پان کے ڈبے والوں نے قائم و جاری رکھا ہے۔
جس نیازمندی سے یہ حضرات پان پیش کرتے ہیں اور جس نوابانہ انداز سے ہم بھی پان قبول کر کے آداب بجا لاتے ہیں خود کو کچھ دیر کے لئے ہم بھی نواب سمجھتے ہیں۔ اگرچہ کچھ بچے کھچے نواب آج بھی پان کھاتے ہیں لیکن کنیزوں کے ہاتھ کے نہیں بلکہ پان کے ڈبوں پر اور زیادہ تر اُدھار کھاتے ہیں۔
پان ہے کوئی مذاق نہیں

مہتاب said...

ماشا اللہ بہت مزےدار تحریر ہے، جس میں ہماری تہذیب کی بو باس رچی بسی ہے۔ لیکن "آپا جی" ہمیں سوچنا ہوگا کہ آج اپنی گزشتہ تہذیب کا نوحہ لکھیں یا اس کے زوال کے اسباب پر بحث کریں۔
حیدآبادی تہذیب سے کچھ تعارف واجدہ تبسم کے افسانوں اور ناول سے ہوا تھا ۔ آج آپ کی تحریر نے چند اور گوشوں سے آشنائی بخشی ہے۔
ایک خیال مجھے ہمیشہ ستاتا ہے کہ حیدآباد پر ہونے والے پولیس ایکشن میں جس طرح بغیر کسی مزاحمت کے ریاست ڈھیر ہوگئی تھی وہ واجدہ تبسم کے افسانوں میں دیکھائی جانے والی تہذیب کے نتائج ہی تھے یا کوئی اور وجہ بھی ہے اس کی؟

کوثر بیگ said...

MAniFani :
بھائی جی بہت بہت شکریہ پسندیدگی اور بلاگ پر آمد کے لئے ۔جو حکم جناب ابھی کراچی والوں کے پان کا حال بھی جان لیتے ہیں ان شاءاللہ۔ اللہ خوش رکھے ہمیشہ آپ کو
بہت کوشش کی مگر وہ لنک مل ہی نہیں رہا ۔اگر ہوسکا تو اس کا نام بتلائیں پلیز

کوثر بیگ said...

محمد ریاض بھائی ،کمنٹ اورآمد کا تہہ دل سے شکریہ

کوثر بیگ said...

حیدرآبادی بھائی جب بھی آپ بلاگ پر آتے ہیں مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے کوئی اپنے شہر سے گھر آیا ہو ۔ہاہاہا
آج کل کے ان بدلے حالات سے آنکھ موند کر آپ تصورات کی پرانی دنیا میں گم ہوجائیے گا تھوڑا تو دل کو راحت ملے گی نہیں تو ہم کُڑھ کُڑھا کر مر ہی جائنگے میں نے تو یہ ہی راستہ ڈھونڈلیا ہے۔ چھوٹے بھائی پہلے یوں زمین پر نہیں تھوکا کرتے تھے سفر میں بھی کسی ڈبہ وغیرہ میں مٹی بھر کر اگلدان بنالیا کرتے۔۔۔اور جہاں تک مجھے معلوم ہے پولس ایکشن میں سب سے کم حیدرآباد متاثر ہوا دوسرے شہروں میں تو بہت خرابہ ہوے سنتے تھے اللہ بہتر جانے مگر آج تو وہ حال ہے کہ الامان الحفیظ ۔نوابی سلام کے بارے میں بتا کر آپ نے خوش کردیا چلے کچھ تو کھنڈروں کے نشان ابھی باقی ہیں

کوثر بیگ said...

مہتاب بھائی آپ کو اچھا لگا مضمون اس حوصلہ افزائی کا شکریہ
یاد کرکے خوش ہوجائیے اور خود ان بزرگوں جیسا بننے کی کوشش کرئیے گا اور کیا نوحہ کرنے سے تو کچھ حاصل ہی نہیں۔۔۔ہاں ساتھ ہی ساتھ زوال کے اسباب پر غوروخوض ضرور کرنا ہوگا کیونکہ غور و فکر ہی اصلاح کا در کھولتی ہے۔
عبدالمجید صدیقی حیدرآباد کی تاریخ پر لکھا اپنے مضمون میں زوال کی چند وجوہات لکھتے ہیں بد قسمتی سے اس عہد کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یورپ میں دو بڑی جنگیںہوگئیں اور ان لڑائیوں سے ترقی کے راستے میں کئی رخنے پڑگئے ۔اگرچہ والی ملک کی دانشمندانہ قیادت کی بدولت مملکت کی کشتی اس بھنور سے صحیح و سالم نکل گئی لیکن 1948 میں جب انگریز حکمران اپنا دامن جھٹک کر ہندوستان سے فرار ہوگئے تو آصفجاہی مملکت ایک گرداب میں پھنس گئی ۔ بد قسمتی سے مملکت کو حکومت سے جو انگریزی اقتدار کے قائم مقام ہوگئی تھی تصادم ہوگیا ۔اور تصادم اس قدر سنگین ثابت ہوا کہ آصفجاہی مملکت اس سے جابز نہ ہوسکی اور 17 ستمبر کو مملکت کا چراغ گل ہوگیا۔ان شاءاللہ! اللہ پاک ہمت فرصت دے تو میں ان کا طویل تاریخی مضمون بلاگ پر لکھنے کی کوشش کرونگی۔۔

افتخار اجمل بھوپال said...

پان کو پڑھتے پڑھتے میں کھو گیا جب بھت دیر گم رہنے کے بعد ہوش میں آیا تو ایسے لگا کہ جسم سُن ہے اور دماغ ماؤف ۔
اچھا یہ بتایئے کہ میر لائق علی کا نام آپ نے سُنا ہوا ہے ؟ ان کے متعلق کچھ معلومات مل سکیں تو بہت ممنون ہوں گا

کوثر بیگ said...

ہاہاہاہا۔ اجمل بھائی میں اسے تعریف سمجھو یا مذمت؟ مگر مجھے آپ کی اس بات نے بابا کی یاد دیلا دی میں اتنے باتیں کرتی کہ بابا سنتے سنتے تھک جاتے پھر بھی چپ نہ ہوئی تو کہتے کہ اجی اماں میرا دماغ خالی ہوگیاکتنے باتیں کرتے آخر؟

جی نہیں ،آپ اتہ پتہ بتائیں میں کوشش کرونگی ان شاءاللہ

ڈاکٹر جواد احمد خان said...

پان کی تہذیبی حیثیت پر بہت خوب لکھا۔ ایک وقت تھا کہ انڈیا سے ہجرت کرکے آنے والوں کے یہاں پاندان ہر گھر کا حصہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔ مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حیدرآبادی پان ید طولیٰ رکھتے ہیں جو ذائقہ حیدرآبادی پان میں ہوتا ہے وہ کہیں اور نہیں ملتا۔
اسکی خاص بات یہ ہے کہ کراچی میں بننے والے پان کے برعکس اس میں پیک نہیں بنتی اور ذائقہ لاجواب ہوتا ہے۔

کوثر بیگ said...

ذرہ نوازی ہے آپ کی۔۔اب پاندان کی جگہ کینیٹرے نے لے لی ہے جس میں سونف،سپیاری رکھی جاتی ہے اور بعض نے تو اس کو سرے سے غائب ہی کردیا۔
میں جب بھی حیدرآباد سے ااتی ہوں پان کے پتہ خرور لے آتی ہوں آپ تصویر میں دیکھ ہی رہے ہونگے وہاں کے پان بے حر نرم اور پکے ہوئے ہوتے ہیں جسے چار چار بھی بیڑے میں لگا کر کھاجائے تو منہ کو تکلیف نہیں ہوتی برخلاف دوسری جگہ کے پان سخت اور بے مزہ ہوا کرتے ہیں کچھ مسالہ اور بنانے والوں کا کمال بھی ہوتا ہے
بہہہت بہت شکریہ بھائی کمنٹ کے لئے ۔اللہ جزائے خیر دے

افتخار اجمل بھوپال said...

جی میں مذمت کے قابل رہتا تو مذمت کرتا ۔ شروع میں تو بچپن کے زمانہ کی ایک ہمسائی یاد آئیں جو ہر وقت پاندان اپنے پاس رکھتیں تھیں اور سروطے سے چھالیہ کُترتی رہتیں ۔ پھر میں حیدرآباد کی تہذیب میں کھو گیا ۔ نویں دسویں جماعتوں میں ایک دوست اور پھر ملازمت کے دوران ایک دوست دونوں حیدرآباد سے ہجرت کر کے آئے ہوئے تھے ۔ میرے خاندان کا بھی تھوڑا سا حیدرآباد کے ساتھ تعلق ہے ۔ اسلئے کبھی کبھی ذکر سُن کر کھو جاتا ہوں
میر لائق علی حیدرآباد کے آخری وزیر اعظم تھے ۔ ستمبر 1948ء میں حیدرآباد پر بھارت نے فوج کشی کی اور اُنہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تھا ۔ مارچ 1950ء میں وہ کسی طرح پاکستان پہنچ گئے تھے ۔ 1971ء
میں مدینہ منورہ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہیں

افتخار اجمل بھوپال said...

میر لائق علی کی یاد میں اسلام آباد کے قریب ایک شہر ”واہ“ میں ان کے نام سے ایک کمرشل سینٹر ہے جس کا نام میر لائق علی چوک ہے ۔ واہ میں پڑھے لکھے لوگوں کا تناسب 90 فیصد کے لگ بھگ ہے

کوثر بیگ said...

یعنی آپ حیدرآباد یوں کے خیال میں کھو گئے تھے پہلے کے لوگوں کو یاد کرو تو یقین ہی نہیں آتا کہ اتنے مہذب بھی کوئی رہ سکتے ہیں ان کی یادیں باتیں ہم کو گم ہی کردیتی ہیں۔ہاہاہا
میری پیدائش سے پہلے ہی وہ حیدرآباد سے جاچکے ہیں تو میرے دیکھنے اور جاننے کا سوال ہی نہیں ہوتا ہاں ہو سکتا ہے میرے دادا سے ان کی ملاقات ہوئی ہو کیونکہ آپ شہر کی بزرگ ہستی تھے ان سے بہت ساتھ لوگ ملنے آیا کرتے تھے۔میں میر لائق علی کے بارے میں اتنا ہی جانتی ہوں کہ وہ نظام حکومت کے آٹھوین اور آخری صدارت عظمٰی پر فائض رہیں ہیں ۔ ہاں البتہ چوتھے صدر اعظم مہاراجہ کشن پرشاد کی بیٹی میرے دادا کے ہاتھ پر اسلام لائی تھی وہ دادا کے بعد میرے بابا کے پاس بھی آتی تھی ان کی فیملی سے ہماری بہت ملاقات رہی ہے ۔آپ نے تو میرے ذہن کو اور کرید دیا ۔۔۔۔۔

کوثر بیگ said...

جواب دینے میں کچھ دیر ہوگئی اجمل بھائی معافی چاہتی ہوں دراصل یہاں جمرات جمعہ کو چھٹی رہتی ہے اور کچھ مصروفت بڑھ جاتی ہے ۔

taemeer.com said...

تعمیر نیوز کی کوشش ہے کہ سابق مملکت آصفیہ حیدرآباد دکن کی تاریخ کے تمام اہم گوشے اردو یونیکوڈ تحریر میں منظر عام پر لائے جائیں۔ اس سلسلے میں اس ربط پر ہر ہفتہ ایک نیا مضمون شائع کیا جاتا ہے۔
تاریخ دکن

حیدرآباد کے آخری وزیر اعظم میر لائق علی کے متعلق انشاءاللہ آنے والے منگل کو ایک تحریر شائع کی جائے گی۔

مکرم نیاز
چیف ایڈیٹر - تعمیر نیوز

کوثر بیگ said...

مکرمی نیاز بھائی بہہہت بہت خوش آمدید
میرے بلاگ پر تشریف لانے کے لئے شکریہ
یہ جانکر بہت خوشی ہوئی کہ حیدرآباد کی تاریخ بیان کی جارہی ہے اگر میرے لائق کوئی کام ہو تو ضرور کہیے گا مجھے خوشی ہوگی۔
اجمل بھائی کے پوچھنے کہ بعد میں نے ویکیپیڈیا پر میر لائق علی کے بارے میں پڑھا جو بہت مختصر ہے ان کے کیا خدمات رہے کچھ وضاحت نہیں ہے ان شاءاللہ آپ کے مضمون سے معلومات میں اضافہ ہوگا ۔پیشگی شکریہ
امید کہ ایسا ہی میرے بلاگ پر آپ کی نظر کرم رہے گی

Jhalak G said...

جی پڑھ کر ہی پان کا مزە آگیا، اور حیدرآبادی لب و لہجہ بھی ذہن میں تازە ہوگیا۔ ہاوٴ
ہمارے بلاگ کی کاوشاں بھی ملاحظہ کیجیئے گا

کوثر بیگ said...

بلاگ پر خوش آمدید ۔۔اللہ جزائے خیر دے۔

ان شا ءاللہ ضرور آپ کے بلاگ پر آتی رہونگی

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔