Thursday, February 28, 2013

۔ شہنشاہ رباعیات امجد ۔(حصّہ دوم)۔






امجد حید رآ با د ی



امجد حیدرآبادی بے بدل رباعی گو شاعر تھے،ان کے کلام میں کیفیت اور اثرموجود ہے۔ امجد نے اردو شاعری کی مختلف اضناف میں طبع آزمائی کی لیکن رباعیات میں ان کاکوئی ہمسر ہے نہ کوئی ثانی ۔اس فن میں وہ "امام الفن"کادرجہ رکھتےہیں اور انھیں اگررباعیات کا شہنشاہ کیا جائے تو بےجا نہ ہوگاکیوں کہ ان کی اکثروپیشتر رباعیات کا ماخذ قرآن اور حدیث ہے ان کی رباعیات میں عرفان وشق، فلسفہ اور اخلاق نظرآتے ہیں ملاحظہ کیجئے۔
واجب ہی کو ہے دوام باقی فانی
قیوم کو ہے قیام باقی فانی 
کہنے کو زمین وآسمان سب کچھ ہے

باقی ہے اسی کا نام ،باقی فانی


انسان کی زندگی کی دو سانسیں ہیں
ہر جان کی زندگی کی دو سانسیں ہیں
یہ کلمہ طیبہ کے دو جزو ہیں نہیں
ایمان کی زندگی کی دو سانسیں ہیں



لے لے کے خدا کا نام چلاتے ہیں
پھر بھی اثر دعا نہیں پاتے ہیں
کھاتے ہیں حرام لقمہ پڑھتے ہیں نماز
کرتے نہیں پرہیز دوا کھاتے ہیں

ہر چیز مسبب سبب سے مانگو
منت سے لجاجت سے ادب سے مانگو
کیوں غیر کے آگے ہاتھ پھلاتے ہو
گر بندے ہو رب کے تو رب سے مانگو


ہم باقی سب ہے فانی اللہ اللہ
ہے کون ہمارا ثانی اللہ اللہ
رحمت سے ہماری نا امیدی توبہ
اللہ سے یہ بد گمانی اللہ اللہ



نہ اب دور شباب باقی ہے
نہ اب دور شراب باقی ہے
ہو چکیں ختم لذتیں امجد
اب لذتوں کا عذاب باقی ہے


جب اپنی خطاؤں پر میں شرماتا ہوں
ایک خاص سرور قلب میں پاتا ہوں
توبہ کرتا ہوں جب گناہ سے امجد
پہلے سے زیادہ پاک ہو جاتا ہوں

امجد نے رودِموسی کی قیامت خیز تباہی و بر بادی پر "قیامت صغریٰ کے عنوان سےنظم لکھی اس کا کچھ حصہ ملاحظہ کیجئے




وہ رات کا سناٹا وہ گھنگھور گھٹائیں
بارش کی لگاتار جھڑی سرد ہوائیں



گرتا وہ مکانوں کا وہ چیخوں کی صدائیں
وہ مانگناہر اک کا رورو کے دعائیں



پانی کا وہ زور اور دریا کی روانی
پتھر کا کلیجہ ہو جسے دیکھ کے پاتی



اس طغیانی میں ان کی ماں ،بیوی اور بیٹی بہہ گئے تو انھوں نے کہا




مادر کہیں میں کہیں بادیدہء پرنم
بیوی کہیں اور بیٹی کہیں توڑتی تھی دم


عالم میں "نظرآتا تھا"تاریکی کا عالم
کیوں رات نہ ہو ڈوب گیا نیراعظم
سب آنکھوں کےسب نہاں ہوگئے پیارے
وہ غم تھا کہ دن کو نظر آنے لگے تارے




موسیٰ ندی کی طغیانی کے وقت امجد حیدرآبادی کے بچنےکا واقعہ میرے بابا کچھ ایسا سناتے تھے کہ جب اپنے گھر والوں کو مرتے اپنی آنکھوں سےوہ خود دیکھے اورخودکی موت کا یقین ہو گیا تھا تو ان کی جیب میں ان کے پاس کچھ پیسے تھے اس کا خیال آتے ہی انہوں نے سوچا کے آخری وقت میں یہ دنیا کا سامان کیوں رکھوں سوچ کر
نکل کر زور سے پھیکا اور وہ اس کی زور سے دورنکل آیے اور بچ گئے




ان کے احساسات وجذبات سے بھری ایک نظم پیش ہے ملاحظہ کریں




سن کتھا میری اچھی سہیلی
رات میں سورہی تھی اکیلی




آئی خوشبو مجھے عطر کی سی
چھوگئی سانس مجھ کو کسی کی


چھاگئی مجھ پہ بدلی کرم کی
بند آنکھوں میں بجلی سی چمکی

محو دیدہ رخ یار ہوں میں
خواب میں ہوں کہ بیدار ہوں میں
غم گدے میں میرے عید ہوگی
اب تو اٹھوں پہر دید ہوگی


میں تو اس وجد میں جھومتی تھی
اپنی قسمت کا منہ چومتی تھی




نا گہاں ایک ذرا آنکھ جھپکی
کڑکڑاکر گری غم کی بجلی

ہائے تقدیر نے رنگ بدلا
پھر یہ دیکھا کہ اس کو نہ دیکھا


اس نے جلوہ دکھایا ہی کیوں تھا
جانے والا پھر آیا ہی کیوں تھا؟


اب وہ ہم ہیں نہ وہ ہم نشیں ہے
ہائے سب ہوکے پھر کچھ نہیں ہے


اور کچھ بند اور حاضرخدمت ہیں۔
خالی ہے مکاں، مکیں پیدا کردے
دل میں میرے دل نشیں پیدا کردے
اے مردہ دلوں کو زندہ کرنے والے
شکی دل میں یقیں پیدا کردے


اس سینے میں کائنات رکھ لی میں نے
کیا ذکر صفات ذات رکھ لی میں نے
ظالم سہی جاہل سہی، نادان سہی
سب کچھ سہی تیری بات رکھ لی میں نے

حالِ دلِ دردناک معلوم نہیں
کیفیتِ روحِ پاک معلوم نہیں
جھوٹی ہے تمام علم کی لاف زنی
خاکی انسان کو خاک معلوم نہیں


نہ اب دور شباب باقی ہے
نہ اب دور شراب باقی ہے
ہو چکیں ختم لذتیں امجد
اب لذتوں کا عذاب باقی ہے

ہر آن چلا جاتا ہے ہنسنا رونا
ممکن ہی نہیں ہے ایک کروٹ سونا
معجون سُرور و دردمندی ہوں میں
مجموعہء پستی و بلندی ہوں میں


ہر گام پہ چکرا کے گرا جاتا ہوں
نقش کف پا بن کے مٹا جاتا ہوں
تو بھی تو سنبھال اے مرے دینے والے!
میں بار امانت میں دبا جاتا ہوں


غم میں ترے زندگی بسر کرتا ہوں
زندہ ہوں، مگر تیرے لئے مرتا ہوں
تیری ہی طرف ہر اک قدم اُٹھتا ہے
ہر سانس کے ساتھ تیرا دم بھرتا ہوں


ڈاکٹر۔ ق۔ سلیم کے مضمون سے کچھ لیا گیا ہے اور باقی میرا منتخب کیا ہوا ہے ۔

   بہت شکریہ بلاگ پر آنے کے لئے


۔۔

4 comments:

محمد وارث said...

واہ بہت خوب، یہ پوسٹ بھی بہت اچھی ہے۔

والسلام

کوثر بیگ said...

پسندیدگی کا بے حد شکریہ

اردہ تو کیا تھا کہ حیدرآباد کے اورشعرا سے متعارف کروں مگر آپ کے سوا کسی نے رسپانڈ ہی نہیں دیا ۔

Govt. High School Bhiri Khurd ghs bhiri khurd said...

بہت اچھےمیں تو اس سے قبل مجید امجد کے علاوہ کسی امجد سے ناواقف تھا ۔
آپ کا بہت شکریہ کہ میں امجد ھیدرآبادی سے واقف ہو گییا انتخاب بہت اچھا ہے۔

کوثر بیگ said...

بلاگ پر خوش آمدید

پسندیدگی کے لئے دلی شکریہ

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔