Monday, May 28, 2012

ہم مسلمان ایک جسم ایک جان




السلام علیکم

 
ہیں جذب باہمی سے قائم نظام سارے
 
پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں

میرے معزز بھائیوں اور پیاری بہنوں :۔۔ ہم سب اللہ کے بندے ہیں اور آپس میں بھائی بھائی ہیں ایک ساتھ دنیا میں رہتے ہیں تو کیوں نہ ہم خوش گوار ماحول بنائیں کیوں نہ ہم ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے شریک رہیں آج آپ کسی کی تکلیف میں ساتھ دیگے تو کل دوسرے اللہ نہ کرے کبھی ایسا وقت آئے تو وہ بھی آپ کی تکلیف میں خود کو بے چین و بے قرار محسوس کریں گے اور آپ کا شریک غم اور اس کو دور کرنے کی کوشش میں شامل ہوگے ۔ ِاس ہاتھ دے ُاس ہاتھ لے یہ ہی قانونِ دنیا ہے ۔ اگر آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ ہمیں مل جل کر رہنے کی اشدی ضرورت ہے ہم ملکر رہیں تو بڑے سے بڑا معرکہ سر کر سکتے ہیں.


 شاید آج ہم مسلمانوں کے زوال کی وجہ بھی یہ ہی ہے ہم اپنوں کو دور کررہے ہیں ہم اپنے مسلمان بھائی کو تکلیف ،دھوکا ،فریب دےکر سمجھتے ہیں کے ہم خوش رہیں گے ایسا سوچتے ہیں تو ہم غلط ہیں ہم اپنے جڑ خود کاٹ رہے ہیں۔ اتحاد ہمارے وقت کی شدید ضرورت ہےاب ہمیں مان لینا چاہیے کہ اتحاد میں برکت ہےمتحد رہنے ہی میں ہماری بقا ہے پھر ہمارے بڑوں نے بھی ہمیں ایسا ہی سکھایا ہے جو ہمیں نہیں بھولنا چاہیے اور پھر ہمارا دین ِفطرت یعنٰی اسلام کی تعلیمات بھی ہمیں یہ ہی سکھاتی ہے
آئیے دیکھے اس مسئلہ پر ہمارے پیارے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کیا فرماتے ہیں ۔


عن النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى))
. رواه البخاري (5665)، ومسلم(2586)، وأحمد، واللفظ لمسلم.



رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ :تم مسلمانوں کو آپس کی رحمت،آپس کی محبت،آپس کی مہربانی میں ایک جسم کی طرح دیکھوگے ،جب ایک عضو بیمار ہو جائے تو سارے جسم کے اعضاءبے خوابی اوربخار کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔



اس ارشاد مبارکہ سےمسلمانوں کے باہمی ربط وتعلق،انس ومحبت اخوت وبھائی چارگی،رحم ومروت اور شفقت اور مہربانی کے موثر حقائق معلوم ہوتے ہیں ۔ لیکن بحثیت مجموعی ایک جسم سے تشبہہ دی گئی ہے اور اس کے ذریعہ واضح فرمایا گیا کہ جس طرح بدن کا ایک حصہ بیمار ہوجائے تو سارے جسم پر اس کا اثر پڑتا ہے،دیگر اعضائے بدن بھی بیماری کے اس اثر کو قبول کرتے ہوئے بے خوابی اضطراب اور بے آرامی محسوس کرنے لگتے ہیں قوم مسلم کا یہ ہی حال ہے اگرکوئی ایک مسلمان تکلیف میں مبتلا ہوجائے تو پوری قوم اس کا درد محسوس کرتی ہے ۔ یہ درحقیقت ان کے آپسی رحم وہمدردی،انس ومحبت اور مہربانی کا لازمی اور فطری نتیجہ ہے ۔



اسی طرح ایک اور روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں، اگر اس کی آنکھ دکھے تو سارا جسم بیمار ہو جائے اور اگر اسکا سر درد کرے تو جسم بیمار یو جاوے ۔
اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں کی وحدت واجتماعیت کو ایک عمارت کی مانند قرار دیا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى- رضى الله عنه - عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا . وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ
البخاري المظالم والغصب 2314
رسول کریم کا ارشاد ہےکہ “مسلمان مسلمان کےلئے دیوار کی طرح ہیں کہ اس کا بعض سے بعض مضبوط ہوتا ہےاور اپنی انگلیوں کو گتھا دیا
دیکھو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا اچھی طرح سمجھا تے ہیں ہم کو متحد رہنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ گھر کی تعمیر کے لئے ایک اینٹ کا دوسری اینٹ سے ملکر رہنا ۔ ہم اپنی عبادت بھی اجتماعی کرتے ہیں جیساپانچ وقت نماز، عیدین کی نماز جمعہ کی نماز اور حج اور خوشی بھی ملکر مناتے ہیں جیسے شادی،عیدین وغیرہ۔جب ہم آپس میں ملاقات کریگے تو اخلاص بڑھے گا اور باہم محبت قائم ہوگی اور ایک دوسرے کے خیر خواہ رہنگے



ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے بعیت لیتے کے وہ ،مسلمانوں کی خیر خواہی کریں گے
فعن جرير بن عبد الله ـ رضي الله عنه ـ قال: ((بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى إِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ)). [البخاري باب البيعة على إقام الصلاة501].



نماز زکات جیسے فرائض کے ساتھ خیرخواہی کوشامل رکھ کر اس کی ضرورت اور اہمیت اس حدیث سے ظاہر ہوتی ہے۔ خیر خواہی دلوں میں انس پیدا کرتی ہے محبت بڑھا تی ہے اور اتحاد قائم رکھتی ہے۔
سارے مسلمان آپس میں اسلام، اخلاق،ایثار ومروت ومحبت ومودت میں ایک جسم کے مانند ہیں ۔ وہ ایک دوسرے سے اس قدر متعلق ومربوط ہیں جس طرح دیوار ہوتی ہے کہ اسکے مختلف حصےایک دوسرے کے لئے قوت واستحکام کا باعث ہوتے ہیں ۔

 
حضرت عبداللہ ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا "تم لوگ جماعت میں رہنے کی کوشش کرو اور فرقہ بندی سے بچو" اس لئے کہ شیطان تنہا آدمی کو بہکا دیتا ہے ۔ اور ایک سے زیادہ لوگوں کو بہکانا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے ۔اگر تم جنت کے خواہشمند ہو تو شیرازہ بندی اور جماعت کو لازمی جانو ۔اور مومن وہ ہے جسے نیک کاموں سے خوشی اور گناہوں سے تکلف ہوتی ہے 

روئے زمین پر مذہبِ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے دنیا کے ہر مسائل کی یکسوئی کے لئے رہنمائی کی ہے چاہے وہ کوئی بھی مسئلہ ہوقرآن و حدیث کے مطالعہ کے بعد پتہ چلتا ہے کہ دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کا حل قرآن و حدیث نے نہ پیش کیا ہو۔آج ہم سب کو ایک ہونے کی سخت ضرورت ہے آئیے ہم بھی عہد کرتے ہیں کے ہم اپنے دوسرے بھائی کی ہر کمی پیشی،خامی و کمزوری کو بھولا کر ایک ہو جائیگے اور نہ صرف کہیں گے بلکہ دل وجان سے مانیں گے بھی کہ ہم سب ایک جسم ایک جان ہیں ۔۔۔۔

 

فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
 
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

 

میرے بلاگ پر تشریف فرمانے کا شکریہ
 

 

0 comments:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔