Showing posts with label چناؤ. Show all posts
Showing posts with label چناؤ. Show all posts

Thursday, October 15, 2015

ایک شگفتہ تحریر

   
السلام علیکم

، ون اردو فورم پر ہم رمضان میں  بہت مزہ کیا کرتے تھے ایک دوسرے پر
  خاکے لکھا کرتے خیالی سحری کا حال لکھتے اور افطار و سحری کے پکوان ایک دوسرے کو بتایا کرتے اب ون اردو سائیٹ بند ہوگئی مگر یادیں ابھی بھی دماغ میں محفوظ ہیں وہ سارے ممبرز ابھی بھی یادوں میں دعاوں میں شامل رہتے ہیں آپ سب نے کائنات جی کا لکھا "کوثر بیگ کی سحری " تو پڑھا ہی ہے اب ون اردو  کی ایک اور ممبر اور فیس بک کے ون اردو پیچ کی ایڈمین نے بہت پہلے ایسے ہی  ایک خیالی انٹرویوں میرا اور آمنہ جی کا ملاکر لکھا تھا  آپ سب کے لئے اسے شیئر کررہی ہوں اسےپڑھیں اور محظوظ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ناظرین

آج پھر سے دو عدد نہایت معزز محترم شخصیات کے پول لے کر میں ہوں ثنا بچہ۔۔۔۔۔۔اوہ سوری میں ہوں ایک نہایت مشہور صحافی جو کہ بالکل بھی نہ بکتی ہے نہ جھکتی ہے ہاں پوائنٹس آتے نظر آئیں تو بس اپنے کہے ہوئے میں تھوڑا ردو بدل کر لیتی ہوں ۔۔۔یہ کوئی بے ایمانی تو نہ ہوئی نا۔۔۔

تو جناب آج ہم اس فورم کی دو مشہور اور ذرا بزرگوار ہستیوں کے ساتھ کچھ 
ٹایم گزاریں گے ۔۔
اور آُپ کا وقت بھی گزروائیں گے ۔۔زبردستی


اچھا جی تو ہوا کچھ یوں کہ عمران بھائی کی حالت پڑھ کر لبنی کا بہت دل للچا رہاتھا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہوتیں تو اس بار کیمرہ مین کی جگہ لبنی یہ فرائض انجام دیں گی ۔۔۔

تو لبنی جو کہ آج کل ذرا کمزور ہو گئی ہے دوسروں کو کھانے پر ڈانٹتے ڈانٹتے ایسی عادت ہوئی کہ خود بھی جب کھانا کھانے بیٹھتی ہے تو اپنے آُپ کو ڈانٹ کر کھانا چھوڑ دیتی ہے بےچاری ۔۔۔

دماغ پر اثر ہو گیا نا
تو جب لبنی جی نے کیمرے کو اٹھانے کی کوشش کی تو اس کے وزن سے نیچے جا گریں ۔۔اور کیمرے کے نیچے سے انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالا گیا۔۔ذرا سانس بحال ہوئی تو نعرہ لگا کر اٹھیں کہ ہمت عورتاں مدد خدا
اور کیمرہ اٹھا لیا۔۔

ان کی اتنی بڑی اچیومنٹ پر ہماری پوری ٹیم نے کھڑے ہو کر ایک منٹ تک تالیاں بجائیں ۔۔

ہمارا ارادہ تو تھا کہ پانچ منٹ تک بجوائی جاءیں لیکن لبنی نے کہا کہ اس سے 
پہلے کہ میں دوبارہ مٹی کی سوندھی خوشبو سونگھنے کے لیے زمین بوس ہو جاوں اب چلو۔۔
تو جناب ہم نے اپنی ہر دلعزیز کوثر آپی کے گھر کی راہ لی ۔۔اس بار حیرت انگیز طور پر نہ کسی سے پوچھا اور نہ ہی بھولے کیونکہ ایڈریس یاد تھا۔۔۔

دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک پیاری سی لڑکی باہر نکلی ۔۔ہم نے کہا کہ جی ہم کوثر آپی سے ملنے آیے ہیں ۔۔وہ بولیں ۔۔
جی ضرور خوش آمدید اندر آئیے۔۔
ہم ان کے ہمراہ اندر گئے ۔ہمیں بیٹھانے کے بعد وہ خود بھی سامنے والے صوفے پر براجمان ہو گئیں ۔۔
ہم سمجھے شاید ان کو کیمرہ میں آنا ہے اس لیے یہیں بیٹھ گئی ہیں ۔۔
پھر سے پوچھا جی اپنی امی کو بلا دیں ہمیں ان سے ملنا ہے ۔۔۔
جواب آیا۔۔۔
پیاری رفعت اور پیاری کمزور سی لبنی۔۔۔۔۔امی باوا کو نکو بلا سکتے نا وہ تو حیدر آباد میں ہوتے نا۔۔

ہائیں ۔۔ہم حیران پریشان ۔ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے ۔۔۔
کہ کوثر آُپی فورم میں اعلان کیے بغیر ہی چلی گئیں ۔۔
ان کو کہا ۔۔
دیکھیں آُپ کی امی کیسے فورم کے سب بہن بھائیوں کو اپنا کہتی ہیں اور بنا بتائے ہی انڈیا چلی گئیں ۔۔۔(دل میں کہا۔۔۔۔کیسی بے مروت نکلیں ۔۔ہم کون سا ان سے انڈیا سے ساڑھیاں منگوا لیتے ۔۔۔)۔

وہ بولیں ۔۔۔

مذاخاں نکو کرو جی ۔۔۔میں ایچ تو کوثر ہوں ۔۔
اب تو حد ہی ہو گئی ۔۔
لبنی یہ سن کر لڑکھڑائی ۔۔کیمرہ میرے اوپر گرتے گرتے بچا،،فورا سے لبنی کو سہارا دلایا اور زمین کی طرف دکھایا۔۔کہ لبنی یہاں مٹی کی سوندھی خوشبو کی کارپٹ بچھا ہے سیدھی کھڑی رہو۔۔براداشت کرو یہ صدمہ۔۔۔

ہم نے ناگواری سے کہا۔۔
دیکھیں آُپ کا ہمارا کوئی مذاق نہیں ہے کوثر آپی کو بلائیں ۔۔

بولیں ۔۔
اجی دھوکہ کھا گئے نا آُپ لوگاں بھی ۔۔سب یہ ایچ کرتے۔۔فورم پر اپنے آپ کو بڑا بتائی اس لیے کہ سب میری بات سنیں اور میری عزت کریں ۔۔ویسے تو ابھی تو میں جوان ہوں ۔۔۔۔
اوہ اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ایک گہری سانس لی ۔۔
لیکن آپ تو فورم پر کہتی ہیں میرے بچے بڑے بڑے ہیں پوتے پوتیاں ہیں تو یہ سب کیسے ۔۔۔؟؟

بولیں ۔۔
پیاری رفعت ۔۔
دیکھو نا بہنا کیا بڑے بڑے بچوں کے اماں باوا بڈھے ہو جاتے ۔۔۔
لیکن اب مجھے خطرہ ہو رہا ہے ۔۔سب مجھے زیادہ ایچ بڑی اماں بناتے۔۔مجھے غصہ بھی آتا ہے لیکن کیا کروں ۔۔اب سوچ رہی ہوں میں بھی ثمرین کی طرح دھماکہ کر کے سب کو سچ سچ کی اپنی عمر بتا ایچ دوں ۔۔

ہم نے انہیں دھماکے سے روکا کہ ہمارے جانے کے بعد کیجیے گا ۔۔
کوثر آپی بولیں ۔۔
پیاری رفعت اور پیاری لبنی۔۔۔آپ ایک منٹ ادر ایچ بیٹھو میں آتی ہوں ۔۔
ان کے جانے کے بعد پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک صاحبہ اخبارات کا ڈھیر اپنے سامنے رکھے چشمہ ناک پر ٹکایے ہوئے نہایت تیزی سے کچھ لکھتی جا رہی ہیں ۔۔

پاس جا کر دیکھا تو وہ ہم سب کی استانی جی ام فوزان تھیں۔۔ہم خوش ہو گئے کہ ایک ٹکٹ میں دو مزے ۔۔
جھٹ ان کے پاس جا کر سلام مارا۔۔
نہایت غصے سے سر اٹھایا
سلام کا جواب دیا۔چشمہ درست کیا اور فرمایا۔۔
بس اسی لیے تو کہتی ہوں اب بہت ہو چکا اس قوم کو انقلاب کی ضرورت ہے ۔۔ان کی سوچ میں ارتقا ہی نہیں ہے ۔۔کوئی ادب لحاظ کچھ نہیں ۔۔استاد کی عزت تو اب ختم ہو گئی بالکل ۔۔


ہمارا وہ حال کہ بس کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔۔۔کہ کہیں ٹیچر جی نے تشدد شروع کر دیا تو جیو پر ہم بگڑے چہرے کے ساتھ کیسے لگیں گے نا ۔۔۔
سو ڈرتے ڈرتے عرض کیا۔۔
کیا ہوا آمنہ جی کوئی غلطی ہو گئی کیا?
جواب آیا ۔۔۔
غلطی۔۔۔۔ آپ اسے غلطی کہتی ہیں ۔۔میرے بس میں ہو تو ایسی گستاخی پر ٌپھانسی لگوا دوں ۔۔
ڈر کے مارے ہاتھ پاوں کانپنے لگے اور میرے ہاتھ پاوں کی تو خیر تھی ڈر تو لبنی کا تھا کیمرہ اگر آمنہ جی کے اوپر گرتا تو ہم تو شہید ہی ہو کر نکلتے اس گھر سے ۔۔۔
گھگھیاتے ہوئے پوچھا ہمارا قصور تو بتائیں ۔۔
بولیں ۔۔
میں نے کوئی سو نیوز پیپر پڑھ کر ریسرچ کرنے کے بعد ابھی بلاگ لکھنا شروع کیا ہی تھا کہ آپ نے آکر سارا کام خراب کر دیا۔۔۔۔۔۔اب اگر میں نے بلاگ نہ لکھا تو سب کیا سمجھیں گے ؟میں نے سوچا تھا پہلے بلاگ لکھوں گی جب اس پر کمنٹس آءیں گے پھر اسی بلاگ کا تھریڈ شروع کر لوں گی ۔۔جب خوب تپ جاءے گا تھریڈ تو اخیر میں سب کو کہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔کہ ابھی ہم بات چیت کرنے کے لاءق نہیں ہوءے ہماری سوچ ابھی پستی میں ہے اس میں ارتقا کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔پھر میں غصے سے ٹاپک لاک کروں گی ۔یا میں نہیں کروں گی تو اپنی وارننگ باجی آجاءیں گی ۔۔ اور تھریڈ لاک ہو جایے گا ۔۔۔۔۔۔۔لیکن پھر میں اگلے مہینے کے میگ میں وہی تحریر پھر سے بھیج دوں گی ۔۔۔۔۔۔پھر اس سے اگلے مہینے اس پر تبصرہ آیے گا کہ آمنہ جی کی تحریر پر تو ایک تھریڈ بنتا ہے ۔۔۔۔۔میں پھر سے نام بدل کر وہی تھریڈشروع کر دوں گی ۔۔۔۔پھر سے گرما گرمی ہو گی ۔۔۔۔میرے تھریڈکی ریٹنگ ارتقا پر پہنچ جایے گی ۔۔۔۔لیکن وارننگ باجی پھر سے بند کر دیں گی ۔۔۔۔پھر میں دوبارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ہماری برداشت ختم ہو چکی تھی ۔جلدی سے بولے ۔۔
جان کی امان پاءیں تو ہم بھی کچھ عرض کریں۔۔
جواب آیا۔۔۔۔۔۔۔۔جی جی بولیے مجھے تو ویسے بھی زیادہ بولنے کی عادت نہیں ہے ۔۔
۔۔۔۔۔۔مجھے وہ لوگ سخت برے لگتے ہیں جو زیادہ بولیں۔۔زیادہ وہی لوگ بولتے ہیں جن کی سوچ میں ارتقا نہیں ہوتا ۔۔اور جن کی سوچ ارتقا تک نہیں پہنچے گی وہ ایک ملک کیسے چلا سکتے ہیں بس اس ملک کو انقلاب کی ضرورت ہے ۔ایسے انقلاب کی جس میں وہ لوگ سامنے آءیں جن کی سوچ میں ارتقا ہو ۔۔
ابھی وہ سانس لینے کو رکیں تو ہم نے جلدی سے پوچھ لیا۔۔۔

آمنہ جی یہ بتائیں ۔کہ استاد کی عزت کم کیوں ہوکئی ہے ہمارا نظام تعلیم کیوں اس قدر گر گیا ہے؟؟

جواب آیا۔۔
ہمم۔۔۔۔۔لگتا ہے کچھ معقول لوگ ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔دیکھیے جی آج کل استاد ایک نسل کو سنوار نہیں رہا بلکہ اچھی سیلری کے لیے بچے پڑھا رہا ہے ۔۔بلکہ میں تو کہوںگی گدھے ہانک رہا ہے ۔۔۔گدھے کا تو پتا ہے نا آپ کو ۔۔(ساتھ ہی ہمیں ایسی نظروں سے دیکھ کر مسکرائیں جیسے گدھے دیکھ لیے ہوں۔۔۔۔)تو جب استاد اپنی ذمے داری سمجھ کر پوری نہیں کرے گا تو شاگرد اس کی عزت کیسے کرے گا ۔۔۔۔ویسے بھی آج کل شاگرد جو ہیں ان کی سوچ ابھی پختہ نہیں ہوئی ابھی ارتقا تک نہیں پہنچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اففف پھر سے ارتقا۔۔دل چاہ رہا تھا کہ دیوار سے ٹکریں ماریں لیکن اخلاق اتنا اچھا ہے ہمارا کہ ہم دونوں ہی مسکراتی رہیں ۔۔۔۔۔)

اتنے میں کوثر آپی واپس آگئیں اور بولیں ۔۔۔

ارے پیاری رفعت اور پیاری لبنی ۔۔۔۔آپ دونوں ادر آجائے نا۔۔آمنہ بہن بہت اچھی ہیں پڑھی لکھی اچھا اچھا سوچنے والی ۔۔تو ان کو ان کا کام کرنے دیتے ہیں تاکہ وہ اچھی باتاں ہم کو بھی سکھائے۔۔۔۔
ہم کوثر آپی کو دعائیں دیتے ہوئے جھٹ ادھر سے اٹھ گئے ۔۔
کوثر آپی بولیں ۔۔۔میں عاجز اور معصوم بندی بہت خوش ہوں کہ آپ دونوںپیاری بہنوں نے میرے گھر کو اس قابل سمجھا اور یہاں قدم رنجہ فرمایا۔۔۔
(ہم تو خوشی سے پھولنے ہی لگے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر اپنے اپنے پیارے ہونے کا یقین کیا۔۔۔)

ہم نے سوال کیا۔۔۔

کوثر آپی آپ کا لہجہ اتنا عاجزانہ کیوں ہے ?
بولیں۔۔
پیاری رفعت ۔۔بات یہ ہے کہ میں تو چھوٹے ہوتے سے ایسی ایچ ہوں۔۔۔میرے بچے تو مجھے امی نہیں بلاتے عاجزانہ امی بلاتے۔۔صاحب بھی عاجزانہ ہی بلاتے۔۔۔اب تو مجھے اپنا اصل نام ہی بھول جاتا ہے ۔۔۔کبھی کبھی مجھے برا لگتا غصہ آتا لیکن میں غصہ پی جاتی ہوں ۔۔نام کی لاج رکھنے کو ۔۔(ان کا چہرہ شاید اندرونی غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔)ایک دم بولیں ۔۔۔۔۔پیاری رفعت میں ابھی ایچ آئی۔۔۔
(اور اٹھ کر چلی گئیں)

ہم نے ذرا سی نظر پھر سے دوسری طرف پھیری آمنہ جی دھڑا دھڑ لکھے جا رہی تھیں۔۔۔۔اچانک چشمے کے اوپر سے ہمیں دیکھا ۔۔۔اور نوکر کو آواز دی ۔۔
(ہم دونوں ہی ڈر گئیں کہ بس شاید آخری وقت آگیا۔۔یا دھکے دے کر نکلوائیں گی ہمیں یہاں سے ۔۔۔)
لیکن وہ بولیں۔۔۔
بیٹا ذرا اوپر جاو پانی کی ٹینکی کے اوپر شاپر میں کچھ سوچ ڈالی ہوئی ہے ارتقا کے لیے ۔۔آج کے لیے کافی ارتقا ہو گیا ہو گیا اسے دھیان سے نیچے اتار لاو ۔۔باقی ارتقا کل لائیں گے ۔۔۔۔۔

لبنی نے مجھے دیکھا میں نے لبنی کو ۔۔۔۔ہنسنے کا بہت دل ہو رہا تھا۔۔لیکن ہمیں 
اپنی جان عزیز تھی ۔۔لبنی نے جھٹ کیمرہ رکھ کر کاپی پین نکالا ۔۔میں نے بھی پیپر پر جھٹ سے لکھنا شروع کیا اور ایک دوسرے کو ٹرانسفر کیا۔۔۔۔اور سمائیل دی ۔۔۔
کاغذ پر لکھا تھا ۔۔۔۔
ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کرتے ویسے تو نہیں ہنس سکتے تھے نا ۔۔۔۔
اس وقت واقعی ہمیں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہوا ۔۔اگر ہمیں لکھنا نا آتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہنسی کافی مہنگی پڑتی نا


کوثر آپی پھر سے واپس آگئیں ۔۔۔منہ میں کچھ ڈالا ہوا تھا۔۔۔
ہم نے اگلا سوال کیا۔۔۔۔

لیکن آپی اتنا عاجزانہ پن کیوں۔۔۔۔کیا آپ کو واقعی غصہ نہیں آتا??
بولیں۔۔۔۔پیاری رفعت۔۔۔۔ایسا تو نئیں ۔۔کہ مجھے غصہ نہ آئے ۔۔کئی بار اتنی فضول پوسٹ پڑھنے کو ملتیں فورم پر ۔۔۔سخت غصہ میں دل کرتا کہ جس کی پوسٹ ہے اس کو قتل کروادوں۔۔لیکن اس سے امیج خراب ہو سکتی ہے نا ۔۔اس لیے بس دھیان رکھ کر بول دیتی ہوں کہ بہت اچھی پوسٹ کی۔۔۔اندر سے تو دل کرتا ہے کہ بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ایک دم سے چہرہ سرخ)
بولیں ۔۔۔پیاری رفعت میں ابھی آئی۔۔۔۔
اب کی بار ہم نے پیچھے دیکھنے کی غلطی نہیں کی ۔۔۔
کوثر آپی واپس آئیں ۔۔

ہم نے پوچھا آپی چلیں یہ بتائیں کہ کھانے میں کیا اچھا بناتی ہیں?
ابھی کچھ بولنے ہی والی تھیں کہ اندر سے آپی کی بیٹی روتی ہوئی آگئیں۔۔۔
اور بولیں۔۔۔۔۔امی یہ کیا کرتے آپ ۔میں چائے کیسے بناوں پورے ہفتے کی چینی آپ آج ہی ختم کر دی ۔۔۔اب پورا ہفتہ ہم کیا کریں گے ۔۔۔اور آپ کو چینی نہ ملے تو شامت تو ہماری آنی ہے ۔۔۔آپ چینی نہیں کھائے گے تو ہم پر غصہ ہوتی رہیں گی ۔۔۔اب میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔

کوثر آپی نے بیٹی کو گھورا ۔۔۔۔اور بولیں پیاری رفعت پیاری لبنی اچھی بہنو ادر ایچ بیٹھو میں ابھی آتی۔۔۔۔

وہ تو چلی گئیں۔۔۔
اور ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بھاگنے کا ارادہ کیا۔۔۔ لبنی جی جوش میں کیمرہ ایک ہاتھ میں منتقل کیا تو دھڑام سے میرے اوپر آگریں۔۔۔۔میں نے نہایت غصے سے کیمرہ چھینا اور لبنی کو کہا۔۔۔۔
دیکھنا اب اگلی باری تم کو کہیں نہیں لے کر جاوں گی تمہاری جگہ ثمرین کو لے جاوں گی وہ کم از کم تمہاری باتوں میں آکر کھانا پینا تو نہیں چھوڑتی ۔۔۔
لبنی یہ سن کر نہایت خونخوار انداز میں میری طرف بڑھی ۔۔۔اور میں نے جان بچانے کے لیے باہر کی طرف دوڑ لگا دی
........................................................

تحریر! میری پیاری دوست رفعت کی ہے ۔ 

Monday, January 20, 2014

ایک عظیم الشان تاریخی مسجد (مکہ مسجد)

مکہ مسجد کی بہت پرانی ایک تصویر


بارہ ربیع اول پر  لی گئی تصویر









 آصف جاہی بادشاہوں کی قبریں










السلام علیکم

میری پیاری بہنوں اور محترم بھائیوں
آج میں آپ سب کو اپنے حیدرآباد شہر کی ایک بہت ہی خوبصورت بڑی اور اہم مکہ مسجد کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں امید ہے کہ آپ لوگ اس سے
متاثر ضرور ہوگے۔

مکہ مسجد ہندوستان کے شہرحیدرآباد دکن کی ایک عظیم الشان مسجد ہے ۔ جس کی تعمیرسلطنت حیدرآباد کے چھٹے سلطان محمد قطب شاہ  نے 1027ھ عسوی1617 میں زیر نگرانی میرفیض اللہ بیگ دروغہ و رنگیا عرف ہنر مند خان چودھری سے شروع کرائی اور آٹھ ہزار مزدروں نے 77سال تک لگاتار تعمیری کام انجام دیا ۔

 سلطان عبداللہ قطب شاہ سابع اور سلطان ابوالحسن قطب شاہ ثامن کے عہد تک اس کی تعمیر کا سلسلہ بصرفہ آٹھ لاکھ روپیہ جاری رہا اور شہنشاہ اورنگ زیب کے زمانہ میں اس کی تعمیر اختتام کو پہچی،مسجد کی مزید آرائش کے لئے جب باشاہ عالمگیر سے عرض کیا گیا تو ارشاد ہوا کہ
کار دنیا کسے تمام نہ کرو
ہرچہ گیرید مختصر گیرید

اس مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں ایک دل چسپ واقعہ مشہور ہے کہ جب اس  مسجد کی بنیاد کا پتھر رکھنے کا وقت آیا تو شاہی نقیب نےعلما ؑ و فضلاِ شہر
کو دعوت دے کرفرمایا کہ یہاں موجود افراد میں سے وہ فرد آگے بڑھے جس شخص کی بارہ سال سے نماز قضاٗ نہ ہوئی ہو وہ اس خانہ خدا کا سنگ بنیاد اپنے ہاتھ سے رکھے ۔ لیکن حاضرین سے کوئی سامنے نہ آیا۔ اس پر بادشاہ محمد قطب شاہ آگے بڑھے اور قسم کھا کر اعلان کیا کہ  بارہ سال کی عمر سے اس وقت تک میری کوئی نماز قضا نہیں ہوئی اور میری تہجد کی نماز بھی قضا نہیں ہوئی  ہے محمد قلی قطب شاہ نے اپنے ہاتھوں سےاس مسجد کا سنگ بنیاد رکھکر مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا۔

بلحاظ رفعت و شان دکن میں یہ اس قدر بڑی مسجد ہے کہ بوقت واحد اس میں دس ہزار مصلی بخوبی نماز اد کرسکتے ہیں۔ مسجد کی عمارت 225فٹ طویل 180فٹ چوڑائی ہے اور اونچائی75فیٹ ہے۔ بیرونی احاطہ مستطیل وضع کا ہےجس کا چبوترا 360فٹ مربع ہے ۔ چھت کے نیچے تین قطاریں پندرہ پندرہ کمانوں کی ہے ۔اور ہر قطار کے آخر میں شمالی جنوبی گوشوں پر سو سو فٹ کے بلند گنبد ہیں ۔ مسجد تین تین دالان در دالان پر مشتمل ہے ۔ جن کے اندر پندرہ اور باہر پانچ کمانیں ہیں سامنے کے رخ کے دو مینارصحن مسجد میں سنگ موسی کی دھوپ گھڑی اور صدر دروازہ عہد عالمگیر کی یادگار ہیں ۔

مسجد  کے صحن میں کنارہ پر جس کے پاس آٹھ آٹھ فٹ کی لانبی سلیں رکھی ہیں جن پر مصلی بیٹھ کر وضو کرتے ہیں ۔ کہاجاتا ہے کہ یہ سلیں میسرم کے
محل میں پہلے نصب تھیں جو اب منہدم ہوچکا ہے ۔اس مسجدکےبلند ستون ایک ڈال پتھر کے تراشیدہ ہیں ۔
اور مو سیو تھنیو کا بیان ہے کہ:پچاس برس ہوئے کہ جب سے یہاں ایک عظیم الشان معبد بن رہا ہے اگر یہ پورا بن گیا تو تمام   ہندوستان کے معبدوں سے بڑا ہوگا ۔اس میں ایسے بڑے بڑے پتھر لگاتے ہیں کہ دیکھنے سے حیرت ہوتی ہےخاص کر وہ محراب جہاں وہ نماز پڑھتے ہیں سب سے زیادہ تعجب انگیز ہےوہ ایک ہی عظیم الشان پتھر کی بنی ہوئی ہے جس کو پانچ چھ سو آدمیوں نے علی التواتر پانچ برس کام کرکے کان سے بنا کرنکالا ہے اور اس کو اس معبد تک لانےمیں اس سے بھی زیادہ مدت لگی ہے ۔لوگ بیان کرتے تھے کہ اسے ایک ہزار چار سو بیل کھیچ کر لاءے ہیں( 25جے بی ٹیور نیر فرانسیسی تاجر کا سفرنامہ)۔

سلطان محمد قطب شاہ اس مسجد کا تاریخی نام بیت العیق رکھے تھے لیکن بادشاہ اورنگ زیب کے زمانہ میں اس کا نام ،،مکہ مسجد،،مشہور ہوگیا۔اس مسجد کی تعمیر پر تیس لاکھ ہُون صرف ہو ئےتھے۔ایک شاعر نے مکہ مسجد کی تعریف میں حسب ذیل بیت نظم کرکے گزرانی تھی

طواف کعبہٗ اشرف میسرت گر نیست
یابہ کعبہ ئ ملک دکن عبادت ُکن

اس کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ سلطان محمد قطب شاہ نے مکہ معظمہ سے مٹی منگوا کر اس کی اینٹیں بنوا کر اس میں نصب کرائی تھیں چنانچہ
وسطی کمان کے اوپر یہ اینٹیں اس وقت تک موجود ہیں (تاریخ ماثر دکن مولف سید علی اصغربلگرامی)۔
برآمدے کے ایک کونے میں آصف جاہی بادشاہوں کے مزار بھی ہیں۔
یہ مسجد قدیم شہر کے قلب میں واقع ہے اس کے روبرو سڑک کے دوسرے حصہ میں عثمانیہ دواخانہ ہےاور یہ چارمینار کے جنوب مغرب میں سو گز دور واقع ہے۔
دوسری طرف لاڈ بازار اور چومحلہ پیلس ہیں۔
یہ ہمیشہ نمازیوں سے پر رہتی ہے جمعہ ،عیدین اور رمضان میں  تو اس کی رونق قابل دید ہوا کرتی ہے ۔ ان خاص موقعوں پرمسجد سے نکل کر نمازی سڑک پرسے ہوتے ہوئےچارمینار سے آگے پتھر گٹی تک صفیں آجاتی ہیں۔ اور سیاح بھی کثیر تعداد میں دیکھنے کے لئےآتے ہیں اللہ اس مسجد کو ہمیشہ آباد رکھے۔آمین
 
------------------------------------------------------

Wednesday, July 10, 2013

روزہ خواہشات نفسانی کو روکنے کا موثر ذریعہ

 
 
السلام علیکم
 
 اسلام کے دیگر بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن روزہ ہے۔
رسول اللہؐ نے روزہ کو ڈھال قرار دیا ہے۔ گویا ایک بندہ مومن روزہ کے ذریعہ خود کو وساوس شیطانی سے محفوظ رکھتا ہے۔ جیسا کہ ایک مجاہد میدان کارزار میں مدمخالف کے حملوں سے ڈھال کے ذریعہ اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح روزہ خواہشات نفسیانی کو توڑنے اور کچلنے کا موثر ذریعہ ہے۔ روزہ جس طرح انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے بعینہ جسمانی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے اور روزہ فاسد مادہ کو ختم کرتا ہے۔
 
رسول اللہؐ نے فرمایا کہ روزہ رکھا کرو‘ تندرست رہو گے۔ دیگر عبادتوں کا ثواب دس سے لے کر 700 گنا تک بڑھ جاتا ہے لیکن روزہ ایسا عمل ہے جس کے متعلق اللہ رب العزت نے فرمایا کہ یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوں۔
 
روزوں کی وجہ سے انسان کے اندر فرشتوں سے مشابہت پیدا ہوتی ہے جس کی بناپر ہر مخلوق کے دل میں روزہ دار کے لئے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مچھلیاں پانی میں‘ چیونٹیاں اپنے بلوں میں‘ روزہ دار کے لئے دعا کرتے ہیں۔ روزہ سے صبر و تحمل کا عظیم درس ملتا ہے۔ خصوصاً داعیان اسلام کے لئے یہ پیغام پنہا ہے کہ دیگر موقعوں پر جہاں اس کے ساتھ نادر سلوک کیا جائے‘ دین کی راہ میں مشقت و آزمائش سے گذرنا پڑے ہم مسلمانوں کو چاہئے کہ  بڑے ہی حوصلہ‘ عزم و استقلال کے ساتھ صبر و استقامت کے دامن کو تھام کر عفو و در گذر اور اخلاق حسنہ کا بھر پور مظاہرہ کرنا چاہئے۔ 
 
 
 
اعتماد اخبار
 
 
 

Friday, May 31, 2013

ایک شاہکار فلم

السلام علیکم

مغل اعظم ایک شاھکار فلم ہے جسے برسوں تک یاد کیا جائے گا ۔ ہندوستانی فلمِ تاریخ میں کسی فلم کے بننے کی ایسی مثالیں نہیں مل سکتی کیونکہ یہ فلم کے آصف کا جنون تھی۔ جب فلم کو بنانے والےکے آصف جیسا دیوانہ ہو جو ہر کام کو پر فیکٹ کرنے کی جستجو رکھتا ہو تو پھر فلم شاہکار ہی بنے گی کہتے ہیں کے آصف اس کے بنانے کے لئے اخراجات کی کمی پر اپنا مکان تک فروغ کردیے تھے


1.25کڑوڑ روپے آج کے100کڑوڑ روپے کے برابر خرچ سے یہ فلم تیار ہوئی تھی
کہتے ہیں اس میں جو شیش محل بتایاگیا اسی پر 15لاکھ روپے کا خرچ آیاتھا اس میں جنگ کے منظر کے لئے ہندوستانی فوج کے 8000سپاہیوں کا استمعال کیا گیا۔ فوجیوں کو معاوضہ بھی دیا گیا2000اونٹ اور 400گھوڑے بھی تھے۔وزارت دفاع سے خصوص اجازات لے کر راجستھان رجمنٹ کے سپاہیوں کو لایاگیا تھا کہتے ہیں آصف نے اخراجات کی پرواہ نہیں کی۔ فلم کے ایک منظر میں انار کلی،شہزادہ سلیم کو پھول سونگھادیتی ہے اور اکبر اعظم کے سپاہی اس کو لینے آتے ہیں تو نشہ آوار دوا کے اثر میں سلیم ڈائیلاگ ادا کرتے ہوئے ایک فانوس کو گرا کر توڑنا تھا ۔ایک فانوس تقریبا10ہزار روپے(آج کے۔10لاکھ روپے کے قریب)مالیتی تھا لیکن دلیپ کمار نے اداکاری کے دوران دو فانوس توڑ دئیے ۔آصف نے ذرا برابر بھی شکایت نہیں کی بلکہ واہ واہ ہی کی ایک منظر میں جب سلیم گھر واپس آتا ہے تو جودھا بائی کی کنیزیں اس کے راستے میں موتیاں اور پھول ڈالتی ہیں وہ بھی اصلی استمعال ہوئے۔اس ہی طرح مدھو بالا نے قید خانے میں جو زنجیریں پہنیں وہ بھی اصلی تھیںاور ایک سین میں جودھا بائی اکبر کو جو تلوار دیتی ہے وہ بھی اصلی تھی زرہ بکتر بھی اصلی تھا۔فلم میں لارڈکرشنا کی جو مورتی ہے وہ مکمل سونے کی ہے۔ یہاں تک کہ آصف نے فلمساز سے شہزاہ سلیم کے جوتے سونے کے بنوانے کی خواہش کی۔کہتے ہیں آصف فلم کے لئے ہر چیز حقیقی چاہتے تھے انہوں نےملک کے کونے کونے سے کاریگروں کو طلب کیا تھا ۔ملبوسات کت لئے خاص درزی دہلی سے طلب کئے گئے ۔جئے پور اور یوپی کے کاریگروں سے محلات کے نمونے بنائے ۔زیورات کی تیاری حیدرآبادی سناروں کے ذمہ تھی ۔راجستھان کےلوہاروں نے ہتھیار اور زرہ بکتہ تیار کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مغل اعظم تین تین زبانون اردو ،ٹامل اور انگریزی میں بنائی جارہی تھی اسی لئے ہر سین کو تین بار فلمایا گیا ۔بجٹ کی کمی کی وجہہ سے ٹامل اور انگریزی فلم ریلیز نہ ہو سکی ۔کے آصف اس فلم کو رنگین بنانا چاہتے تھے اسی مقصد کے لئے بعض مناظر میں رنگین شیشوں کا استمعال کیاگیا تھا لیکن صرف دو گیتوں کو ہی رنگین بناسکے۔


مغل اعظم ایک تاریخی کہانی فلم پرمبنی ہے تاریخی واقعات کے دھاگوں سے اس قدر خوبصورتی سے پرویا گیا کہ ایک ڈرامائی داستانِ عشق تخلیق ہوگئی اور فلم بینوں کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوا کہ کہاں تاریخ ہے اور افسانہ کہاں ہے


اس فلم کو تاریخی بنانے میں صرف کے آصف ہی نہیں تھے ۔ ان کی پوری ٹیم نے مسلسل 10برس کی محنت اور جستجو کے ساتھ یہ شاندار فلم تیار ک ۔ فلم کو ہدایت آصف نے دی جبکہ اس کا اسکرین پلے آصف اور امان اللہ خاں نے لکھا ۔فلم کے ڈائیلاگ امان اللہ خاں ،کمال امروہی ،،احسن رضوی اور وجاہت مرزا نے لکھے ہیں ۔ فلم میں پر تھوی راج کپور نے اکبر کا، مدھو بالا نے انار کلی کا ،درگا کھوٹے نے مہارانی جودھا بائی کا ،نگار سلطانہ نے بہار کا، اجیت نے درجن سنگھ کا ،ایم کمار نے سنگتراش کا ، مران نے راجہ مان سنگھ کا جلوما نے انار کلی کی ماں کا ،شیلا دلایا نے انار کلی کی بہن ثریا کا ، جانی واکر نے اکبر کے دربار میں زنحے کا ،جلال آغا نے نو عمر شہزادہ سلیم کااور دلیپ کمار نے شہزادہ سلیم کا کردار ادا کیاان کے علاوہ بھی ایس نذیر،بے بی تبسم ،خورشید خاں ،خواجہ شبیر اور پال شرما نے مختلف کردار کئے ہیں ۔ موسیقی نوشاد کی ہے جبکہ شکیل بدایونی نے فلم کے گیت لکھے ۔ فلم میں جن گلوں کاروں نے اپنی آواز دی ان میں بڑے غلام علی خاں ،شمشاد بیگم ،لتا منگیشکر ،محمد رفیع اور نور جہاں شامل ہیں ۔رابن چڑجی ساونڈ ریکارڈ سٹ ،محمد ابراہیم اور محمد شفیع نے میوزک اسسٹنٹ ،آر کوشک نے سانگ ریکارڈسٹ کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں ۔۔کے آصف کی ٹیم میں رشید عباسی ،محمد انور ،رفیق عربی ،کے منوہر ، ایم اے ریاض ،ایس ٹی زیدی ،سریند کپور ،خالد اختر نے اسسٹنٹ ڈائرکٹرس کی حیثیت سےاپنی خدمات انجام دیں


مغل اعظم فلم 5 اگسٹ 1960 کو ہندوستان میں ملک بھر کے150تھیڑوں میں ریلیز کی گئی جوخود ان دنوں ایک ریکارڈ تھا ۔باکس آفس پر اس نے 5۔5کڑوڑ روپے وصول کئے ۔ اس کے پرنٹس ہاتھیوں پر لائے گئے تھے ۔ نومبر 2004 میں اس کو اسٹرلنگ انوومنٹ کارپوریشن نے ایک سال کی محنت کے بعد رنگین بناکر پیش کیا ۔ اس کا شمار اب تک بالی ووڈ میں بنی 20سب سے بہترین فلموں میں ہوتا ہے ۔ رنگین فلم میں بھی 25 ہفتے تک چلتی رہی جو ایک ریکارڈ ہے ۔
۔۔پرتھوی راج کپور بار بار آئینہ دیکھتے فلم اور تھیڑ میں کام کی مہارت کے باوجود آصف کے جذبہ کو دیکھکر نکہار لانے کی کوشش کرتے یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ انہیں اکبر اعظم کہتے ہیں۔
مدھو بالا 15 کلو کی وزنی ہتھکڑیاں پہن کر ادا کاری کرتی تو کئی بار بے ہوش ہوجاتی
اسی طرح شہزادہ سلیم کے کردار میں دلیپ کمار نے جس مدبرانہ اداکاری کا اظہار کیا وہ شاید ہی کوئی اور اداکار کرپاتافلم کے لئے 20 گانے ریکارڈ کرائے تھے لیکن ان میں سے ایک گانا شہزادہ سلیم نے نہیں گایا جو خود ایک باوقار کردار کی علامت ہے ۔

مغل اعظم کو شہرہ آفاق بنانے میں نوشاد کی موسیقی کا بڑا دخل ہے یہ فلم اگر خوبصورت گانوں سے نہ سجی ہوتی تو شاید اس کے لافانی ہونے میں کچھ تو کمی رہ جاتی اسی لئے نقادوں نے اس فلم کے گیتوں کو اس کی روح قرار دیا ہے ۔ کے آصف اور نوشاد کا ہر گیت کو ناقابل فراموش بنانے میں کوئی کسر نہیں رکھی

ڈائیلاگس پر ابھی تک کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے امورٹل ڈائیلاگس آف مغل اعظم شائع کی گئی ایسے کئی محققین ہیں ۔ جنہوں نے اس فلم پر پی ایچ ڈی کی ۔


یوں تو مغل اعظم کا ہر ڈائیلاگ یاد رکھے جانے کے قابل ہے لیکن چند مخصوص مناظر پر مکالمے دماغ پر بہت اثر چھوڑ جاتے ہیں ایسے ہی ایک مکالمہ پیش ہے جب اکبر اعظم انار کلی کو اپنی محبت سے انکار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکبر اعظم :ہمیں یقین ہے کہ قید خانے کے خوفناک اندھیروں نے تیری آرزووں میں وہ چمک باقی نہ رکھی ہوگی جو کبھی تھی

انار کلی : قید خانے کے اندھیرے کنیز کی آرزووں کی روشنی سے کم تھے ۔

اکبر اعظم : اندھیرے اور بڑھا دیئے جائیں گے۔

انار کلی : آرزوئیں اور بڑھ جائیں گی۔

اکبراعظم : اور بڑھتی ہوئی آرزووں کو کچل دیا جائے گا ۔ تجھے سلیم کو بھلانا ہوگا ۔

انار کلی :اور ظل الہی کا انصاف؟

اکبراعظم : ہم کچھ سننا نہیں چاہتے ۔اکبر کا انصاف اس کا حکم ہے ۔تجھے سلیم کو بھلانا ہوگا۔

انار کلی : بھلانا ہوگا؟

اکبراعظم : یقیناً اور صرف اتنا ہی نہیں ۔اسے یقین دلانا ہوگا کہ تجھے اس سے کبھی محبت نہیں تھی ۔

انار کلی : جو زبان ان کے سامنے محبت کا اقرار تک نہ کرسکی وہ انکار کیسے کرے گی ۔


اکبراعظم :تجھے سلیم پر ظاہر کرنا ہوگا کہ تیری محبت جھوٹی ہے ۔ایک کنیز نے ہندوستان کی ملکہ بننے کی آرزو کی اور محبت کا خوبصورت بہانہ ڈھونڈ لیا ۔۔

انار کلی : یہ سچ نہیں ہے ۔خدا گواہ ہے یہ سچ نہیں ہے ۔یہ سچ نہیں ہے ۔

اکبراعظم :لیکن تجھے ثابت کرنا ہوگا کہ یہی سچ ہے ۔


انار کلی : پروردگار مجھے اتنی ہمت عطا فرما کہ میں صاحب عالم سے بے وفائی کرسکوں ۔ کنیز ظل الہٰی کا حکم بجالانے کی کوشش کرے گی ۔

اکبراعظم : کوشش نہیں تعمیل ہوگی ۔اسے آزاد کردیا جائے۔

اب ہم بھی مغل ِاعظم کی باتوں کے سحر سے نکلتے ہیں بہہت بہت شکریہ میرے بلاگ پر تشریف لانے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔
اس مضمون کے لئے اکثر معلومات اعتماد اخبار سے لئے ہیں۔

Saturday, April 20, 2013

میری ڈائری سے ایک نظم

 
السلام علیکم
 
میری ڈائری میں نوٹ کی ہوئی ایک نظم  شاعر کے نام کا تو پتہ نہیں مگر آج پڑھا تو پھر ایک بار اچھی لگی تو سوچا کہ شاید آپ سب کو بھی پسند آجائے اس لئے  شیئر کررہی ہوں۔
 
 
 
 
اے میری سوچ کی محور، تم اپنے سارے دکھ رو لو
سمجھ لو مجھ کو چارہ گر، تم اپنے سارے دکھ رو لو
 
 
اِسے تم مشورہ سمجھو یا میرا تجربہ سمجھو!
یہ دل ہوجائے گا پتھر، تم اپنے سارے دکھ رو لو
 
 
مجھے خاموش اشکوں سے بہت ہی خوف آتا ہے
نہ رکھو آنکھ یوں بنجر، تم اپنے سارے دکھ رو لو
 
 
تمہیں اس کی خبر ہوگی، یہ اک دن خُوں رلائے گا
بُھلا کر خواب کا پیکر، تم اپنے سارے دکھ رو لو
 
 
مری جاں! یہ نہیں سوچو، سمیٹوں گا اِنہیں کیسے
مرے شانے پہ سَر رکھ کر، تم اپنے سارے دکھ رو لو
 
 
سُنا ہے اُس کی آنکھوں میں تمہارے زخم کھلتے ہیں
تمہیں کہتا ہے جو اکثر، تم اپنے سارے دکھ رو لو
 
 
سُنو! نامہرباں آنکھیں تمہیں ایسے ہی دیکھیں گی
نہیں بدلے گا یہ منظر، تم اپنے سارے دکھ رو لو
 
 
اگر یوں اشک رونے سے انَا پر چوٹ پڑتی ہے
ہنسی کی اوڑھ کر چادر، تم اپنے سارے دکھ رو ل
و
 
 
بتا دینا یہ میرا دل تمہارے غم سے بوجھل ہے
اُسے کہنا یہ نامہ بَر، تم اپنے سارے دکھ رو لو
 
 
......................

Saturday, March 30, 2013

نعت شریف

السلام علیکم
 
 
 

Saturday, February 23, 2013

حضرت سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی قدس سرہٌ


 
 
 
 
السلام علیکم
 
 
آج آپ سب کے لئے ایک بہت ہی پرانے رسالہ سے منتخب کلام لائی ہوں امید کہ آپ سب پسند فرمائےگئے۔ اور بہت مشکور ہوں آپ سب کی یہاں تشریف لانے کے لئے ۔ اللہ آپ سب کوخوش رکھے ۔ لیجئے پیش ہے۔
 
 
حضرت سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی قدس سرہٌ
 
کا
 
فارسی کلام
 
 
ائے بلبلِ شوریدہ دیوانہ توئی یاما
جو یائے رخِ خوبِ جانانہ توئی یاما
 
 
تو عاشقِ گلزاری، من عاشقِ دیدارم
در دردِ فراقِ او مردانہ توئی یاما
 
 
محی بہ گلستاں شد با بلبلِ نالاں گفت
کائے بلبلِ نالندہ جانا نہ توئی یاما
 
 
 
 
 
ترجمہ۔ اے بلبل ِشوریدہ سر بتا کہ تو دیوانہ ہے یا ہم دیوانے ہیں ، جاناں کے پیارے رخ کا تلاش کرنے والا یا سرگرداں اکیلا تو ہے یا ہم ہیں ۔تو باغ کا عاشق ہے اور میں (اللہ کے)دیدار کا طلب گار ہوں ۔توبتلا کہ تو اسکی جدائی کے درد میں مردانہ وار ہے یا ماندولت؟محی گلستان کو پہونچا اور بلبلِ نالاں سے کہا !اے(نالش)شکایت کرنے والے بلبل تو بتا کہ تو عاشق جاناں ہے یا ہم
 
 
(ترجمہ حافظ عبدالرزاق صدیقی آرزو)
ماخوذ از رسالہ القدیر ۱۳۷۴ھ

Monday, December 10, 2012

مولانا محمد علی جوہر

   
 
السلام علیکم
 
مولانا محمد علی جوہر کی آج دس ڈسمبر کو 134ویں یوم پیدائش ہے اس موقعہ پرآپ کے ساتھ کچھ باتیں انکے بارے  ہم ملکریاد کریں  اور ان کے درجات کی بلندی کی دعا کریں ۔
 
 
یہ مضمون ویکیپیڈیا سے لیا گیا



مولانا محمد علی جوہر
 

پیدائش: 1878ء

انتقال: 1931ء

ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم رہنما۔ جوہر تخلص۔ ریاست رام پور میں پیدا ہوئے۔ دو سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ والدہ مذہبی خصوصیات کا مرقع تھیں، اس لیے بچپن ہی سے تعلیمات اسلامی سے گہرا شغف تھا۔ ابتدائی تعلیم رام پور اور بریلی میں پائی۔ اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ چلے گئے۔ بی اے کا امتحان اس شاندار کامیابی سے پاس کیا کہ آلہ آباد یونیورسٹی میں اول آئے۔ آئی سی ایس کی تکمیل آکسفورڈ یونیورسٹی میں کی۔ واپسی پر رام پور اور بڑودہ کی ریاستوں میں ملازمت کی مگر جلد ہی ملازمت سے دل بھر گیا۔ اور کلکتے جا کر انگریزی اخبار کامریڈ جاری کیا۔ مولانا کی لاجواب انشاء پردازی اور ذہانت طبع کی بدولت نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ہند بھی کامریڈ بڑے شوق سے پڑھا جاتا جاتا تھا۔

انگریزی زبان پر عبور کے علاوہ مولانا کی اردو دانی بھی مسلم تھی۔ انھوں نے ایک اردو روزنامہ ہمدرد بھی جاری کیا جو بے باکی اور بے خوفی کے ساتھ اظہار خیال کا کامیاب نمونہ تھا۔ جدوجہد آزادی میں سرگرم حصہ لینے کے جرم میں مولانا کی زندگی کا کافی حصہ قید و بند میں بسر ہوا۔ تحریک عدم تعاون کی پاداش میں کئی سال جیل میں رہے۔ 1919ء کی تحریک خلافت کے بانی آپ ہی تھے۔ ترک موالات کی تحریک میں گاندھی جی کے برابر شریک تھے۔ جامعہ ملیہ دہلی آپ ہی کی کوششوں سے قائم ہوا۔ آپ جنوری 1931ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے انگلستان گئے۔ یہاں آپ نے آزادیء وطن کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم انگریز میرے ملک کو آزاد نہ کرو گے تو میں واپس نہیں جاؤں گا اور تمہیں میری قبر بھی یہیں بنانا ہوگی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آپ نے لندن میں انتقال فرمایا۔ تدفین کی غرض سے نعش بیت المقدس لے جائی گئی۔ مولانا کو اردو شعر و ادب سے بھی دلی شغف تھا۔ بے شمار غزلیں اور نظمیں لکھیں جو مجاہدانہ رنگ سے بھرپور ہیں۔ مثلاً


دورِ حیات آئے گا قاتل، قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بع
د
 
 
جینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو
باقی ہے موت ہی دلِ بے مدّعا کے بعد
 
 
تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے
میرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے  بعد

 

لذّت ہنوز مائدہٴ عشق میں نہیں
آتا ہے لطفِ جرمِ تمنّا، سزا کے بعد
 

قتلِ حُسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
 


 
ایک بار اردو پوائنٹ پر ادبی لطیفوں میں مولانا جوہر کی خوش مزاجی کا ایک واقعہ پڑھی تھی وہ بھی یہاں نقل کرتی ہوں ۔۔۔
 
 
 مولانا محمد علی جوہر رام پور کے رہنے والے تھے۔ایک دفعہ سیتا پور گئے تو کھانے کے بعد میزبانوں نے پوچھا کہ آپ میٹھا تو نہیں کھائیں گے؟کیونکہ مولانا شوگر کے مریض تھے۔
مولانا بولے: بھئی کیوں نہیں لوں گا؟ میرے سسرال کا کھانا ہے کیسے انکار کروں؟
یہ سن کر سب لوگ حیران ہوئے اور پوچھا کہ سیتا پور میں آپ کے سسرال کیسے ہوئے ؟
تو مولانا بولے: سیدھی سی بات ہے کہ میں رام پور کا رہنے والا ہوں۔ظاہر ہے سیتا پور میرا سسرال ہوا۔
 
 
آپ کے بارے میں مزید معلومات اردو مجلس میں بھی پڑھی جاسکتی ہیں اس کا لنک یہ ہے ،http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=8748
 
 
 

Saturday, December 08, 2012

حضرت علی کے اقوالِ زریں دوسرا حصہ

 
 

السلام علیکم
 

حصرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے ارشادات ،اقوال ،نصیحت ،وعظ ،عمل کمالات ،علم , معرفت ،ایمان ،تقویٰ ، توکل ، قنا عت ، صبر و شکر ، بندگی ،اطاعت ،سخاوت ،عبادت ،   عجز و انکساری ، حکمت ،دانائی ، ایثار و قربانی ایک عام انسان کی سوچ سے بالا تر ہے  پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے  "میں علم کا شہر ہوں ،اور علی اس کا دروازہ ہے ۔


آج میں نے تصوف میگزین پڑھا تو یہ حضرت علی کے اقوال پڑھے ہیں تو پھر ایک بار  آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے طبعیت آمادہ  و بے چین ہوئی ۔ اس امید کے ساتھ یہ اقوال شیئر کررہی ہوں کہ  شاید ہم  میں سے کوئی ان اقوال کی روشنی سے فیض یاب ہوسکے ، اللہ ہمیں عمل کرنے میں اپنی خاص مدد فرمائے ۔۔۔


 حضرت علی مر تضٰی رضی اللہ عنہ کے اقوال ملاحظہ فرمائے

پریشانی خاموش رہنے سے کم ،صبر کرنے سے ختم اور شکر کرنے سے خوشی میں بدل جاتی ہے۔

 جو تمہیں غم کی شدت میں یاد آئے تو سمجھ لو کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے۔

کبھی کسی کے سامنے صفائی پیش نہ کرو،کیوں کہ جسے تم پر یقین ہے ، اسے ضرورت نہیں اور جسے تم پر یقین نہیں وہ مانے گا نہیں۔

ہمیشہ سچ بولو کہ تمہیں قسم کھانے کی ضرورت نہ پڑے ۔

انسانوں کے دل وحشی ہیں جو انہیں موہ لے ، اسی پر جھک جاتے ہیں۔

جب عقل پختہ ہوجاتی ہے ،باتیں کم ہوجاتی ہیں۔

جو بات کوئی کہے تو اس کے لئے ُبرا خیال اس وقت تک نہ کرو، جب تک اس کا کوئی اچھا مطلب نکل سکے۔

دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے کہ چھونے میں نرم اور پیٹ میں خطرناک زہر۔۔

کسی کے خلوص اور پیار کو اس کی بے وقوفی مت سمجھو ، ورنہ کسی دن تم خلوص اور پیار تلاش کروگےاور لوگ تمہیں بے وقوف سمجھیں گے ۔

جو بھی برسر اقتدار آتا ہے ، وہ اپنے آپ کو دوسروں پر ترجیح دیتا ہے۔

بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے سے بچو ۔


لوگوں کو دعا کے لئے کہنے سے زیادہ بہتر ہے ایسا عمل کرو کہ لوگوں کے دل سے آپ کے لئے دعا نکلے۔

مومن کا سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ وہ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کردے ۔

سب سے بڑاعیب یہ ہے کہ وہ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کردے ۔

سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ تم کسی پر وہ عیب لگا ؤ جو تم میں خود ہے۔

جو ذرا سی بات  پر دوست نہ رہے ، وہ دوست تھا ہی نہیں ۔

جس کو ایسے دوست کی تلاش ہو ، جس میں کوئی خامی نہ ہو ، اسے کبھی بھی دوست نہیں ملتا ۔

انصاف یہ نہیں کہ بد گمانی پر فیصلہ کردیا جائے ۔

حکمت مومن کی کھوئی ہوئی چیز ہے ، حکمت خواہ منافق سے ملے لے لو ۔

کسی کی مدد کرتے وقت اس کے چہرے کی جانب مت دیکھو ، ہوسکتا ہے اس کی شرمندہ آنکھیں تمہارے دل میں غرور کا بیج بودیں ۔

صبر کی توفیق مصیبت کے برابر ملتی ہے ،اور جس نے اپنی مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارا ، اس کا کیادھرا اکارت گیا ۔

موت کو ہمیشہ یاد رکھو ، مگر موت کی آرزو کبھی نہ کرو ۔

قناعت وہ دولت ہے جو ختم نہیں ہوسکتی  ۔



۔



Tuesday, September 25, 2012

سب سے مشکل کام

السلام علیکم


آج مطالعہ کے دوران یہ نظم مجھے اچھی لگی تو سوچا کے آپ سب سے بھی شیئر کر لوں شاید آپ کو بھی اچھی لگے سادے سے انداز میں لکھی گئی یہ نظم

سب سے مشکل کام


خوف خود شناسی سے

اپنے آپ کو ہر شخص

اس طرح بچاتا ہے

جس طرح کوئی روگی

اپنے جسم کے ناسور

شرم سے چھپاتا ہے

میرا سب سے مشکل کام

اپنی ذات کی تہہ تک

اک شگاف کرنا ہے

اور جو ملے اس کا

اعتراف کرنا ہے


مصطفٰی شہاب


بہت شکریہ یہاں تشریف لانے کے لئے

Sunday, July 22, 2012

سیدالا ستغفار

Sunday, June 10, 2012

دکن کی شان میں مختلف شعراء کا کلام (دوسری قسط)


السلام علیکم
میرے اچھے بھائیوں اور پیاری بہنوں
ڈاکٹر محمد عبدالحی کی مرتبہ کتاب مملکت ٰاصفیہ سے اقتباسات کی دوسری قسط پیش خدمت ہے ۔ اس منظوم نزرانہ کو جناب حسام الدین خاں غوری نے مرتب فرمایا ہے۔

حیدرآباد فیض بنیاد

مشہور مرثیہ گو شاعر میرانیس ۱۸۷۱عسوی میں حیدرآباد دکن آئے ۔ مجلس میںذیل کی دو رباعیاں فی البدیہی پڑھیں۔۔

اللہ و رسول کی امداد رہے

سرسبز یہ شہر فیض بنیاد رہے


نواب ایسا رئیس اعظم ایسے

یا رب آباد حیدرآباد رہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موجود ہے جو کچھ جسے منظور ہے یاں

علم و عمل و عطا کا دستور ہے یاں
مختار الملک اور بند گانِ عالی

رحمت رحمت یہ نور پُرنور ہے یاں



ملجاہ و ما وائےجہاں

مولانا خواجہ الطاف حسین حالی کی کلیات میں دکن کی ادبی سرپرستی داد و ہش کے بارے میں بھر پور مخلصانہ حقیقت افروز اشعار ملتے ہیں ۔ حالی نے صحیح طور پر دکن کو دیکھا

اسماں جاہ ہے تقویت ملک دکن

اور ہے ملک دکن ملجاہ و ما وائے جہاں


یہ مقولہ ہند میں مدت سے ہے ضرب المثل

جو کہ جا پہچا دکن میں بس وہیں کا ہو رہا



پارسی ، ہندو ، مسلماں یا مسحی ہو کوئی

ہے دکن کو ہر کوئی اپنی ولایت جانتا



شمع فروزند

۔۔۱۸۹۱عسوی میں علامہ شبلی نعمانی حیدرآباد دکن آئے ۔ خوب قدر و منزلت ہوئی ۔ آپ نے حیدرآباد پر بہت سی نظمیں اور قصیدے فارسی زبان میں لکھے ، چند شعر ملاحظہ ہوں ۔۔



اے دکن !اے کہ جہاں را سر و سودا باتسُت

اے کہ مجموعہ ، صد یاس و تمنا باتسُت


اے کہ صد نقش زہر پردہ بر انگیختہ

اے کہ صد جلوہ گری بائے تماشا باتسُت


اے بزرگاں گراں پایہ وارکانِ دکن

اے کہ بر شمع فروزندہ ایوانِِ دکن


بر سرِ موئے مَن، امروز زبانے شدہ است

بہ سپاس آوری منتِ اعیانِ دکن



شہر حیدرآباد دکن

حضرت داغ دہلوی جو شہر یارر دلن میر محبوب علیخان آصف سادس کے استاد تھے ۔ حیدرآبد دن آکر حیدرآباد ہی کے ہو رہے ۔ شہر حیدرآباد ، وہاں کی آب و ہوا ،ماحول ،پھل پھول اور دیگر امتیازی خصوصیات پر سینکڑوں اشعار لکھے ،ان میں سے چند ملاحظہ فرمائیے ۔۔

دلی میں پھول والوں کی ہے ایک سیر داغ

بلدے میں ہم نے دیکھ لی سارے جہان کی سیر


نر گسِ باغ کو بھی ہم نے نہ دیکھا بیمار

حیدرآباد کی کیا آب و ہوا اچھی ہے


شہر ہے گلزایوں خلق ہت گلرنگ یوں

جیسے چمن در چمن باغ میں پھولے گلاب


بلدے کا اِک اِک مکاں اس میں دارالاماں

شہر کی ایک ایک گلی جادہ راہ ِ صواب


حیدرآباد ہے جنت سے سِوا دار الامن

کھا کے گندم نہ یہاں سے کبھی آدم نکلے


کھل جائیں آنکھیں دیکھتے ہی اس چمن کے پھول

رضواں کو ہم دکھائیں جو باغِ دکن کے بھول


نہیں حیدرآباد پیرس سے کچھ کم

یہاں بھی سجے ہیں مکاں کیسے کیسے


نہ گرمی ، نہ کہیں حد سے سردی

حیدرآباد میں ہے فصل کا ایسا عالم


حیدرآباد رہے تابہ قیامت قائم

یہی اب داغ مسلمانوں کی اِک بستی ہے



خطہء جنّت فضا

۱۹۱۰عسوی میں علامہ محمد اقبال حیدرآباد دکن آئے ۔ اس سفر کی یاد گار میں دو معرکتہ الآراء طویل نظمیں جو رسالہ ،خزن لا ہور میں شائع ہوئیں ۔ یہاں ان کی ایک نظم سے چند منتخب اشعار درج کئے جارہے ہیں ۔

کچھ تو کہہ ہم سے بھی اس وارفتگی کا ماجرا

لے گیا تجھ کو کہاں تیرا دلِ بے اختیار


کس تجلی گاہ نےکھیجا تیرا دامان ِ دل

تیری مشتِ خاک نے کس دیس میں پایا قرار


کیا کہوں اس بوستان غیرت فردوس کی

جس کے پھولوں میں ہوا اے ہمنوا میرا گزار


جس کے ذرّے مہر عالم تاب کو سامانِ نور

جس کی طور افزوزیوں پر دیدہ موسٰی نثار


جس کے بلبل عندلیب عقل گل کے ہمسفر

جس کے غنچوں کے لئے رخسار حورآئینہ دار


خطہ جنت فضا جس کی ہے دامن گیردل

عظمتِ دیرینہ ہندوستان کی یادگار


جس نے اسم اعظم محبوب کی تاثیر سے

وسعت عالم میں پایا صورتِ گردوں وقار


نور کے ذرّوں سے قدرت نے بنا یا یہ زمیں

آئینہ بن کے دکن کی خاک اگر پائے فشار



دیار محترم

جن کی شاعری حیدرآباد دکن کے علمی ماحول میں پروان چڑھی اور جوان ہوئی ۔ جب سقوط حیدرآباددکن کے بعد ۱۹۵۵عسوی مین اپنے وطن ثانی کولوٹے تو ان کےقلب میں یہاں کے ذرہ ذرہ سے بے پناہ محبت تھی جس تھی جس کا اظہار ایک طویل نظم میں کیا ۔ چند اشعار پیش ہیں ۔

حیدرآباد ،اےنگارگل بداماں السلام

السلام اے قصّہ ماضی کے عنوان السلام


تونے کی تھی روشنی میری اندھیری رات میں

مہرو ماہ خوابیدہ ہیں اب بھی ترے ذرّات میں


میرےقصرِزندگی پر اے دیارِ محترم

تونے ہی ذلفیں سنواری تھیں میرے افکار کی


تو ہی میرے روبرو اِک آن سے پر تول کر

مسکرایا تھا محبت کا دریچہ کھول کر


ولولوں میں تیرے نغموں کی روانی آئی تھی

تیرے باغوں میں ہوا کھا کر جوانی آئی تھی


اے دکن تیری زمیں کی رنگ رلیاں دل میں ہیں

پہلے جو زیرِقدم تھیں اب وہ گلیاں دلمیں ہیں


اسلام اے بزم یاراں اے دیارِ دوستاں

آج اٹھارہ برس کے بعد آیا ہوں یہاں


وہی ہے رخشِ وقت کو گردوں نے ایک مدتمیں ایڑ

کل جوان رخصت ہوا تھا آج پلٹا ہوں ادھیڑ


لیکن اے میرے چمن میری جوانی کے چمن

اے دکن نسرین دکن سنبل دکن سوسن دکن


تجھ میں غلطاں ہے مرے دل کی کہانی آج بھی

پُر فشاں تجھ میں ہے میری نوجوانی آج بھی


اب بھی عثمان ساگر کی ہواوں میں خراش

اب بھی آتی پہاڑوں سے صدائے جوش جوش


اس فضا میں ہے قیامت کا ترنم آج بھی

ثبت ہے ایک دشمن جان کا تبسم آج بھی


  
ولولے ناچے تھے جو گھنگھرو پہن کر پاوں میں

آج رقصاں ہے تیری بدلیوں کی چھاوں میں




آو سینے سے لگ جاو یارانِ دکن

پیشتر اس کے کہ روئے جوش کو ڈھاپنے کفن




شہرِ گوہریں حیدرآباد دکن

محترمہ سروجنی نائیڈو کانگریس کی ممتاز اور ہر دلعزیز رہنما کی انگریزی نظم 
کا ترجمہ از حبیب اللہ رشدی۔۔

اَے گل ِرنگین ، عشرت کے مکاں میرے وطن

تو میرے فکر و تخیل کا ہے اَک کانَ عدن


  
میرے دل میں تیرے الفت کا جو ہے طوفان بپا

آہ ہو سکتا ہے نہیں کوئی بھی اس سے آشنا


حُسن وخوبی ہے تِری دِل میں جو فطرت نے بھری

ہاں اسی چشمے سے میری زندگی پیدا ہوئی


کیا یہ میرا جسم پتلا خاک کا تیری نہیں؟

کیا تیری پاکیزہ مٹی سے مری مٹی نہیں؟




زندگی کے نخل نے میرے نہیں پائی ہے کیا

تیرے چشموں کے مصفّٰا آب سے نشو ونما




کیا تیرے صحرا میں سحر آگیں پہاڑی نے کبھی

اپنی فکر انگیز رونق سے مجھے لوری نہ دی


آہ ! اب میں گرچہ اک تکلیف دہ غربت میں ہوں

اور آوارہ بہت تیرے غم ِفرقت میں ہوں


پھربھی کیا میرے دل میں محزون کا تو معبد نہیں

جستجو تیرے لئے کیا روح کا مقصد نہیں !۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
بلبلِ ہند کے اس کلام کے بعد اس قسط کو یہاں ختم کرتی ہوں ان شاءاللہ یہ سلسلہ جاری ہے ۔امید کہ آپ لوگ ضرور اسے پڑھکر محظوظ ہوئے ہونگے ۔ میرے بلاگ پر آنے کے لئے شکریہ ۔ خوش رہیے سدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔