Showing posts with label ادبیات. Show all posts
Showing posts with label ادبیات. Show all posts

Thursday, October 24, 2019

جو گرے آسماں سے ہم

جو گرے آسماں سے ہم

ویلا ٹائپ کا محفوظ مکان جواندر سے بھی بہترین بناوٹ و  سجاوٹ سے آراستہ تھا ۔ جسےانجئنیر صمدانی صاحب اور ان کی بیگم نے اپنی محنت ،پسند اور خون پسینہ کی کمائیسے اپنے خوابوں کے محل کو تعبیر دی تھی۔ 

باہر رم جھم برسات ہورہی تھی اور گھر کے اندر بحث و تکرار میں الفاظ کی موسلادھار بارش بہت  سے برس رہیتھی۔ 

بحث سے تنگ آکر بیگم صمدانی میاں کو سمجھاتے کہہ رہی تھی ۔ 

دیکھیں اللہ نے زمین بنائی ہے تو اس کے اوپر آسمان بھی بنایا ہے ان کا ساتھ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ جس طرحآسمان تپش کے باوجود سورج اپنی گود میں رکھ کر زمین کو توانائی دیتا ہے ۔ خود میں چھید کرکے پانی برساتا ہے تاکہزمین پر زندگی قائم رہے ۔ آپ بھی آسمان ہو آپ بلند جگہ پر فائز ہو اگر خود کی ذات سے دوسروں کا کچھ بھلا کردیںتواس سے آپ چھوٹے نہیں ہو جائینگے ۔

صمدانی صاحب بھی اپنی وضاحت دینے لگے ۔آسمان ،آسمان ہوتا ہے زمین زمین ! زمین کی قسمت میں روندا جانا ہیلکھا ہے ۔ اس کے چیرے جانے پر ہی نئی کونپلیں نکلتی ہیں ۔ یہ یاد رکھو جو اس میں بستاہے وہ مٹی میں مل جاتا ہے ۔ 

بیگم صمدانی نے پتھر دل کو پگلانے ایک اور ناکام کوشش کرنے لگی۔آواز میں نرمی لاکر کہنے لگی
وہ غریب لوگ ہیں  چھپر انکو بھیگنے سے بچانے میں ناکافی ہے ۔ بارش رکنے تک تو انہیں ہم آسرا دے سکتے ہیں ناں ۔

صمدانی صاحب کب ماننے والے تھے کہنے لگے ۔
دنیا میں ایسے کئی غریب ہیں کس کس کو تم آسرا دوگے ۔
بیگم صمدانی نے چھٹ سے وجہ بتائی 
مگر یہ ہمارے خادم ہیں انہیں اپنے گھر سے متصل رکھے ہوئے ہیں ۔آپ اللہ سے خوف کریں وہ آپ کو اپنی نعمت دیکرآزما رہا ہے ۔

صمدانی صاحب غصہ سے لال پیلے ہونے لگے ۔
بیگم آپ مجھے ان نیچ لوگوں کےلئے کوس رہی ہیں ۔ گھر مال دیکر اللہ مجھےنہیں آزما رہا ہے بلکہ آپ خود دیکھ  رہیہیں وہ مجبور لاچار ہیں ۔ جو خود کی حالت نہ بدلیں ان کی خدا بھی حالات نہیں بدلتا ۔اللہ انہیں آزما رہا ہے ۔میں نےغلطی کی بارش سے لطف اندوز ہونے کھڑکی کھول لی ، آپ کا وعظ سننے نہیں ۔ 

کھڑکی کا گلاس ٹھیک کرکے پردے ہٹاتے ہوئے ۔ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے گنگناتے صمدانی صاحب دوسرےکمرے میں جانے لگے جہاں سے فون بجنے کی آواز آرہی تھی ۔ دوسری طرف بیٹے کی کال بڑی غور سے سننے لگے ۔ ۔۔۔نہیں بیٹے اس میں تمہاری کوئی خطا نہیں ۔۔ مالک مکان تمہیں میری بے رحمی اور جرم کی سزا دے رہا ہے ۔ میرے بچےتم پریشان نہ ہو ۔ میں ابھی اپنی اس غلطی کا ازالہ کرتا ہوں ۔ ان شاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ اللہ کارسازِ حقیقی ہے۔ تمہاری ماں کو فون دیتا ہوں 

۔ بیگم صمدانی ہونٹ چباتے وہیں بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی ۔

کچھ دیر کے بعد صمدانی صاحب تیز تیز قدم بڑھاتے کچھ گھبرائے  ہوئے کچھ پریشان سےآکر پردیس میں مقیم بیٹے کیکال بیگم کے حوالے کر کے باہر کا دروازہ کھولتے ہوئے کہنے لگے بیگم میں انہیں بارش سے بچاؤ کےلئے گھر میں بلانےجارہا ہوں ۔ آپ نے سچ کہا تھا اللہ نعمت دیکر بھی آزماتا ہے

Sunday, September 21, 2014

دل کے رشتے

 
دل کے رشتہ

 قاسم صاحب کو ریٹائر ہوئے تین سال بیت گئے تھے ۔ آج وہ ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں کبھی ہوش تو کبھی بے ہوشی کی حالت میں موت سے لڑ رہےتھے۔ قریب ہی میں (رخشندہ بیگم) گھبرائی ہوئی پریشان سی بیٹھی انہیں تکے جا رہی تھیں۔ امریکہ میں مقیم عنبرین بیٹی کو فون کرنے ہی والی تھیں کہ میرا بیٹا عاصم ایک ہاتھ میں گھر کا ٹفن پکڑے اندر داخل ہوا جسے دیکھ کر میں حیران ہوگئیں۔ "یہ ٹفن کس نے تیار کر کے بھیجا ہے؟" اس سے آتے ہی جھٹ سےسوال کیا۔ ’’وہ امی‘‘ اس سے آگےعاصم کچھ نہ کہہ سکا اور چپ ہوگیا۔ "وہ امی کیا؟" عاصم نے دروزے کی طرف اشارہ کردیا۔ زرینہ کے چہرہ پر آج بھی پہلی ملاقات جیسی بے یقینی، ڈر اور امید کے ملے جلے عکس صاف نظر آرہے تھے ۔ اور بالکل اسی طرح آنکھیں نیچے جھکائے ہوئی، ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔ مجھے آج بھی کل کی بات کی طرح یادآ گئی ۔


 ڈور بیل کی آوازپر میں نے کپڑے ایک طرف رکھ کر درواز کھولا تو کریمن بوا سامنے کھڑی تھی میں انہیں اندر آنے کہہ کر خود صوفہ پر آبیٹھی وہ نیچے بیٹھنے لگی تو میں نے انہیں یاد دلایا کہ میرے پاس بلا تفریق انسان کی قدر وعزت ہوتی ہے۔ کریمن بوا خوشآمدی انداز میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگی۔ آپ کے در پر میں خود کئی مصیبت کے ماروں کو لاکر ضرورتوں کا ازالہ کرواچکی ہوں ۔آپ جیسی نیک بی بی نے کبھی مجھے مایوس نہیں بھیجا کبھی مجھے جھوٹا نہیں کیا ہر بار بھرم بنائے رکھا۔ مجھ سے رہا نہ گیا کچھ تیز آواز سے میں نے بوا ، بوا کہکرپھر دھیمے سے کہا، آپ بھی تو محلہ بھر کا خیال رکھتی ہیں سب کے دکھ درد میں ساتھ دیتی ہیں ۔۔ اچھا بتاو کیا بات ہے؟ اگر میں کچھ مدد کرسکوں تو ضرور کرونگی ۔ میں بات مطلب پر لے آئی۔ ابھی میری بات ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ وہ بول پڑی کہ "اب مدد تو آپ ہی کرسکتی ہیں ۔ بات دراصل یہ ہے بی بی اپنے محلہ سے متصل کچھ غربا کے مکانات ہیں جہاں مہینہ بھر پہلے فسادات ہوئے تھے ۔دو سال پہلے آپ کے پاس کام کرنے والی نسیم بی اور اس کا بیٹا بھی وہی رہتا تھا جو اسی فساد میں مرگیا ، اس کا آدمی بھاگ گیا ۔پلنگ کے نیچے چھپنے سے بیٹی بچ گئی ۔بستی کےمختلف لوگوں سے بات کرکے ان کے گھر رکھتی رہی ہوں مگر کہیں بھی ٹک نہ سکی کیونکہ اس کو اس حادثہ کے بعد سے دورے پڑنے لگ گئے ہیں۔ پانچ آٹھ دن مشکل سے نکالتی ہو گی کسی ایک جگہ اور دورے ختم ہوتے ہی دوسرے دن مجھے بلا کر ساتھ کر دیتے ہیں۔ آپ بہت محبت والی ہیں اس بے سہارا لڑکی کو آسرا مل جائے گا یہ سوچ کر آپ کی دہلیز تک آئی ہوں ۔آپ کی بچی کا اتران پہن لے گی جھوٹا کھالے گی ۔آپ کے کام میں مدد بھی دے گی۔" بے تکان بولتی بوا کو روکنے میں نے پوچھا ’’مگروہ ہے کہاں"؟ بوا آواز دینے لگی زرینہ او زرینہ۔ وہ آہستہ آہستہ چل کر آرہی تھی بوا نے سلام کرنے کہا اور بتایا کہ یہ بہت اچھی بی بی ہیں۔ تم یہاں بہت خوش رہو گی۔۔ وہ سلام کی جگہ ہاتھ جوڑے کھڑی تھی بہت بھولی پیاری سی لڑکی۔ میں نے اس کو پاس بلایا سر پر ہاتھ رکھا تو نس نس میں ایک عجب سا سکون اور طمانیت محسوس ہوئی ۔۔۔۔


قاسم صاحب کو پردیس فون کرکے ایک اور فیملی ممبر کی آمد کی خوش خبری دی تو وہ بہت ناراض ہوئے پھر میں نے ساری باتیں بتا کر آخر انہیں منا ہی لیا ۔بچوں نے پہلے انجان انجان سا برتاو کیا مگرزرینہ کی ملنساری نے بہت جلدسب کو شیر وشکر کر لیا۔ میں نے بھی اس کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بیٹی کے اسکول میں داخلہ کروانا چاہا مگر نہ ہوسکا تو میں نے اسی کے پرانے اسکول سے پڑھا کر گھر پر ٹیوشن کا انتظام کیا اور پھر میٹرک میں امتیازی کامیابی کے بعد اچھے سے کالج بھی جانے لگی۔ اسے پڑھائی کا بہت شوق تھا وہ پڑھائی کے ساتھ ہی ساتھ لاکھ منع کرنے کے باوجود سب کے کام وقت سے پہلے دوڑ دوڑ کر کرتی۔ میرا بے حد خیال رکھتی ہمارے پاس آنے کے بعد اسے ہسٹیریا کا دورہ ایک بار بھی نہیں پڑا۔ لگتا تھا وہ اپنا ماضی بھول چکی تھی۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرینہ کے گھر آنے کے بعد قاسم صاحب کی یہ دوسری چھٹی تھی کل وہ واپس جارہے تھے۔سب ہی اداس ناشتہ کر رہے تھے۔ زرینہ جلدی سے ناشتہ کر کے اوپر رخشندہ بیگم کے کمرے میں جا کر جلدی جلدی ہمیشہ کی طرح کپڑوں کو استری کرنے لگی۔۔۔ ۔اچانک زرینہ کے زور زور سے پکارنے اور رونے کی آواز کو سن کر میں بھاگتے ہوئے زینہ عبور کر کے اوپر پہنچی تو وہاں کے ماحول نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی۔۔ "یہ کیا کررہے تھے آپ؟" قاسم صاحب کو زرینہ کے قریب دیکھ کر پوچھا تو وہ کہنے لگے "اسے شاید ہسٹیریا کا دورہ پڑا ہے۔۔" "نہیں یہ غلط بیانی ہے۔" میں غصہ سے بے قابو ہوگئی۔ قاسم صاحب بنا کچھ جواب دئے واش روم میں چلے گئے میں زور زور سے دروازہ پیٹتی اور کہتی رہیں کہ وہ میری بیٹی ہے ۔تم نے ہمت کیسے کی ۔میں تمہیں نہیں چھوڑنے والی۔۔۔میں نے زرینہ کے رونے کی آواز پر پلٹ کر دیکھا اور بے اختیار ہاتھ کھول کر پاس آنے کا اشارہ کیا ۔سہمی ہوئے زرینہ آ کر مجھ سے لپٹ گئی۔ اس کے لپٹتے ہی میرے امڈتے ہوئے ممتا کا چشمہ یک لخت سوکھ گیا۔ نہ جانے مجھ میں سے اچانک کیسے نفرت کا دریا ابلنے لگا۔ زرینہ کو پرے ہٹا کر سیڑیوں سے تیزی سے نیچے اترنے لگی ۔



 پھر مجھے یاد نہیں کب قاسم صاحب واپس گئے ۔ بچے کتنا پریشان ہوئے۔ میں کتنی دیر تک سب کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی تنہا اپنے خیالوں میں گم رہی۔ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے دور چلے جانے کا سوچتی تو کبھی دل کہتا قاسم صاحب جیسے بے وفا کی اب مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ مگر جب عنبرین اورعاصم کا خیال آتا تو خود کو مجبور پاتی۔ پھر سوچنے لگی زرینہ کو کریمن بوا کے حوالہ کر دوں۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ آخرمیں بھی تو بنیادی طور پر انسان ہی ہوں، میں ایسا کیوں نہیں کرسکتی ۔ نہیں میں اتنی کم ظرف نہیں ہوسکتی۔ اف یہ ضمیر کے کچوکے بھی کتنے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ بے ضمیر لوگ خود کے لئے جیتے ہیں، جو جی میں آئے کر گزرتے ہیں۔ ہر پل نیکی بدی کا حساب کرتے نہیں رہتے دوسروں کے دکھ درد سے انہیں مطلب نہیں ہوتا۔جب ضمیر جاگے تو انسان کتنا بدل جاتا ہے خود کوایذا پہنچا کر وہ دوسروں کو خوش دیکھتا ہے مگر اپنی ذات سے کسی کو دکھ نہیں ہونے دیتا۔وہ زمین پر رہ کر بھی آسمان ہو جاتا ہے ۔میرا آسمان کی بلندی سے نیچے اترنا محال ہے ۔۔۔  نہیں میں خود کے اور سب کی نظروں سے گر گئی تو یہ زندگی زندگی نہیں ہوگی ۔۔۔۔مگر میرا دونوں ہی سے دل کا ناطہ ہے دونوں ہی کو میں نے بےانتہا گہرائیوں سے چاہا ہے ۔یہ کیسی آزمائش کی ساعت آن پڑی ہے ۔یہ ایک ساعت مجھے ایک صدی لگ رہی ہے کیا اس کے گزرتے ہی سب کچھ ختم ہوجائے گا اور یہ دل کا رشتہ ٹوٹ جائے گا ۔جس کو ہم نے دامنِ دل میں اتنی عمر چھپایا ہے وہ کھو جائے گا۔ وہ پرائی تھی میں نے کیوں اس سے اتنا من لگا لیا ۔نہیں میں نے اسے اپنا مانا ہے وہ پرائی نہیں پھر کچھ سوچ کر میں نے زیرلب بڑبڑایا۔ ہاں ہاں وہ پرائی ہے ۔بیٹی پرائی ہی تو ہوتی ہے ۔


 میں نے زرینہ کو شادی پر راضی کرلیا بڑی دھوم دھام سے شادی ہوئی ۔ وہ اپنے خود کے گھر رہنے لگی ۔میں اور بچے اس کے ہر دکھ سکھ میں اس کے پاس جاتےاس کے بچے کی پیدائش پر بھی ہسپتال میں ساتھ رہی۔ کبھی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ ہمارے گھر وہ کبھی نہیں آئی اور نہ میں نے اس سے آنے کو کہا ۔ بہت محبت کرنے والا شوہر اور پیارا سا بیٹا سب ہی کچھ تھا اس کے پاس۔ وہ اپنی زندگی میں خوش تھی ۔آج اس نے میری مشکل کی گھڑی میں خود کی انا ، بے عزتی کے احساس کی پروا کئے بنا ہماری مدد کو دوڑے دوڑے آگئی تھی۔ میں نے زرینہ کے ہاتھ کو چوم کر اسے گلے لگا لیا۔۔ قاسم صاحب کے کراہنے کی آواز پر ہم نے ایک ساتھ ان کی طرف دیکھا تو وہ سرتاپا ندامت ہماری جانب دیکھتے ہوئے ہاتھ جوڑے رونے لگے اور پھر انہوں نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں موند لیں۔۔۔




Sunday, December 29, 2013

تجدید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک افسانہ


تجدید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک افسانہ
  




, ہیلو، ہیلو

السلام علیکم ۔۔ ۔ ۔کیسی ہو۔ ۔ ۔ ہاں ٹھیک ہوں ۔ ۔ ۔ کیا ،عرفان نے باس سے جھگڑا کرکے نوکری چھوڑ دی? مگر کیوں ?۔ ۔ ۔ چھٹی کےلئے ۔ ۔ ۔ نہیں شاید امی کی طبیعت خراب ہو مجھے پریشان نہ کرنا چاھتے ہوں ۔ ۔ ۔ کیا وطن، نہیں ۔ ۔ ۔۔۔ اچھا اچھا مکرم بھائی مجھے سمجھانے کہہ ہیں ۔ ۔ ۔ چلیے . . . اللہ حافظ* * مکرم بھائی جو عرفان کے ساتھ آفس میں ملازم ہیں انکی بیوی سے بات کرکے وہ بہت دیر تک ریسئیوار ہاتھ میں تھامے سوچتی رہی کہ عرفان کو کیا ہوگیا ہے ہر وقت موڈ خراب رہنے لگا ہے پانچ سال سے زیادہ شادی کو ہوا۔اسنے کیا کچھ نہیں دیا۔ ایک اعلی نو تعمیر رہائشی بستی میں نیا گھرنمونے میں نادر اورسجاوٹ بےمثال،سامان سے لڈا گھر، گاڑی سب ہی  میسر تھا۔ میں جس جیز کو پسند کرتی وہ دوسرے دن گھر میں موجود پاتی کسی دوکان پرا یک سے زیادہ کسی چیز کودیکھتی تووہ خرید لی جاتی میرے ہر آرام کےلئے اپنےآرام کی قربانی دینے میں خوشی محسوس کرتے,ہر جگہ ہر معاملہ میں مجھے ملحوظ خاطر رکھتے ایک دن میں نے کمپیوٹر کوبتاکر کہا تھایہ تو شو پیس ہےانٹر نیٹ  کنکشن کے بغیر ایسا ہے جیسے بغیر روح کے بدن تو پھر دوسرے دن ہی نیٹ آگیا ہم نے دودن تک دوست رشتہ داروں سے فون کر کر کےآی ڈی لیتے ایڈ کرتے رہیےپھر کئی دن مطلوبہ سائیڈوں کو ڈھونڈ ڈھانڈ کردیتے .

 ہم ایک سائیٹ تلاش کررہے تھے کہ چیٹ روم پہچگئے دونوں نے ملکر خوب انجان لوگوں سے باتیں کی ۔ مجھے اتنا بھی  اچھا نہیں لگا جتنا کے انہیں پھر عرفان نے روز کی عادت بنالی میں اکتا کر ساتھ بیھٹنا چھوڑ دیا
افف کچھ دیر میں عرفان آتے ہی ہونگے کچھ چاے کے ساتھ بنالو۔خیالوں کے بھنور سے نکل کر کچن کی طرف کئی کچھ وقت گزرا ہی تھا کہ عرفان کے گاڑی کی آواز آئی پھرعرفان اندر داخل ہوے ۔چاے کا ٹرے بیڈروم میں رکھے ہوئے صوفہ کے سامنے میز پر رکھا ۔عرفان کو آتے ہی بیڈ روم میں چاے پینا  بہت پسند تھامیں پلنگ پر بیٹتے ہوے حال احوال پوچھی تو غور سے دیکھتے ہوے صرف آنکھوں کو چھپک کر جواب دیا پھر کچھ وقفہ سے میں نے آفس پر فون کرنے پر نا اٹھا نے کے بارے میں کہا تو تیوری چڑھا کر بہت ناراض ہوئے کہنے لگے آفس کام کرنے جاتا ہوں ۔ تم سے گھپے مارنے نہیں۔ خبردار جوتم نے آئندہ کبھی فون کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔ جہاں ہو وہی رہو۔


انکے یہ حاکمانے جملہ سنکر میں آمنا صدقنا کو بہتر سمجھکر چپ رہی ۔ جب اقتدار واختیار ملتا ہے تو اعتدال اورتوازن رخصت ہوجاتا ہے ۔ بے قدری ہرایک ہی کو ناگوار گزرتی ہے ۔ ذلت سے دل بجھ جاتا ہے ۔ مجھےعرفان کے رویہ کودیکھکرمسلمان ہونے کے ناتہ مجھے قرن اوٌل کی یاد آگئی سنت کی کسوٹی پر گھستے ہی ساراملمع اتر گیا ۔ کتنا معیاراورمزاج کا فرق ہے زمین آسمان سے بھی زیادہ ،میرا حق کیا ہے احساس دیلاؤں ! نہیں میری حیثیت نقارخانے کے طوطی سے بھی کمتر ہوگی ہے ۔ اب چپ ہی رہنا مناسب ہے ۔


عرفان کے سیل فون نے مجھے اپنے طرف متوجہ کرلیا وہ ریسیپشن کا بہانہ کرکے باہر کی طرف بڑ گئے ۔ میرے اندر شک کے جراثیم پنپنا شروع ہوے میں نے باہر کے دروازے کی آڑ میں باتیں سنے کی کوشش کی تو مجھے لگا کہ زمین گھومنے لگی ہے۔ وہ کہہ رہے تھےمیں تم سے ملنے اب  دو دن ہیں . پھرصرف اور  صرف ہم ہونگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔نوکری تو پھر مل جایگی  ۔ ۔ ۔ ۔کیا نہیں کوئی جایداد نہیں اور نہ بینک میں زیادہ پیسہ ہی ہیں تم ساتھ ہو تو میرے لئے کافی ہے۔ ۔اچھا رات کو نٹ پر بات ہوگی محبت کے اقرار کے بعد عرفان آنے لگے میں اپنے آپ کو بڑی مشکل سے بیڈ روم تک لا سکی سارے کمرہ کو بغور دیکھی تو  سب ہی غم خوار لگے گھڑی کی سسکیاں،گلدستہ میں سجے پھولوں کا ہل ہل کر تسلیاں دینا , مجسم ندامت کمپیوٹرکا بنا کھڑا رہنا, فون کا درد سے چیخنا سب ہی درد کے ساتھی لگے ۔ ۔ ۔


نہیں اب میں  یہاں نہیں رہونگی۔ عرفان کو میں نے بھی تو کتنی عزت محبت دی ہر بار ان کی خدمت کو تیار ،ہمیشہ پسند نا پسند کا خیال رکھا ۔ وہ ناشکر گزار ہیں بد دماغ اور بے حس ہوگئے ہیں ان کومیری ضرورت نہیں تو مجھے بھی انکی ضرورت نہیں میں روتے  جانے کب سو گئی اور عرفان کب تک کمپوٹر سے لگے بیٹھے رہے مجھے خبر ہی نہ ہوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 دوسرے دن عرفان خلافِ توقع  صبح آفس جاچکے تھے ۔
فون کی گھنٹی بچنے لگی اٹھایا تودوسرے طرف مکرم بھائی تھے کہہ رہے تھے بھابی آپ گریٹ ہو ، مہان ہو میرےلاکھ سمجھا پربھی جو نہ ہو سکا وہ آپ نے کردیکھایا۔ میں نے نہ سمجھتے ہوئے پوچھا ,آپ کیا کہہ رہے ہیں تو بولے کہ عرفان نے با س سے معافی مانگ کر نوکری بحال کرلی ہے اور جانے کا ارادہ بھی ملتوی کرلیا ہے ۔ جلدی میں ہوں رات میں فون کرونگا۔ ایک سانس میں سب کہکر فون رک دیا۔میں اس شدنی پر حیران تھی۔ میری جستجو بڑی اور میں کمپیوٹر میں ہسٹری چیک کرنے لگی،آخرمجھے رات والی چیٹنگ مل گئ جس میں حاصل گفتگو یہ تھی کہ عرفان نے پیار محبت کا یقین دلایا تھا اور دوسری طرف سے موٹی رقم کی مہر میں ڈیمئنڈ تھی عرفان نے آخر میں لکھا تھاکہ میں نے اپنی زندگی ،کیریر سب کچھ داو پر لگایا اورتم  خود غرص نکلی جی کرتا ہے تمہارا خون کردوں
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عرفان روزکی طرح آفس سے آکر صوفہ پر بیٹھے چاے پی رہے تھے۔ وہ چاے ختم کرکے پیالی رکھکر پلنگ پر میرے قریب سر جھکا کر بیٹھ گئے ۔ جھکے ہوے سر کو کچھ اور جھکا کر انہوں نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔
بہت کچھ کہنے میرے ہونٹ گھولےہی تھے کہ دل نے زور سے دھڑک کر روک دیا اور ساتھ میں سوال بھی کرڈالا ۔‘‘کیاآندھی طوفان کے بعد بستی نہیں بستی کیا اس کے مکین اسے اُجڑتا چھوڑ جاتے ہیں‘‘ مجھے لگاجیسے کمرہ میں محبت ،اعتماد ،خوشی کی فضاءچھاگئ ہو ۔ کمپیوٹر فخر سے کچھ اور اکھڑ گیا ہو،گلدستہ کے پھول ایک دوسرے سے خوشی میں گلے ملنے لگےہوں ،گھڑی گنگنانے لگی ہو، فون کے قہقہ نے مجھے چھونکا  


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Sunday, May 26, 2013

ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے۔


السلام علیکم

یہ افسانہ کیا ہے بہت سارے لوگوں پر بیتنے والا سچ ہے میں کافی عرصہ قبل اپنے بیٹے کے گھرگئی تھی وہاں ٹی وی پرڈاکو منٹری دیکھی جس میں ماں،بہن، بیوی،بچوں،والد اور دوسرے قریبی رشتہ داروں کے تاثرات کو دیکھا تھا،آج بھی لگتا ہے دل پر جیسے نقش ہوگئے ہیں ۔ بُرےحالات سے تنگ آکر کچھ نے خود کشی کرلی تھی اورجو زندہ رہے وہ زندگی ہی میں بار بار مر تے رہے ۔ میں نےبہت  ہی کم مسالہ کے ساتھ یہ افسانہ بنا کرآپ سب کے ساتھ شئیر کیا ہے امید کہ آپ کو پسند آئے گا۔



 


ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے
 

رات کافی ہو چکی تھی افشاں اور ذیشاں لیٹ کر ماں کو سلائی کرتے دیکھتے اور سونے کی کوشش بھی کرتے رہےلیکن سلائی کی مشین کی آواز اس کوشش کو کامباب نہ ہونے دیتی ۔ دونوں ہی آنکھیں بند کیے اماں کو اس کا احساس نہ ہو سوچکرلیٹے رہے۔ رابعہ بیگم نے سلائی کی مشین سے اٹھ کر دونوں بچوں کو ٹھیک سے اوڑھا کر جانے لگی تو ذیشاں نے اماں کا پلو بکڑ لیا اور کہنے لگا۔
 
اماں اب آپ بھی سو جائیں بہت رات ہو چکی ہے۔
 
نہیں بیٹے کل ماموں مال لینے آنے والے ہیں نا۔
 
کیا میں آپ کی مدد کر دوں؟
 
نہیں نہیں اس کی ضرورت نہیں تقریباً سب تیار ہو گیا ہے۔
 
تو باقی صبح کر لینا اماں، اب آرام کر لو تھک گئی ہونگی۔
 
رابعہ بیگم نے ذیشاں کے سر پر ہاتھ پھیر کر سوچنے لگی تم ہی میرے جاگتی آنکھوں کے خواب ہو۔
  
شام کے چار بج رہے تھے افشاں اور ذیشان کالج سے آ کر کھانا کھا رہے تھےاور رابعہ بیگم دوسرے کمرہ میں پڑوسن سے محو گفتگو تھی۔ کال بیل کی آواز پر ذیشاں نے دروازہ کھولا تو ماموں نے اسے دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوتے ہی آپا جان آپاجان  باآواز بلند صدا لگانے لگے۔ یہ آوازیں سن کر رابعہ بیگم معذرت کرتے اٹھنے لگی تو پڑوسن نے بھی جانے کی اجازات مانگ لی۔
 
یہ کیا آپا جان جب دیکھو آپ کے گھر کوئی نہ کوئی مہمان بیھٹے رہتا ہے اور آپ سامنے نہ ہو تو ہمیں یہ افشاں کی بچی لوٹ لیتی ہے دیکھو ابھی ہمیں آئے کچھ ہی دیر ہوئی اور اس نے ہم سے نئے کپڑے بنانے کے لیے بارہ سو روپے وصول کر لیے ہیں اگر ہم کچھ دیر اور یہاں ٹہرے تو شاید کا سہء گدائی لے کر ہمیں اللہ کے نام پر بابا کہنا نہ پڑھ جائے۔ ان کی نظر ذیشاں پر پڑی تو کہنے لگے ذیشاں بیٹے ہم تمہارے بھی ماموں ہیں تم بھی کبھی ہم سے کچھ مانگ لیا کرو بیٹا۔
 
نہیں ماموں مجھے تو الٹا آپ کی اور امی کی خدمت کرنی چاہیے مگر اماں کی خواہش ہے میں ابھی اپنی پڑھائی پوری کروں، یہ ختم ہوتے ہی میں ان شاءاللہ اپنے بڑوں کی مدد کر سکو گا یہ ہی میرا خواب ہے ماموں۔ ماموں کو اس کی بات کا کوئی جواب نہ بن پڑا تو وہ اچھا اچھا جیتے رہو کہہ کر چپ ہو رہے۔ ماموں پرانے مال کے پیسے دے کر نیا مال لے کر جانے سے پہلے رابعہ بیگم سے کہنے لگے۔ وقتِ جوانی رو دھو کاٹو پیری میں آرام کرو ۔آپا جان اب آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان شاءاللہ آپکے اب مصیبت کے دن ختم ہونے کو ہیں افشاں کا رسم تو ہو گیا ہے اچھا خاندان ہے خوش رہیگی شادی کی تیاری بھی ہم اچھے سے کرلیگے جمع بندی تو کر رکھی ہے نا اور ذیشان تو بہت ہی سلجھا ہوا سمجھدار بچہ ہے ہر ایک اس کی تعریف کرتے تھکتے نہیں اور پھر اس نے آج تو اپنی باتوں سے میرا بھی دل بہت خوش کر دیا ہے وہ ہماری خوابوں کو سچ کر کے دکھائے گا آپا۔ ماموں ہمیشہ کی طرح تسلی دینے کے بعد مال لے کرچلے گئے۔
 
 
آج رابعہ بیگم بہت مطمئن نظر آ رہی تھی افشاں نے ان کو خوش دیکھ کر ان سے بھی پیسے مانگنے چاہے تو رابعہ بیگم پھٹ پڑی اے لڑکی تجھے ہو کیا گیا ہے ۔ ذرا لڑکیوں کی طرح رہاکر، جب دیکھو بے شرمی بے حیائی بدتمیزی پر آمادہ رہتی ہے ایسے ہی رہی نا تو اگلے گھر جائے گی تو میری تو ناک ہی کٹوا دےگی ۔۔مگر اماں میں نے ایسے کیا کر دیا افشاں نے معصوم سی صورت بنا کر پوچھا تو رابعہ بیگم نے چڑ کر کہا کوئی بھلا ایسے کرتا ہے گھر آئے مہمان کے ساتھ۔ اماں وہ کوئی نہیں ہیں ہمارے ماموں ہیں اور پھر وہ ہمیں کتنا چاہتے ہیں نا اماں، افشاں نے وضاحت دینا چاہی تو رابعہ بیگم نے چپ کرتے بولی ہاں ہاں معلوم ہے مگر ایسے تنگ کرتے ہیں کیا؟ وہ بے چارا برسوں سے ہماری مدد کر رہا ہے اگر وہ نہ رہتے تو نہ جانے میں تم دونوں کو لے کر پہاڑ سی بیوگی کی زندگی کیسے گزار پاتی رابعہ بیگم کہتے کہتے آبدیدہ ہوگئی اور جلدی سے دوسرے کمرہ میں چلی گئی۔
 
افشاں ماں کے باتیں گم سم بیھٹی سن رہی تھی ماں کے پیچھے جانے لگی۔ ذیشاں چاہتا تھا اماں اکیلے میں اپنا جی ہلکا کر لے اور افشاں کا بھی کچھ دل بہل جائے یہ سوچ کر اس نے افشاں کا راستہ روک کر کہا افشاں میں تجھ سے ایک پہیلی پوچھتا ہوں دیکھنا تم اب کی بار بھی بوجھ نہ سکو گی اور وہ جلدی سے کہنےلگا۔ بند آنکھوں نے وہ دکھلایا آنکھ کھلی تو کچھ نہ پایا۔
 
 افف فوہ ،بھائی کوئی کیسے بند آنکھوں میں دیکھے گا یہ پہیلی تو بڑی عجیب ہے ذیشاں پھر دوہرانے لگا تو افشاں نے کہا بھائی ہم تو بند آنکھوں میں کچھ دیکھتے ہی نہیں، جو دیکھتے ہیں سب کھلی آنکھوں میں۔ وہ سوچتے ہوئے بولی تو ذیشاں نے کہا اللہ تیرے سارے خواب کھلی آنکھوں میں ہی پورا کرے۔ افشاں چونک پڑی۔ خواب ،خواب میں سمجھ گئی دیکھا ٹھیک پہچان گئی نا۔ افشاں نے لہک کر کہا اب میں پوچھوں گی آپ سے، کالا سمندر پیلا پانی بیچ میں ناچے گڑیا رانی ۔۔ ارے پیٹوں تم تو جب سوچو کھانے کا ہی ۔۔ کڑاھی،تیل پکوڑا ذیشاں بول پڑا۔ بھائی آپ بھی نا،اب کے پوچھئےگا دیکھیں  میں جھٹ سے آپ سے بھی جلدی بتادونگی ۔ وہ ناراضگی چھپاتے بولی ۔ سوگھوڑے اور ایک لگام پیچھے چلیں تمام۔ چلو پہچانو۔۔ذیشان ابھی جملہ پورا بھی نہ کیا تھا کہ رابعہ بیگم نے آکرافشاں کی ہتھیلی پر ہزار روپے رکھتے ہوئے کہا آئندہ سے ماموں سے مت لینا جو بھی چاہئے مجھے سے کہا کر۔ وہ افشاں کو پیسے دیتے ہوئے نرمی سےکہا۔ افشاں کو کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ کالج کی فیس اور اتنے ہی پیسے بیٹے کو بھی دینا چاہا تو اس نے صرف فیس کے پیسے لے کر باقی اضافہ رقم واپس کر دی۔
 
ذیشاں ذیشاں باہر سے دو گھر بعد رہنے والے لڑکے کی آواز آنے پر وہ باہر جا کر جلدی ہی اندر آ کر رابعہ بیگم سے پوچھنے لگا کہ اماں گلی کے سب لڑکے مل کر کرکٹ کھیل رہے ہیں اگر آپ کی اجازات ہو تو میں بھی کھیلوں ۔ ہاں ہاں جاؤ بیٹے یہاں قریب ہی تو کھیل رہے ہو نا، جاؤ جاؤ رابعہ بیگم نے کہا۔۔
 
تھوڑی دیر بعد باہر سے پھر اسی لڑکے کی زور زور سے پکارنے کی آواز آئی۔ آنٹی جی، ذیشاں، ذیشاں، جلدی آئیے، ارے کوئی ہے اور پھر بہت سارے آوازیں ایک ساتھ آنے لگی۔ رابعہ بیگم دوڑ کر باہر بھاگی تو وہ یہ دیکھ کر حیران پریشان ہو گئی کہ پولس ذیشاں اورپڑوس کے ایک دوسرے بچے کو پکڑ کر گاڑی میں لیے جا رہے تھے وہ اندر آ کرفوراً اپنے بھائی کو فون کرنے لگی۔ پھر وہ ڈھوتے ہوئے باہر آئی تو  پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مسجد میں بم رکھنے والوں میں یہ بھی شامل ہے اس لئے لے کر گئے ہیں۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا وہ زیر لب بڑبڑائی ۔۔
 
 
 
یہ سچ نہیں ہے، رابعہ بیگم ہر ایک سے کہتی اور بیٹے کو گھر لانے کی کوشش کرتی رہی پھر دو دن بعد خبر ملی کہ اُس دوسرے لڑکے کو چھوڑ دیا گیا ہے اور ذیشاں کو جیل بھیج دیا گیا ہے ایک قیامت تھی جو رابعہ بیگم پر نازل ہوئی تھی افشاں کے سسرال خبر پہنچی تو سسرال والوں نے رسم توڑ دیا۔ ہر ملنے والوں نے منہ موڑ لیا۔ آج تو ماموں نے بھی فون پر کہہ دیا کہ میری بیوی آپ کے پاس جانے پر ناراض ہے میرے بچوں پر اس کا برا اثر پڑنے کے امکان ہیں آپ ایرانی ہوٹل پر آجائیں میں مال کہاں سے لیتے ہیں اور کہاں پہچانا ہے بتادونگا ۔یہ کام اب آپ خود ہی کرلیا کرے میں بس اتنا ہی کر   سکتا ہوں آپ کی مدد،ابھی دو گھنٹہ بعد آجانا۔ ٹھیک ہے ،بہت احسان ہے آپ کا بھائی ۔ یہ کہہ کر رابعہ بیگم فون رکھ کر رونے لگی۔
 
 
آج آٹھ ماہ ہو گئے رابعہ بیگم بیٹے کو واپس لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہاں کہاں نہیں گئی وہ۔ پولس کے چھوٹے سےلے کر بڑے آدمی تک کا پاوں پکڑے۔ حکمرانوں کےآدمیوں کے آگے ہاتھ جوڑے۔ ہر جاننے والوں کا دروزہ کھٹکھٹایا مگر ہر ایک  انہیں دھتکارتے ہی رہے۔ آج مسلم ،غیر مسلم،تعلیم یافتہ اور ان پڑھ چھوٹے ،بڑے ،مرد ،عورتیں سب ہی ٹی وی،کھیل اور دوسرے لہولہب میں ایسے مصروف ہوگئے ہیں کہ انہیں اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں کا لحاظ باقی نہیں رہا۔ اگر ان لوگوں پر بھی (خدا نہ کرے) ایسا وقت آئے توان کو پتہ چل جائے کہ پریشان حال ،بے قصور ،زبوں حال لوگوں کی طرف سے بے التفاتی اور بے عتنائی کا انجام اور نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ کاش انہیں اس بات کا احساس ہو جائے ان کی انسانیت جاگ جائے تو  یہ لوگ اپنے کھانے، سونے تک کے لئے خود کو وقت نہیں دینا چائیں گے ۔
 
 
آج پھر رابعہ بیگم کو ایک آس بندھی ہے ۔ محلہ کےذیشان کے ساتھ پکڑے جانے والا لڑکا  چھوٹ گیا تھا ۔ اسی کے والد یں نےان کے حال پر رحم کھا کرکسی آدمی سے ملانے کا وعدہ کیے تھے اور وہ بے چینی سے انتظار کر رہی تھیں۔ پھر وہ ان صاحب کو ساتھ لے کر آئے۔ سارے باتیں سننے کے بعد انہوں نے بتایا کہ بات صرف پولس سے نکلنے کی نہیں ہے یہ معاملہ تو جیل تک پہنچ چکا ہے اور وہ بھی بم کا ہے پیسے بہت ہونگے تمہارے پاس تو کوئی کمانے والا بھی نہیں۔۔۔مگر میرا بیٹا بے قصور ہے رابعہ بیگم بے بسی سے بتانے لگی ۔۔ہاں مجھے پتہ ہے ۔ تم یہ بتائیں کہ تمہارا کام کرنا ہے یا نہیں ۔ پھررابعہ بیگم نے افشاں کی شادی والی جمع رقم اور پس انداز پیسوں کا تخمینا دماغ میں لگانے کے بعد سوچ کر ہاں کہہ دی۔۔ٹھیک ہے ہو جائے گا مگر میں پہلے بتا دو کہ اس میں ذرا وقت لگے گا۔ پہلے وکیل کرنا ہوگا کیس چلنے کی بعد رہائی کا بندوبست کرنا پڑے گا قریب ہفتہ سے دو مہینہ لگ سکتے ہیں وہ لوگ یہ کہہ کر چلے گئے
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
ذیشاں بیٹے یہ کیا ہے۔  تمہیں گھر آئے اتنا عرصہ ہوگیا ہے ۔ مگر تم جب سے آئے ہو خود کو گھر میں قید کر لیا ہے۔ نا کبھی کالج جاتے ہو ۔ نہ کہی باہر دوستوں سے ملتے ہو۔ نہ گھر ہی میں بات کرتے ہو۔ یوں چھت کو ٹکٹی باندھے آخر کیا دیکھتے رہتے ہو ۔ سنبھالو بیٹا اپنے آپ کو، اب تم گھر آگئے ہو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ اب ہماری آس تو تم ہی سے بندھی ہے تم ہی کو تو ہمارے خوابوں کو پورا کرنا ہےرابعہ بیگم بغیر رکے کہنے لگی۔۔۔اماں آپ مجھ سے چھپا رہی ہیں مگر مجھے پتہ ہے میری وجہہ سے افشاں کی شادی کا خواب ٹوٹ گیا،ماموں نے بھی آپ سےرشتہ توڑ لیا۔ کوئی ہمارے گھر نہیں آتا۔ کوئی ہم سے بات تک کرنا نہیں چاہتا ۔ایسے ڈرتے ہیں جیسے دوسرے سیارہ سے آئیں ہیں میرے ساتھ کالج اور محلہ میں بھی سب ایسا ہی سلوک کرتے ہیں میں نے اپنے ساتھ آپ لوگوں کا جینا بھی دوبھر کردیا ہے،آپ لوگوں کے خواب بھی چکناچور کردیے اماں ۔اب اپنی اور آپ لوگوں کی توہین نہیں برداشت کرسکتا اماں ۔ ذلت کی نہ دکھائی دینے والی زنجیروں میں لپٹا ہوا ہوں میں ۔ میں مر جانا چاہتا ہوں آپ دونوں میرے جانے کے بعد خوش رہ سکے گے اماں ۔۔۔۔۔ ذیشاں زارو قطار روتے ہوئے کہنے لگا پھر اسنے زہر کی شیشی نکل لی۔ رابعہ بیگم نے ہاتھ سے زہر کی شیشی دور مار گرانے کے بعد بیٹے کو لپٹا لیا نہیں نہیں ایسا نہیں کرتے، ضرور ہمارے خواب پورے ہونگے وہ ہمت اور یقین سے بولی ہم تم اگر ساتھ رہے تو سب ممکن ہے میرے بچے ،قوت ارادی اور قوت فیصلہ سے انہوں نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے کہا ہم یہ شہر چھوڑ کر دور کوئی اور شہر چلے جائیگے جہاں ہم اپنی دوسری پہچان بنائیگے ،جہاں ہم ایک نئی دنیا بسائے گے۔ ایسا اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے میرے بچے ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے ۔

 مگر کیا ہم دوسری جگہ بھی بنا کسی اندشہ اور امن و امان کے ساتھ رہ سکے گے ؟ یہ سوال اک بارگی سب کے دماغ میں سمایا ہوا تھا اور خاموشی چاروں طرف چھائی ہوئی تھی۔
 
 
   
 
 

Thursday, May 16, 2013

غزل ۔۔ معین الدین چشتیؒ

 
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ
کی ایک غزل


آپ بہت صاحبِ حال بزرگ گزرے ہیں جن کاظاہر شریعیت سے مزین اور باطن طریقت و معرفت سے لبریز ہے بالفاظ دیگر ظاہر،باطن اور باطن، ظاہرکا نورہی نور تھا ۔دنیا میں ان کا فیض ہمیشہ جاری ہے ۔ان کی شاعری بناوٹ،تصنع،دکھاوا وغیرہ سے پاک رہی ۔ وہ شاعری شاعری نہیں بلکہ سب اسرار و رموزالہی کا بیان ہے ۔رب تعالی سے ملنے کے لئے راہ سلوک کی منزلوں کو بیان کیا ہے ۔
خواجہ صاحب قدس سرہ کاسلوک چشتیہ "اسم ِذات" اور اس کے ذکر اور" تصور اسم ذات" سے مربوط ہے آپ کی شاعری کا رنگ سب سے الگ اور ممتاز ہےآپ کی غزلیات سے یہاں پر ایک حمدیہ غزل پیش کی جاتی ہےجس کا ہر ایک شعرآپکی جلالت علمی اور ذکر حق میں کمال استغراق کی داد دیتا ہےاردو ترجمہ ہفت مراحل سلوک اورانگریزی ترجمہ
"per-pughal persian in Hindustan"
سے لیا ہے۔

ربود جان ودلم را،جمال ِنام خدا
نو اخت تشنہ لباںرا، زلال نام خدا

 
وصال حق طلبی، ہمنشین ِنامش باش
بہ بین وصال خدا، دروصال ِنامِ خدا

 
میاںِ اسم ومسمئ، چو نیست فرق بہ مین
تو درتجلئ اسماء ،کمال ِناِم خدا

 
یقین بدان کہ تو باحق نشستہ ای شب وروز
چو ہمنشین تو باشد، خیال نامِ خدا

تُراسزوِطیران ورفضائی عالم قدس
بہ شرط آنلہ بہ پری، بہ بال ِنامِ خدا

 
چو نامِ اوشنوم، گربودمرا صدجان
فدای اوست، بہ عزوجلال نامِ خدا

 
معین زگفتنِ نامش ملول کئ گرود
کہ ازخدا است ملالت، ملال نامِ خدا

اردو ترجمہ


 
خداکے نام کاجمال میرے دل وجان کو اڑالے گیا
خدا کے نام تشنہ لبوں کو آب زلال (پاک پانی) سے نوازا
اگر تو حق کےوصال کا طالب ہے تو اس کے نام کا
ہمنشین بن جا( اور )خداکے نام کے وصال میں خداکا وصال دیکھ لے


جب نام اور صاحبِ نام میں کوئی فرق نہیں ہے تو
اسم ذاتِ الہی میں تمام اسمائےصفاتی کی کامل تجلیات دیکھ لے ۔

یقین جان کہ، تو شب وروز حق کے ساتھ بیٹھاہوا ہے
جب بھی خدا کے نام کے خیال کا ہمنشین ہے

عالم قدس کی فضاوں میں پرواز کرنا تجھے سزاوار ہے
بشرطیکہ تو خدا کے نام کے بازووں سے پرواز کرلے

 
جب بھی میں اس کا نام سنوں اور مجھے سو جانیں مل جائیں تو خدا کے نام کی عزت وجلال کی قسم، اس نام پر تمام جانین قربان ہیں
معین اس( خدا) کے نام کا ذکر کرنے سے کب ملول
بیزار) ہو کیوں کی خدا کے نام کے ذکرسے بیزار ہونا( دراصل) خدا سے بیزارہونا ہے.

 
مسئلہ شرعی یہی ہے کہ خدا کے نام کاذکر ہی خداہے اور اس کے ذکر سے بیزاری خدا سے بیزاری ہے اور خدا سے بیزاری کفر ہے ۔

English Translation

The beauty of the name of God (ALLAH) has robbed me of my heart and soul.
The pure water of His name quenched the thirsty lips.

If you desire His Union, be an associate of His name.
Realise the Union with God in the recitation of His name.

 
When there is no difference in the name and the Named, see in the glorification of His name the perfection of the same.

 
Believe that you are sitting in the company of God, day and night.
When your companion is the reminiscence of His name.

 
It is befitting for you to fly in the air of the celetial world, If only you fill in with the winds of His name..

 
When I hear His name, if there be a hundred lives in me, I swear by the glory of His name that I would sacrifice them all..

 
When does Mu'in grudge the repetition of His name?
Since that grudge implies a grudge against Him.


آپ کی اس ساری غزل میں واذکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا(مزمل ۷۳۔۸)اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہورہو اور وللہ الاسماءالحسنی فادعوہ بھا(اعراف ۔۱۸۰)"اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو ان سے پکارو" ۔ کا بیان ملے گا۔ اور یہ عتماد اخبار سے لیا گیا ہے ۔

 

آپ سب نے ٹائم دیا ممنون ہوں ۔اب کوثر کو اجازت دیے
 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Saturday, April 27, 2013

خدا داد




السلام علیکم
حیدرآباد کے ممتاز شاعر عبدالغفار خدا داد کاجمعہ کی شب 2سمتبر2011 کوحیدرآباد میں منعقدہ ایک بڑے مشاعرے میں اپنا کلام سنا رہے تھے کہ قلب پر شدید حملہ کے سبب سےاپنے چاھنے والوں کوداغ مفارقت دے گئے یہ سانحہ اس وقت پیش آیاجب ان کے ایک دوست ہر سال جدہ سے چھٹی پر آتے تو اپنے احباب کے لے پر تکلف عشائیہ کے ساتھ محفل شعر کا بھی اہتمام کرتے جس میں شہر کے معرف شعراء کے علاوں اضلا ع و بیرونی ریاستوں کے چند شاعروں کو مدعو کرتے ۔اسی محفل میں اپنی باری آنے پر جب خدا داداسٹیج پر اپنی غزل سنارہے تھے تو چوتھے شعر پر اچانک لڑکھڑانے لگے۔ سامنے نشستوں پر بیٹھے ان کےدو قریبی دوستوں نے تیزی سے دوڑ کر ان کو تھام لیا ۔ محفل میں شریک ایک ڈاکٹر نے نبض دیکھکر ان کی موت کی تصدیق کردی ۔ ساری محفل پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ان کی وفات اہل ِخاندان،دوستوں اور حیدرآباد کے ادبی حلقوں کے لئے سانحہ ہے۔اس سانحے سے تادیر سنبھل نہ سکیں گے۔
 
تمام مرحلے صوت وبیاں کے ختم ہوئے
اب اس کے بعد ہماری نوا ہے خاموشی
 
عبدالقفار کی زندگی میں بڑے نشیب و فراز آئے ۔ بعض مرتبہ بڑی سخت آزمائشوں سے گزرے لیکن انہوں نے بڑی پامردی سے اور بڑے صبرو سکوں کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا اور وہ ُان طوفان سے بچ کر صحیح سلامت نکلے ۔ انتہائی نامساعد حالات میں بھی یہ شخص ہمیشہ کی طرح احباب کے جھرمٹ میں اپنائیت ،خلوص اور ایثار کی متاع بے بہا لٹاتا رہا اور قہقہے بکھیرتے رہا۔ان کے اخلاق ، شرافت اورانکساری کے سب ہی قائل تھے جو ایک باران سے مل لیتا ان کی سراپا پُرخلاص شخصیت کا اسیر ہو جاتا ۔ بارہ سال قبل اہلیہ کے انتقال کے بعد وہ تنہا رہ گئےتھے ۔انہیں اولاد نہیں تھی ۔وہ اپنی ضعیف والدہ اور ایک بیوہ بہن کے ساتھ اپنے ذاتی مکان محمدی لائن(ٹولی چوکی)میں رہا کرتے تھے۔وہ ساری عمرپیشہ تدریس سے وابستہ رہے ۔ ریاضی کے بہیت اچھے استاد مانے جاتے تھے ۔ مختلف خانگی مدارس میں انہوں نے خدمات انجام دیں۔جہاں بھی کام کیا وہاں اپنی محنت،ایمانداری اور شرافت کے نقوش چھوڑے ۔ سادگی ،قناعت اور بے نیازی کا یہ عالم کہ کبھی تنخواہ کی کمی کی فکرنہ کی ۔ سادہ لباس ، سادہ غذا ،اور سادہ زندگی میں خوش ومگن رہا کرتے تھے ۔ خود داری بھی ایسی کہ بر سہا برس کی رفاقت میں کبھی ان کو اپنی کسی ضرورت واحتیا ج کا ذکر کرتے نہیں پایا ۔وہ اپنے اس شعر کی عملی تفسیر تھے
 
اس سے بہتر ہے زہر کھا لینا
ایک لقمہ حرام کمانے سے
 
اکثر وہ اپنے قریبی احباب سے حج پر جانے کی شدید خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے ۔ایک ایک پیسہ جوڑانہوں نے بالآخر رقم جمع کی اور دو سال قبل حج کا فریضہ ادا کیا ۔
 
زمانہ طالب علمی ہی سے عبدالغفارخداداد شعروادب کا نکھراستھرا ذوق رکھتے تھے اپنے محدود وسائل کے باوجو اچھی کتا بیں اورمعیاری جرائد اور رسائل خرید کر پڑھناان کامحبوب مشغلہ تھا ۔ ان کی ذاتی لائبریری میں کتابوں کا اچھا خاصا ذخیرہ موجود ہے ۔ وہ مشاعروں میں اپنا کلام بہت کم کم سناتے تھے مخصوص محفلوں میں بے حداصرار کرنے پر کلام سنایا کرتے تھے ۔ویسے شہر کی کم وبیش سبھی اہم شعری ونثری تقریبات میں ان کی شرکت لازمی ہوتی تھی ۔ ہمارے بعض جدید شعراءجہاں امیجری اور نئے پن کی تلاش میں مہمل تر کیبیں تراش رہے ہیں وہاں خدا داد کے فن میں سادگی جھلکتی ہے ۔اپنی بات کو نہایت عام فیم، سادہ،سلیس اورسلجھے ہوئے انداز میں پیش کرتے ۔انہوں نے جدت پسندی کا مظاہرہ کیا اور نہ دوسروں کو چونکا دینے کی کوشش کی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی غزلوں میں علامتی ،رمزیہ اور استعاراتی نظام سے بھی گریز کیا۔ صاف واضح اور سادہ زبان میں عصر حاضرکے مسائل ومعاملات کو با مقصد شاعری کے روپ میں پیش کرکے انہوں نے محفلوں میں انفرادیت کا نقش چھوڑا اور سامعین سےداد و تحسین حاصل کی ۔ مذہبی حسیت وتصوف اور ملت کے دکھ درد کی آئینہ داران کی شاعری نطر آتی ہے انہوں نے باضابطہ ترتیب وار اپنےکلام کو محفوظ نہیں رکھا ۔ چیدہ چیدہ کاغذات پر وہ لکھتے رہے بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر ہیں لیکن انہوں نے چند نظمیں بھی لکھیں جن میں سب سے مشہور نظم تاج محل جو ساٹھ بند پر مشتمل ہے ۔ یہ طویل نظم اعتماد کے ادبی صفحہ پر پوری کی پوری شائع ہوئی تھی۔ اس نظم کو دہلی سے تاج محل کے عنوان پر شائع ہونے والی ایک کتاب کے لئے بھی منتخب کرلیا گیا تھا خداداد صاحب اس کی تو سیع کرکے دوسو بند کی نظم میں تبدیل کرنے اور کتابی صورت میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے تھےاس نظم کی ادبی حلقوں میں بڑی پزیرائی ہوئی تھی ۔ بابری مسجد کے انہدام اور فرقہ وارانہ فسادات کے موضوعات پر ان کے قلم میں اضطراب کی لہریں دیکھنے کو ملتی ہیں کلا سیکی طرز کی ان کی شاعری میں زبان و بیان کا حسن اور کردار کی عظمتیں واضح طور پر محسوس کی جاتی ہیں درج ِذیل چند اشعار سے ان کی شاعری کی خصوصیات کو سمجھنے میں مددملے گی ۔
 
سپردِ خاک میت کررہے ہیں
یہی اردو کی خدمت کر رہے ہیں
 
تا باں تاباں بڑھ کر سورج سر پر آپہچا
چڑھتا سورج پوجنے والو ،سورج چڑھ کر ڈھلتا ہے
 
مومن کبھی اللہ سے کرتا نہیں شکویٰ
اللہ کی مرضی ہی فقط اس کی رضا ہے
 
 
کس بات پہ نازاں ہے خدا داد بتا تو
یہ جسم ترا قبر کے کیڑوں کی غذا ہے
 
 
رزق چل کر کبھی نہیں آتا
اڑنا پڑتا ہے آشیانے سے

ساری تسبیح بے عدد ٹہری
ایک دھاگے کے ٹوٹ جانے سے
 
 
ماں کو دیکھا جو پیار سے میں نے
اس کا اب تک ثواب جاری ہے


 
خدا داد اس طرح اپنے چاہنے والوں سوگوار اور اشکبار چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوجا ئیں گےوہم وگمان میں نہ تھا حقیقتاً وہ دلوں کی بستی اور یادوں کی دنیامیں شرافت نفسی،ملنساری اور اخلاص کی وجہ سے ہمیشہ رکھےجائیں گے ۔
 
 
ممتاز شاعر جناب عبدالغفار خداداد کے سانحہ پریوسف روش کا لکھا تعزیتی قطعہ
 
حبیب حق تعالٰی ہیں محمد
وسیلہ بن کے سب کے سہارے
 
 
ہیں زندہ شاعری کے ساتھ بے شک
خداداد آج بھی دل میں ہمارے

آپ سب کی مشکور ہو ں کہ میرے بلاگ پر تشریف لے لائے