Showing posts with label نگارش. Show all posts
Showing posts with label نگارش. Show all posts

Monday, December 09, 2019

کیا خبر تھی کہ خزاں ہوگی مقدر اپنا


 میں خاموش نگاہیں لیے آسمان کو تکے جارہی ہوں کبھی کبھی کوئی پرندہ پھڑپھڑاتا ہواپرواز بھرتا ، تب میں چونکاٹھتی ہوں۔کچھ ساعتیں بوجھل سایہ تلے گزر جاتے ہیں ۔۔۔ دوبارہ سوچوں کی وادی میں کھو  جاتی ہوں ۔ 

سنیں ! آپ کو یاد ہے ناں۔۔۔۔ ؟
جب ہمارا بیاہ ہوا تھا۔ ہم پر چند پابندیاں عائد تھیں۔۔۔  والدہ کے حکم کے مطابق  رات جب سیاہ گھونگھٹ اوڑھ لے۔۔۔تبہمیں اپنی خواب گاہ میں جانے کی اجازت ہوتی۔۔۔تب تک میں رسوئی گھر میں مصروف اور آپ ڈرئینگ روم میں بیٹھےاونگھ رہے ہوتے۔۔۔یا پھر سب کی نظریں بچاتے ہوئے میرے آگے پیچھے کسی نا  کسی  بہانے سے گھوما کرتے ۔   امی آپکو تیز نگاہوں سے دیکھتیں اور ٹوک دیا کرتیں۔  آپ بہت ڈھیٹ سب کی نظر  بچا کر مجھے چھوتے ہوئے گزار جاتے ۔ میںشرما جاتی۔۔۔اور آپ ڈھٹائی سے مسکرا اٹھتے۔آپ کا چھونا میرے تن بدن میں محبت کی آگ سلگھا دیتا۔۔۔۔وجود میںلہراتے  شعلے میرے رخسار سرخ کردیتے  ۔اس طرح جب بھی موقع ملتا ہم  نظروں ہی نظروں میں باتیں کیے جاتے۔۔۔محفل ہو یا تنہائی، ہر جگہ  مجھے آپ ہی  محسوس ہوتے۔۔۔ آپ کی نظروں کی تپش مجھے موم کی طرح پگھلا دیتی۔ آپ  دور بھی ہوں تو مجھے آپ کی موجودگی کا احساس ہر پل خود کی سانسوں  کے  قریب محسوس ہونے لگتا اور یہ یقیندلاتا کہ آپ میری سانسوں میں ۔۔۔دھڑکنوں میں۔۔۔وجود میں سمائے ہوئے ہیں۔

چہار سو  بہار ہی بہار محسوس ہوتی۔ جیسے ہمارے اطراف ہریالی کی مخملی چادر سی بچھی ہوئی ہو اور موتیاچمیلی گلاب کے پھول قریب ہی بکھرے پڑے ہوں ،جس کی مہک ہمیں مدہوش کئے جارہی ہوتی ۔ زمین کے مسحور کنقدرتی مناظر سے نظریں  اٹھتیں تو شفق کی سرخی افقِ آسمان پر نمودار ہوتی جو ہمارے اندر جذبات کا تلاطم برپاکردیتی ۔ آپ کی نظریں ان سنہری کرنوں کے آسمان پر غائب ہونے تک  میرا تعاقب کرتی رہتی اور میں گھبرائی  ہوئی  امی پر نظر جمائے رکھتی کہ کہیں وہ آپ کی چوری نا پکڑ لیں۔۔۔  میں دل ہی دل میں امی کے حکم کی منتظر رہتی کہحکم ملے اور میں اپنی خواب گاہ میں چلی جاوں۔۔۔ خود کو  پرسکون  دکھانے کی کوشش کرتی ۔ امی اندازِ بے نیازیسے کہتیں
 “جاؤ شام ہوگئی بستر ٹھیک کرو ، اب کمر بھی سیدھی کرلو “اور میں چپ چاپ کمرے میں چلی آتی اور آپ دروازے کےپیچھے چھپے ہوئے مجھے بھوں کہتے ہوئے پیچھے سے پکڑ لیتے ۔
مجھے  اس بات کا علم ہوتا مگر جھوٹ موٹ  ڈرنے لگتی ۔تب آپ دیوانگی کی عالم میں مجھے بانہوں میں تھام کر ہنسنےلگتے۔

 وقت گزرنے لگا ۔  امی ہم سے دور چلی گئیں۔۔۔لیکن  ہم  دونوں نے ان اصولوں کی پاسداری کی اور وہ یادیں اور جذباتکی شدت و حدت کو ہر روز  ڈھلتے سورج کے ساتھ تازہ کرتے رہے۔ شفق کی سنہری لالی دیکھکر ہم سہاگ رات کےسرخ جوڑے  ، مہکتا بستر اور سرخ گلابوں کی خوشبو کی باتیں یاد کرتے اور لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی مہکاتے چلےجاتے۔۔۔اس طرح ایک دوسرے میں گم ہوجاتے۔
 بہت حسین تھے  زندگی کے وہ دن !!

ایک طویل عرصہ  ساتھ رہنے کے بعد بھی لگتا  تھا کہ ہم ابھی ابھی ملے ہیں۔۔۔جنون اور دیوانگی اول روز جیسی ہیہوتی۔ وقت پر لگا کر اڑتا چلاگیا۔ 
ڈوبتے سورج  کی کرنیں جب آسمان پر پھیلی ہوئی ہمارے عشق کی داستاں لکھ رہی تھیں۔۔۔اچانک وقت تھم گیا۔۔۔سانسیں دھڑکنوں سے جدا ہوگئیں۔۔۔ موت نے آپ کی سانسیں مجھ سے چھین کر انجان جہاں میں پرواز کرگئیں ۔ 
میرے وجود کے تئیں  پُرخزاں  ویرانی  چھا گئی ۔ اس دن سے میری تمام خوشیاں ارمان اور بہار کا موسم ہمیشہ ہمیشہکے لئے زوال پزیر ہوگیا۔

میں تنہا ایک سوکھے پیڑ کی طرح کھڑی ہوں جس کے سارے پتے خزاں کی نذر ہوچکے۔۔۔تاعمر کے لیےپت جھڑ کا موسمبنی۔۔۔تنہائی کی چادر اوڑے  ہر روز  ڈوبتے سورج کو تکتی رہتی ہوں۔جب   شفق سرخی کے ردا اوڑ لیتا ہے تب میرےوجود میں آگ  لگا دیتا  ہے جس کے تئیں ہر پل میرا وجود جلتا رہتا ہے دل چاک ہوا جاتا ہے۔ایک دن ایسی ہی ملگجی شام۔۔۔۔۔ میں بھی کسی پت جھڑ کے پتوں کی طرح مٹی میں مل جاؤنگی کیونکہ کیا خبر تھی کہ خزاں ہوگی مقدر اپنا.......

Tuesday, October 29, 2019

انسانیت


مجھے یاد ہے آج سے چار دہایوں  پہلے پانچ پانچ سات سات بھائیوں کے بیوی بچے ایک گھر میں رہتے اور ایسا گھل ملکر رہتے،  کیا آج سگے بھائی بہن رہتے ہونگے ۔ بستی اور دفتر میں کون کس مذہب اور نسل کے ہیں نہیں دیکھا جاتا۔  ہرخوشی غم میں  مل جل کراہنے پرائے شریک رہتے ۔ آپس میں ہمیشہ بھائی چار گی  قائم رہتی ۔ دل کدورتوں سے پاکتھے ۔ ہر طرف امن و امان کا راج تھا ۔ یہ ہی انسانیت کی نشانی تھی
۔
 آج انسانیت زوال پزیر  ہے ہر طرف  قوم ، نسل ، رنگ ، زبان ، افکار و نظریات کا اختلاف ہے۔ جو صرف اور صرف نفرت ،عدم تحفظ  ، دشمنی ، تشدد فرقہ وا ریت ، قتل و غارتگری چوطرف برپا ہے ۔ 

ہم اشرف المخلوقات ہیں ہمیں یہ زیب نہیں دیتا ۔ ہمیں انتشار سے بچنا ہوگا ۔اسی میں انسانت کا راز پنہاں ہے۔ ہمیںآپسی محبت ،ایک جہتی،  یقینِ محکم ، عمل پیہم ، امن و آشتی قائم رکھنا ہوگا ۔ ایک کنبے کی طرح ہم آہنگی اوروابستگی  سے رہنا ہوگا ۔ ِاخلاص ،اخلاق اور ہمدردی سے ہماری اور انسانیت دونوں کی بقا ہے ۔ نہیں تو انسان جانورسے بدتر ہے ۔

کوثر بیگ
۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, August 25, 2019

حج کی روداد دوسرا حصہ

چوتھی قسط

جمرات جاتے ہوئے ایک تو ریگستان کی دھوپ اوپر سے کھڑا سورج  لگتا تھا آگ برس رہی ہے  ۔ ہم عورتوں کو بال رکھنے سر ڈھانپے کا حکم اس وقت ایک نعمت سے کم نہیں لگ رہا تھا۔  مرد حضرات کے سر اس شدید گرمی میں منڈوائے  ہوئے تھے میرے بیٹے کی تالو گہری سرخ ہوگئی تھی ۔ ہم سب نے  دوسروں کی طرح اپنے سر پر چھتری تان لی مگر ہونٹوں پر پپڑی جمتی اور جسم جلنے لگتا ۔ زبان پر کانٹے پڑ تےایسے وقت میں سڑک کے دونوں کناروں پر کچھ فاصلوں پر لگے کولر اس تبتے صحرا میں پانی کی نعمت سے سیراب کرتے رہے ہم  ٹہرتے جاتے پانی پیتے اپنے ساتھ کا بوتل بھرتے منہ ہاتھ بھگوتے آگے چلتے جاتے ۔ مجھے یہ پانی کا انتظام دیکھکر بے اختیار نہر زبیدہ کا خیال آگیا۔ جمرات کے سارے راستہ پر دو جانب بڑے بڑے اونچے کھمبے تھوڑی تھوڑی دور پر نصب کئے گئے ہیں جس سے حجاج اکرام پر ٹھنڈے پانی کی پھوہار برستی رہتی ہے اندھے کو اور کیا چاہئے دو آنکھ گرمی کی شدت میں کمی اور آگے بڑنے کی ہمت دلاتے یہ ننھے سے پانی کے بوند بہہت بڑا سہارا بنے اپنا کام کررہے تھے ۔ ہم  ان کھمبوں کے قریب پہنچتے تو اپنی چھتری سرکا دیتے اور پانی سے لطف اندوز ہوتے ۔  جہاں یہ پانی کے کھمبے نہیں ہوتے وہاں حج سکیورٹی فورس کے جوان ایک بوتل میں چھوٹے چھوٹے چھید کرکے پیچھے سے بوتل دبا دبا کر سر و چہرے پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے جاتے۔ صرف جمرات ہی نہیں سکیورٹی کے جوان عرفات مزدلفہ حرم ہر سڑک ہر کوچہ میں بہت ہی احسن طریقہ سے اپنی ڈیوٹی کو ڈیوٹی سمجھکر انجام دے رہے تھے ۔

راستہ بتانے  سکیورٹی فورس کے جوان ہر موڑ  اور راستہ میں کھڑے بڑی مستعدی سے رہنمائی کررہے تھے ۔

 ہر چند قدم کے بعد حکومت کے کارندے بڑے بڑے تھیلے پکڑے کھڑے تھے تاکہ کچرا نیچے نہ ڈالیں زمیں گندی نہ ہو سڑک پر کچرے کا ڈھیر نہ لگ جائے ۔ اتنی صفائی ستھرائی کے انتظام ہی کی وجہ تھی کہ حج کے لئے لاکھوں لوگ آنے کے باوجود کچرے سے پاک صاف راہیں اور قیام کی جگہ نظر آرہی تھی ۔
جمرات سے حرم اور حرم سے جمرات کےلئے بسوں کی سہولت تھی جو بہتر طور پرکام کررہی تھی مگر آخری دن مکہ میں واجب طواف وداع ادا کرنے منی سے معلم کی بس مکہ لے جا کر ایک وسع پارکنگ کی مقام پر ہمیں ڈرئیوار نے اتار کر  سمجھایا کہ قریب ہی سیبکو بس اسٹینڈ ہے آپ کو وہاں سے بس سیدھے حرم لے جائے گی  ۔ ہم واپس پھر یہیں ملے گے ۔ کسی وجہ سے ضرورت پڑے تو  فون کرلیں وہ نمبر دے کر چلا گیا ۔ ہم  بس اسٹینڈ کا پتہ پوچھے جو بہت دور تھا وہاں تک جانے ٹیکسی کرلی گئی ۔پھرسیبکو بس اسٹینڈ پر پہنچے ۔ ایک سوڈانی ٹائپ کا آدمی  ٹکٹ بیچ رہا تھا (جو پندرہ ریال کا تھا ہم پانچ افراد تھے ۔)اس سے ٹکٹس خرید کر بس دیکھنے لگے ۔ بس تو بہت آرہی تھیں مگر اس کے آتے ہی اس پر ایک جم غفیر ٹوٹ پڑتا اور پھر وہ پہلے ہی سے بھری رہتی اللہ جانے کیسے لوگ چڑھ اور اتر رہے تھے ہم ایک نہیں انکنت بسوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے آتے جاتے دیکھتے رہےجس کے ٹھرتے  ہی لوگ دوڑ لگا کر راستے کھولنے سے پہلے بس کے  سامنے  بھیڑ کی شکل میں جمع ہوجاتے ۔بیٹے نے ایک دو بار کوشش کی مگر دھکم پیل میں پھنس جانے کے خوف اور مارا ماری ہوتے دیکھ کر بس سے جانے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے ٹکٹ واپس کرنا چاہا مگر جس نے ہمیں ٹکٹ بیچا تھا اس آ دمی نے دوسروں کو فروخت کرنے کہہ دیا ہمارے پاس سے کوئی دوسرا شخص لینے راضی نہیں تھے ۔ٹکٹ نقلی سمجھ رہے تھے ۔ کاش حکومت اس طرف توجہ دیتی ایک منٹ کی جگہ منٹ میں دو بسوں کا انتظام کرتی اس مشکل سے بجا جاتا ۔ میں سوچ ہی رہی تھی کہ بیٹے نے کہا ہمیں وقت کھوٹا کرنا نہیں ہے بس کی چکر میں ایک گھنٹہ سے زیادہ ضائع ہو گیا تھا ۔ مقررہ وقت میں طواف سے فارغ ہوکر معلم کی گاڑی سے جدہ پہنچنا ہے ۔

 ہم ٹیکسی کی تک و دو کرنے لگے عام دنوں میں جہاں پچیس تیس ریال لیتے ہونگے اب موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تین سو ریال سے کوئی نیچے نہیں اتر رہے تھے ۔ کئی ٹیکسیوں کے بعد ایک ڈرئیوار دو سو ریال کےلئے بڑی مشکل سے  راضی ہوا ۔ ہم اللہ اللہ کرکے مسجد ِحرم پہنچے جلدی سے طواف کیا عشاء کی نماز جماعت سے ادا کی اور پھر سے واپسی کےلئے ٹیکسی اور بس کی الجھن شروع ہوگئی کچھ جدوجہد کے بعد ہم معلم کی بس تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جو ہمارے ہی انتظار میں تھی ۔

گھر آتے آتے آدھی رات ہوگئی بیٹا گاڑی لیے تیار کھڑا تھا بس سے سامان نکلنے تک ہم سب سیٹوں پر بیٹھ گئے اورپھر گھر واپسی پر سب کے چمکتے دمکتے چہکتے چہرے ہم سے باری باری لپٹ کر مبارکباد و اظہارِ محبت  کرنے لگے تو دل بے اختیار اللہ کا شکر ادا کرنے لگا۔

۔۔۔۔۔

Tuesday, March 07, 2017

دلدل

آج ایک فورم پر دلدل عنوان  پر لکھنے کہا گیاتھا میری تحریر آپ سب سے شئیر کررہی ہوں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر وہ کام ہر وہ چیز جو غلط راہ پر ہمیں لے جائے اور غلط کو غلط سمجھنے کی تمیز ختم ہوجائے۔ اس کے عادی ہوجائیں تو میں اسے ایک دلدل کی طرح سمجھتی ہوں جس سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہےمگر ناممکن نہیں  ۔ جس کا ذکر حدیث قدسی میں بھی کیا گیا ہے " رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور معافی مانگ لیتا ہے تو یہ سیاہ دھبہ مٹا دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اس گناہ کا اعادہ کرتا ہے تو سیاہ دھبوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پورے دل پر چھاجاتا ہے، بس ہمیں توبہ استغفار سے گناہوں کے دلدل سے نکلنے کا راستہ دیکھایا گیا ہے پس ہمیں توبہ استغفار کرتے رہنا چاہئے ۔
اسی طرح رشتے بھی بعض وقت دلدل بن جاتے ہیں ۔ جب ان میں حسد، جلن ، غرور ، بغض ، جھوٹ اور بد اخلاقی آجاتی ہے ۔ اس کو محبت ، مروت ،احسان اور خوش اخلاقی سے انہیں  دور کرسکتے ہیں مگر جب اس کے لئے دل بہت بڑا کرنا ہوگا عفو درگزار سے کام لینا ہوگا ۔ تب ہی ہم اس مہلک دلدل سے نکل کر اتحاد و خیر کا سلوک رائج کرسکے گے ۔

مال و زر کی کمی اور زیادتی بھی  کبھی کبھی برائی کے دلدل میں پھنسا دیتی ہے جیسے زیادہ مال اکثر تکبر، حرص ، ناانصاف بدتمیزبنادیتا ہے اور غربت کبھی چور خیانت اور حق تلفی کی راہ پر ڈال دیتی ہے ۔ 
دنیا کیا ہے ؟ ایک آزمائش کی جگہ ہے یہاں ظاہری و باطنی آنکھیں کھول کر ہمیں جینا ہوگا اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی تیاری کرنی ہوگی  ۔ جس طرح دلدل میں بھی کنول کا پھول کھلتا ہے اسی طرح دنیا میں رہ کر دنیا کی ہر برائی سے بج کر کنول کے پھول کی طرح پاک صاف دیدہ زیب بنے رہنا چاہئے

Tuesday, September 20, 2016

کالی زلف


کالی زلف

ایک زمانہ تھا شاعر کسی نازنین مہ جبین کو دیکھتے تو ان کے چہرے و رخسار کے بعد نظر کالی زلفوں پر جاتی اور وہ قصیدے پڑھنے لگ جاتے وہ اسے کبھی وجہ بہار کہتے تو کبھی اسے رات سے تشبہ دیتے اور کبھی گھٹا بنا دیتے جیسے یہ شعر
کھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پر
چھا گئی کالی گھٹا سی آن کر گلزار پر

  کالی زلف عاشقوں کے لئے بھی بہت اہم ہوا کرتی تھی ان کی عین خواہش ہوا کرتی کہ محبوبہ کے زلف کے سایہ میں شام کرلیں بلکہ عمر تمام کرلیں وہ چاہتے کہ محبوبہ کے بڑے گھنے سے زلف ہوں بس  انہیں در و دیوار سے کیا مطلب کون محنت کریں گھر بنائیں مشقت اٹھائیں  بس خیالوں کی دنیا بسا کر اس میں کالی دراز زلف کی چھاؤن میں پڑے رہیں ۔ پھر جب دنیا اور دنیا کے حالات 
کے سامنے کا وقت آئے تو کہنے لگے  ۔

بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا 
تیرے زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے 

نہ اب وہ شاعر رہے نہ عاشق اور کالی زلفوں کے دیوانے آپ حیرت سے اس جملہ کو کیوں دیکھ رہے ہو میں نے سچی بات کی ہے نہ اب کوئی اسے سانپ کی طرح ڈستا دل پر محسوس کرتا ہے نہ لہرا کر چلنے پر کوئی کالی زلف کےساتھ ساتھ خود کے من کو لہراتا خیال کرتا ہے نہ اس کے چھٹکنے سے موتیوں کے ٹوٹنے کا گمان کیا کرتے ہیں  اور نہ زلف کے سنوارنے اور بگڑنے سے محبوب کے حال کا پتہ چلتا ہے ۔
بکھری ہوئی وہ زلف اشاروں میں کہہ گئی
میں بھی شریک ہوں تیرے حالِ تباہ میں 

 عورت جو اپنے زلفوں کو بڑھانے محبوب کو پھنسا نے کبھی زلفی ائیر آئل ڈالتی تو کبھی شیکاکائی سے بال دھوتی کبھی خوشبوں کے شیمپو سے زلف صاف کرتی اپنے زلف کو سنوارتی سجاتی خوبصورت رنگ کرتی خوبصورت زیورات سے آراستہ کرتی  غریب بھی ہوتی تو پھولوں سے سجا تی مہکاتی مگر آج کی خواتین آزادی کے ساتھ ساتھ اب وہ پردہ کی طرح زلف کی زنجیر سے بھی آزاد ہوگئی ہیں اب انہیں ان ترکیبوں کی ضرورت نہیں رہی انہوں  نے دراز زلفوں کو کمر تک پھر شانوں تک اور اب کانوں تک لے آئی ہیں انہیں اب محبوب کے خوابوں میں رہنا نہیں ہے بلکہ اب انہیں محبوب کے خوابوں کو کھولی آنکھوں سے پورا کرنا ہے ان کا خیالی نہیں بلکہ عملی ساتھ دینا ہے ۔ اب نہ ان کے پاس اپنی کالی زلفوں کی پیچ و خم دور کرنےوقت ہے اور نہ سنوارنے وقت ہے محبوب کے لئے سجنے سنوارنے کی حاجت تو نہیں رہی وہ ویسے ہی دامِ الفت میں گرفتار رہتا ہے ۔ اگر کسی خاص موقعوں و محفل پر ضرورت محسوس بھی ہوئی تو خود کو سجانے سنوارنےکی تو  چند ٹکوں میں  بیوٹیشن  یہ کام آپ کے لیے کردے گی ۔
دنیا کی روش دیکھی ہے تیری زلف دوتا میں 
بنتی ہے یہ مشکل سے بگڑتی ہے ذرا میں

میرے زمانے کے والدین بھی عجیب تھے وہ شاعری عاشقی سے ہمیں بہت دور رکھتے امی ،حضرت ایوب کا قصہ سناتی جس میں ان کی بی بی ایوب علیہ سلام کے واسطے اپنے بالوں کو انکے سہارے کےلئے پیش کرتی تھی اور پھر ایک دن ایوب علیہ السلام کی بھوک مٹانے ایک عورت کو اپنے بال فروخت کردیتی ہیں ۔ ہمیں وفا اطاعت فرمانبرداری کےلئے ایسے قصوں سے عملی زندگی کےلئے تیار کیا جاتا تھا اور رات دن بابا ہمیں عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم  کو ہمارےسینے میں بھرنے کی کوشش کرتے ۔ آپ کے معطر جسم و گیسو کی تعریف کرتے کالی زلفوں پر قربان جانے کا درس دیتے جن کے زیر سایہ قیامت کے دن رہنے کی دُعایں مانگی جاتی  ۔
۔
 ہماری دونوں جہاں کی زندگی سنوارنے میں والدین کا بڑا حصہ ہوتا تھا ۔ کیا ہم بھی اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر رہے ہیں ؟؟؟ خیر چلیں اب دعا پر یہ مضمون ختم کرتی ہوں
اللہ پاک ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی دے

Tuesday, September 06, 2016

ماں بیٹے کی نوک چھونک

 پہلے زمانے میں دکن کی خواتین حیدرآبادی محاورات استمعال کیاکرتی تھی اسی کو یاد( کرکے یہ لکھی ہوں پسند آیا کہ نہیں بتائیں )۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماں بیٹے کی نوک چھونک


کام سے تھک کراماں نے پانی کی ضرورت محسوس کی تو خود سے بڑبڑانے لگی باندی جگ کے پاواں دھوتی اپنے نئیں دھوتی

ارے اماں آپ کیوں اکیلی کام کرتی ہیں شازیہ سے کہا کریں نا وہ مدد کرے گی بیٹے نے کہا

ہوں (زور سے سانس لیتے ہوئے)نکّوماں نکوّ بڑی ماں کو بلاو ھنڈی میں ڈوئی ھلاو ۔ اماں نے طنز سے کہا
ایسا کیوں کہتی ہو اماں وہ ایسی نہیں ہے۔

اجی ساون کے اندھے کو ہرا ہی سوچھتا ہے۔ اماں نے پھر جل کر کہا
اماں اب ایسا کیا کہدیا میں نے جو یوں برا مان رہی ہو ؟

ہاں ہاں مئچہ(میں ہی ) ُبری ہوں نا وہ کیا کہتے ہیں چھلنی جاکے سوپ سے بولی تیرے میں کتنے چھید


آپ سے شازیہ کے بارے میں کچھ کہنا ہی نہیں تھا اماں مجھے

ہووں( ہاں )بیٹا اندھا ریوڑیاں اپنوں کو بانٹتا ہے نا


افف فوہ ماں جب سے شادی کی ہے تب سے آپ نے مجھے بھی غیر سمجھا ہوا ہے۔

ہاں بیٹا ،شادی کے لڈو کھائے تو پچتھائے اور نہ کھائے تو پچھتائے

تو پھر آپ ہی بتائیں میں کیا کرو اب ؟

جو اب کرئیں وہچہ(وہ ہی)کرو ۔اپلیاں ڈوب رئیں پتھرے تیرئیں۔ اور کیا

اماں اب بس بہت ہوگیا ہم الگ ہوجائیں گے۔

ارے مجھے پتہ ہے تم لوگ تو یہ چہ چاہ رئیں۔( یہ ہی چا ہتے ہیں) دادا مریں گے بیل بٹیں گے۔

آپ کچھ بھی کہہ لیں اب نہیں رہنا ہمیں

ارے جا ! میں بھی دیکھتئوں(دیکھتی ہوں) دونوں الگ کیسا رہتئیں(رہتے ہیں)دونوں کو دمڑی کی آمدنی نئیں گھڑی بھر فرصت نئیں

جب اماں نے احساس دیلایا تو بیٹے نے دل ہی دل میں اپنی بیوی کی خوبیاں کو یاد کیا تو خیال آیا کہ سر منڈائے تو اولے پڑے والی بات نہ ہوجائے اس لئے بنا 
کچھ کہے اماں کے پاوں دبانے لگا۔

اماں نے سوچا کہ آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, January 13, 2016

دوہرے جذبات


السلام علیکم 

کل دواخانہ کے انتظار گاہ کی رکھی کرسی پر بیٹھی وقتاً فوقتاً اپنے فون کو کھولتی دیکھتی پھر بےچینی سے آپریشن تھیٹر سے ہر آنے جانے والے پر چونک کر نظر ڈالتی رہی اپنے آنے والے نومولود پوتے کی آمد کی سرتا پا منتظر تھی کہ سیل فون نے فیملی گروپ پر اطلاع دی کہ میرے ایک بہت ہی عزیز رشتہ دار نے داعی اجل کو لبیک کہا ہے تو میں ایک عجب تجریدی کیفیت میں گرفتار ہوگئی کبھی آنے والے بچے کے لئے پیار اور آمد کی خوشی ہوتی تو کبھی اپنے عزیز کی رحلت کا غم امڈ آتا ان کی یادیں نظر کے سامنے محسوس ہوتی ہمارا ان سے ایک نہیں تین تین رشتے تھے پھر میرے والدین کے اور انکے والدین میں بلا کا میل ملاپ خلوص تھا ہم ان کے گھر پچپن سے جاتے ان کی وہ بچپن کی سمجھداری سے کی گئی شراتیں لطیفہ گوئی مختلف آوازیں نکلنا ہنسنا باتیں کرنا پھر بڑے ہوکر بہت ہی بردبار مہذب بے حد با اخلاق ملنسار اپنے والدین کے نقش قدم پرچلنے والے انسان کی زندگی گزارتے دیکھنا پھر ایک طویل عرصہ موت سے لڑنا اور ایک 
لفظ بھی شکایت نہ کرنا سب کچھ یاد آتے اور دل کو مغموم کرتا رہا ۔۔۔


 مجھے احساس ہوا کہ یہ دنیا ایک راستہ ہے ہر انسان ایک پلیٹ فورم  سے آتا ہے زندگی کا سفرگزار کر دوسرے پلیٹ فورم پر انتطار کے لئے چلے جاتا ہے کوئی اس سفر میں زیادہ عرصہ ساتھ رہتا ہے تو کوئی جلدی چلا جاتا ہے بس ہماری نظر تو اس منزل پر مرکوز ہونی چاہئے جہاں ہمیں مستقل رہنا ہے۔ نومولود کو گود میں لے کر میرے دل سے یہ ہی دعا نکلی کہ اللہ اسے نیک اور صالح بنا دنیا کی سختی اور آزمائیش سے بچائے دونوں جہاں کی کامیابی عطا کر ۔۔۔۔    


یہ تو سنا اور دیکھا تھا کہ انسان دوہرے چہرہ اور رہن سہن رکھتے ہیں مگر اپنے اندر اٹھنے والی خوشی اور غم کے احساس و خیالات کو محسوس کر کے  اپنی خود کی حالت پر حیرت ہوئی کہ اللہ نے انسان کو کیا بنایا ہے وہ ایک وقت میں الگ الگ جذبات خود میں بہت خوبی سے سما سکتا ہے ۔ تمام تر تعریف کے قابل اللہ واحدکی 
ہمیشہ قائم رہنے والی ذات پاک  ہے ۔

۔

Thursday, January 07, 2016

دھبہ اور زخم ۔۔ منی افسانے





السلام علیکم

یہ چھوٹے چھوٹے دو افسانہ میں نے اردو افسانہ فورم کے اردو فلیش فکشن2015 کے لئے لکھے تھے۔



دھبہ


جب سے مالکن میکہ گئی ہیں مجھے  پرہی گھر کے سارے کام آن پڑے ہیں  یہ صبح صبح صاحب کو اٹھانے کا کام تو سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے ۔ بھگوان کرے کے مالکن جلد سے جلد واپس آجائے اور میری جان چھوٹے ۔۔۔۔۔ رامو منہ ہی منہ بڑ بڑاتا ہوا پھر  بیڈ روم کا دروازہ کٹکٹانے لگا  ۔  اندر  سے صاحب نے نیند سے بھرے لہجہ میں" ہاں ہاں رامو " کی آواز لگائی تو رامو جواب پاکر اطمینان کی سانس لی

ناشتہ کی میز پر بیٹھے بڑے صاحب نے لقمہ منہ میں لیتے  ہوئے اخبار دوسری طرف سرکاتے رامو سے کہنے لگے "ارے او رامو ذرا دیکھ تو آنا عبدل نے گاڑی تیار کی یا نہیں اورہاں  ڈرائیور کو بھی دیکھ لیں " 
رامو دوڑتے جاکر دوڑتا الٹے پاوں بھاگتا آیا اور اطلاع دی کہ صاحب عبدل تو بیمار ہے بھٹی بخار میں تپ رہا ہے آج وہ گاڑی کو صاف نہیں کرسکے گا ۔
رامو اس کا بیٹا اب کچھ بڑا ہوگیا ہے نا اس سے کہو کہ اپنے باپ کا کام آج وہ  انجام دے باہر اس سے چھوٹے بچوں کو بھی میں نے گاڑی صاف کرتے دیکھا ہے ۔
جی صاحب ابھی بول کر حاصر ہوتا ہوں
چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے عبدل کے بیٹے نے گاڑی خوب چمکائی آج وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے بیمار باپ کی مدد کی تھی اور اسے یقین تھا کہ بڑے صاحب بھی دیکھ کر ضرور اس کے کام کو پسند کرینگے ہو سکتا ہے کہ اس پہلے کام کا انعام بھی دیں اسی آس میں وہ وہی کھڑا رہا 
 بڑے صاحب کو آتا دیکھا تو اس نے  آگے بڑ کر گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا ۔بڑے صاحب نے کراہیت کے انداز سے اس کو دیکھا اور چھڑک کر  زور سے کہا "اے لڑکے دور رہے گاڑی سے ! دھبہ لگ جائیگا" اور پھر ہاتھ بڑھا کر ڈور لگا لیا ۔۔۔۔۔  لڑکا اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھتا رہ گیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔321
زخم



  رتنا ایک پڑھی لکھی آزاد خیال لڑکی تھی   سونے پر سہاگہ وہ اپنے گھر کی اکلوتی  بیٹی بھی تھی ۔ وہ  صنف مخالف کی زیادتی پر  مزحمت کے بعد خود کو پرسکون محسوس کررہی تھی ۔ آج کی عورت مجبور نہیں ۔ وہ پہلی ضرب پر ہی اپنی آواز بلند کرکے ظلم کو پنپنے نہیں دے گی وہ مظلومیت کی لپٹی چادر نکال کر ہمت کی عبا  پہنے لگی ہے وہ سارا راستہ ایسا ہی کچھ سوچنی رہی  ۔ 
رتنا اپنے باپ اور بھائیوں کے ساتھ سسرال سے اپنے میکے کے گھر میں داخل ہوئی تو بڑی خوش تھی اس نے زنانی بیٹھک میں جاکر اماں سے مل کر لپٹ گئی اور کہنے لگی ۔اماں بابا اور بھائیوں نے میاں اور سسرال والوں کا لڑ لڑ کر مزاج بحال کردیا پورا محلہ جمع ہونے لگا تھا ۔آخر میں وہ لوگ معافیاں چاہنے لگے تھے اور مجھے گھر سے نہ جانے سے منا کررہے تھے مگر بابا نے کہا کہ چار 
دن آرام کرنے کے بعد وہ مجھے واپس گھر بھیج دینگے اور مجھے لے کر آگئے وہ ایک سانس میں ساری روداد سنانے لگی ۔
ماں نے تیل میں ہلدی پکا کر برتن رتنا کے آگے بڑھا دیا ۔ ماں بابا تو ڈاکٹر بابو سے میرے یہاں آنے سے پہلے مرہم پٹی کروا چکے ہیں نا !۔وہ کہنے لگی
ماں نے خاموشی سے اپنی پیٹھ کی چادر ہٹائی اور بلوز کا بندھن کھول کر اس کے آگے کھڑی ہوگئی ۔ افف اماں ! رتنا مار کے زخم دیکھ کر مجسمِ حیران رہ گئی۔ آخر یہ کیا ہے اور کیسا ہوا ماں ۔ماں کی خاموشی اور بہتے آنسو اس سے ساری کہانی چپکے سے سنا گئے ۔ وہ بے اختیار گلا کرنے لگی ۔ یہ مرد ایسے کیوں ہوتے ہیں کیوں ہوتے ہیں وہ بار بار خود 
سے سوال کرتی رہی!!! اُسے اپنے دل اور جسم پر ایک اور کاری زخم کا احساس ہونے لگا ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, October 28, 2015

نعم البدل

محترم بھائیوں اور پیاری بہنوں 

السلام علیکم


وہ دوہزار بارہ کا ایک خوش گوار دن تھا جب وہ مجھے سے بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا تھا پھر تو اس نے مجھے اور میں نے اسے ایسا تھاما کہ چھوڑنے کا نام ہی نہ لیا ہر گھڑی سوتے جاگتے ، محفل و برخاست  ، فرصت ہو یا مصروفیت وہ ہر جگہ ہر وقت میرے  ساتھ رہنے لگا ۔ اس کی ایک پل کی غیر موجودگی بھی مجھے بے چین کردتیی

ایک طویل عرصہ کی رفاقت کے بعد ایک دن اس کو تنفسی شکایت ہوگئی ۔ ہم نے اس کے خاص ڈاکٹر کے پاس پہچایا تووہ چھوٹے سے آپریش کے بعد ہمارے گھر واپس آگیا  کچھ دن ٹھیک رہنے کے بعد اسکی پھر سانس گھٹنے لگی ۔ اب تو بار بار اسے طبیب کی ضرورت لا حق ہونے لگی ہم اس کی محبت میں اس کے عادی ہوچکے تھے ۔ ہم سے اس کی یہ حالات بردا شت نہ ہوتی  ۔اس کو ٹھیک کرنے کی ہر جتن کرتے ہر زاویہ سے اسے دیکھتے  پیٹھ سہلاتے دباتے اس کے بند ہوتے آنکھوں کو روشنی سے منور کرنے کی کوشش  کرتے کبھی کامیاب ہوتے اور کبھی وہ ٖغشی میں آنکھیں بند رکھا رہتا ۔۔۔۔۔ آخر پھر ایک ماہ پہلے اس نے ہمیشہ کے لئے آنکھیں موند لیں ۔ انسان سدا سے بے بس رہا ہے ہم بھی مجبور تھے اور مجبور تو صرف آہ و بکا کے بعد چپ ہورہتا ہے ۔ہم بھی چپ رہے اور سب سے بات چیت چھوڑدی بس ضرورت پر ہی منہ کھولتے ۔

 اس کے جانے سے ہمارے دوست عزیز رشتہ دار سب ہی متاثر تھے ہم نے  سب سے بات چیت چھوڑ رکھی تھی گھر والوں کے اصرار پر ہم نے گھر کے ایک ننھے سے دل کو لگانا چاہا مگر وہ تو بہت چھوٹا تھا اس نے بس ہمارا  اتنا غم غلط کیا کہ گھر والوں اور قریب کے لوگوں سےہی میں بات چیت کر نے لگی تھی مگر دنیا سے ابھی کٹ آف ہی تھی ۔ پھر بیٹوں سے میری یہ حالت دیکھی نہ گئی اور کل انہوں نے مجھے اس کا نعم البدل لاکر دیا یعنی گیلکسی ایس 3 کے خراب ہونے پر آئی فون 6 (ایس) دیلادیا ۔ الحمدللہ




Tuesday, August 25, 2015

سڑک


سڑک



السلام عیلکم

سڑک کئی قسم کی ہوتی ہے  چمکتی دلکش سڑک ، ہموار سڑک ،کشادہ سڑک ،خالی سڑک ،  پتلی سڑک  ، چوڑی سڑک  ، بڑی سڑک ، قدیم سڑک ، نئی سڑک ، پتھریلی سڑک ،بل کھاتی سڑک ،کچی سڑک ،اوپر چڑھتی سڑک ،ڈھلوان کی طرف جاتی سڑک ،ٹامر والی سڑک ، سنسان سڑک ،خطرناک سڑک ،ٹھنڈی سڑک ۔میں ان میں سے کسی بھی سڑک کا ذکر نہیں کرنا چاہتی اور نہ تاریخ پر روشنی ڈالنے کا اردہ ہے جیسا کہ شیر شاہ سوری جس کو ہندوستان کا نپولن کہتے ہیں ان کی تعمیر کردہ ایک ہزار پانچ سو کوس کی لمبی یاد گار جرنیلی سڑک بنائی وغیرہ نہیں سنانا ہے ۔ سڑک تو لوگوں کی آمد و رفت کے لئے بنائی جاتی ہے چاہے وہ کیسی بھی رہے ۔

 ابھی ابھی انڈیا سے آئی ہوں تو کہیں یہ تو نہیں سمجھ رہے ہیں کہ سڑک پر جگہ جگہ گڑھے ہونے یا سڑک  کھنڈرات میں تبدیل ہونے کی شکایت کرونگی یا پھرپانی کی لائن پھٹ پڑنے سے سڑک پر گڑھے پڑگئے ہیں اور نہ یہ بتانا چاہتی ہوں کہ سڑک کی توسع کی آڑ میں ٹھکیدار کیسے اچھے میٹریل کے پیسے لے کر خراب مال استعمال کرتے ہیں اورسڑک کچھ ماہ کے بعد خراب ہوجاتی ہے  یہ بات تو اب شہر کا بچا بچا جان گیا ہے کہنا ہی فضول ہے۔  بزرگ بچے مریضوں کا خیال کئےبناعوام ٹولیوں کی شکل میں کوئی نہ کوئی بات منوانے احتجاج کے لئے سڑک پر نکل پڑتی ہے  اب یہ سب تو ہوتا ہی رہتا ہے اس میں کہنے والی کیا بات ہے

اور یہ بھی سب دیکھتے ہی  ہیں کہ اپنے ہی شہر میں کیسے شہری سڑک پر کچرا پھینک دیتے ہیں جب کہ صفائی آدھا ایمان ہے اور صحت پر بھی اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے ۔اس تعلق سے آج ہی میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ کامرس  کے دو گریجویٹ پراتیک اگروال اور راج ڈیسائی دونوں نے اپنے خرچ پر بنگلور ،کولکتہ اوردہلی کی صفائی کے لئے ایک پروگرام بنایا ہے جو دہلی کے ہفتہ وار میوزک فیسٹول میں  وائی فائی کوڑے دان نصب کرکے متعارف کیے ۔اگروال کا کہنا ہے کہ جب کوئی کوڑے دان میں کچرا پھنکتا ہے تو کوڑے دان  ایک کوڈ بھیجتا ہے جس سے مفت وائی فائی  حاصل کرنے استعمال کیا جاسکتا ہے جو بہت کامیاب آئیڈیا رہا ۔ اکثر لوگوں کو کچرا اٹھا کر ڈالتے دیکھا گیا ہے واہ کیا دکھتی رگ پکڑی ہے ان لڑکوں نے

 یہ بھی بتانا بیکار ہے کہ سڑک میں لگی کنکریٹ سیلیں اکھاڑ لی جاتی ہیں یا مین ہول کے ڈھکن چوری کرلئے جاتے ہیں ۔ اور کبھی تو سڑک پر دلھا دلہن اور براتیوں کے ساتھ باچے والے رک رک کر ایسا چلتے ہیں کہ کوئی مصبت کا مارا   دم تک نہیں مار سکتا شادی کے باجے سے یاد آیا کچھ دن پہلے بی بی سی پر پڑھی تھی کہ بہار کے بروان کالا گاوں جو کیموا پہاڑیوں کے درمیان بسا ہے وہاں سڑک نہ ہونے کے باعث بنیادی سہولیات نہیں ہے جس کی وجہہ سے کوئی ان سے شادی  نہیں کرنا چاہتا  اب اس غیر شادی شدہ لوگوں کے گاوں کے مرد شادی کے لئے سڑک تعمیر کرنے کا اردا کئے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو بھی ہو ہم تب تک نہیں رکیں گے جب تک پوری چھ کیلو میٹر کی سڑک تیار نہ ہوجاتی ہے ۔ پاپڑ بیلنا محاورہ سنا تھا یہ سڑک بنانے والی بات بھی  خوب ہے ۔  بے چاروں کو شادی کے لئے سڑک بنانی پڑگئی ۔

اس محنتی خبر سے یاد آیا پہلے ہمارے بچپن میں  دیکھا کرتے تھے کہ سڑک کے کمبے کے نیچے بعض لوگ علم کے حصول و جستجو میں بیٹھکر پڑھائی کیا کرتے تھے ۔ آج بچے سارے سہولت فراہم کرنے پر بھی پڑھائی نہیں کرتے ۔

آج کے د نوں میں سڑک پر لادینا ، سڑک پر اتر آنا ۔ سڑک چھاپ عاشقی کے قصہ ، سڑک کنارہ بم دھماکا ، نو مولود بچہ کا سڑک پر پڑا ملنا ،نامعلوم لاش سڑک پر سڑنا ، سڑک پر ٹرک کی ٹکر، سڑک کی خراب حالت کی وجہہ سے گہرے کھائی میں گرجانا ۔ گاڑی کے پنکچر ٹھیک کرنے حفاظتی پتھر رکھے تھے اسی حالت میں چھوڑ جانے سے حادثہ واقعہ ہونا ، نشہ یا فون کرنے کی  وجہہ سے گاڑیوں میں تصادم ،ہراس زدگی کی روداد ، سڑک بلاک کی  جانا ، اس طرح کی خبریں آئے دن اخبار کی سرخی بنی نظر آتے ہی رہتی ہے ۔
  
سڑک پر لگے اشارے یعنی سنگنل اور قوانین کی پروا نہیں کرتے اورہر مسافر سڑک مسافت کی عجلتوں میں گھرے ہوئے نظرآتے ہیں سب ہی کو جانے کی جلدی نظر آتی ہے اور اس چکر میں جو جیسا سڑک سے نکلنا ممکن ہو، نکل جاتا ہے اس سے نظام میں بے ترتیبی ہوجاتی ہے۔ وقت میں مزیداضافہ اور حادثہ کا  امکان بھی بڑجاتا ہے ۔ بائیک اور سائیکلیوں والے کم سے کم جگہ سے نکلنے میں اکثر کامیاب ہوجاتے ہیں اگر کبھی کسی گاڑی کا ہلکا سا دھکا بھی لگے تو اچھل کر دور چلے جاتے ہیں پھر الٹا گاڑی والوں سے لڑائی شروع کردیتے ہیں ۔ بس اور ٹرک والے اپنی بڑی گاڑی کے خمار میں چھوٹی گاڑی والوں کو پیچھے کرنا چاہتے ہیں مگر وہ  بھی آخر موٹر نشین ہیں کب پیچھے رہنے تیار ہوتے ہیں بھلا ۔  خیر ایسے تصادم توسڑک پر بے ضوابط کی وجہہ سے ہوتے ہی رہتے ہیں ۔

اب کے انڈیا کی چکر میں یہ دیکھکرسر چکرا گیا  اِدھر سڑک جم ہوئی یا لال بتی جلی اور ُادھر  بائیک والے  پاوں نیچے ٹیکا کر اور گاڑی والے اسٹیرنگ چھوڑ کر  فون پکڑے مصروف نطر ارہے تھے  ۔ میرے بازوسے کچھ آگے ایک بائیک پر دو آدمی براجمان تھے ان کی بلند آواز کی وجہہ سے غیر ارادی طور سے میری توجہ ان کی طرف ہوگئی  وہ فون پر کہہ رہے تھے ایک گھنٹہ سے زیادہ سے ٹریفک میں پھنسا ہوا ہوں( جب کہ پانچ منٹ سے زیادہ نہیں ہوئے تھے ) تم کھانا کھالو ابھی کتنی دیر ہوتی ہے نہیں معلوم  ۔ فون رکھنے  کے بعد دوسرا ادمی پوچھ رہاتھا تم نے بھابی سے چھوٹ کیوں بولا  ؟ارے جانے دو یارو پھر میرے کو بھی بریانی کا پارسل نہیں لائے ، نخرے شروع ہوجاتے ۔ سفید چوٹ میں نے دل میں  خود سے کہہ کر اپنے بازو کھڑی گاڑی کے طرف دیکھنے لگی ۔

ایک مہاشہ ڈرئیونگ سیٹ پر بیٹھے فون پرمحو گفتگو تھے ۔ نہیں نہیں ایک لاکھ کی چیز ہے میں ستر ہزار میں دیلانے راضی کروایا ہوں ۔  میرا نہیں ہے جی  یہ دوسروں کا بزنس ہے میرا رہتا تو کم کرتا اور آپ کو ان کے پاس سے ہی لینا ہے۔۔۔۔ میرے پاس وقت نہیں ہے ساتھ چلنے ۔۔۔ لکڑی کے پل سے آگے جاتے ہی وہ ملنے آجائنگے۔۔۔۔اچھا اچھا کہہ کر فون بند کرکے فوراً دوسرا فون ملانے لگے اورفون پر کہنے لگے وہ پارٹی تیار ہوگئی ، تم فلاں جگہ جاکرمال دے آو اور رات میں میرے پیسے تیار رکھو چالیس کا مال ستر میں نکال گیا ۔۔۔ افف یہ تو صریح ظلم ہوا ، جیب کترا منافع خور یہ سوچتے ہوئے میں میاں کی جانب دیکھنے لگی ۔

ان کی طرف بھی دو بائیک آگے بیچھے کھرے تھے پیچھے والی بائیک پرمیاں بیوی تین بچے بے زار سے کھڑے تھے تھوڑی آگے کو نکلی بائیک پر ایک نوجوان تھا جو بہت آہستہ سے بات کررہا تھا ۔ میں دل میں کہنے لگی دیکھو سب چلا چلا کر بات کررہے ہیں کتنا مہذب ہے ۔ اس نوجوان کا فون نیا ہے شاید نئی بیوی کی طرح شروع میں آہستہ سرگوشیاں ہوا کرتی ہیں اور بعد میں زور سے کہا سنا جاتا ہے فون کا بھی یہ ہی حال ہے پھر ٹریفک کھول چکی اس نے سڑک کھولتے ہی مارے جوش کے زور سے جاتے ہوئے ائی لو یوڈرلینگ (اس انداز سے کہا کہ معاملہ صاف سمجھ آگیا) کہہ کر فون بند کردیا اور تیزی سے نکل پڑا ۔

افف ! یا اللہ دنیا میں لوگ دوسروں کو بیوقف بنا رہے ہیں یا خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں ۔ مجھے اپنے اطراف ٹریفک کی  جگہ کسی  دوسری دنیا کے لہراتے سایہ محسوس ہونے لگے جس میں چھوٹ ، دھوکا  ،فریب ،مکر بھری دیکھائی دینے لگی  ۔     زمیں نہ بدلی ،سورج نہ بدلا، بدلا نہ آسمان کتنا بدل گیا انسان