السلام علیکم
میرے معزیز بھائیوں اور پیاری بہنوں:ـ
میرے معزیز بھائیوں اور پیاری بہنوں:ـ
آپ سب نے بھی مشاہدہ کیا ہی ہوگا کسی کے اس دنیا سے گزارنے کے بعد ،بہت تکلیف ہوتی ہے جب کوئی اپنا اس دنیا سے چلے جاتا ہے ۔ ہر ایک کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آتا ہے اور بہت شدید دردکا احساس ہوتا ہے کسی اپنے کے جانے پر لگتا ہے ہم کیوں زندہ ہیں، ہم کیوں نہیں مر گئے اب کیسے رہنگے کیوں کر ان کے بنا جیئے گے ۔ ایسے وقت اللہ کے بہت قریب خود کو محسوس کرتے ہیں دل میں اللہ کا ڈر اور اس کی مدد کی محتاجی محسوس کرتے ہیں مگر صبر آہی جاتا ہے اللہ کے کرم سے ۔اللہ جانے والوں کو بلند سے بلند مقام دے
جانے والوں کے بارے میں تو اللہ کی مرضی سوچ کر دل کو اطمینان دینے کی کوشش کریے گے مگر جو ان کے بہت قریبی ہوتے ہیں ان کا دکھ دیکھا نہیں جاتا ۔پھر اللہ ہی کی مدد تھام لیتی ہے انہیں کچھ عرصہ کے بعد ہم خود حالات سے سمجھوتا کرتے دیکھ کر دنگ رہتے ہیں کہ کیسے ہمت ملی کیسے اتنے دن گزار لے ہونگے سوچ کر ۔ مرحوم کے لئے دعا مغفرت مانگتے نہیں تھکتے بھلے ہی کبھی زندگی میں پانی تک پلانے کی توفیق تک نہ ہوئی ہو ۔ ہم زندہ رہنے تک خوش کیوں نہیں رکھتےاور انکے مرنے کے بعد ان کی خواہشوں کی تکمیل کے لئے کوشا کیوں ہوجاتے ہیں ۔ وہ یہ چاہتے تھے ،ان کی مرضی ایسی تھی، ہم اب ان کی خوشی کے لئے یہ کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ یہ سب دیکھ کر ہمیشہ میں اپنے آپ سے سوال کرنے لگتی ہوں کہ کوئی مر جانے کے بعد ایسے خیال کیوں رکھتے ہیں؟ زندگی میں پرواہ کیوں نہیں کرتے ؟ پھر یہ سوچ کر تسلی ملتی ہے کہ شاید مقدر کی تکمیل کے لئے اللہ پاک ہمارے دماغ میں اسباب کو پیدا کردیتا ہے یا کچھ اوربات ہوتی ہے یہ ہی دنیا ہے ایسے ہی دنیا کے کاروبار چل رہا ہے یہ سب کچھ خدائے بزروگوار ہی کے ہاتھ ہے وہ ہی درد دیتا ہے پھر وہ ہی دوا بھی دیتا ہے ۔
جانے والے تو چلے جاتے ہیں دنیا چلتے ہی رہتی ہے
ایک دن ہمیں بھی ایسے ہی جانا ہے پھرسب کچھ ایسے ہی ہوگا ۔ پہلے چند دن خوب رویا جائے گا پھر یاد کرکے آہیں بھری جائے گی اور پھر کبھی کبھی خاص موقعہ یا بات پر یاد کیا جائے گا اور آخر میں بھولی بسری کہانی بن جائنگے ۔اب ہمارے سوچنے کا وقت یہ ہی ہے۔ہم اسے یا وہ ہمیں چھوڑنا ہی ہے پھر ہمیں بھی اس بے وفا دنیا کے لئےکیا سوچنا اس دنیا اور اس میں بسنے والوں کی فکر کیوں کرنا۔۔۔۔۔۔۔ بس ہمیں اللہ کی رضا اور ان کے احکام پر زیادہ سے زیادہ نظریں جما کر شب وزور گزارنا چاہیےاللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو مشعل راہ بناکر ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے پھرہم خود دیکھے گے ۔ ۔ہم اللہ کی پیدائش کے مقصد یعنی اس کی عبادت کرکے آخرت سنوارے گے ہی نہیں بالکہ دنیا میں سب کے حقوق بھی بہت اچھے سے ادا کرکے عزیزوں رشتہ داروں کے دل میں بھی سدا زندہ ہونگے اس طرح ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائی ملے گی اور کامیاب زندگی گزار کر کامیاب آخرت کے سفر پر رواں ہو جائیگے۔ان شاءاللہ ۔ اللہ پاک ہدایت دے ہمیں
آپ ہی گویا مسافر ،آپ ہی منزل ہوں میں
__________________
