Wednesday, July 05, 2017

آپا



آپا یہ ایک رشتہ کا نام ہے ۔ آپا کہتے ہی اپنے سے بڑی بہن تصور میں آجاتی ہے ۔ یا پھر میرا عنوان دیکھ کرآپ سوچتے ہونگے کہ ایک ایسی خاتون ہوگی جو ہمارے لئے عام اور کوثر کے لئے خاص ہوگی  اگر آپ ایسا ہی سوچتے ہیں تو ٹھیک سوچتے ہیں ۔ آج میرا ان سے تعارف کروانے کے بعد آپ ضرور محسوس کرینگے کہ وہ میرے لئے کتنی اہم اور مجھے کتنی عزیز ہیں ۔

اللہ تعالٰی نے انہیں مجھ سے تین سال پہلے اس دھرتی پر اتارا ہے ۔وہ میری بچپن کی رات دن کی ساتھی بھی اور ہمدرد بھی ہیں وہ میری ہمخیال و حمایتی ہیں دیکھنے والے دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں کہ نہ ان میں طبعیت میں مطابقت ہے نہ بظاہر ایکسانیت ۔۔ میں بھاری بھرکم وہ چھوٹی نہف سی میں بھڑ بھڑ کرنے والی اور وہ مصلحتِ باتوں کی عادی ۔ میں اپنی دنیا میں گم رہنے والی تو وہ اپنے حلقہ احباب کو اپنے رنگ میں رنگنے والی ۔ مجھے دوست بنانے کا شوق تو انہیں دوستی نبھانے کا ہنر آتا ہے ۔ مجھے محفل سجانا اچھا لگتا ہے تو انہیں محفل کی رونق بڑھانا آتا ہے ۔ وہ فیشن ایبل  لباس و زیوارات کی دل دادہ اور  میں بہت ہی سادہ لوح ۔ وہ ایک اچھی شاعرہ اور میں نثر میں طبع آزمائی کرتی ہوں ۔اتنے تضاد کے باوجود ہمارے درمیان اتنی محبت ہے کیوں ہے میں خود نہیں جانتی شاید یہ اللہ پاک کی ہمارے دلوں میں ڈالی رحمت ہے جس کو بہتوں نے ختم کرنے کی کوشش کی بعض نے تو چیلنچ بھی کیا اور کچھ نے الگ الگ ورغلایا مگر اللہ پاک نے نہ جانے ہمارے دل ایک دوسرے کےلئے کس پانی سے دھو کر صاف کئے ہیں کہ ہمارے بیچ کبھی میل نہیں ایا ۔

 ہماری  محبت کا جادو سر چڑھکر اتنا بولتا ہے کہ ہر محفل میں ساتھ مل بیٹھنا ۔ ہر دم  بازو سے بازو لگے رہنا میرے بچے انکے بچوں کا ہر گھڑی قدم سے قدم ملا کر چلنا  ۔دونوں ہم زلف کا دوست بنے رہنا ۔ لوگوں کا ہم دونوں کا ایک ساتھ ایسے نام لے کر پکارنا جیسے ایک ہی شخصیت کا ذکر ہو  ہماری محبت کو قائم رکھتا ہے ۔

کہتے ہیں وہ بچپن میں بہت ضدی ہوا کرتی تھی ۔امی جو آٹھ بچوں کو پرورش کررہی تھی وہ بھی عاجز آجاتی  آیا کوسنبھانے رکھنے کے باوجود وہ قابو میں نہیں آتی تھی پھر ایک دن امی نےہمارے دادا حضرت سے اس بات کی شکایت کی جسے سنکر انہیں تعویز دی گئی توبہت  مزاج  میں بہتری  آئی پھر بھی انہیں کبھی کبھی ضد چڑ جاتی میری پیدائش پر مصروفیت بڑنے کی وجہ سے انہیں کے جی میں داخلہ دیلایا گیا اس زمانے میں اتنے چھوٹے بچوں کو اسکول میں نہیں بھیجا جاتا تھا ان کی ضد کم ہونے کے لئے کسی نے یہ مشورہ  دیا جس پر عمل کیا گیا تھا ۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی  اپنی ضد کو تعلیم کی طلب،سیون ، پکوان ، گھر کی سجاوٹ ، نئے نئے کپڑوں کے ڈیزئن مرتب کرنے  ، میک اپ و ہیر اسٹائل میں مہارت حاصل کرنے اور معیاری زندگی کے حصول میں صرف کرنے لگی ۔ ن دنوں بیوٹیشن ڈریس ڈئیزائنر نہیں ہوا کرتے تھے وہ شوخ و چنچل تھی مگر شرم و حیا ،پردہ اور خاندانی  شرافت کو کبھی پس و پشت نہیں ڈالا  ۔ وہ ہر محفل کی جان ہوتی ہر لڑکی ان کی طرح بنا چاہتی ہر عورت ان کو اپنی بہو بنانے کے خواب دیکھتی ۔ کئی خواتین اپنی بہو بیٹیوں کی شادی پر سنگار کروانے اوردلہن کی شوپنگ بہنوں بھاوجوں کے لباس کے انداز و رنگ ان کی پسند سے تیار کئے جاتے ۔آپا کی رائے کو جدت و نئے فیشن سے تعبیر کیا جاتا اور وہ بھی انہیں فری میں اپنے خدمات سے مستفید کرتی ۔ 

بہت ہی کم عمری میں دوست احباب رشتہ داروں میں اپنے گنوں کا لوہا منو کر اپنی پہچان بنالی ۔ 

کئی نسبتیں ہاتھ مانگنے آنے لگی  بڑی دو بہنیں باہر بیاہی گئی تھی اس لئے بابا کا کہنا تھا کہ لڑکا حیدرآباد کا ہو جو پڑھا لکھا رہے، سرکاری ملازمت کرتا ہو اور گورا بھی ہونا چاہیے ۔۔۔۔ ابھی وہ سترہ سال کی ہی تھی کہ انکی زندگی نے کروٹ بدلی ہر واقف کار اور انجان جو بھی سنا دیکھا انہیں یقین نہیں آیا ۔جوان بھائی کے انتقال کے سانحہ سے نڈھال ماں باپ کے سامنے امی جس ڈاکٹر صاحبہ کے زیر علاج رہتی تھی  جنہیں اپنی محسن سمجھتی تھی اور پہلے زمانے میں محسن کو نہ کہنا برا سمجھا جاتا تھا انہوں نے اپنے معذور بھائی کے لئے رشتے  مانگا ۔ سب بھائیوں چیچاؤں یہاں تک کہ دور دور کے ملنے والے تک نے منع کیا مگر امی اپنے محسن کو نہ کہنے سے انکار کرتی رہیں ۔بابا کی حالت عجیب تھی ایک طرف لاڈلی بیٹی کی محبت اور سب کی مخالفت تو دوسری طرف بیوی کی رضامندی اور دباؤ ۔ امی راضی کرنے دلائل دینے لگی۔ پہلے تو وہ محسن ہیں پھر جیسا کی بابا کہتے تھے کہ داماد پڑھا لکھا ہوتو وہ  ایم اس سی میں ٹاپ کرے ہوئے ہیں، رنگ بہت صاف اور سرکاری کالج میں بھی لکچرر ہیں ہم محلہ ہونے سے بچپن سے واقف ہیں ۔اپ کے سارے شرائط پر پورا اتر رہے ہیں  ۔اگر شادی کے بعد پاؤں میں لنگ اگیا تو ہم کیا کرسکتے ہیں وغیرہ کہہ کر سمجھاتے رہے ۔ بابا نے ان ساری باتوں کو سن کرکوئی  فیصلہ نہ کر سکے بس ایک ہی حل نکالے ۔جس کو ساری زندگی ساتھ نبھانا ہے  انکی   مرضی پر رکھ دیا جائے۔ اس زمانے میں اپنی اولاد کے سارے معاملات والدین طے کرتے تھے ۔سارے گھر والے آپا سے ایک کے بعد ایک پوچھتے رہے ۔ ہم بابا سے محبت بھی کرتے اور بہت ڈرتے بھی تھے بابا نے آپا کو ساری صورت حال بتا کر جواب طلب کیا ۔ آپا آپ لوگوں کی مرضی کہتی رہی ۔ بابا حصرت کے اصرار پرآپا جواب دینے مجبور ہوگئی انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر استخارہ کرنے کو کہا ۔انہیں پھر سمجھایا گیا کہ پھراگر ہاں نکلا تو تمہارے نہ کہنے کی کوئی صورت نہیں ۔آپا نے اپنا معاملہ اوپر والے کےحوالے کردیا ۔ اللہ کو بھی منظور تھا استخارہ اچھا نکلا اور دس یا پندرہ دن میں شادی کرکے اپنے پیا کے گھر چلی گئی ۔   شادی کے بعد لوگ ہمدردی کا اظہار کرتے  ۔ آپا کی ہمت اور فرمانبرداری کی تعریف کرتےمگر وہ ان باتوں کی پرواہ نہ کرتی نہ  کبھی ہلکا سا کبھی ملال کا اظہار کرتی ۔ وہ تو عمل پسند ہیں  ۔ تدبیر سے کیسے تقدیر بنانا چاہئے جانتی ہیں ۔

الحمدللہ میاں بھی کسی چیز کی کمی یا تکلیف کبھی ہونے نہیں دیے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ  کامیاب زندگی گزار رہے ہیں ۔ خود سامنے کھڑےہو کرمیاں نے گھر تعمیر کروایا۔ ماشاءاللہ چار بیٹیوں کو پڑھایا لکھایا اچھے گھروں میں شادی کیے  ۔ تینوں بیٹے بھی خوب پڑھ لکھ کر آپنے پاؤں پر کھڑے ہیں سب ماشاءاللہ بچے والے ہیں ۔

اللہ کی رضا پر اپنی ازواجی زندگی کی بنیاد رکھی ۔ اپنے میاں کی خدمت کو ہمہ وقت تیار رہتی ہیں ۔ وہ بھی ان کا بہت خیال رکھتے ہیں شادی کے بعد میاں عربی سے ایم اے بھی کرے اور قرآن حفظ کیا اور آپا خود بھی شادی سے پہلے انٹر مکمل کرنے سے رہ گئی تھیں ۔اپنے بچوں کی تعلیم کے دوران  خود بھی گرئجویٹ کی تکمیل کی ۔ہر ماہ میلاد کی محفل گھر میں کرتی ہیں جس میں ساٹھ ستر افراد کو کھانا کھلاتی ہیں ۔سالانہ مشاعرہ منعقدکرتی ہیں جس میں منتظمہ کے فرائض خود انجام دیتی ہیں ۔ اب بھی خوش لباسی و خوش مزاجی برقرار ہے ہر ایک کے دکھ سکھ میں رہتی ہیں ۔ہر دل عزیز ہیں ۔میاں بچوں کی خدمت کے ساتھ قرآن کی تلاوت اور عبادت میں مشغول رہتی ہیں ۔حج اور عمرے بھی کرچکی ہیں ۔ وہ ایک مثالی خاتون مثالی بیوی ، ماں اور بیٹی ہیں ۔

آج ان کا جنم دن ہے اس موقعہ پر انہیں مبارک با د دیتی ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے اتنی اچھی بہن  سے سرفراز فرمایا

Tuesday, March 07, 2017

دلدل

آج ایک فورم پر دلدل عنوان  پر لکھنے کہا گیاتھا میری تحریر آپ سب سے شئیر کررہی ہوں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر وہ کام ہر وہ چیز جو غلط راہ پر ہمیں لے جائے اور غلط کو غلط سمجھنے کی تمیز ختم ہوجائے۔ اس کے عادی ہوجائیں تو میں اسے ایک دلدل کی طرح سمجھتی ہوں جس سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہےمگر ناممکن نہیں  ۔ جس کا ذکر حدیث قدسی میں بھی کیا گیا ہے " رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور معافی مانگ لیتا ہے تو یہ سیاہ دھبہ مٹا دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اس گناہ کا اعادہ کرتا ہے تو سیاہ دھبوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پورے دل پر چھاجاتا ہے، بس ہمیں توبہ استغفار سے گناہوں کے دلدل سے نکلنے کا راستہ دیکھایا گیا ہے پس ہمیں توبہ استغفار کرتے رہنا چاہئے ۔
اسی طرح رشتے بھی بعض وقت دلدل بن جاتے ہیں ۔ جب ان میں حسد، جلن ، غرور ، بغض ، جھوٹ اور بد اخلاقی آجاتی ہے ۔ اس کو محبت ، مروت ،احسان اور خوش اخلاقی سے انہیں  دور کرسکتے ہیں مگر جب اس کے لئے دل بہت بڑا کرنا ہوگا عفو درگزار سے کام لینا ہوگا ۔ تب ہی ہم اس مہلک دلدل سے نکل کر اتحاد و خیر کا سلوک رائج کرسکے گے ۔

مال و زر کی کمی اور زیادتی بھی  کبھی کبھی برائی کے دلدل میں پھنسا دیتی ہے جیسے زیادہ مال اکثر تکبر، حرص ، ناانصاف بدتمیزبنادیتا ہے اور غربت کبھی چور خیانت اور حق تلفی کی راہ پر ڈال دیتی ہے ۔ 
دنیا کیا ہے ؟ ایک آزمائش کی جگہ ہے یہاں ظاہری و باطنی آنکھیں کھول کر ہمیں جینا ہوگا اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی تیاری کرنی ہوگی  ۔ جس طرح دلدل میں بھی کنول کا پھول کھلتا ہے اسی طرح دنیا میں رہ کر دنیا کی ہر برائی سے بج کر کنول کے پھول کی طرح پاک صاف دیدہ زیب بنے رہنا چاہئے